Tuesday, March 15, 2016

Election In America: This Is A Very Unique Election Campaign That The World Has Never Seen Before

The American Awakening

Election In America: This Is A Very Unique Election Campaign That The World Has Never Seen Before

مجیب خان
   

           پچھلے جمعہ کو شکاگو میں صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی ایک بہت بڑی انتخابی ریلی تھی۔ جس سے ڈونالڈ ٹرمپ خطاب کرنے آ رہے تھے۔ تقریباً 30 ہزار کا مجمع تھا۔ شام کو آٹھ بجے ڈونالڈ ٹرمپ کے ریلی سے خطاب سے قبل ڈونالڈ ٹرمپ کے مخالفین بھی یہاں جمع ہو گئے تھے۔ انہوں نے پہلے نعرے بازی شروع کر دی تھی۔ اس کے جواب میں ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی بھی نعرے لگانے لگے۔ پھر مجمع میں ہلڑ بازی ہونے لگی۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں ہا تھا پائی ہونے لگی۔ بالاآخر سیکورٹی کی صورت حال کے پیش نظر منتظمین کو ٹرمپ کا ریلی سے خطاب ملتوی کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ انتخابی ریلی میں یہ مناظر دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ عمران خان کی ریلی تھی۔ اور رانا ثنا اللہ کے لوگ نعرے بازی ہلڑ بازی اور ہا تھا پائی کر رہے تھے۔ لیکن ایک بڑا فرق یہ تھا کہ یہاں پولیس کے ادارے پر کسی کا کوئی سیاسی اثر و رسوخ نہیں تھا۔ اور پولیس اپنے فرائض عوام کی سلامتی کے مفاد میں انجام دے رہی تھی۔ اس لئے یہاں کوئی نا سازگار واقعہ نہیں ہوا تھا۔ کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔ کسی کا سر نہیں پھٹا تھا۔ کسی کا خون نہیں گرا تھا۔ جو قابو سے کچھ زیادہ باہر ہو گیے تھے۔ پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ Tension بہت زیادہ تھی۔ اس لئے ڈونالڈ ٹرمپ کو انتخابی ریلی سے خطاب ملتوی کرنا پڑا تھا۔
       امریکہ کی تاریخ میں ایسی صدارتی انتخابی مہم کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ دنیا نے دو ہزار کے صدارتی انتخابات میں دھاندلیاں دیکھی تھیں۔ لیکن یہ صدارتی انتخابی مہم ایک نئی منفرد تاریخ بنا رہی ہے۔ حالانکہ ابھی صرف پارٹیوں میں صدارتی امیدواروں کے درمیان پرائم ریز ہو رہی ہیں۔ جس کے بعد اس کا تعین ہو گا کہ کون ری پبلیکن پارٹی کا اور کون ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار ہو گا۔ اور یہ مرحلہ اپریل کے وسط تک مکمل ہو جاۓ گا۔ جس کے بعد واضح تصویر سامنے آ جاۓ گی۔ تاہم اس وقت تک کی پرائم ریز کے نتائج سے یہ ںظر آ رہا ہے کہ صدارتی مقابلہ ہلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ہو گا۔ لیکن امریکیوں میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ری پبلیکن پارٹی کے اندر ڈونالڈ ٹرمپ کو صدارت کے لئے نامزد کرنے کی مخالفت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اور جولائی میں پارٹی کنونشن میں بعض ری پبلیکن ڈونالڈ ٹرمپ کی نامزدگی کو بلاک کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے لئے شاید یہ ممکن نہیں ہو گا۔ کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ پرائم ریز میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو رہے ہیں۔ اور ری پبلیکن پارٹی اگر انہیں نامزد نہیں کرے گی تو اس صورت میں وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے صدارت کا انتخاب لڑیں گے۔ اور ری پبلیکن پارٹی تقسیم ہو جاۓ گی۔
       انتخابات میں امیدوار کا ایک پختہ Stand ہوتا ہے۔ اور دوسرا اس کا پیغام ہوتا ہے۔ جس سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ امیدوار کا Stand لوگوں میں اس کے پیغام میں اس کے مخلص ہونے کا اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور ڈونالڈ ٹرمپ کے اچانک اتنا زیادہ مقبول ہو جانے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسرا یہ کہ ڈونالڈ ٹرمپ پیشہ ور سیاستدان بھی نہیں ہیں۔ سیاست میں انہوں نے کبھی حصہ نہیں لیا تھا۔ ان کا کاروبار Real estate developerہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ واشنگٹن کے Insider بھی نہیں ہیں۔ واشنگٹن اسٹبلشمینٹ سے بھی ان کا تعلق نہیں ہے۔ اس وقت پرائم ریز میں ان کے مقابلے میں تین دوسرے امیدوار ہیں۔ جن میں دو سینیٹر ہیں اور ایک ریاستOhio  کے گورنر ہیں۔ اور اس سے قبل کانگرس مین تھے۔ لہذا انتخابات میں ان کا Stand اور پیغام لوگوں کو زیادہ متاثر نہیں کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ ڈونالڈ ٹرمپ سے زیادہ قدامت پسند ہیں۔ لیکن یہ جنوبی ریاستوں میں پرائم ريز انتخاب ہار گیے ہیں۔ جہاں لوگوں کی اکثریت انتہائی مذہبی قدامت پسند ہے۔ اور اسے Church belt بھی کہا جاتا ہے۔
       ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے درمیان پہلی تین Debates میں دونالڈ ٹرمپ نے اپناStand  اسٹیج پر سیٹ کر دیا تھا۔ ابتدائی تین Debates میں ایک تہائ سے زیادہ وقت دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ کے بارے میں سوالوں پر تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے مقابلے پر تمام امیدواروں نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خود کو کمانڈر انچیف ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ کسی نے کہا داعش کے خلاف عراق اور شام پر Carpet bombing کی جاۓ۔ Jeb Bush یوکرین کے مسئلے پر یورپ میں فوجیں بھیجنا چاہتے تھے۔ جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے عراق جنگ کو ایک غلط جنگ قرار دیا تھا۔ اور لیبیا میں قدافی کو اقتدار سے ہٹانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی تھی۔ شام میں صدر پوتن کے اقدام کی حمایت کی تھی۔ ان Debates میں ڈونالڈ ٹرمپ کا تمام تر زور امریکہ کی تعمیر نو کرنے پر تھا۔ اور لوگوں کے حالات بہتر بنانے پر تھا۔ ان کے پیغام میں امریکی نیشنلزم کی تخلیق نظر آ رہی تھی۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرجانبدار رہنے کا کہا ہے۔ ان کے Stand سے لوگ متاثر ہونے لگے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے مقابلے پر دوسرے صدارتی امیدوار جتنا زیادہ جنگوں اور فوجی آپریشن کی باتیں کرتے تھے۔ اتنے ہی زیادہ ووٹوں سے یہ سب ہارتے تھے۔ اور ڈونالڈ ٹرمپ ان سے آگے آتے گیے۔
