Saturday, January 16, 2016

Neo-Cons Are Using American Power To Create Chaos In The World

The Regime Change And The "Hit-And-Run" Policy

 Neo-Cons Are Using American Power To Create Chaos In The World

مجیب خان
 

          صدر بر اک  ا وبا مہ نے اپنے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور یمن میں جنگوں کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بہت مختصر بات کی تھی۔ یوکرین کے مسئلہ کا بلیک آوٹ کیا تھا۔ شام میں روس کی فوجی موجودگی کے بارے میں خاموشی اختیار کی تھی۔ روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی تھی۔ سعودی عرب اور خلیج کے حکمران امریکہ کی سرپرستی میں داعش کے خلاف جو جنگ لڑ رہے ہیں۔ صدر اوبامہ نے کانگرس سے اپنے خطاب میں اس جنگ میں کامیابیوں یا ناکامیوں کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ کے حل میں ان کی کوششیں ناکام ہونے پر بھی کوئی بات نہیں کی تھی۔ بحرہ ساؤ تھ چائنہ میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں بھی کانگرس سے خطاب میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ یورپ میں امریکہ کے قدیم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں حالیہ چند سال میں جو کھچاؤ آیا ہے اس پر بھی کچھ نہیں کہا تھا۔ صدر اوبامہ کے خطاب میں خارجہ امور بہت مختصر پیراگراف تھا۔ صدر اوبامہ کے خطاب کا ایک بڑا حصہ اقتصادی شعبوں میں ان کی انتظامیہ کی کامیابیوں کی تفصیل پرتھا۔ صحت عامہ کی اصلاحات کی کامیابی کا ذکر تھا۔ جس کے تحت اٹھارہ ملین امریکیوں کو صحت عامہ کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ صدر اوبامہ نے اسٹیٹ اف دی یونین خطاب میں بڑے پر زور لفظوں میں کہا یونین آج بہت مضبوط اور مستحکم ہے۔ اور دنیا میں جہاں بھی مسئلہ ہوتا ہے وہ ہمارے پاس آتے ہیں۔ امریکہ کے فوجی بجٹ کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔
       ایک بیمار خارجہ پالیسی صدر اوبامہ کو وراثت میں ملی تھی۔ سات سال سے صدر اوبامہ اس بیمار خارجہ پالیسی کا علاج کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ Regime Change اورNation Building کا جو تصور بش انتظامیہ نے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو دیا ہے۔ صدر اوبامہ بھی اسی خارجہ پالیسی کے بھنور میں بھٹکے ہوۓ ہیں۔ Regime Change کرنے کا تجربہ انتہائی آسان تھا۔ لیکن Nation Building کے تجربے نے جیسے امریکہ کے عصا ب ڈھیلے کر دئیے ہیں۔ اور جب تک افغانستان عراق اور لیبیا تندرست معاشرے نہیں ہوں گے ۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی بھی اسی طرح بیمار نظر آۓ گی۔ اس بیمار خارجہ پالیسی کی وجہ سے شام میں Regime Change میں کامیابی ہو رہی ہے اور نہ ہی Nation Building کا مرحلہ قریب نظر آ رہا ہے۔ افغانستان بش انتظامیہ کی ناکامی تھا۔ اور شام اوبامہ انتظامیہ کی ناکامی ہے۔ اور امریکہ کی خارجہ پالیسی میں یہ ناکامیاں ایک تسلسل بن گئی ہیں۔ صدر اوبامہ ناکامیوں کے اس تسلسل کو ختم کر سکتے تھے ۔ لیکن صدر بش نے عراق پر حملہ کر کے انتشار اور عدم استحکام کا جو پنڈ رہ با کس کھولا تھا۔ صدر اوبامہ نے لیبیا پر حملہ کر کے اس پنڈ رہ با کس کو پنڈ رہ بیرل بنا دیا تھا۔ اور یہ پنڈ رہ بیرل سب کے قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ افغانستان عراق اور لیبیا پر حملوں سے اوبامہ انتظامیہ نے یہ سبق سیکھا تھا کہ شام میں Regime Change کے لئے امریکی فوجیں بھیجنے کے بجاۓ یہ کام عربوں سے خود کرنے کے لئے کہا ہے۔ لیکن انہیں ہتھیار اور تربیت دینے کی ذمہ داری امریکہ نے لی ہے۔
       افغانستان میں طالبان نے نیٹو فوجوں کو ناکام کر دیا تھا۔ لیکن شام میں حکومت کے باغیوں نے خود اپنے آپ کو شکست دی ہے۔ پانچ سال تک عرب عربوں کا خون بہاتے رہے۔ ایک عرب ملک کو تباہ کرنے میں خلیج کے عرب حکمرانوں نے گراں قدر سرمایہ لگایا تھا۔ لیکن آخر میں شام کے تنازعہ پر سب روس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ روسی فوجیں شام میں آ گئی ہیں۔ اور پانچ سال بعد اب اوبامہ انتظامیہ نے شام کے مسئلہ کے ایک سیاسی حل پر اتفاق کیا ہے۔ روس اور چین نے سلامتی کونسل میں جب امریکہ کی قراردادوں کو ڈ بل ویٹو کیا تھا۔ امریکہ کو اس وقت راستہ بدل کر شام میں سیاسی حل کی طرف آ جانا چاہیے تھا۔ اس صورت میں امریکہ اپنی عالمی قیادت کو بھی بچا لیتا۔ شام میں روس کی فوجیں آنے کے بعد داعش کے بارے میں جو انکشافات سامنے آۓ ہیں کہ ترکی کس طرح داعش کی مالی مدد کر رہا تھا ۔ اور انہیں ہتھیار فراہم کر رہا تھا۔ اور یہ داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کے قریبی اتحادی تھے۔ دنیا کے لئے روس کے یہ انکشاف ایسے ہی تھے کہ جیسے ایڈ ورڈ سنو ڈن کے امریکہ کی خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں انکشافات تھے۔ اور ان انکشافات سے امریکہ کی ساکھ مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
