Wednesday, June 21, 2017

The Politics of Economic Sanctions Is A Weapon To Destroy The Country’s Economy

The Politics of Economic Sanctions Is A Weapon To Destroy The Country’s Economy  

مجیب خان
Economic impact of western sanctions on Iran's economy

U.S and EU sanctions are punishing  ordinary Syrians

Iranian man selling bananas to make money

A sick baby in a Baghdad hospital - September 1999

    دنیا میں امریکہ شاید واحد ملک ہے جس کی Two-tier خارجہ پالیسی ہے۔ ایک کانگرس کی خارجہ پالیسی ہے۔ اور دوسری انتظامیہ کی خارجہ پالیسی ہے۔ کانگرس ایک با اثر ادارہ ہے۔ لہذا اسے انتظامیہ کے خارجہ امور میں فیصلوں کو مسترد کرنے یا غیر موثر کرنے کا اختیار ہے۔ تاہم پریذیڈنٹ بھی کانگرس کے فیصلہ کو ویٹو کر سکتا ہے۔ خارجہ امور میں کانگرس کے “Activism” سے انتظامیہ خارجہ امور میں اہم فیصلے کرنے میں اکثر Impotent ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات انتظامیہ عالمی تعلقات میں اپنے جن فیصلوں کو قومی مفاد میں دیکھتی ہے۔ کانگرس انہیں داخلی سیاست میں یا لابیوں کے مفادات کی سیاست میں اس کے برخلاف دیکھتی ہے۔ یہ اوبامہ انتظامیہ میں دیکھا گیا تھا۔ اور اب یہ ٹرمپ انتظامیہ میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ کانگرس میں ری پبلیکن کی اکثریت ہے۔ لیکن اس کے باوجود کانگرس خارجہ امور کو جیسے کنٹرول کر رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں حیرت انگیز تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ سیکورٹی امور میں پھنسی خارجہ پالیسی کو کمرشل مفادات میں ٹرانسفر کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کے ایٹمی پروگرام پر عالمی سمجھوتہ میں اوبامہ انتظامیہ کی شمولیت پر کانگرس کی مخالفت اور ایران کے خلاف اقتصادی بندشوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ صرف مخصوص ملکوں کے مفاد کی حمایت میں ہے۔ حالانکہ یہ سمجھوتہ امریکہ کی سیکورٹی کے مفاد میں تھا۔ امریکہ کے یورپی اور نیٹو اتحادیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ کی حمایت کی تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ یورپی یونین نے بھی ایران پر سے بندشیں ختم کر دی ہیں۔ صدر اوبامہ نے ایران پر سے کچھ ایگزیکٹو پابندیاں ہٹا لی تھیں۔ لیکن کانگرس نے ایران پر نئی اقتصادی بندشیں لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک ملک کے خلاف مختلف ملکوں کے مفادات کی لابیوں کے نتیجہ میں کتنی طرف سے بندشیں لگائی جاتی ہیں۔ ایران پر سیکورٹی کونسل کی اقتصادی بندشیں تھیں۔ پھر پریذیڈنٹ امریکہ کی ایگزیکٹو آ ڈر بندشیں تھیں۔ اس کے بعد کانگرس کا ایران پر بندشوں کا علیحدہ ایک قانون تھا۔ جبکہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد امریکی سفارت کاروں کو یرغمالی بنانے کے بعد 1980s میں جو اقتصادی بندشیں لگائی گئی تھیں وہ بھی ابھی تک لگی ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر کلنٹن کی انتظامیہ میں صدر محمد خاطمی کے دور حکومت میں ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ میڈیلین البرائٹ نے ایرانی قوم سے 1953 میں ڈاکٹر محمد مصدق کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے میں سی آئی اے کے رول پر معافی مانگی تھی۔ اور سیکرٹیری البرائٹ تہران بھی گئی تھیں۔ لیکن ایران پر 1980s سے امریکہ کی جو اقتصادی بندشیں لگی ہوئی تھیں انہیں ہٹا کر ایرانیوں کے ساتھ خیرسگالی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ حالانکہ ایرانیوں پر اقتصادی بندشوں کا ظلم بھی ایسا ہی تھا کہ جیسے ان پر شاہ کی آمریت مسلط کی گئی تھی۔