       صدر اوبامہ کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں وال اسٹریٹ کے خلاف ایک مہم چلی تھی۔ امریکہ بھر سے بڑی تعداد میں لوگ وال اسٹریٹ کے خلاف احتجاج کرنے نیویارک آۓ تھے۔ نیویارک میں کئی ہفتوں تک انہوں نے دھرنا دیا تھا۔ انہوں نے  ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقعہ پر بھی مظاہرے کیے تھے۔ ان کا دھرنا نیویارک کی انتظامیہ نے ختم کرنے کی متعدد بار کوشش کی تھی۔ لیکن یہ لوگ دھرنا ختم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بالااخر وفاقی ایجنسیوں کی مدد سے ان کا دھرنا ختم کرایا گیا تھا۔ انہیں خاصا ڈرایا دھمکایا گیا تھا۔ بعض کے خلاف قانونی کاروائیاں بھی ہوئی تھیں۔ انہیں انارکسٹ بھی کہا گیا تھا۔ اور اب یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور ان میں کچھ برنی سینڈر کی انتخابی مہم میں شامل ہو گیے ہیں۔ جو ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار ہیں۔
       اس مرتبہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے زیادہ امیدوار میدان میں نہیں آۓ ہیں۔ جس کی وجہ سے ہلری کلنٹن مضبوط امیدوار نظر آ رہی ہیں۔ ہلری کلنٹن کا پرائم ریز انتخابات میں صرف برنی سینڈر سے مقابلہ ہے۔ برنی سینڈر سینیٹر ہیں۔ اس سے پہلے کانگرس مین تھے۔ برنی سینڈر جنگ کے خلاف ہیں۔ اور سینٹ میں انہوں نے عراق پر حملے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ جبکہ ہلری کلنٹن نے سینٹ میں عراق پر حملہ کرنے کی قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ اور ہلری کلنٹن جب سیکریٹری اف اسٹیٹ تھیں۔ انہوں نے صدر قدافی کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کی تھی۔ شام کے سلسلے میں بھی ہلری کلنٹن نے محتاط پالیسی اختیار نہیں کی تھی۔ بشارالاسد کو جانا ہے۔ اوبامہ انتظامیہ کی پالیسی بن گئی تھی۔ جس کی وجہ سے یورپ کے لئے Immigrants کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اور مشرق وسطی  عدم استحکام ہو گیا ہے۔ لیکن پھر ری پبلیکن پارٹی کے امیدواروں کی Debates دیکھنے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا جنگوں کے خلاف موقف کے نتیجے میں مقبولیت دیکھ کر ہلری کلنٹن بھی جنگوں کے موضوع سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ اور امریکی عوام کے اقتصادی اور سماجی مسائل کو زیادہ فوکس کر رہی ہیں۔
       یہ امریکہ کی تاریخ کے بالکل منفرد انتخابات ہیں۔ جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گیے تھے۔ ری پبلیکن پارٹی کی ایک  خاصی تعداد ڈونالڈ ٹرمپ کو پسند نہیں کرتی ہے۔ ری پبلیکن پارٹی کے 2012 میں صدارتی امیدوار مٹ رامنی نے گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے سخت لفظوں میں تقریر کی تھی۔ اور ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر منتخب ہونے کو امریکہ کے لئے ایک بڑی تباہی بتایا تھا۔ مٹ رامنی نے ری پبلیکن پارٹی سے اپیل کی تھی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر کے لئے نامزد مت کرے۔ اور سینیٹر جان مکین نے مٹ رامنی سے اتفاق کیا تھا۔ ادھر ڈیمو کریٹک  پارٹی میں بھی ایسے لوگ ہیں۔ جنہیں ہلری کلنٹن پسند نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں یہ ہو گا کہ ری پبلیکن پارٹی میں جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ پسند نہیں ہیں وہ ہلری کلنٹن کو ووٹ دیں گے۔ اور ڈیمو کریٹک پارٹی میں جنہیں ہلری کلنٹن پسند نہیں ہیں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس پارٹی میں کون کتنی بڑی تعداد میں پسند نہیں ہے؟
       یہ اس صدی کے پانچویں انتخابات ہیں۔ گزشتہ چار انتخابات کے موضوع اسامہ بن لادن، القاعدہ، صدام حسین، طالبان، دہشت گردی کے خلاف جنگ، وہ ہماری ترقی سے نفرت کرتے ہیں، وہ ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں، امریکہ کی سلامتی کو خطروں کا سامنا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور اب پانچویں صدارتی انتخاب میں امریکہ بیدار ہو گیا ہے۔ امریکہ ابھی تک حالت جنگ میں ہے۔ دہشت گردی اور بڑھ گئی ہے۔ امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ناکامی ہو رہی ہے۔ امریکہ کی سلامتی سے زیادہ لوگوں کو اپنی معاشی سلامتی خطرے میں نظر آ رہی ہے۔ لوگوں کی توجہ دہشت گردی کی جنگوں پر لگا کر امیر امیرتر ہو گیے ہیں۔ درمیانہ طبقہ ختم ہو گیا ہے۔ 40 ملین امریکی صرف حکومت کی امداد پر زندہ ہیں۔ امریکہ 19 ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔ اور اس میں رجحان اضافہ کی طرف ہے۔ امریکہ کا تجارتی خسارہ 500 بلین ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔ لوگوں کے سامنے یہ گزشتہ چار انتخابات کے نتائج ہیں۔ اور پانچویں صدارتی انتخابات میں لوگوں میں اب بغاوت نظر آ رہی ہے۔ اور یہ جمہوری بغاوت امریکہ میں اسپرنگ ہے۔           