       نائن ایلون کے بعد عالمی امن امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں رہا ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے سرد جنگ کا مقام لے لیا ہے۔ بش انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز جس انداز سے کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہو گیا تھا کہ یہ جنگ دہشت گردی ختم کرنے کی نہیں ہے بلکہ یہ دہشت گردی کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کی جنگ ہے۔ اور پندرہ سال بعد یہ خدشات درست ثابت ہوۓ ہیں۔ اور اوبامہ انتظامیہ کے سات سال میں دہشت گردی کو فروغ دیا گیا ہے۔ صدر اوبامہ سے یہ سوال کبھی نہیں کیا گیا ہے کہ سینٹر اوبامہ نے عراق پر حملہ کی مخالفت کی تھی ۔ لیکن پریذیڈنٹ اوبامہ نے لیبیا پر حملہ کیوں کیا تھا؟ اس کی مخالفت کیوں نہیں کی تھی؟
       امریکہ کے عوام جنہیں منتخب کرتے ہیں خارجہ امور کے فیصلے وہ نہیں کرتے ہیں۔ ہزاروں میل دور دوسروں کے گھروں کے اندرونی معاملات میں جنگوں کے شعلے بھڑکانے میں امریکی عوام کا کیا مفاد ہے۔ لیکن یہ Neo Cons کا مفاد ہے۔ جو امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مفاد بن گیا ہے۔ اور Neo Cons امریکی پاور کو اپنے مقاصد میں استعمال کر رہے ہیں۔ بش انتظامیہ میں Neo Cons کو خارجہ پالیسی اسٹبلیشمنٹ میں مضبوط ہونے کا موقعہ ملا تھا۔ اور اوبامہ انتظامیہ میں یہ کمزور نہیں ہوۓ ہیں۔ Neo Cons پرامن طریقوں سے دنیا میں تبدیلیاں لانے میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ان کی تھیوری ہے کہ دنیا میں جتنا زیادہ انتشار ہو گا۔ جنگیں ہوں گی۔ خون خرابہ ہو گا۔ لوگ مارے جائیں گے۔ اس کے نتیجہ میں دنیا میں تبدیلی آۓ گی۔ عراق میں ہر سال ہزاروں لوگ مر رہے ہیں۔ لیکن Neo Cons کا اب بھی یہ کہنا ہے کہ چالیس پچاس سال بعد عراق ایک نیا ملک ہو گا۔ امریکی پاور کے ذریعے Regime Change پالیسی دراصل Neo Cons کی Hit and Run پالیسی ہے۔ اور اب یہ امریکہ کی خارجہ پالیسی بن گیا ہے۔ ایران میں Regime Change بھی ان کے ایجنڈے میں تھا۔ ایران کے خلاف اقتصادی بندشوں کے در پردہ عراق کا تصور تھا۔ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے تمامOptions  صدر اوبامہ کے سامنے رکھ دئیے تھے۔
        لیکن روس چین یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایٹمی پروگرام کا تنازعہ حل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اور امریکہ کو بھی اس فیصلہ کا پابند کر دیا تھا۔ اور ان مذاکرات میں عراق کے تجربہ کو مد نظر رکھا گیا تھا۔ اور ان مذاکرات کا دائرہ صرف ایران کے ایٹمی پروگرام تک محدود رکھا تھا۔ ایران میں انسانی حقوق ، پریس کی آزادی ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور Regime Change جیسے موضوع ان مذاکرات کا حصہ نہیں بناۓ تھے۔ لہذا ایران کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی ہوئی تھی۔ اس صورت حال میں ایران کے سلسلے میں اوبامہ انتظامیہ کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑی ہے۔ جبکہ Neo Cons امریکہ کو مذاکرات سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ صدام حسین کے ساتھ بھی یہ مذاکرات ہو سکتے تھے۔ اور صدام حسین عراق کے تیل کی دولت میں مغربی کمپنیوں کو بھی شامل کر سکتے تھے ۔ اس لئے لیبیا میں قدافی حکومت سے مذاکرات نہیں کیے تھے۔ اس لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی امریکہ نے سختی سے مخالفت کی تھی۔ اور پاکستان کو بھی طالبان سے مذاکرات کرنے سے روکا گیا تھا۔ اس لئے پانچ سال سے شام میں اسد حکومت سے مذاکرات امریکہ کی پالیسی نہیں تھی۔ کیونکہ Neo Cons  تنازعوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔
        صدر اوبامہ نے اپنے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ داعش کے بغیر بھی پاکستان افغانستان اور متعدد دوسرے ملکوں میں کئی دہائیوں تک عدم استحکام رہے گا۔ صدر اوبامہ کے بعد جس پارٹی کا بھی صدر آۓ گا۔ حالات بدستور ایسے ہی رہیں گے۔ ان میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اب یہ پاکستان افغانستان ایران سعودی عرب اور دوسرے ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدم استحکام کے حالات سے نکلنے کے لئے کئی دہائیوں کا انتظار مت کریں۔ اور اپنے خطہ میں امن اور استحکام کے لئے خود اقدامات کریں ۔ اور اس میں ان کا مفاد ہے۔