    سرد جنگ کو ختم ہوۓ 28 برس ہو گیے ہیں۔ لیکن امریکہ نے سوویت یونین پر اس وقت جو اقتصادی بندشیں لگائی تھیں وہ ابھی تک لگی ہو ئی ہیں۔ اور ان بندشوں میں اصلاحات روس پر نئی بندشیں لگا کر کی گئی ہیں۔ 1990s میں صدر بورس یلسن کی حکومت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ اس وقت روس کے اندرونی سیاسی اور اقتصادی حالات شدید انتشار میں تھے۔ روس میں انارکی پھیلی ہوئی تھی۔ لوگوں کے پاس روز گار تھا اور نہ کھانے کے لئے پیسے تھے۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے خزانہ میں پیسے نہیں تھے۔ صدر بل کلنٹن امریکہ کے صدر تھے۔ لیکن روس کو ان برے حالات میں دیکھ کر بھی امریکہ نے روس پر سے سرد جنگ دور کی اقتصادی بندشیں ختم نہیں کی تھیں۔ بلکہ روس کو آئی ایم ایف  اور ور لڈ بنک کے قرضوں سے تیسری دنیا کے درجہ کا ملک بنا دیا تھا۔ لیکن پھر دلچسپ بات یہ تھی کہ روس کو صنعتی ترقی یافتہ ملکوں کے G-7 کلب میں شامل کر لیا تھا۔ اور یہ G-8 کلب بن گیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ روس کو نیٹو ہیڈ کوارٹر میں مستقل Observer کی نشست دے دی تھی۔ لیکن امریکہ نے سرد جنگ دور کی اپنی اقتصادی بندشیں پھر بھی نہیں ہٹائی تھیں۔ روس کی قیادت نے بھی ان بندشوں کو ہٹانے پر زیادہ زور نہیں دیا تھا۔ اور امریکہ کو سرد جنگ دور کی سوچوں میں چھوڑ دیا تھا۔ نائن الیون کو دہشت گردوں کے امریکہ پر حملہ کے بعد صدر پو تن پہلے عالمی رہنما تھے جنہوں نے صدر بش کو فون کیا تھا۔ اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ اور اس موقعہ پر صدر بش کو روس کے مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔ صدر بش کے ذہن میں عراق تھا۔ صد ام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ صدر پو تن کو مڈل ایسٹ میں حکومتیں تبدیل کرنے کی جنگوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ صدر پو تن کے ذہن میں یورپ میں آئل اور گیس کی پائپ لائنوں کے جال بچھانے کے منصوبے تھے۔ صدر بش کو عراق کے تیل پر قبضہ کرنے کا موقعہ مل گیا تھا۔ اور صدر پو تن کو یورپ بھر کو آئل اور گیس کی فراہمی کے سنہرے موقعہ مل گیے تھے۔
   امریکہ مڈل ایسٹ اور افغانستان میں مصروف تھا۔ اور روس یورپ میں آئل اور گیس کے تجارتی تعلقات فروغ دینے میں مصروف تھا۔ یورپ میں آئل کی مارکیٹ کے ایک بڑے حصہ پر روس قابض ہو گیا تھا۔ اور اسی طرح گیس کی فراہمی  میں بھی روس آگے آ گیا تھا۔ جرمنی میں سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی اقتدار میں تھی۔ اور Gerhard Schroeder چانسلر تھے۔ اور صدر پو تن کے چانسلر Schroeder سے بہت قریبی اور ذاتی تعلقات تھے۔ صدر پو تن ان سے جرمنی میں بات کرتے تھے۔ دسمبر 2005 میں چانسلر Schroeder سیاست سے رٹائرڈ ہو گیے تھے۔ اور روس جرمن گیس پائپ لائن بورڈ کے چیرمین ہو گیے تھے۔ سابق چانسلر Gerhard Schroeder روس کی سب سے بڑی قدرتی گیس کمپنی کے بورڈ کے رکن ہو گیے تھے۔ اور ایک اندازے کے مطابق 2022 تک جرمنی کا روس کے آئل اور گیس پر انحصار بہت بڑھ جاۓ گا۔ ایڈورڈ سنو ڈن نے سی آئی اے کی جو خفیہ دستاویز جاری کی تھیں۔ ان میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے آفس اور ان کے فون ٹیپ کرنے کے بارے میں بھی انکشاف ہوۓ تھے۔ اس کے ساتھ جرمن وزارتوں کے بھی فون ٹیپ کیے جا رہے تھے۔ یہ اوبامہ انتظامیہ میں امریکہ کے ایک انتہائی قریبی اتحادی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ جرمن حکومت کے خفیہ طور پر فون ٹیپ کرنے اور جاسوسی اور عراق پر Preemptive حملہ کے در پردہ آئل اور گیس کی پائپ لائنوں کی سیاست پوشیدہ تھی۔ اور روس کے خلاف  اب اقتصادی بندشوں کے ذریعہ یورپ میں پائپ لائنوں سے آئل اور گیس نکلنے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
   آئل اور گیس کی صنعت میں زبردست فروغ سے روس کے ریونیو بڑی تیزی سے دو گنے سے تین گنا ہو گیے تھے۔ روس کی معیشت میں Boom آ رہا تھا۔ یورپ میں جرمنی روس کا سب سے بڑا ٹریڈ نگ  پارٹنر تھا۔ دوسرے یورپی ملکوں کے ساتھ بھی روس کے تجارتی تعلقات میں فروغ ہو رہا تھا۔ روس اقتصادی ترقی کے مضبوط ستونوں پر کھڑا ہو رہا تھا۔ جبکہ جنگوں نے امریکہ کے اقتصادی ترقی کے ستونوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ 2008 میں امریکہ میں بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہو رہے تھے۔ صنعتی اداروں میں تالے پڑ رہے تھے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بیروزگار ہو رہے تھے۔ امریکہ کو جب اقتصادی حالات خراب ہونے کا احساس ہوا تو روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں تناؤ آنے لگا تھا۔ اوبامہ انتظامیہ میں یہ تعلقات سرد جنگ دور سے زیادہ خراب بتاۓ جا رہے تھے۔ روس کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت پر اوبامہ انتظامیہ نے اقتصادی بندشوں سے بریک لگانا شروع کر دئیے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ روس کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے۔ اور روس کے ساتھ امریکہ کے جو اختلاف ہیں  انہیں بات چیت سے حل کرنے کی حمایت کرتی ہے۔ لیکن امریکی سینٹ نے گزشتہ ہفتہ روس کے اہم معاشی شعبوں اور شخصیتوں پر 2016 کے امریکہ کی انتخابی مہم میں مداخلت کرنے اور شام اور یوکرین میں روس کی جارحیت پر نئی بندشیں لگانے کی قرار داد اکثریت سے منظور کی ہے۔ اور کانگرس سے بھی اسے منظور کرنے کا کہا ہے۔ شام میں روس کی مداخلت کا الزام اصل حقائق کا Distortion ہے۔ دنیا 6 سال سے یہ دیکھ رہی ہے کہ شام کو کس کے ہتھیاروں اور کن کی دولت سے تباہ کیا جا رہا تھا۔ کس نے کہاں مداخلت کی ہے یہ ایک لمبی بحث ہے۔
   Unilateral Economic Sanctions انسانی حقوق اور فری مارکیٹ اکنامی کی خلاف ورزی ہے۔ بالخصوص سیاسی مقاصد میں ان کا نفاذ ایک خطرناک ہتھیار کی طرح ہے۔ دنیا نے ان بندشوں کے خوفناک نتائج عراق میں دیکھے تھے۔ جہاں 5 لاکھ معصوم بچے پیدائش کے بعد چند ہفتوں میں مر جاتے تھے۔ ایک طرف امریکہ اور یورپ ان کے سیاسی مفاد سے اختلاف کرنے والے ملکوں کے اقتصادی بندشوں کے ذریعہ اپنے مارکیٹ کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف چین اور بھارت جنہوں نے اپنے اوپر “Self-Economic Sanctions” لگائی ہیں۔ اور غیرملکی کمپنیوں کے لئے اپنی مارکیٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے ۔ ان سے یہ بندشیں ختم کرنے کا کہا جاتا ہے۔                  