Saturday, March 12, 2016

Islamic Leaders: Yes, Our World Is In Crisis But Palestine Must Remain ‘The Central Issue’

Organization Of Islamic Cooperation - Jakarta Conference

Islamic Leaders: Yes, Our World Is In Crisis But Palestine Must Remain ‘The Central Issue’

مجیب خان 

Organization Of Islamic Cooperation - Jakarta Conference
Islamic Nations Participate In "Thunder Of The North" Military Exercise
Israeli Soldier Assaults A Young Palestinian Child
       انڈونیشیا میں 7 مارچ کو اسلامی ملکوں کی کانفرنس ہوئی تھی۔ جس میں 57 اسلامی ملکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ اس دوران 34 اسلامی ملکوں کی اسلامی فوج کی مشقیں سعودی عرب میں ہو رہی تھیں۔ اسلامی ملکوں کے رہنما شاہ سلمان کی خصوصی دعوت پر اسلامی فوج کی مشقیں دیکھنے سعودی عرب گۓ تھے۔ اسلامی فوج کا قیام سعودی عرب کی قیادت میں آیا ہے۔ ترکی جس کی فوجوں کے ساتھ سعودی فوجیں شام پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ لیکن اسلامی فوج میں ترکی شامل نہیں ہے۔ ایران اور لبنان کو بھی اسلامی فوج میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ان اسلامی ملکوں نے انڈونیشیا میں اسلامی تعاون کی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ جبکہ 57 ملکوں کی اسلامی تنظیم کے لئے اوبامہ انتظامیہ کے خصوصی قائم مقام نمائندے ارسلان سلمان نے اس کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ سعودی عرب میں 34 اسلامی ملکوں کی اسلامی فوج کی مشقوں کی تقریب سے امریکہ غائب تھا۔ حالانکہ یہ مشقیں جس میں سعودی فوجیں بھی حصہ لے رہی تھیں۔ امریکہ سے خریدے گۓ ہتھیاروں کا مظاہرہ تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں۔ اور داعش کے خلاف لڑائی میں بھی خلیجی ریاستیں امریکہ کے ساتھ فوجی اتحاد میں شامل ہیں۔ اس سال جنوری میں صدر اوبامہ نے واشنگٹن میں خلیجی ریاستوں کے کمانڈروں کا اجلا س بلایا تھا۔ جس میں داعش سے لڑنے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی۔
        پھر خلیج میں امریکہ کا سب سے بڑا بحری اڈہ ہے۔ جہاں طیارہ بردار بحری بیڑے کھڑے ہیں۔ بحرین اور کویت میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں۔ امریکہ کے علاوہ برطانیہ اور فرانس کے بحری بیڑے بھی خلیج میں ہیں۔ لیکن ان ملکوں کے فوجی کمانڈروں کو بھی اسلامی فوج کی مشقیں دیکھنے کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ سعود یوں کے مطابق ان فوجی مشقوں میں ساڑھے تین لاکھ فوجوں نے حصہ لیا تھا۔ جبکہ 20 ہزار ٹینکوں اور 2500 طیاروں نے مظاہرہ کیا تھا۔ سعود یوں کا کہنا تھا کہ ان فوجی مشقوں کا مقصد اتحادی فوجوں کو خطہ میں ان طاقتوں کے خلاف تیار کرنا ہے جو اس خطہ کو عدم استحکام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اسلامی فوج جن طاقتوں کے خلاف تیار کی جا رہی ہے۔ اول وہ طاقتیں خلیجی ریاستوں کی قریبی اتحادی ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ یہ خطہ پہلے ہی خطرناک حد تک عدم استحکام ہو چکا ہے۔ اور اب اس خطہ کو استحکام دینے کی ضرورت ہے۔ اور فوجی طریقوں یا فوجی مشقوں کے ذریعے اس خطہ میں استحکام لانے میں انہیں کامیابی نہیں ہو گی۔ امریکہ کی بھاری فوجی موجودگی کا مقصد بھی اس خطہ میں استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنا تھا۔ لیکن شواہد اس کے برخلاف دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ فوجی سرگرمیاں ہیں جو اس خطہ میں انتہا پسندی پھیلانے کا سبب ثابت ہو رہی ہیں۔ اگر سعودی اور خلیجی ریاستیں اس خطہ کی سلامتی اور استحکام میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں اس خطہ میں اقتصادی سرگرمیوں اور ایک پر امن سیاسی عمل کو فروغ دینے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔
        جو طاقتیں اس خطہ کو عدم استحکام کر رہی ہیں۔ سعودی عرب اور خلیج کی ریاستیں ان طاقتوں کے ساتھ شامل ہیں۔ اور اس میں یہ ان کی معاونت بھی کر رہی ہیں۔ آخر انہوں نے غیر ملکی طاقتوں کو عراق میں حکومت تبدیل کر نے کی اجازت کیسے دی تھی۔ پھر انہوں نے عراق میں شیعہ سنی کی تقسیم کو کیوں قبول کیا تھا؟ عراق میں عدم استحکام تھا۔ فلسطینی اسرائیل تنازعہ روزانہ کا تنازعہ تھا۔ اسرائیلی فوجی روزانہ فلسطینیوں کو مار دیتے تھے۔ اور فلسطینی روزانہ اسرائیلیوں پر حملے کرتے تھے۔ ان حالات میں شام میں ایک خونی خانہ جنگی کو کون ہوا دے رہا تھا۔ شام کو عدم استحکام کرنے کا مطلب اس سارے خطہ کو عدم استحکام کرنا تھا۔ لیکن انہوں نے کبھی یہ سوچا نہیں تھا۔ کہ جب خطہ کے ملک اس طرح عدم استحکام ہوتے جائیں گے۔ تو پھر وہ کیسے محفوظ رہیں گے۔