                                                                                                                             

Tuesday, January 12, 2016

Cooperation, Not Confrontation, Is The Solution For Saudi Arabia’s Stability And Security

 Sunni-Shia Clash In The Gulf

Cooperation, Not Confrontation, Is The Solution For Saudi Arabia’s Stability And Security  

مجیب خان


       عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس جو ریاض میں سعودی عرب کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ اجلاس میں عرب وزراۓ خارجہ نے تہران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ کی مذمت کی ہے۔ اور ایران سے عرب امور میں مداخلت کرنے سے باز رہنے کا کہا ہے۔ سعودی حکومت کا شیعہ عالم شیخ نمر کو پھانسی دینے پر تہران میں ہزاروں ایرانیوں نے سعودی سفارت خانہ کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ یہ احتجاج قابو سے باہر ہو گیا تھا۔ اور مظاہرین نے سفارت خانہ پر حملہ کر دیا تھا۔ خطہ میں جب شیعہ سنی فرقہ پرستی کو بھڑکایا جا رہا ہے اور شیعہ اقلیت میں ہیں۔ اور سنی عرب اکثریت شیعہ اقلیت کے ساتھ تصادم پر اتری ہوئی ہے۔ ایسی  میں اکثریت کے درمیان اقلیت بڑی حساس ہوتی ہے۔ اور اس کے جذبات جلدی مجروح ہو جاتے ہیں۔ لہذا اس طرح کے واقعات کا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ امریکہ میں جب سفید فام پولیس کی زیادتی کے نتیجے میں ایک سیاہ فام ہلاک ہو گیا تھا۔ تو شہر کے سارے سیاہ فام احتجاج کر نے سڑکوں پر آ گیے تھے۔ اور انہوں نے شہر کا سارا نظام درہم برہم کر دیا تھا۔ شہر میں خاصی توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔ لیکن امریکہ میں حکومت کو اقلیت کے جذبات کا احساس تھا۔ لہذا حکومت نے سیاہ فام کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کا ازالہ کرنے کے اقدام تجویز کیے تھے۔ لیکن عرب لیگ کے اجلاس میں ایران کے بارے میں ترش رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ اگر اسلامی جمہوریہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتی ہے تو عرب ممالک اس کا مقابلہ کریں گے۔ سعودی وزیر خارجہ نے ایران کو اگر اسلامی جمہوریہ کہا ہے تو ایران سے پھر اسلامی روایت کے مطابق ڈیل کیا جاۓ۔
       سعودی عرب سے اسلامی تعلیمات کے اصول فراموش کر کے دنیا کی سیاست کرنے کی توقع نہیں تھی۔ اللہ نے غیر مسلم کے ساتھ اچھے سلوک کی ہدایت کی ہے۔ اور شیعہ تو مسلمان ہیں۔ ایران ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ یہ سامراجی اور نوآبادیاتی طاقتیں ہیں جنہوں نے کہیں سنیوں کو اقلیت بنا دیا ہے اور کہیں شیعاوں کو اکثریت بنا دیا ہے۔ حالانکہ امریکہ اور یورپ میں صرف عیسائی اکثریت میں ہیں۔ جبکہ عیسائوں میں بھی کتھو لک ہیں ۔ Lutheranہیں ۔ Protestant ہیں۔ Orthodox ہیں۔ لیکن یہ اپنے ملکوں میں عیسائی فرقوں کی اکثریت اور اقلیت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے ہیں ۔ لیکن انہوں نے عربوں میں سنی اور شیعہ اقلیت اور اکثریت کو اہم ایشو بنا دیا ہے۔ عرب ایرانی شیعاوں سے خوفزدہ ہو رہے ہیں۔ اور ایرانی شیعہ عرب سنیوں کے درمیان تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ اور عرب ان ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو اس خطہ میں لڑاؤ تقسیم کرو اور بالا دستی رکھنے کی پالیسی فروغ دے رہے ہیں۔
       ریاض میں عرب لیگ کے اجلاس میں ایران کے خلاف جو قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس قرارداد کے متن سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے یہ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان تھا۔ اسرائیلی حکومت ماضی میں ایران کی فلسطینیوں کی حمایت بالخصوص حما س اور حزب اللہ کی پشت پنا ہی کرنے پر ان ہی لفظوں میں مذ مت کرتی تھی۔ یہ خطہ نفرتوں کی آگ میں سلگ رہا ہے۔ سعودی اور عرب لیگ خلاؤں میں بیٹھے نفرتوں کی سیاست کر رہے ہیں۔ اسلامی ملکوں کو اس وقت سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اور یہ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ ان چیلنجوں میں اضافہ کرنے کی پالیسی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یورپ میں 16ویں صدی میں تیس سال کی جنگ کے جو عوامل تھے۔ آج وہ عرب دنیا میں لڑائیوں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ جس میں مذاہب، سرحدیں، شاہی خاندان، اقتصادی مفادات کی دشمنیاں نمایاں اسباب تھے۔ اور تیس سال کی جنگ جب ختم ہو گئی تھی۔ تو یورپ کی سرحدیں بدل گئی تھیں۔ یورپ کا نقشہ تبدل ہو گیا تھا۔ اور بعض قوتیں مشرق وسطی کو ان ہی حالات کی طرف لے جا رہی ہیں۔
       سعودی عرب اور خلیج کی ریاستیں اس وقت جن خطرناک حالات میں گھرے ہوۓ ہیں۔ وہ خود انہوں نے اپنے لئے پیدا کیے ہیں۔ ایران نے یا حزب اللہ اور بشر السد نے ان کے لئے یہ حالات پیدا نہیں کیے ہیں۔ سعودی حکومت پر جو شدید تنقیدیں کر رہے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے اصل خیر خواہاں ہیں۔ صدام حسین اور معمر قدافی کو امریکہ اور یورپ اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ کیونکہ صدام حسین اور معمر قدافی ان کی پالیسیوں کے سخت خلاف تھے۔ لیکن انہیں اب احساس ہو رہا ہے کہ وہ دراصل امریکہ اور یورپ کے ہمدرد تھے۔ اور ان کی مخالفت بھی ان کے مفاد میں تھی۔ سعودی حکومت کے فیصلوں کی جو مخالفت کر رہے ہیں ۔سعودی حکومت کو اس پر توجہ دینا چاہیے۔ شیخ نمر کو پھانسی دے دی ہے۔ لیکن یہ مخالفت کا سد باب نہیں ہے۔ مخالفت کا حل مخالفین کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔ اکیسویں صدی کی دنیا میں مسائل اور تنازعوں کا حل فوجی آپریشن میں نہیں ہے۔ پندرہ سال سے امریکہ اپنی سیکورٹی کے خطروں کو فوجی آپریشن سے ختم کر رہا ہے۔ کیا امریکہ کو اس میں کامیابی ہوئی ہے؟ بلکہ ان فوجی آپریشن نے امریکہ کی سیکورٹی کے ساتھ دنیا کی سیکورٹی بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔ اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں کو دے کر غلطیوں کا ازالہ نہیں کیا جاتا ہے۔
       عرب لیگ ایک نااہل اور ناکام تنظیم ہے۔ جس نے اپنے قیام کے ستر برسوں میں صرف مذمت کی قراردادیں منظور کی ہیں عرب دنیا کے استحکام اور سلامتی کے مفاد میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیے ہیں۔ عربوں کے آپس کے تنازعہ ختم کرنے میں عرب لیگ کا کوئی مثبت رول نہیں ہے۔ با اثر بادشاہوں نے عرب لیگ کو اپنے مقاصد میں استعمال کیا ہے۔ اور ان کے مقاصد مغربی مفادات میں تھے۔ عرب اتحاد اور یکجہتی کے لئے عرب لیگ نے کچھ نہیں کیا ہے۔ فلسطینیوں کی حالت زار پر، عراق کے مسئلہ پر، لیبیا میں مغربی طاقتوں کی جا حا ریت پر، شام کی تباہی میں عرب لیگ کا رول، یمن جو ایک قدیم عرب ملک ہے اس کے خلاف خلیج کے دولت مند ملکوں کی جنگ میں عرب لیگ کی بے بسی اس تنظیم کی ناکامیوں کے ثبوت ہیں۔
       ریاض میں سعودی عرب نے عرب لیگ کا اجلاس بلایا اور ایران کی مذ مت میں قراردادیں منظور کرالی ہیں۔ لیکن یمن عرب لیگ کا اجلاس بلا سکتا ہے اور نہ ہی عرب لیگ سعودی عرب اور خلیج کی حکومتوں کی مذ مت میں اس طرح قرارداد منظور کر سکتی ہے۔ حالانکہ یمن میں ان ملکوں کی فوجی مداخلت عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یمن میں سیاسی بحران اس کا داخلی معاملہ تھا۔ اور ان ملکوں کو اس میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب ان ملکوں نے یمن پر حملہ کیا ہے اور عرب لیگ اس کی مذ مت کرے ۔ شام کے دو ملین لوگ یورپ میں پناہ کے لئے در بدر گھوم رہے ہیں۔ لیکن ان کا کوئی پرسا ں حال نہیں ہے۔ عرب لیگ صرف تما شہ دیکھ رہی ہے۔ غازہ کی ناکہ بندی ختم کرانے میں عرب لیگ اور سعودی حکومت نے کیا کیا ہے۔ گزشتہ جنگ میں اسرائیل نے غازہ پر بمباری کر کے ان کا سب کچھ تباہ کر دیا تھا۔ اور اب غازہ کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ یہ وہ ایشو ہیں جو سعودی عرب اور خلیج کے ملکوں میں راۓ عامہ کو ان کی حکومتوں کے خلاف کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ایران کو ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام دے رہے ہیں۔ ایران سے تصادم کی پالیسی ان کے استحکام اور سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ 