Friday, June 16, 2017

A Region of Permanent Wars, Conflicts, Conflagration, And Turmoil

  A Region of Permanent Wars, Conflicts, Conflagration, And Turmoil

    In The Middle East, Out of Six Trillion Dollars, Only Five Hundred Million Dollars, America Had
 Spent Wisely On The Projects of Democracy, Freedom, And Women Rights, While Rest General Peter Has Spent On General Paul

مجیب خان
Two US-made Israeli super sherman tanks patrolling in East Jerusalem, June1967, 6 day war 

Israeli troops guard captured Egyptian troops and Palestinians at the start of of 6 day war. June 5, 1967 

First Gulf war U.S. marines on patrol, a destroyed Iraqi tank and a charred corpse with burning oil 

War of Iraq and human destruction

    اگر Moses اور Jesus امریکہ کے صدر بن جائیں تو شاید وہ بھی یہ ہی کریں گے جو صدر بش، صدر اوبامہ کر رہے تھے اور ان سے پہلے جو کر رہے تھے۔ اور صدر ٹرمپ بھی اب اسی طرف آ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں سابق صدر کی مڈل ایسٹ پالیسی پر سخت تنقید کی تھی۔ اور ان کی پالیسیوں کو تباہی بتایا تھا۔ صدر ٹرمپ نے مڈل ایسٹ کی جنگوں سے امریکہ کو دور رکھنے کا کہا تھا۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کا کہا تھا۔ تاہم اس تنازعہ کو حل کرنے کی بات بھی کی تھی۔ لیکن پھر وائٹ ہاؤس کے Climate میں صدر ٹرمپ کو دنیا صدارتی انتخابی مہم کے Climate سے بہت مختلف نظر آئی تھی۔ صدر بش اور صدر اوبامہ نے مڈل ایسٹ کو جہاں چھوڑا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی مڈل ایسٹ  پالیسی کا آغاز بھی وہیں سے کیا ہے۔ فلسطین اسرائیل مڈل ایسٹ کا ایک بزرگ تنازعہ ہے۔ لہذا امریکہ کا ہر صدر سب سے پہلے اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے ملاقات کرتا ہے۔ اور اس تنازعہ کے حل کو اپنی انتظامیہ کی پہلی ترجیح بیان کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی مڈل ایسٹ  Envoy نامزد کیا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اس روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اور سب سے پہلے اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں سے وائٹ ہاؤس میں ملاقاتیں کی ہیں۔ لیکن ان ملاقاتوں کے کوئی خاص نتائج سامنے نہیں آۓ ہیں۔
    لیکن جو نتائج سامنے آۓ ہیں۔ وہ سعودی عرب ریاض میں صدر ٹرمپ کی GCC ملکوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد سعودی عرب کا قطر کے ساتھ تمام تعلقات ختم کرنے کا اعلامیہ ہے۔ اور اس اعلامیہ کے ساتھ سعودی حکومت نے قطر کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ GCC اور شمالی افریقہ کے بعض ملک بھی God Father کے فیصلے کے تابعداری کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت نے قطر کے خلاف اس فیصلہ کا سبب قطر کے حما س، اخوان المسلمون اور ایران کے ساتھ تعلقات بتاۓ ہیں۔ مڈل ایسٹ پہلے ہی خوفناک بحرانوں میں گھیرا ہوا ہے۔ اور اب ایک نئے بحران کا اس میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔  یہ سلسلہ مڈل ایسٹ میں 60 سال سے جاری ہے۔ جب نئی امریکی انتظامیہ نے مڈل ایسٹ کے پرانے تنازعوں کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کوششوں کے نتائج ہمیشہ نئے تنازعہ پیدا ہونے کی صورت میں سامنے آۓ ہیں۔ اس سال 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے 50 سال ہو گیے ہیں۔ اور جو فلسطینی بچے اس وقت فلسطینی مہاجر کیمپوں میں پیدا ہوۓ تھے۔ وہ ان مہاجر کیمپوں میں اس سال 50  برس کے ہو گیے ہیں۔ اس سال اسرائیل اور مصر میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کو 39 سال ہو گیے ہیں۔ اس سال خلیج کی پہلی جنگ کو 26 سال ہو گیے ہیں۔ اس سال فلسطین اسرائیل اوسلو امن معاہدہ کو 24 سال (1993-2017 ) ہو گیے ہیں۔ اس سال عراق پر اینگلو امریکہ فوجی حملہ اور صد ام حسین کے اقتدار کے خاتمہ کے 14 سال ہو گیے ہیں۔ اس سال معمر قدافی کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے 6 سال ہو گیے ہیں۔ اس سال شام کی حکومت کے خلاف خانہ جنگی کو 7 سال ہو گیے ہیں۔ مڈل ایسٹ کے سیاسی حالات Shape دینے میں ہر امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں اور فوجی کاروائیوں کا ایک رول ہے۔ مڈل ایسٹ کے دو ملکوں عراق اور لیبیا میں ڈکٹیٹروں کی حکومتیں فوجی حملوں کے نتیجہ میں ختم ہوئی تھیں۔ جبکہ شام میں ڈکٹیٹر کے خلاف باغیوں کی دہشت گردی کی حمایت کی ہے۔ لیکن پھر مصر میں فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت قبول کر لی تھی۔ اسرائیل کے نظریاتی رجعت پسندوں نے وزیر اعظم Yitzhak Rabin کو قتل کر دیا تھا۔ یہ وزیر اعظم رابن کا قتل نہیں تھا یہ امن کا قتل تھا۔ کیونکہ وزیر اعظم رابن نے فلسطینیوں کے ساتھ امن کا سمجھوتہ کیا تھا۔ وزیر اعظم رابن کے قتل کو 24 سال ہو گیے ہیں۔ اور 24 سال سے ہر امریکی انتظامیہ فلسطینیوں سے وزیر اعظم رابن کے قاتلوں سے امن مذاکرات کرنے کا اصرار کر رہی ہے۔
    مڈل ایسٹ میں مسلسل Turmoil میں امریکہ کی ہر انتظامیہ کی پالیسی کے “Finger Print” ہیں۔ مڈل ایسٹ میں کبھی ایسے حالات پیدا نہیں کیے تھے کہ جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی تعمیر نو کے لئے یورپ میں حالات بناۓ گیے تھے۔ 1945 میں جنگ ختم ہوئی تھی اور 1960s میں یورپ دوبارہ ترقی یافتہ ہو گیا تھا۔ عراق کو تباہ کرنے کے بعد ابھی تک عراق کی تعمیر نو نہیں ہو سکی ہے۔ 14 سال ہو گیے ہیں اور عراق تباہ حال ہے۔ عراق کے ساتھ یہ صد ام حسین کے ظلم سے زیادہ بڑا ظلم ہے۔ مڈل ایسٹ کی تعمیر نو نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی مڈل ایسٹ کو ہتھیار فروخت کرنے کی پالیسی کے ساتھ  مڈل ایسٹ کی تعمیر نو کبھی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لئے جرمنی اور جاپان پر ہتھیار رکھنے  اور فوجی مہم جوئیوں کی سیاست میں حصہ لینے کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ لیکن عراق کی تعمیر نو کرنے کے بجاۓ امریکہ نے عراق کی نئی حکومت کے ساتھ سب سے پہلے کھربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے سمجھوتہ کیے تھے۔ بش اور اوبامہ انتظامیہ نے عراقی حکومت سے یہ نہیں کہا تھا کہ جو عراقی خاندان ہماری جنگ کے نتیجہ میں تباہ ہو گیے ہیں پہلے ان کے گھروں کو تعمیر کیا جاۓ۔ امریکہ کی اس پالیسی نے داعش کو جنم دیا ہے۔ اور عراقی حکومت کو کھربوں ڈالر کے ہتھیار اس  سے لڑنے کے لئے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
    اس خطہ میں جب تک دولت کے بے پناہ وسائل ہیں۔ اس وقت تک اس خطہ کے لوگوں کو امن نہیں ملے گا۔ سعودی عوام کی یہ بد قسمتی ہے کہ حکمران دوسروں کے Proxy بن گیے ہیں۔ اور ان کے لئے جنگوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ جو کھربوں ڈالر انہیں ان پر خرچ کرنا چاہیے تھے وہ ہتھیاروں پر خرچ کر رہے ہیں۔ شاہ ایران نے بھی کھربوں ڈالر ہتھیاروں پر خرچ کیے تھے۔ لیکن یہ ہتھیار شاہ ایران کو نہیں بچا سکے تھے۔ صد ام حسین اور معمر قدافی کو بھی ہتھیار نہیں بچا سکے تھے۔ یہ صرف عوام ہیں جو اپنے رہنماؤں کے آ گے فرنٹ لائن بن جاتے ہیں اور انہیں بچاتے ہیں۔ قطر اور سعودی عرب دونوں امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں۔ قطر نے ایک بلین ڈالر خرچ کر کے امریکہ کو اپنی سر زمین پر ایشیا میں سب سے بڑا بحری اڈہ بنا کر دیا ہے۔ جہاں سے امریکہ افغانستان شام صومالیہ لیبیا اور دوسرے مقامات  پر القا عدہ اور داعش کے خلاف آپریشن کرتا ہے۔ 