        اسلامی ملکوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ سوچتے بعد میں ہیں۔ فیصلے پہلے کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کا سیاسی کھیل کھیلنے لگتے ہیں جو بعد میں تباہی کی صورت میں اس کے نتائج کا انہیں ذمہ دار ٹھہرانے لگتے ہیں۔ اسلامی دنیا کو سعود یوں پر بہت اعتماد تھا۔ کیونکہ وہ حرمین شریفین تھے۔ اور مسلمانوں کی نگاہ میں اسلام کے دو مقدس مقامات کے محافظ اسلام کے بھی محافظ تھے۔ اسلامی دنیا کی یکجہتی اور سلامتی بھی ان کے دو مقدس فرائض تھے۔ جتنی دولت جتنے ہتھیار جتنی توانائی انہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر شام میں ایک حکومت کا خاتمہ کرنے میں لگائی تھی۔ اتنی ہی دولت اور توانائی وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی فوجی قبضہ کی لعنت ختم کرنے میں لگا سکتے تھے۔ جو کام حرمین شریفین کا خطاب حاصل کر کے انہیں کرنا چاہیے تھے وہ انہوں نے نہیں کیے ہیں۔ اور اسلام کے دو مقدس مقامات کے محافظ کی حیثیت سے جو کام انہیں نہیں کرنا چاہیے تھے وہ انہوں نے کیے ہیں۔ اور اس وقت بھی وہ کس کے مفاد میں لبنان میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کروا رہے ہیں۔ اور اس کے ذریعے حماس کو بھی کیا پیغام دے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے عرب دنیا کا لیڈر بننے کی ابتدا ہی غلط کی ہے۔ ایک تو انہوں نے یمن کے خلاف جا حا ریت کی ہے۔ دوسرے انہوں نے 34 ملکوں کی ایک اسلامی فوج بنا لی ہے۔ جو کس کے مفاد میں بنائی ہے؟ اور شام کے بعد اب لبنان میں انہوں نے محاذ آ رائی کی سیاست شروع کر دی ہے۔ سرد جنگ میں پچاس سال تک سعودی اسلامی دنیا کو امریکہ کا کھیل کھلاتے رہے۔ اور اب اسرائیل کا کھیل شروع کرنا چاہتے ہیں۔
       اکیسویں صدی کو اسلامی دنیا کے لئے فساد اور انتشار پھیلانے کی صدی بنانے کا کام بیسویں صدی کی آخری دہائی سے شروع ہو گیا تھا۔ اور اس کی ابتدا عراق سے ہوئی تھی۔  90 کے عشرے میں سب سے زیادہ اقتصادی بندشیں اسلامی ملکوں پر لگائی گئی تھیں۔ اور یہ اقتصادی بندشیں ان کے پاؤں میں جیسے بیڑیاں تھیں۔ اسلامی ملکوں میں اتحاد اور یکجہتی کی کوششوں کو ناکام کر دیا جاتا تھا۔ اور اس کے لئے اسلامی ملکوں کے آپس کے اختلافات کو Exploit کیا جاتا تھا۔ دسمبر1997 میں تہران میں اسلامی سربراہ کانفرنس میں ایران نے اسلامی اتحاد اور یکجہتی کے لئے ایک سنجیدہ کوشش بھی کی تھی۔ اور عراق کو بھی اسلامی سربراہ کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔ اور اس طرح عراق کو اسلامی برادری میں واپس لانے کا دروازہ کھولا تھا۔ عراق پر انسانی تاریخ کی بدترین اقتصادی بندشیں لگی ہوئی تھیں۔ عراق جنگ ختم ہونے کے نو سال بعد ایران نے عراق کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی ابتدا تہران میں اسلامی سربراہ کانفرنس میں عراق کو مدعو کر کے کی تھی۔ امریکہ کو تہران میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد پر شدید تشویش ہو رہی تھی۔
        صدر کلنٹن کے قومی سلامتی امور کے مشیر سینڈی برگر تہران میں اسلامی سربراہوں کا اجتماع دیکھ کر خاصے پریشان ہو رہے تھے۔ کہ صدام حسین کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن صدام حسین نے ایک اعلی وفد تہران بھیجا تھا۔ سینڈی برگر نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفینگ کے دوران تہران میں اسلامی سربراہ کانفرنس میں عراق کی شرکت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ تہران میں اسلامی سربراہوں کے اجتماع کو خصوصی طور پر واچ کر رہے تھے۔ وہ کیوں اتنے پریشان ہو رہے تھے؟ اور کیا واچ کر رہے تھے؟ وہ یہ واچ کر رہے تھے کہ اسلامی سربراہ عراق کے بارے میں کیا فیصلہ کرنے جا رہے تھے؟ لیکن یہ امریکہ کی خوش قسمتی اور اسلامی ملکوں کی بد قسمتی تھی کہ ان میں اتحاد نہیں ہو سکا تھا۔
        جکارتہ انڈونیشیا میں اسلامی تعاون کی تنظیم نے فلسطین کے مسئلہ پر ایک غیر معمولی کانفرنس میں قرارداد منظور کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی رہنما اسلامی دنیا میں المناک بحرانوں کے پھیلنے سے باخبر ہیں۔ جن میں مسلح تنازعہ اور دہشت گردی بھی شامل ہے۔ تاہم قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس صورت حال میں بھی فلسطین کے کاز اور القدس الشرف سے عالمی توجہ نہیں ہٹنا چاہیے۔ اور یہ اسلامی دنیا کے بدستور مرکزی اشیو رہیں گے۔ لاکھوں لوگ جن کی اکثریت مسلم ہے۔ شام عراق یمن لیبیا افغانستان اور دوسرے مقامات پر مارے گیے ہیں۔ اپاہج ہو گیے ہیں۔ انہیں خوفزدہ کیا گیا ہے۔ اور بے گھر ہو گیے ہیں۔ انڈونیشیا کے صدرJoko Widodo نے اسلامی کانفرنس کے اختتام پر کہا کہ اگر اسلامی تعاون کی تنظیم فلسطینی مسئلہ کے حل کا حصہ نہیں ہے تو 47 سال کا یہ اسلامی بلاک irrelevant ہو جاۓ گا۔             