Saturday, January 9, 2016

And This Is The War Between Sunni-Saudi, And Shia-Iran

The Crisis of Moral Values   
Shia-Saudi Executed By Saudi Arabia
Sunni-Saudi Executed By America
And This Is The War Between Sunni-Saudi, And Shia-Iran 

مجیب خان


        حکومت اپنے مخالفین کو پھانسیاں دے کر ان کی آوازیں جب ہمیشہ کے لئے بند کر دیتی ہے تو یہ انسانی حقوق کے خلاف ایک بڑا جرم ہے۔ حکومت کے سیاسی مخالفین اور معاشرے میں جرائم کرنے والوں میں بڑا فرق ہے۔ لیکن یہ حکومتیں اپنے سیاسی مخالفین اور معاشرے میں جرائم کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں کرتی ہیں۔ اور اپنے مخالفین کو یہ پیشہ ور جرائم کرنے والے سمجھتی ہیں۔ سعودی عرب میں شیخ نمر النمر کے ساتھ اسی سوچ کے ساتھ پھانسی دینے کا فیصلہ  کیا گیا ہے۔ حالانکہ 56 سالہ شیخ نمر کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ حکومت پر بے لاگ تنقید کرتے تھے۔ سعودی شیعہ آبادی کے ساتھ فرقہ بندی کی بنیاد پر سلوک کے خلاف تھے۔ اور سعودی حکومت سے آزادی اور حقوق دینے کا مطالبہ کرتے تھے۔ آزادانہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کرنے پر  شیخ نمر کئی بار جیل بھی گیے تھے۔ عرب اسپرنگ میں انہوں نے سعودی شیعاؤں کے مظاہروں میں ایک کلیدی رول ادا کیا تھا۔ شیخ نمر سعودی عرب میں انقلاب برپا کرنے کی باتیں نہیں کر رہے تھے۔ وہ سعودی نظام کے اندر آزادی اور حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ کوئی اتنا بڑا جرم نہیں تھا کہ انہیں پھانسی دے دی گئی ہے۔ عوام کو حکومت سے شکایتیں ہوتی ہیں۔ اور وہ حکومت سے شکایتوں کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ حکومت کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ عوام کی شکایتوں پر توجہ دے۔ انہیں جیلوں میں ڈال کر یا پھانسیاں دے کر یہ کوئی عوام کی شکایتوں کا حل نہیں ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے عوام میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ اور ایک دن عوام کا لاوا پھٹ پڑتا ہے۔ پھانسیاں دینا آسان ہوتا ہے لیکن عوام کا پھٹتا لاوا سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔
        سعودی شیعہ عالم شیخ نمر اور سنی سعودی اسامہ بن لادن کے سعودی حکومت سے سیاسی اختلافات میں زیادہ نمایاں فرق نہیں تھا۔ شیخ نمر کی تقریروں میں سعودی عرب میں داخلی زیادتیوں آزادی اور حقوق کے بارے میں احتجاج ہوتا تھا۔ جبکہ اسامہ بن لادن کے پیغام میں سعودی عرب کی خار جی پالیسیوں  بالخصوص امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات پر غصہ کا اظہار ہوتا تھا۔ اسلامی ملکوں کے داخلی امور میں امریکہ کی مداخلت اور جا حا ریت میں سعودی حکومت کے تعاون کے اسامہ بن لادن سخت خلاف تھا۔ سعودی حکومت نے 90 کے عشر ے میں امریکہ کو سعودی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس سعودی فیصلے پر اسامہ بن لادن کو سعودی حکومت پر سخت غصہ تھا۔ ایک طرح سے بن لادن کا سعودی حکومت پر غصہ درست تھا۔ کیونکہ یہ سعودی حکومت تھی جس نے بن لادن اور ہزاروں عرب نوجوانوں کو افغانستان ایک اسلامی ملک میں جہاد کے لئے بھیجا تھا جہاں سوویت فوجیں آ گئی تھیں ۔ دس سال جہاد میں قربانیوں کے بعد اسلامی ریاست افغانستان سے سو ویت فوجوں کو نکالا تھا۔ پھر نوے کے عشر ے میں اسامہ بن لادن اپنے گھر سعودی عرب واپس آۓ تو یہاں امریکی فوجیں بھیٹی ہوئی تھیں۔ سعودی حکومت نے عراق کی پہلی جنگ کے بعد امریکہ کو سعودی سرزمین پر فوجی اڈ ے قائم کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اسامہ بن لادن مقدس سر زمین پر امریکی فوجیں دیکھ کر اپنی حکومت پر برہم  گیے تھے۔ بن لادن نے اپنے افغان جہادی ساتھیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ اب وہ امریکی فوجوں سے سعودی عرب کو آزاد کرانے کے لئے جہاد کی تیاری کریں۔ سعودی حکومت نے بن لادن کے اس پیغام کو سعودی عوام کو بغاوت پر اکسانا سمجھا تھا۔ سعودی حکومت نے بن لادن کو جیل بھیجنے کے بجاۓ ۔ سعودی عرب سے نکال دیا تھا ۔ سعودی شاید اللہ کے فیصلے کی پیروی کر رہے تھے کہ اللہ نے شیطان کو جنت سے نکال دیا تھا اور انہوں نے بن لادن کو مقدس سر زمین سے نکال دیا تھا۔ سعودی حکومت اگر اس وقت درست فیصلہ کر لیتی اور بن لادن کو ملک سے نکالنے کے بجاۓ نظر بند کر دیتی ۔ تو آج اسلامی ملکوں کو اس عذاب کا سامنا نہیں ہوتا۔ سعودی حکومت نے بن لادن کے ساتھ کیا انصاف کیا تھا اور نہ ہی شیعہ عالم شیخ نمر کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ اور نہ ہی سعودی عوام کو انصاف دیا ہے۔