10 ہزار امریکی فوجی اس بیس پر مقیم ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے بیرونی دورے کا آغاز سعودی عرب سے کیا تھا۔ اس موقعہ پر سعودی حکومت نے ریاض میں اسلامی سربراہوں کو جمع کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے انہیں تاریخی خطبہ دیا تھا۔ یہ امریکہ اسلامی ملکوں کی کانفرنس تھی۔ لیکن صدر ٹرمپ سعودی حکومت کو دراصل ہتھیار بیچنے آۓ تھے۔ شاہ سلمان نے آئندہ دس سال میں امریکہ سے تقریباً 400بلین ڈالر کے ہتھیار خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔۔ اس معاہدہ کے نتیجہ میں امریکہ میں 18 ہزار نئی Job create ہوں گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب امریکہ میں انفراسٹیکچر پر 40بلین ڈالر انویسٹ کرے گا۔ صدر ٹرمپ ان سعودی سمجھوتوں کے بھرے بریف کیس کے ساتھ  امریکہ واپس آۓ تھے۔ وائٹ ہاؤس میں ابھی یہ بریف کیس کھولا بھی نہیں تھا کہ سعودی عرب نے خلیج میں قطر کے ساتھ ایک نیا تنازعہ پیدا کر کے ٹرمپ انتظامیہ کا امتحان لینا شروع کر دیا کہ یہ اس تنازعہ میں کس کے ساتھ ہو گی۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ Rex Tillerson نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں پریس کے سامنے بیان دیتے ہوۓ سعودی عرب سے قطر کی ناکہ بندی ختم کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے کہا یہ رمضان کا مہینہ ہے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر امریکہ کے 10 ہزار فوجی بھی قطر میں ہیں۔ سعودی بات چیت سے قطر کے ساتھ اپنے تنازعہ کو حل کریں۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ کے اس بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کے سامنے بیان میں پر زور لہجہ میں قطر سے دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور ان کی فنڈنگ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ قطر کی حکومت کو صدر ٹرمپ کے بیان پر بڑی حیرت ہوئی تھی۔ قطر کے وزیر خارجہ ماسکو چلے گیے۔ ادھر پینٹ گان کو پریشانی یہ تھی کہ اس کے 10 ہزار فوجی قطر میں تھے۔ اور وہ بھی ناکہ بندی سے متاثر ہو رہے تھے۔ سعودی عرب کی واشنگٹن میں اپنی ایک لابی ہے جس پر یہ 60 ملین ڈالر خرچ کر رہا تھا۔ جبکہ اسرائیلی لابی بھی سعودی عرب کی پشت پر تھی۔ لہذا 600 پونڈ گوریلا لابی کے آگے صدر ٹرمپ کو جکھنا ہی تھا۔ یہ دیکھ کر قطر نے بش انتظامیہ میں اٹا رنی جنرل John Ashcroft کو hire کر لیا ہے۔ جنہوں نے نائن الیون کے بعد بش انتظامیہ میں دہشت گردی کی جنگ میں تمام کاروائیوں کی قانون کے دائرے میں رکھنے کی نگرانی کی تھی۔ John Ashcroft لا فرم پہلے 90 دن میں 2.5 ملین ڈالر Flat Fee وصول کرے گی۔ جو پہلے 90 دن کے اخراجات کے لئے ہوں گے۔ قطر کی لابی کرنے کے لئے John Ashcroft نے جسٹس ڈیپارٹمنٹ میں جو درخواست دی ہے اس میں اعلی سابق ایف بی آئی، امریکی انٹیلی جینس، وزارت خزانہ، ھوم لینڈ سیکورٹی حکام کو شامل کرنے کے لئے نام دئیے ہیں۔
    سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر واشنگٹن آۓ تھے۔ اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں سیکرٹیری آف اسٹیٹ Rex Tillerson سے ملاقات کی تھی۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ" قطرکی ناکہ بندی نہیں ہے۔ سعودی عرب کو اپنے فضائی حدود پر قانونی اختیار ہے۔ قطر کے لئے خشکی اور بحری راستے کھلے ہوۓ ہیں۔ اور وہ اپنے حدود سے آ اور جا سکتا ہے۔ اور اب یہ خبر آئی ہے کہ قطر نے امریکہ سے ایف35 طیارے خریدنے کا 12بلین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ جس کے بعد سعودی قطر تنازعہ سے گرما گرمی نکل گئی ہے۔  یہ مڈل ایسٹ کا المیہ ہے۔            
Iraq's 2nd war 2003