Tuesday, March 8, 2016

Crisis Of Common Sense

Pakistan: Lack Of Discipline In Politics

Crisis Of Common Sense

مجیب خان



      جو اقتدار میں ہیں اور جو اپوزیشن میں ہیں انہیں ادارے اس لئے حدود میں نظر نہیں آتے ہیں کہ ان میں سیاسی ڈسپلن نہیں ہے۔ اور وہ سیاسی غیر ذمہ دار ہیں۔ اور یہ صرف مخصوص مفادات کی سوچ رکھتے ہیں۔ جس میں یہ لا پروا ہو جاتے ہیں۔ ان کی سیاست میں جمہوریت اتنی نہیں ہے کہ جتنی زیادہ مفاد پرستی ہے۔ حالانکہ یہ ایک بار اقتدار میں نہیں آۓ ہیں۔ بلکہ کئی بار اقتدار میں آۓ ہیں۔ فوج نے انہیں ایک دہائی اقتدار سے دور بھی رکھا تھا۔ کہ شاید یہ کچھ سیکھیں گے کہ جمہوریت   کس طرح کام کرتی ہے۔ انہیں برطانیہ اور امریکہ جانے کی اجازت بھی دے دی تھی کہ شاید یہ وہاں حکومت کرنے کے کچھ کورس کریں گے۔ لیکن ایک دہائی کے بعد جب یہ پھر اقتدار میں آۓ ہیں۔ ان کی دمیں پھر بھی سیدھی نہیں ہوئی ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں ادارے کبھی بھی حدود میں نظر نہیں آئیں گے۔ اداروں کو حدود میں رکھنے کی سیاست دوسری ہوتی ہے۔ جس میں یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے کہ ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ سیاستدان خواہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں جب وہ ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں۔ تو ادارے بھی اپنے حدود میں ذمہ داری سے کام کرتے ہیں۔
      پاکستان کی تاریخ میں فوج نے ایک طویل عرصہ حکومت کی ہے۔ اور فوج نے اداروں کو حدود میں رہنے کی تربیت بھی کی تھی۔ کیونکہ فوج میں ڈسپلن ہوتا ہے۔ اور فوجی تربیت میں ذمہ داری پہلا اصول ہوتا ہے۔ اس لئے فوجی حکومت میں نظم و ضبط بھی تھا۔ اور بیرونی ملکوں میں اس کا اعتراف بھی کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں سیاسی حکومتوں میں صرف وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں سیاسی ڈسپلن تھا اور ادارے بھی اپنے حدود میں تھے۔ کیونکہ وزیر اعظم بھٹو میں اداروں کو حدود میں رکھنے کی قابلیت تھی۔ اور ان میں حکومت کرنے کی صلاحیتیں تھیں۔ جنرلوں کو بھی وزیر اعظم بھٹو کی قیادت پر اتنا زیادہ اعتماد تھا کہ وہ گھر جا کر رات کو سکون سے سوتے تھے۔ جنرل خارجہ امور میں داخلی امور میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں یا قومی سلامتی امور میں وزیر اعظم بھٹو کو Dictate نہیں کرتے تھے۔ بلکہ انہیں سنتے تھے۔ اور اپنے آپ کو Educate کرتے تھے۔ جب قیادت اتنی قابل اورعظیم ہوتی ہے تو ادارے بھی اس کے ماتحت کام کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
      آصف علی زرداری ایک حادثاتی سیاستدان تھے۔ صدارت جیسے لاٹری میں ان کے نام نکل آئی تھی۔ اگر بے نظیر بھٹو ہوتیں تو اس مرتبہ وزیر اعظم ہاؤس میں شاید ان کا داخلہ ممنوع ہوتا۔ رحمن ملک اور آصف زرداری کے علم میں بھی شاید یہ تھا۔ آصف علی زرداری جس طرح حکومت چلا رہے تھے۔ انہیں تو ایک سال سے زیادہ اقتدار میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔  لیکن امریکہ نے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف  عالمی جنگ کا آغاز کیا تھا اور وہ اس جنگ کو واقعی ایک عالمی جنگ بنانا چاہتے تھے۔ اس لئے  پاکستان کی شمولیت اس جنگ میں اسٹرٹیجک اہمیت رکھتی تھی۔ پاکستانی یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ یہ ان کی جنگ تھی۔ لہذا زرداری حکومت کے ذریعے پاکستان سے یہ تسلیم کرایا گیا تھا کہ یہ ان کی جنگ تھی۔ زرداری اقتدار کی جس کرسی پر بیٹھے ہوۓ تھے اسے انہوں نے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ اور اپنے میڈیا کے ذریعے فوج کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کر رکھی تھی۔ اور جنرلوں کو ایک نفسیاتی عصابی دباؤ میں رکھا ہوا تھا۔ تاکہ وہ حکومت کے خلاف کوئی Extreme اقدام نہیں کریں۔ بیرون ملک پاکستانی زرداری حکومت میں ملک کے حالات سے خاصے Nervous تھے۔ کہ یہ حکومت بیرونی طاقتوں کے مفاد میں بالکل ننگی ہو گئی تھی۔ اس حکومت نے سرحدیں بند کرنے کے بجاۓ سرحدیں اور کھول دی تھیں۔ کارخانے اور فیکٹر یاں بند ہو رہی تھیں۔ سرمایہ بھارت اور دوبئی منتقل ہو رہا تھا۔ وزیر داخلہ کی حب الوطنی پر شبہ ہونے لگا تھا۔ ملک کو دہشت گردوں کے دھماکوں کی سو نامی کا سامنا تھا۔ اور وزیر داخلہ صرف Cheap talker  تھے- کام کرنا ان کی عادت نہیں تھی۔ ایک ٹھیلے والا ان سے بہتر وزیر داخلہ ہو سکتا تھا۔
      صدر زرداری نے جنرل کیانی کو دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کا ٹھیکہ دے دیا تھا۔ جنرل کیانی کو یہ اختیارات بھی دے دئیے تھے کہ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں ان کے خلاف کاروائی کریں۔ اور خود بٹیریں، مرغابیاں اور  شیرمالیں کھا رہے تھے۔ وزیر داخلہ مشورے کرنے لندن چلے جاتے تھے۔ فوج سوات اور شمالی وزیر ستان میں آپریشن کر رہی تھی۔ اور ملک میں اہم فوجی تنصیبات پر دہشت گردوں کے حملے ہو رہے تھے۔ فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملے ہو رہے تھے۔ یہ حالات دیکھ کر لوگوں کو نیند نہیں آتی تھی کہ اس ملک کا کیا حال ہونے جا رہا تھا۔ حکومت میں جب لوگوں کا اعتماد ختم ہونے لگتا ہے تو پھر ادارے لوگوں کا اعتماد بحال کرنے اپنی حدود سے باہر آئیں گے۔ اداروں کو حدود سے تجاویز کرنے کا الزام دینے کے بجاۓ سیاستدانوں کو یہ الزام خود اپنے آپ کو دینا چاہیے کہ ان میں اداروں کو حدود میں رکھنے کی صلاحیتیں کیوں نہیں ہیں؟
       پاکستان میں سیاسی حکومتوں کے غیر ذمہ دارانہ Behaviors اور حکومت میں ڈسپلن کا فقدان دیکھ کر واشنگٹن کو بھی پریشانی ہونے لگی تھی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار تھے۔ اور زرداری حکومت مذہبی انتہا پسندی کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ اب نئی حکومت نواز شریف کی تھی۔ جس کے سعود یوں سے قریبی ذاتی تعلقات تھے۔ اور اس حکومت کا القاعدہ اور طالبان سے تعلقات کا ایک ماضی تھا۔ ان حالات کا جائزہ لینے کے بعد واشنگٹن نے پاکستان میں جمہوری عمل کے اندر فوج کے ایک مثبت رول کی اہمیت کو تسلیم کر لیا تھا۔ فوج نے اپنے ادارے میں تبدیلیوں سے یہ اعتماد پیدا کیا ہے۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ دہشت گردوں کو پسپا کرنے میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ اس لئے جنرل راحیل شریف مقبول ہیں۔ اور انہیں دنیا میں عزت اور اہمیت ملی ہے۔ اپنا مقام بنانے کے لئے کچھ کام کر کے دیکھنا ہوتے ہیں۔
       زرداری حکومت میں Bull Shit زیادہ تھا۔ اور کام ایک دھیلے کا نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کے مسائل بھی یہ گواہی دے رہے تھے۔ اور اب نواز شریف حکومت میں باتیں بہت ہو رہی ہیں۔ لیکن کام کی رفتار گدھا گاڑی کی رفتار سے بھی کم ہے۔ ایران پر سے پابندیاں اٹھ گئی ہیں۔ اور شاہراہ ریشم بھی کھل گئی ہے۔ چین سے پہلی ٹرین سامان لے کر ایران پہنچ چکی ہے۔ لیکن گوادر پورٹ پر کاروبار ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے۔ عوام کی منتخب حکومتیں اس طرح کام نہیں کرتی ہیں کہ انہیں بھارت کے تحفظات کا بھی خیال ہے۔ انہیں امریکہ کا بھی خوف ہے۔ انہیں عربوں سے تعلقات کا بھی احساس ہے۔ اس لئے گوادر بند گاہ نہیں کھلے گی۔ اس لئے ایران سے گیس پائپ لائن پر کام نہیں ہو گا۔ اس لئے روس کی مدد سے گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بھی سرد خانہ میں رکھا رہے گا۔ اس لئے قومی مفاد کا کوئی کام نہیں ہو گا؟
       وزیر داخلہ چودھری نثار احمد اور رحمن ملک کا DNA ایک جیسا نظر آتا ہے۔ یہ پارلیمنٹ سے داخلی صورت حال پر اتنا صلح و مشورے نہیں کرتے ہیں کہ جتنے برطانیہ کی وزیر داخلہ سے مشورے کرنے لندن جاتے ہیں۔ اور یہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے داخلی سیاسی معاملات Deal کرنے کے لئے برطانیہ کو دے دئیے ہیں۔ اور پاکستان کے فوجی امور امریکہ نے اپنے پاس رکھے ہیں۔ وزیر داخلہ کو یہ مشورہ  کس نے دیا تھا کہ مصطفی کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں جو باتیں کی تھیں انہیں وہ پریس کانفرنس کر کے چیلنج کریں۔ یہ اس جماعت کی داخلی سیاست تھی جس کے خلاف وزیر داخلہ فائلیں لے کر برطانیہ کی وزیر داخلہ سے مشورہ کرنے لندن گیے تھے۔ اور یہ ہی چودھری نثار گزشتہ سال پریس کانفرنس میں کراچی میں رینجرز نے آپریشن کے دوران اس جماعت کے خلاف جو ثبوت جمع کیے تھے اس کی تفصیل بیان کر رہے تھے۔ مصطفی کمال ایک گواہ تھے۔ اور حکومت کا کام گواہوں کو عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ ان کے Credible ہونے کا فیصلہ عدالت کرتی ہے۔ یہ کام وزیر داخلہ کا نہیں ہوتا ہے۔ لیکن وزیر داخلہ چودھری نثار ایم کیو ایم کی صفائی میں جیسے مصطفی کمال کو چیلنج کر رہے تھے۔ اس معاملے میں برطانیہ کا Involvement کس قدر ہے؟
        


                 