      اس وقت جتنی بھی جنگیں ہو رہی ہیں وہ صرف نا انصافیوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ کیا سعودی ہو تیوں سے انصاف کے لئے جنگ کر رہے ہیں؟ ہوتی سعود یوں سے اس لئے لڑ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ ان کے ملک پر حملہ کیا ہے۔ اور وہ اپنے ملک کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیونکہ وہ غریب ہیں اور سعودی  دولت مند ہیں۔ اس لئے امریکہ اور مغربی طاقتیں سعودی جا حا ریت کی حمایت کر رہی ہیں۔ ایک نا انصافی پر دوسری نا انصافی یہ ہے کہ اسے وہ شیعہ سنی کی جنگ بنا رہے ہیں۔ اصول ان کے ضمیر میں جیسے مر گیے ہیں۔ سعودی عرب میں 47 لوگوں کو پھانسیاں دی گئی ہیں۔ لیکن اس پر صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ سعودی عرب کا داخلی معاملہ ہے۔ ترکی کے صدر طیب ارد گان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا پھانسیاں دینے کا فیصلہ صحیح ہے۔ اور یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔ سعودی میڈ یا میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ نمر النمر دوسروں سے مختلف نہیں ہیں۔ انہوں نے فوجی سیل بناۓ تھے ۔ جو شہریوں کو ہلاک کر رہے تھے۔ اور مشرقی سعودی عربیہ میں فساد پھیلا رہے تھے۔ نمر النمر کو پھانسی کا شاہ سلمان کا فیصلہ جرات  مندانہ ہے۔ شاہ نے ایرانی منصوبے خاک کر دئیے ہیں۔ ایک سعودی کالم نویس نے لکھا ہے کہ جو 47 لوگوں کو پھانسی دینے کی مذمت کر رہے ہیں وہ شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کی بات کر رہے ہیں۔ ان پر منصفانہ مقدمہ چلایا گیا تھا ۔ اور یہ سعود یوں کا موقف ہے۔
      لیکن دوسری طرف شام میں سعودی اس کے عرب اتحادی اور امریکہ کیا کر رہے ہیں؟ شام میں حکومت کے خلاف جو لوگوں کو بغاوت پر اکسا رہے تھے۔ وہ کیوں دہشت گرد نہیں تھے؟ اسد حکومت اپنے مخالفین کے خلاف جو اقدام کر رہی تھی وہ سعود یوں کو اپنے بادشاہ کے اقدامات سے مختلف کیوں نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ کی نگاہ میں صدر بشر السد Butcher ہے۔ سعودی عرب میں آزادی اور حقوق کا مطالبہ کرنے والے دہشت گرد ہیں لیکن شام میں حکومت کے خلاف ہتھیاروں سے لڑنے والے آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ شام کو انہوں نے کھنڈرات بنا دیا ہے۔ دو لاکھ بےگناہ شامی ہلاک ہوۓ ہیں۔ لاکھوں شامی بے گھر ہو گیے ہیں۔ اور یہ دہشت گردی نہیں ہے ۔ شام میں انسانیت کی یہ تباہی سعودی ،خلیج کے حکمرانوں اور امریکہ کی مداخلت کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ اور اب کن چہروں سے سعودی حکومت 47 لوگوں کو پھانسیاں دینے کے فیصلے کو اس کا داخلی معاملہ کہہ رہی ہے۔
      سرد جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ اور مغرب کی اخلاقی قدریں بھی ختم ہو گئی ہیں۔ Corporate Greed, Political Opportunism, Double Standard,   اب ان کی نئی قدریں بن گئی ہیں۔ اور عوام انصاف سے محروم ہو گیے ہیں۔         

Thursday, January 7, 2016

Why Didn’t Saudi Arabia Resist The Sunni Regime Change In Iraq?

 The Saudi’s Dubious Role And The Islamic World 

Why Didn’t Saudi Arabia Resist The Sunni Regime Change In Iraq?