Destruction of American back regime change war in Syria

Syrian war

American-Saudi war against Yemen  

Yemen Victim of rich countries aggression

Poor Yemenies



Saturday, June 10, 2017

Saudi Arabia’s Blockade of Qatar Is Like Saddam Hussein’s Occupation of Kuwait

Saudi Arabia’s Blockade of Qatar Is Like Saddam Hussein’s Occupation of Kuwait  

America, Saudi Arabia, And Israel Are Supporting Terrorists In Syria For Last Seven Years, What’s Wrong, If Qatar Supporting Hamas 
On Humanitarian Grounds. Gaza Is Like Auschwitz Camp

Last Six Decades Saudi Arabia Was Supporting The Muslim
 Brotherhood In The Middle East Against Socialist, Nationalist Regimes, And Movements; America Was Also Benefiting From Their Islamic Movement

Calling Them Terrorists Is Not The Solution, America Should Dialogue With Muslim Brotherhood, As America Had Dialogue With IRA

مجیب خان
President Trump dancing with Saudi King Salman
President Bush dancing with Saudi Royals


Yemeni militants 

Free Syrian Army Fighters backed by America, Saudi Arabia and GCC
     صد ام حسین کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ہمسائیوں اور امریکہ کے قریبی اتحادیوں کے لئے ایک بڑا خطرہ تھے۔ اپنے ہمسائیوں کو دھمکیاں دیتے تھے۔ اور مڈل ایسٹ پر صد ام حسین اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اب دیکھا یہ جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل نے مڈل ایسٹ میں صد ام حسین کا یہ رول سعودی عرب کو دے دیا ہے۔ تاہم صد ام حسین نے اپنے کسی ہمسایہ  کو کبھی Bully  نہیں کیا تھا۔ صد ام حسین نے ایران سے جنگ لڑی تھی اور اب سعودی حکومت ایران سے جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ سعودی حکمران اپنے ہمسائیوں کو Bully  کر رہے ہیں۔ کسی کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ اتحاد بنا کر شام کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔ گزشتہ سال سعودی شاہ سلمان نے مصر کی امداد اس لئے بند کر دی تھی کہ مصر نے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرار داد کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ اور اب قطر سے سعودی شاہ سلمان نے فوری طور پر تمام تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر کی ائر لائن کے لائنسس منسوخ کر دئیے ہیں۔ قطر کا مکمل Blockade کر دیا ہے۔ سعودی شاہ سلمان کے اس فیصلہ کی وجہ یہ تھی کہہ قطر نے ایران سے تعلقات بحال ر کھے ہیں۔ اور قطر حما س اور اخوان المسلمون کی حمایت کر رہا ہے۔ اور انہیں فنڈ بھیی دے رہا ہے۔ اسرائیل ان تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں سمجھتا ہے۔ اور سعودی حکومت اسرائیل کے فیصلے سے اتفاق کرتی ہے۔ امریکہ نے بھی حما س اور اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ قطر کو سعودی اپنے پیچھے لائن میں لانے کے لئے Bully کر رہے ہیں۔ قطر خود مختار ملک ہے۔ اور قطر کو یہ اختیار ہے کہہ وہ کس کے ساتھ تعلقات ر کھے اور کس کے ساتھ تعلقات نہیں ر کھے۔ سعودی حکومت کو قطر کی پالیسیوں کو اپنے مفادد میں بنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ صد ام حسین کا اپنے کسی ہمسایہ کے ساتھ یہ رویہ نہیں تھا۔ سعودی اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں اور امریکہ ان کی پشت پر کھڑا ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے ہمسائیوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ سعودی عرب نے بحرین میں اپنی فوجیں بھیجی تھیں۔ اور امیر بحرین کی فوجوں کے ساتھ عرب اسپرنگ میں حصہ لینے والوں کی تحریک کو کچل دیا تھا۔ کئی ہزار لوگ اس فوجی آپریشن میں مارے گیے تھے۔ سعودی عرب نے یمن پر حملہ کیا ہے۔ یمن کے خلاف اس جا حا ریت کو چار سال ہو گیے ہیں۔ دس ہزار بے گناہ شہری جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں مارے گیے ہیں۔ اسکولوں اور ہسپتالوں پر بمباری کی گئی ہے۔ جو جنگی جرائم ہیں۔ لیکن کیونکہ  “All Mighty Israel” ان کی پشت پر ہے۔ اس لئے دنیا کی کوئی طاقت ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ہے۔ یمن میں جنگی جرائم ہونے کیی تحقیقات بھی روک دی گئی ہے۔