Saturday, March 5, 2016

President Hillary Clinton And The Women Spring In The Islamic World

    President Hillary Clinton And The Women Spring In The Islamic World   


 مجیب خان




       گھریلو سر زوری پر تحفظ خواتین کا قانون جیسے پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔ پاکستان کے مذہبی رہنما اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جمعیت علماۓ اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اس قانون نے مردوں کو چوڑیاں پہنا دی ہیں۔ مولانا نے کہا کہ انہیں پنجاب کے شوہروں کی حالت پر ترس آ رہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ مجھے تحفظ خواتین بل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن یہ قانون شریعت اور آئین سے متصادم ہے۔ مولانا نے کہا پنجاب کے مظلوم شوہروں کا مستقبل مجھے خوفناک لگ رہا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ مولانا کو بیویوں کا مستقبل خوفناک نظر نہیں آ رہا ہے۔ نہ ہی انہیں عورتوں کی حالت پر ترس آ رہا ہے۔ آخر مولانا عورتوں کے بارے میں اتنے Chauvinist کیوں ہیں۔ اس بل سے شوہروں کا مستقبل خوفناک نہیں ہوا ہے۔ شوہروں کے لئے مواقع روشن ہو گیے ہیں۔ ایک دروازہ اگر بند ہو گا تو مرد کے لئے تین دروازے کھل گۓ ہیں۔ تحفظ خواتین بل کے تحت مرد سے جب گھر سے جانے کا کہا جاۓ گا تو وہ کہاں جاۓ گا؟ وہ دوسری بیوی کے پاس چلا جاۓ گا۔ لیکن مولانا کو شوہروں کی حالت پر ترس اور رونا آ رہا ہے۔ بیویوں سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں ہے۔
       بہرحال مولانا فضل الرحمن سے سوال یہ ہے کہ 69 سال بعد یہ معاشرہ اس مقام پر کیسے آیا ہے کہ حکومت کو تحفظ خواتین کا قانون بنانا پڑا ہے؟ مشرقی کلچر میں خواتین کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔ عورتوں پر تشدد کرنے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ مغربی معاشروں میں گھریلو سر زوری اور خواتین کے ساتھ  بدسلوکی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ ان ملکوں میں گھریلو سر زوری کے سلسلے میں بڑے سخت قوانین ہیں۔ فیملی کورٹ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ ایک مسئلہ ہے۔
       سعودی عرب جیسے معاشرے میں جہاں سو فیصد خالص شریعت کا نظام ہے۔ وہاں بھی گھریلو سر زوری اور خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات حالیہ برسوں میں بڑھ گۓ ہیں۔  طلاقوں کی شرح میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ فیملی سسٹم ٹوٹ رہا ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کا حال ہے۔ جہاں شریعت کا نظام ہے۔ اور مذہبی طور پر یہ انتہائی قدامت پسند معاشرہ ہے۔ ایک دولت مند ملک ہے۔ لیکن اس ملک میں معاشرتی مسائل سیاسی مسائل سے دو گنے ہیں۔ پاکستان میں لوگوں کے اقتصادی مسائل گھریلو سر زوری کا بڑا سبب بن رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں فیملی سسٹم پھر بھی بہت بہتر نظر آتا ہے۔ جو تعلیم یافتہ ہیں۔ جن کے معاشی حالات ذرا بہتر ہیں۔ ان میں گھریلو سر زوری بھی نہیں ہے۔ ان میں Communication اور Understanding بھی بہت بہتر ہے۔ یہاں امریکیوں کے درمیان پاکستانی فیملی رہتی ہیں۔ پاکستانی شوہر جس طرح اپنی بیوی کا خیال کرتے ہیں۔ جس طرح ان کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ خود کام کرتے ہیں۔ بیوی گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ امریکی عورتیں یہ بڑی حسرت سے دیکھتی ہیں۔ پاکستانی عورتوں کو شہزادیاں کہتی ہیں۔ کیونکہ یہاں شوہر اور بیوی دونوں کام کرتے ہیں۔ بیوی کو صبح سات یا آٹھ بجے کام پر جانا ہوتا ہے۔ اسے پانچ بجے اٹھنا ہوتا ہے۔ اگر بچے بہت چھوٹے ہوتے ہیں تو انہیں تیار کرنا ہوتا ہے۔ انہیں پھر Day careلے جاتی ہیں۔ انہیں وہاں چھوڑ کر پھر کام پر جاتی ہیں۔ اور پھر چار پانچ بجے کام سے واپسی پر بچوں کو Day care سے لے کر گھر آتی ہیں۔ اور یہ ان کا روز کا معمول ہے۔ اور یہ طرز زندگی اب مشرقی کلچر میں بھی آ رہا ہے۔
       پاکستان میں معاشرتی اور اخلاقی قدریں بڑی تیزی سے انحطاط کی طرف آئی ہیں۔ اس انحطاط میں مذہبی رہنماؤں اور مذہب کی سیاست کا ایک بڑا رول ہے۔ اور وہ یہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے۔ تقریباً 40 سال پاکستان سرد جنگ میں امریکہ کا ایک قریبی اتحادی تھا۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان فوجی الائنس سیٹو اور سینٹو میں شامل تھا۔ پاکستان کی سرزمین سے سوویت یونین کی جاسوسی کرنے کے لئے U-2 طیارے بھی اڑتے تھے۔ امریکہ کی ان فوجی سرگرمیوں پر سوویت یونین سے پاکستان کو دھمکیاں ملتی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں فوجی حکومتیں تھیں۔ پاکستان میں اظہار خیال کی آزادی نہیں تھی۔ سیاسی ادارے تھے لیکن ان میں سیاست نہیں ہوتی تھی۔ لوگ مسلمان تھے لیکن مدرسے اتنے نہیں تھے۔ لوگ نمازیں بھی پڑھتے تھے۔ لیکن مسجدیں اتنی نہیں تھیں۔ تاہم پاکستان میں معاشرتی قدریں تھیں۔ معاشرہ دور سے بھی اور قریب سے بھی مہذب نظر آتا تھا۔ پھر سرد جنگ ختم ہو گئ تھی۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے ملٹری الائنس بھی ختم ہو گۓ تھے۔ پاکستان میں یہ جیسے ایک خلا آگیا تھا۔ اس خلا کو دیکھ کر پھر سعودی آ گۓ تھے۔ انہوں نے پاکستان میں مدرسوں اور مسجدوں کا ایک جال بچھا دیا تھا۔ اور یہ پاکستان کے ساتھ سعود یوں کے فوجی اڈے بن گۓ تھے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں تھیں۔ ان کی حکومتیں بھی تھیں۔ لیکن مدرسے اور مسجدیں انتہا پسندوں کے سیاسی ادارے تھے۔ سرد جنگ کے دور میں سوویت یونین کو پاکستان میں امریکہ کی فوجی سرگرمیوں پر تشویش رہتی تھی۔ اور سرد جنگ ختم ہونے کے بعد اب امریکہ کو پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے فروغ میں مدرسوں اور مسجدوں کے رول پر تشویش ہے۔ مدرسوں اور مسجدوں کا پاکستان میں جو انقلاب آیا ہے۔ اس نے پڑھے لکھوں کو جاہل کر دیا ہے۔ اور جاہل پڑھے لکھے ہو گۓ ہیں۔
       دوسری طرف مدرسوں اور مسجدوں کا انقلاب مذہب کو بدنام کر رہا ہے۔ اور کرپشن مسجدوں میں بھی آگیا ہے۔ مولاناؤں کو صرف آخرت بنانے کا خیال ہے۔ لیکن مسلمان بچوں کو یہ کس دنیا میں جھوڑ کر جائیں گے۔ اس کی انہیں فکر نہیں ہے۔ اسلامی انتہا پسندی حد سے اتنی زیادہ بڑھ گئ ہے کہ اب مسلمان مذہب سے فاصلے رکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ عرب ملکوں میں خانہ جنگی سے بھاگ کر جو مسلمان یورپ میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ ان ملکوں میں پناہ لینے کے لئے اسلام ترک کر کے عیسائی مذہب قبول کر رہے ہیں۔ پاکستان میں مولوی حضرات نامعلوم کس دنیا میں ہیں۔ یہ اتنا خطرناک وقت ہے کہ اس میں بن جائیں گے یا تباہ ہو جائیں گے۔ اور مولانا فضل الرحمن گھریلو سر زوری کے قانون کے خلاف نکل آۓ ہیں۔ اور یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دئیے ہیں۔ لیکن وہ حکومت کو گرا سکتے ہیں۔ ہمیں تو مولانا کی نقصان پہنچانے کی سیاست پر یقین ہے۔
       امریکہ میں مائی کے اقتدار میں آنے کے امکان بہت زیادہ ہیں۔ مولانا صاحب مائی جب اقتدار میں آۓ گی تو اسلامک ور لڈ  میں Women spring ہو گا۔ عربوں نے ابھی سے اس کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنی خوبصورت عورتیں Closets سے نکال کر باہر لا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں لوکل گورنمنٹ کے انتخاب میں عورتوں کو حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ اور سعودی عورتوں کو لوکل گورنمنٹ میں عہدے بھی دئیے جا رہے ہیں۔ جبکہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے آٹھ عورتوں کو کابینہ میں وزیر نامزد کیا ہے۔ جس میں ایک خوبصورت خاتون کو وزیر مسکراہٹ [ Happiness [ بنایا ہے۔ گھریلو سر زوری صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہلری کلنٹن [ اگر صدر منتخب ہوگئ] بہت ممکن ہے کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے جائیں۔ اور گھریلو سر زوری کے خلاف ایک عالمی قانون بنانے کا کہا جاۓ۔ اور پھر اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کو اس قانون پر عملدرامد کرنے کا کہا جاۓ۔ جو ملک اس قانون پر عملدرامد نہیں کریں گے ان پر پھر بندشیں لگ سکتی ہیں۔ ان ملکوں کے مردوں کے بیرون ملک بنک اکاؤنٹ اور اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سنجیدہ مسئلے ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔                                                                                                                                        