مجیب خان



         یہ زیادہ  پرانی بات نہیں ہے صرف  دو تین سال پہلے اسرائیل ایران پر حملہ کرنے جا رہا تھا ۔اور ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے کی تیاری کر لی تھی۔ اس وقت پھر یہ خبریں بھی آ رہی تھیں ایران پر حملہ کرنے کے لئے اسرائیل سعودی عرب کی فضائی حدود کو استعمال کرے گا۔ کئی برسوں سے ایران اور اسرائیل میں جاری سرد کشیدگی گرم جنگ بنتی جا رہی تھی ۔ اسرائیلی ایران کے ملاؤں کو دیکھ کر غصہ سے اپنے دانت چباتے تھے۔ کہ صدام حسین کو غلط ٹارگٹ کیا گیا تھا۔ ان کے اصل دشمن ایرانی ملا تھے۔ جنہوں نے حزب اللہ اور حما س ان کے پیچھے لگا دئیے ہیں ۔جو ان پر میزائلوں کی بارش کرتے رہتے ہیں۔ اور اسرائیل کو تباہ  کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلیوں کو حزب اللہ اور حما س  سے زیادہ ایرانی ملاؤں پرغصہ تھا۔ اور ایرانی ملا یہ دیکھ کر حزب اللہ اور حما س کی بہادری کی داد دیتے تھے۔ سعودی عرب کی ایران سے اچانک دشمنی کے پیچھے یہ اصل سیاست ہے۔ ایران کے بارے میں اسرائیل اور سعودی عرب کے مفادات ایک صفحہ پر آ گیے ہیں۔ سعود یوں کے ساتھ اب اسرائیلی بھی سنی ہو گیے ہیں۔ اسرائیل اب پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اور سعودی عرب ایران کے ساتھ اب حزب اللہ اور حما س کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران میں اس پنجہ آزمائی کو مغربی میڈ یا نے شیعہ سنی کی لڑائی بنا دیا ہے۔ حالانکہ شیعہ ایران کی طرح سعودی عرب ایک وہابی ریاست ہے۔ اور اسلام میں جس طرح شیعہ ایک فرقہ ہے اسی طرح وہابی بھی ایک اقلیتی فرقہ ہے۔ تاہم شیعہ جب حج یا عمرہ کرنے مکہ جاتے ہیں۔ تو وہ بھی سنیوں کے تمام فرقوں کے ساتھ حج یا عمرہ کرتے ہیں۔ اور سعودی امام کی قیادت میں یہ فریضہ ادا کرتے ہیں۔ اور سب ایک کلمہ اور ایک قرآن ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔ شیعہ اور سنی کی لڑائی کا ذکر قرآن میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں یہ کہا گیا ہے۔ شیعہ سنی پو لیٹکل اسلام کی لڑائی ہے ۔ جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پو لیٹکل اسلام نوآبادیاتی اور سامراجی طاقتوں کی ایجاد ہے ۔ جسے انہوں نے ہمیشہ اپنے مفادات میں استعمال کیا ہے۔ سرد جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں پولیٹکل اسلام نے اشتراکیت کے خلاف ایک گرم جنگ لڑی تھی۔ اس وقت مغربی طاقتیں اشتراکیت کے خلاف صرف سرد جنگ میں یقین رکھتی تھیں۔ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد پولیٹکل اسلام پر انتہا پسندوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ پولیٹکل اسلام اب سعودی عرب کے لئے بھی مسئلہ بن گیا ہے۔ با ظاہر سعودی پولیٹکل اسلام کے انتہا پسندوں سے فاصلے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن پھر انہیں بھی ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم دونوں صورتوں میں ان کے لئے بات نہیں بن رہی ہے۔ ہر طرف سے صورت حال انہیں کار نر کرتی جا رہی ہے۔ پہلی مرتبہ سعودی کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ اور ہر محاذ پر انہیں کوئی کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔
          2016 کے آغاز پر سعودی حکومت کو 2015 میں اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے تھا اور اس کی روشنی میں 2016 کے لئے ایک نئی حکمت عملی بنائی جاتی۔ لیکن مطلق العنان حکمران خوف میں آ کر خوف پھیلانے کی پالیسیاں اختیار کرنے لگتے ہیں۔ 47 سعودی شہریوں کو بیک وقت پھانسیاں دے کر جن میں ایک شیعہ عالم بھی شامل ہیں، سعودی حکومت نے ایک خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اور یہ خوف کی فضا صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے بلکہ خلیج کی دوسری ریاستوں میں بھی اس خوف کے تابکاری اثرات ہوں گے۔ سعودی حکومت نے ایک شیعہ عالم کو پھانسی دی ہے ۔ لیکن سنی سعودی عالم جو حکومت سے اختلاف کر رہے  ہیں ان پھانسیوں کے ذریعے انہیں بھی پیغام دیا گیا ہے۔ سعودی حکومت شاید کسی بڑے فیصلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ شاہ سلمان نے حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔ اس سے قبل حما س کے رہنما سے بھی شاہ سلمان مل چکے ہیں۔ گزشتہ نومبر میں سعودی حکومت نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے تمام فنڈ منجمد کر دئیے ہیں۔ سعودی عرب میں ان کے داخل ہونے پر پابندی لگا دی  ہے۔ اور اب ایران کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران کے سفارتی عملہ کو سعودی عرب سے نکال دیا ہے۔ ایران کے سفارت خانہ پر تالے ڈال دئیے ہیں۔ اور دوسرے عرب ملکوں سے بھی سعودی حکومت کے فیصلے کی پیروی کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ اس طرح ایران کے خلاف اسرائیل کے مشن کی سعودی عرب کے ذریعے تکمیل ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ایران پر فلسطین تنازعہ میں ملوث ہونے سے باز رہنے کے لئے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ اور حماس کو ایران اور حزب اللہ کی پشت پنا ہی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
        ادھر امریکی حکام فلسطینی اتھارٹی کے Collapse ہونے کے خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ اسرائیلی کابینہ میں وزیر اعظم نا تھن یا ہو نے بھی اس خدشہ کی تصدیق کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر 80 برس کے ہو گیے ہیں۔ اور وہ صدارت سے مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔ مغربی کنارے میں حالات خاصے تشویشناک ہیں۔ فلسطینیوں کے اقتصادی اور سماجی حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایک بہت بڑی تعداد فلسطینیوں کی بیروز گار ہے ۔ اسرائیل کی اقتصادی بندشیں فلسطینیوں کا گلہ گھونٹ رہی ہیں۔ ادھر غازہ میں اسرائیل کے ساتھ آخری جنگ میں فلسطینیوں کا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ اور اسرائیل اس جنگ کی انہیں ابھی تک سزا دے رہا ہے۔ غازہ کی اقتصادی ناکہ بندی عراق پر اقتصادی بندشوں سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ اس وقت جو فلسطینی افلاس اور بھوک سے مر رہے ہیں۔ اگر فلسطینی اتھارٹی Collapse  ہو جاتی ہے ۔ تو اس صورت میں یہ فلسطینی بھوکے شیروں کی طرح اسرائیل پر چڑھائی کریں گے اور مرنے کو ترجیح دیں گے۔
         سعود یوں کی قیادت میں سنی بلاک اور ایران کی قیادت میں شیعہ بلاک بنانے  سے اسلام کو جو دو بلا کو ں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے سنیوں کو کیا حاصل ہو گا؟ سرد جنگ کے دور میں اسلامی دنیا نے جن کی اکثریت سنی تھی۔ سعود یوں کے ہر مشورے کو اللہ کی وحی سمجھ کر اس پر عمل کیا تھا۔ اس کے نتائج آج اسلامی دنیا کے حشر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مسلمانوں کی کئی نسلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اور اسلامی ملک اس تباہی سے ابھی تک نہیں نکل سکے ہیں۔ اب سعودی اسلامی ملکوں کو تباہی کے ایک نئے راستے پر لے جا رہے ہیں۔ اسلامی ملکوں کو سعود یوں سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے عراق میں ایک سنی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی تھی؟ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کو صدام حسین کو جو سنی تھے اقتدار سے ہٹانے کی اجازت کیسے دی تھی؟ اس وقت سعودی محلوں میں بھیٹے عراق کی تباہی کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ اور پھر صدر جارج بش کے ساتھ ،جس نے صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد بڑے فخر سے یہ اعلان کیا تھا کہ ایک ہزار سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عراق میں شیعاؤں کی حکومت آئی ہے ،سعودی تلواروں کے ساتھ ناچ رہے تھے۔ حالانکہ عراقی شیعہ خود کو پہلے عرب کہتے تھے۔ اور پھر شیعہ تھے۔ جبکہ سعودی خود کو پہلے سنی کہتے ہیں اور پھر عرب ہیں۔ ایران نے عراق پر اینگلو امریکہ کے حملہ کی مخالفت کی تھی۔ اور ان سے تعاون نہیں کیا تھا۔ عراق پر امریکی قبضہ کے خلاف مزاحمت کرنے والے عراقیوں کی ایران نے حمایت کی تھی۔ ایران نے القاعدہ کے سنیوں کو جو پاکستان اور افغانستان سے بھاگ کر ایران آۓ تھے انہیں پناہ دی تھی۔ دنیا اور آخرت کا نظام کردار اور اعمال پر ہے۔ کردار اور اعمال انسان کو آخرت میں بھی عظیم بنائیں گے اور دنیا کی نظر میں بھی انہیں عظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہوتا ہے ۔ سعودی اسلام کی خدمت دنیا کی سیاست سے کر رہے ہیں۔              