Tuesday, March 1, 2016

Arab-Christians Are Victims Of Christian-American Politics In The Arab World

Muslims And Christians In The Middle East

Arab-Christians Are Victims Of Christian-American Politics In The Arab World   

مجیب خان

Pope Francis And Patriarch Kirill
Russian President Vladimir Putin And Patriarch Kirill   
        سرد جنگ کے دوران پچاس سال تک دنیا کو صرف یہ بتایا جاتا تھا کہ سوویت یونین ایک کمیونسٹ ملک ہے۔ اور مذہب سوویت یونین میں ممنوع ہے۔ لوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی فرائض ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن پھر سرد جنگ ختم ہونے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ روس میں ہر مذہبی عقیدے کی تمام قدیم عبادت گاہیں موجود تھیں۔ اور کمیونسٹوں نے انہیں تباہ نہیں کیا تھا۔ اور لوگ اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی فرائض انجام دیتے تھے۔ ماسکو میں خاصی بڑی تعداد میں مسلمان تھے۔ یہاں ان کی تاریخی مسجدیں بھی تھیں۔ لیکن افغانستان میں سوویت فوجوں کے دوران جیسا کہ مغربی میڈیا کا پراپگنڈہ یہ ہوتا تھا کہ سوویت فوجیں افغانستان میں مسجدیں تباہ کر رہی تھیں جبکہ ان کے اپنے ملک میں مسجدیں کھڑی تھیں۔
      سوویت یونین میں Orthodox عیسائی تھے اور اس وقت بھی ہیں۔ اور یہاں ان کے قدیم اور تاریخی Orthodox چرچ تھے۔ اور کمیونسٹ دور میں انہیں تباہ نہیں کیا تھا اور یہ آج بھی ہیں۔ Orthodox  عیسائی کتھو لک عیسائوں کے مقابلے میں زیادہ قدامت پسند ہیں۔ دنیا میں اس وقت 1.2 بلین کتھو لک ہیں۔ جبکہ Orthodox عیسائی تقریباً 150 ملین ہیں۔ اور مشرق میں پھیلے ہوۓ ہیں۔ اس لئے ان کی اس تقسیم کو کرسچین آف ایسٹ اور کرسچین آف ویسٹ کہا جاتا ہے۔ روسی Orthodox چرچ کے رہنما Patriarch Kirill  ہیں۔ اور کتھو لک کے رہنما پوپ فرانسس ہیں۔
      سرد جنگ دور میں دنیا میں اطلاعات کے وسائل کیونکہ بہت محدود تھے۔ مغربی میڈیا دنیا پر چھایا ہوا تھا۔ اور یہ میڈیا اپنے مفادات کے مطابق دنیا کے آگے خبروں اور معلومات کو چارہ کی طرح ڈال دیتا تھا اور دنیا اسے آسانی سے ہضم کر لیتی تھی۔ بی بی سی، وائس آف امریکہ، اور مغربی جرمنی کا Deutsche Welle اس دور کے سوشل میڈیا تھے۔ دنیا صرف انہیں سنتی تھی۔ اور اس پر یقین کرتی تھی۔ پھر سرد جنگ ختم ہو گئی۔ پچاس سال سے دنیا کو جو بتایا جا رہا تھا روس میں لوگ اس کے بالکل برعکس نظر آۓ تھے۔ مذاہب روس میں جیسے کبھی ختم نہیں ہوۓ تھے۔ لوگ اتنے ہی مذہبی تھے جتنے دنیا کے دوسرے حصوں میں تھے۔ 70 سال تک اشتراکیت کے نظام میں زندگی بسر کرنے کے بعد بھی مذہب میں روسیوں کا ایمان پختہ تھا۔ صدر ویلا دیمر پوتن سوویت یونین میں کے جی بی کے لئے کام کرتے تھے۔ لیکن صدر پوتن مذہب میں یقین رکھتے ہیں اور مذہبی قدامت ہیں۔ چار سال قبل Patriarch Kirill نے صدر پوتن کو یہ ہدایت کی تھی کہ شام کو کسی صورت میں گرنے نہیں دیا جاۓ۔ اسے بچایا جاۓ۔ اور صدر پوتن نے Patriarch کی ہدایت کے مطابق شام میں مداخلت کی ہے اور اسے بچایا ہے۔ شام ان ہاتھوں میں نہیں دیا جاۓ گا جو پانچ سال سے شام میں خون خرابہ کر رہے ہیں۔ اور جنہوں نے شام میں تاریخی اثاثے تباہ کیے ہیں۔ شام سیکو لر ہو گا اور سیکولر رہے گا۔
      تقریباً 60 سال تک مغربی میڈیا نے یورپ اور امریکہ میں لوگوں کو Misinform رکھا تھا۔ کرسچین آف ویسٹ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کتنی بڑی تعداد میں کرسچین آف ایسٹ عرب دنیا میں آباد تھے۔ اور یہ son of the soil تھے۔ یہ عراق میں تھے، یہ شام میں تھے، یہ اردن میں تھے، یہ مصر میں تھے، یہ فلسطین میں تھے، یہ لیبیا میں تھے، یہ یمن میں بھی تھے۔ لیکن امریکہ اور یورپ کے لوگوں کو صرف یہ تاثر دیا گیا تھا کہ عربوں کی جو مسلمان ہیں۔ اسرائیلیوں سے ان کی جنگ ہے جو یہودی ہیں۔ امریکہ میں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ فلسطینی عیسائی بھی ہیں۔ اور فلسطینی مسلمان اور فلسطینی عیسائی پی ایل او میں چیرمین یا سر عرفات کی قیادت میں متحد تھے اور فلسطین کی آزادی کے لئے جد و جہد کر رہے تھے۔ اور دنیا بھر میں مسلمان مسجدوں میں فلسطین کی آزادی کے لئے دعائیں کرتے تھے۔ اسرائیلی عیسائی فلسطینیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرتے تھے جیسا مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔ انہیں بھی گھروں سے بید خل کرتے تھے۔ لیکن مغربی میڈیا میں اسے شیعہ سنی لڑائی کی طرح نہیں بیان کیا جاتا تھا۔ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی جنگ کو صرف فلسطینیوں کی لڑائی بتایا جاتا تھا۔ یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ اسرائیل کے خلاف عیسائی فلسطینی بھی اس جنگ میں برابر کے شامل تھے۔ اگر اس وقت یہ سوشل میڈیا ہو تا اور یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو یہ میڈیا یہ بتاتا کہ عیسائی فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک  مسلمان فلسطینیوں سے مختلف نہیں تھا تو اس بحران کی سیاست ضرور بدل جاتی۔
      سرد جنگ ختم ہونے کے بعد دنیا کی توجہ فلسطین اسرائیل تنازعہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اور یہ احساس بھی ہو رہا تھا کہ یورپ اور امریکہ کی راۓ عامہ کے علم میں اب یہ آۓ گا کہ فلسطینی عیسائی بھی اس تنازعہ کا حصہ ہیں۔ اس خدشہ کے نتیجہ میں فلسطینیوں کی ایک  نئی تنظیم حما س کے نام سے وجود میں آئی تھی ۔ اس کے قیام میں سعودی عرب اور خلیج کی ریاستوں کا ایک بڑا رول تھا۔ 1993 میں اسرائیل نے پی ایل او کے چیرمین یا سر عرفات کے ساتھ اوسلو معاہدہ کر لیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے مغربی کنارے اور غازہ کا انتظام پی ایل او کے حوالے کر دیا تھا۔ حما س نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مغربی میڈیا میں حماس کو ایک انتہا پسند اسلامی تنظیم ثابت کیا جا رہا تھا۔ عیسائی فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک پس پردہ چلا گیا تھا۔ حما س اور اسرائیل کی لڑائی دنیا کے ریڈار پر تھی۔ حما س کے ساتھ حزب اللہ کو بھی اس لڑائی میں شامل کر لیا تھا۔ جو اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔ لیکن حما س کا فلسطینی عیسائوں کے ساتھ اور حزب اللہ کا لبنانی عیسائوں کے ساتھ تعلقات کو مغربی میڈیا نے بلیک آوٹ کر دیا تھا۔ حالانکہ حزب اللہ لبنان میں عیسائی لبنا نیوں کے ساتھ حکومت میں شامل ہے۔ اور لبنان میں عیسائی اکثریت میں ہیں۔ لبنانی عیسائی حزب اللہ کو لبنان کی سیکورٹی کے لئے ایک اہم فوج کا درجہ دیتے ہیں۔ جس نے اسرائیل سے جنگ لڑی تھی اور لبنان کے علاقہ اسرائیل سے آزاد کراۓ تھے۔ حما س اور حزب اللہ نے عیسائوں کو عرب دنیا سے نکالنے کی کبھی بات نہیں کی ہے۔ لیکن صرف اسرائیل کے کہنے پر امریکہ نے حما س اور حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا ہے۔
      مغربی میڈیا بالخصوص امریکی میڈیا میں صدام حسین کے دور میں عراق میں عیسائوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں کبھی نہیں بتایا تھا کہ عراقی عیسائوں کے ساتھ صدام حسین نے کتنا ظلم کیا تھا۔ یا انہیں عراق میں کتنی آزادی دی تھی۔ اور انہیں کس قدر مذہبی حقوق حاصل تھے۔ امریکی میڈیا میں صرف شیعاؤں اور کردوں کے ساتھ ظلم کی داستانوں کو خوب اچھالا جاتا تھا ۔ لیکن عراقی عیسائوں کے ساتھ صدام حسین کے برتاؤ کا کوئی ذکر نہیں ہوتا تھا۔ صدام حسین کو انتہائی خطرناک انسان ثابت کرنے کی من گھڑت خبریں دی جاتی تھیں۔ صدر بش اور ان کی سیکورٹی ٹیم کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ عراق میں عیسائوں کی کتنی بڑی آبادی تھی۔ لوگوں سے نفرت بھی انسانوں کو جاہل بنا دیتی ہے۔ کسی تھنک تھینکس نے بھی یہ تجزیہ نہیں کیا تھا کہ عراق کو عدم استحکام کرنے سے مشرق وسطی میں آباد عیسائوں کے لئے اس کے کیا نتائج ہوں گے؟ ان کے تجزیہ صرف یہ ہوتے تھے کہ صدام حسین کے اقتدار میں رہنے سے خطہ میں امریکہ کے اتحادیوں اور اسرائیل کے لئے کیا خطرے ہوں گے؟
      کسی عیسائی ملک نے افریقہ میں عیسائی ملکوں کی اقتصادی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اتنی مدد نہیں کی تھی کہ جتنی صدر معمر قدافی نے اپنے تیل کی دولت سے افریقہ کے عیسائی ملکوں کی مدد کی تھی۔ مغربی طاقتوں نے افریقہ کے عوام کی دولت کو لوٹا تھا۔ ان کے وسائل کا صرف استحصال کیا تھا۔ لیکن صدر قدافی نے ان کا کبھی استحصال نہیں کیا تھا۔ ایک مسلمان سربراہ افریقہ کے عیسائوں کو اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں آگے لانے میں مدد کر رہا تھا۔ مغربی میڈیا نے قدافی کے اس رول پر کبھی نہیں لکھا تھا۔ صرف قدافی کا Character assassination ہوتا تھا۔ صدر ریگن نے قدافی کو انڑنیشنل دہشت گرد کا خطاب دیا تھا۔ مہذب قومیں شخصی نفرت میں گر کر اتنی نیچے آ گئی تھیں۔ لیکن یہ افریقہ کے عیسائی سربراہان تھے جو جہاز بھر کر صدر نیلسن منڈیلا کی قیادت میں تریپولی آۓ تھے۔ اور انہوں نے لیبیا پر امریکہ کی بندشوں کو توڑا تھا۔ یہ وہ اسلامی رہنما تھے جنہوں نے مسلمانوں میں عیسائوں سے نفرت پیدا کرنے کی سیاست کبھی نہیں کی تھی۔ یہ کرسچین آف ویسٹ ہیں جن کی پالیسیاں عرب دنیا میں کرسچین آف ایسٹ کی تباہی کا سبب بنی ہیں۔