Sunday, January 3, 2016

The Use of Weapons In Unjust Wars Is The Same As Gun Violence In America

Militarization Is Creating Militancy

The Use of Weapons In Unjust Wars Is The Same As Gun Violence In America

مجیب خان


          کانگریشنل ریسرچ سروس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق جو کانگرس کو دی گئی ہے ،امریکہ کی ہتھیاروں کی عالمی فروخت میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی ہتھیاروں کی عالمی فروخت 2013 میں 26.7 بلین ڈالر سے 2014 میں 36.2 بلین ڈالر ہو گئی تھی۔ ہتھیاروں کی عالمی فروخت میں تقریباً 10 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق قطر سعودی عرب اور جنوبی کوریا کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت کے کھربوں ڈالر کے معاہدوں کی  وجہ سے بھی اس میں اضافہ ہوا تھا۔ 2014 میں ہتھیاروں کی فروخت میں امریکہ پہلے نمبر پر تھا۔ تقریباً 50 فیصد سے زیادہ دنیا میں ہتھیاروں کی مارکیٹ پر امریکہ کا قبضہ ہے۔ امریکہ کے بعد روس دوسرے نمبر پر تھا۔ روس نے 2013 میں10.3 بلین ڈالر کے مقابلے میں 2014 میں 10.2 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔ جبکہ سویڈن تیسرے نمبر پر تھا۔ اور سویڈن نے 5.5 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔ فرانس نے  4.4 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے اور چین نے 2.2 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔ جنوبی کوریا نے امریکہ سے 7 بلین ڈالر کے ہتھیار خریدے تھے۔ عراق سے امریکی فوجی انخلا کے بعد عراقی حکومت نے امریکہ سے 7.3 بلین ڈالر کے خریدے تھے ۔
         اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2013 میں ہتھیاروں کی فروخت 70.1 بلین ڈالر سے 2014 میں یہ 71.8 بلین ڈالر پر پہنچ گئی تھی۔ اس عرصہ میں دنیا میں خانہ جنگی، دہشت گردی کی جنگوں کو فروغ ملا تھا۔ اور یوکرین کا بحران بھی ہتھیاروں کی تجارت کے مفاد میں پیدا کیا گیا تھا۔ ہتھیاروں کی تجارت کے 2015 کے اعداد ابھی نہیں آۓ ہیں۔ لیکن 2015 میں امریکہ کی ہتھیاروں کی تجارت میں تقریباً تین گنا کا اضافہ ہوا ہو گا۔ کیونکہ سعودی عرب کی یمن کے ساتھ جنگ میں امریکہ سعودی عرب کو کھربوں ڈالر کے  ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے اس جنگ میں سعودی عرب کے خلیج کے اتحادیوں کو بھی کھربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کر نے کے معاہدے کیے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ہتھیاروں کی صنعت میں امریکہ واحد ملک ہے جس کا کوئی اور ملک مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ سرد جنگ ختم ہو نے کے بعد بھی امریکہ نے اپنی اس بالا دستی کو برقرار رکھا ہے۔ نیٹو کو مشرقی یورپ تک اس طرح پھیلایا گیا تھا کہ جیسے سرد جنگ ابھی شروع ہو رہی تھی۔ لیکن مشرقی یورپ کے ملکوں کو نیٹو میں شامل کرنے کے پیچھے اصل مقصد انہیں ہتھیار فروخت کرنا تھا۔ مشرقی یورپ کے جو ملک نیٹو میں شامل ہو رہے تھے ان سے پھر اپنے ہتھیاروں کے معیار کو نیٹو ملکوں کے معیار کے مطابق بنانے کے لئے کہا گیا تھا۔ ان کے کمیونسٹ دور کے ہتھیاروں کو فرسودہ قرار دے دیا تھا۔ نیٹو میں شامل ہونے والے ان ملکوں نے کھربوں ڈالر کے ہتھیار امریکہ سے خریدے تھے۔
       جب نیٹو میں شامل ہونے والے نئے ملکوں کے ہتھیار نیٹو کے معیار کے مطابق آ گیے تھے۔ تو پھر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا تھا۔ افغانستان اور عراق نا ختم ہونے والی جنگوں کے محاذ بن گیے تھے۔ دنیا میں دہشت گردی کا خوف اتنا زیادہ پھیلایا گیا تھا کہ قوموں نے اپنی سیکورٹی کے لئے ہتھیار خریدنا شروع کر دئیے تھے۔ پہلی عراق جنگ کے بعد خلیج  کے عرب ملکوں کو صدام حسین کے خوف سے ہتھیار فروخت کیے تھے۔ پھر دوسری عراق جنگ کے بعد صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے خوف سے خلیج کے عرب ملکوں کو نئے ہتھیار فروخت کیے تھے۔ ایک ایسے انتہائی حساس خطہ میں جہاں تنازعوں کو سیاست سے حل کرنے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ وہاں ہتھیاروں کی فروخت سے عربوں کو تنازعہ جنگوں سے حل کرنے کی شہ دی جا رہی تھی۔ امریکہ نے عراق میں ایک ایسی حکومت کو اقتدار سے ہٹایا تھا جو عراقی عوام کے خلاف فوج اور ہتھیار استعمال کرتی تھی۔ پھر عراق پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ نے ایک نئی عراقی فوج  بنائی تھی۔ اسے تربیت بھی امریکہ نے دی تھی۔ پھر عراقی حکومت نے تقریباً 100 بلین ڈالر کے ہتھیار اپنی فوج کو مسلح کرنے کے لئے امریکہ سے خریدے تھے۔ عراق سے امریکہ نے اپنی فوجیں نکال لی تھیں ۔ اور عراق ایک نئی حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔ لیکن یہ نئی حکومت پرانی بوتل میں نئی عراقی حکومت تھی۔ صدام حسین اپنی حکومت کے مخالفین کے خلاف  طاقت کا استعمال کرتے تھے۔ لیکن امریکہ نے عراق کو ایک ایسی سیاسی تبدیلی دی ہے جس میں جمہوری حکومت کو اقلیتوں کے خلاف ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا نظام دیا ہے۔ اور یہ ہتھیار امریکہ انہیں فروخت  کر رہا ہے۔ صدام حسین کے دور میں سارا تنازعہ مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے شروع ہوا تھا۔ اور عراق کو اب ہتھیاروں کے فروخت اور ان کے استعمال نے حالات انتہائی خطرناک بنا دئیے ہیں۔ یہاں ہزاروں سال سے آباد عراقی اقلیتیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیاروں کی زد میں ہیں۔ 13 سال ہو گیے ہیں لیکن امریکی سیکریٹری دفاع عراق میں ابھی تک خفیہ طور سے جاتے ہیں۔ اور اب عراقی حکومت کو داعش سے جنگ کرنے کا Assignment دیا گیا ہے۔ داعش نے سنیوں کی غالب اکثریت والے عراقی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اور اس کے لئے عراقی حکومت نے امریکہ سے ایک بلین ڈالر کے نئے ہتھیار خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔
      اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق عراق میں دسمبر میں 980 عراقی ہلاک ہوۓ ہیں۔ جبکہ نومبر میں 888 عراقی ہلاک ہوۓ تھے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر میں 506 عراقی شہری ہلاک ہوۓ تھے اور باقی  کا تعلق عراقی سیکورٹی فورسز سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر میں 1244 عراقی شہری زخمی ہوۓ تھے۔ دسمبر کے ان اعداد کے ساتھ صرف 2015 میں عراق میں 7515 عراقی ہلاک ہوۓ ہیں۔ اور 14855 عراقی زخمی ہوۓ ہیں۔ عراق کے لئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے  Jan Kubis  نے ہزاروں عراقیوں کی تنازعہ اور دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاکتوں کو ناقابل قبول کہا ہے۔ عراق میں شہریوں کی ہلاکتوں کا یہ سلسلہ امریکہ کے عراق پر حملہ کے بعد سے جاری ہے۔ اور اس وقت سے ہر سال تقریباً اتنی ہی بڑی تعداد میں عراقی شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطی میں حالیہ برسوں میں ہتھیاروں کی فروخت میں جس پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ اسی پیمانے پر اس خطہ میں دہشت گردی اور تنازعوں کو فروغ ملا ہے۔
         سعودی عرب نے 2010 سے 2014 کے عرصہ میں تقریباً 90 بلین ڈالر کے ہتھیار خریدے تھے۔ سعودی عرب پر کسی ملک نے نائن الیون کی طرح کا حملہ نہیں کیا تھا۔ لیکن سعودی عرب نے 90 بلین ڈالر کے ہتھیاروں سے یمن پر حملہ کر دیا تھا۔ جن ملکوں سے خریدے گیے ہتھیاروں سے یہ حملہ کیا گیا تھا ان ملکوں نے سعودی عرب کی جا حا ریت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اور سعودی عرب کو مزید ہتھیا ر فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نو ماہ میں ان ہتھیاروں سے چار ہزار یمنی شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اور ایک بڑی تعداد میں یمنی شہری زخمی ہوۓ ہیں۔ شام میں پانچ سال سے جس طرح دہشت گردوں کی پشت پنا ہی کی جا رہی ہے۔ اور انہیں ہتھیاروں کے استعمال کی شہ دی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں شام میں تقریباً  تین لاکھ شہری ہلاک ہوۓ ہیں۔ اور زخمی ہونے والے شامیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
       گزشتہ نومبر میں 196 ملکوں نے اقوام متحدہ کے تحت پیرس میں تبدیلی موسم کانفرنس میں موسم میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو روکنے کے اقدام کرنے کا سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ تبدیلی موسم ایک عالمی ایشو تھا ۔ کئی سالوں کی انتھک کوششوں کے بعد بالآخر تبدیلی موسم پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ لیکن تبدیلی موسم سمجھوتہ سے ہتھیاروں کے استعمال کو علیحدہ رکھا گیا ہے۔ حالانکہ ہتھیاروں کا استعمال بھی آلودگی پھیلانے میں ایک بڑا رول ادا کرہا ہے۔ جن ملکوں میں طویل عرصہ سے جنگیں ہو رہی ہیں۔ اور میزائلوں بموں اور Depleted Uranium  میزائل استعمال کیے گیے ہیں۔ ان ملکوں میں ماحولیات پر اس کے دور رس اثرات ہو رہے ہیں۔ ان ملکوں میں پانی Soil اور فضا آلودہ ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کو اس مسئلہ کو بھی تبدیلی موسم کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہیے تھا۔ اقوام متحدہ کو اس کی تحقیقات بھی کرنا چاہیے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال کا لوگوں کی صحت پر کیا اثرات ہو رہے ہیں؟