   اور اب سعودی عرب اور اسرائیل ٹرمپ انتظامیہ کی مدد سے ایران کو بھی عراق اور شام بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس کی ابتدا تہران میں پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر دہشت گردوں کے حملوں سے ہو گئی ہے۔ اور اس کا الزام ISIS کو دیا ہے۔ یہ ISIS کس کی ایجاد ہے؟ اسے کس عرب ملک میں منظم کیا گیا ہے؟ کس نے انہیں فوجی نوعیتت کے ہتھیار اور ملٹری ٹرک فراہم کیے ہیں؟ یہ 30 ہزار تربیت یافتہ فوجیوں کا لشکر تھا۔ جس نے موصل اور شام کے ایکک بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور اپنی اسلامی ریاست قائم کر لی تھی۔ قطر کویت بحرین عراق ار دن میں ایک بڑی تعداد میں امریکی فوجیں بیٹھی ہیں۔ امریکہ کی ملٹری انٹیلی جینس بھی ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے امریکہ کو ISIS کے وجودد میں آنے کے بارے میں علم نہیں تھا۔ اور اب ISIS سے ایران کو عدم استحکام کرنے کا کام لیا جاۓ گا؟ لیکن جن کے یہہ Evil عزائم ہیں انہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے کہ ایران عراق لیبیا شام اور یمن نہیں  ہے۔ امریکہ نے جو سبق عراقق لیبیا اور شام سے نہیں سیکھا ہے۔ ایران انہیں ضرور سبق سیکھا دے گا۔ امریکہ نے آخر 50 برس سرد جنگ  میں اپنےے نظریاتی دشمنوں کے ساتھ رہنا سیکھا تھا۔ امریکی حکام ان سے ملتے تھے۔ ان کے ساتھ ڈنر بھی کھاتے تھے۔ اور ڈنر کھانے کے بعد انہیں اپنا نظریاتی دشمن بھی کہتے تھے۔ امریکہ نے اسرائیلیوں اور سعود یوں کو صرف ہتھیار استعمال کرنا سکھایا ہے۔ لیکن دشمنوں کے ساتھ ڈنر کھانا نہیں سکھایا ہے۔
   امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے مڈل ایسٹ کے دورے میں سعود یوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کھڑے ہو کر ایران کے خلاف ان کے موقف میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی تھی۔ اور انہیں مڈل ایسٹ میں ایک نئی جنگ شروع کرنے کا پیغام دیا تھا۔ 70 سال سے امریکہ کا ہر صدر مڈل ایسٹ میں یہ کام کر رہا ہے۔ اگر مڈل ایسٹ کے بارے میں 99 فیصد امریکہ کی اپنی پالیسی ہوتی تو عراق میں 9 ہزار امریکی فوجی کبھی نہیں مرتے جن کی عمریں 30 کے درمیان تھیں۔ امریکہ کی  99 فیصد مڈل ایسٹ پالیسی اسرائیل کی ہے۔ اس لئے امریکہ نے ہمیشہ جنگوں کی پالیسی مڈل ایسٹ پر مسلط رکھی ہے۔ اور امن ک ی پالیسی کو مڈل ایسٹ پر کبھی مسلط نہیں کیا ہے۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر بھی امریکہ نے مکمل عملدرامد نہیں کیا تھا۔ اسرائیل کو صرف امن دینے کی حد تک اس معاہدہ پر عملدرامد کرایا تھا۔ اس معاہدہ سے مڈل ایسٹ میں جنگوں کے دروازے بند نہیں کیے تھے۔ بلکہ کھلے ر کھے تھے۔
  سعودی حکومت 50 کے عشرہ سے Muslim Brotherhood کی حمایت کر رہی تھی۔ انہیں فنڈ بھی دئیے جاتے   تھے۔ اور یہ سعودی حکومت کی پالیسی تھی۔ کیونکہ عرب دنیا میں سوشلسٹ، سیکولر اور قوم پرستوں کاا فروغ ہو رہا تھا۔ بادشاہوں کے تختہ الٹ رہے تھے۔ مصر میں جمال عبدالناصر بادشاہت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آ گیے تھے۔ شام میں حافظ لا اسد ، عراق میں صد ام حسین اور لیبیا میں کرنل معمر قدافی اقتدار میں آ گیے تھے۔ جبکہ دوسرے عرب ملکوں میں بھی سوشلسٹ قوم پرستی کے رجحانات بڑی تیزی سے پھیل رہے تھے۔ مڈل ایسٹ میں ان تبدیلیوں کو اس وقت سرد جنگ کی نظریاتی سیاست میں دیکھا جاتا تھا۔ لہذا Muslim Brotherhood کوو عرب سوشلسٹ قوم پرست قیادتوں کو Counter کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اور یہ مصر شام لیبیا عراقق اور عرب دنیا میں سوشلسٹ قوم پرست حکومتوں کے خلاف ایک منظم مزاحمتی فورس تھی۔ اس وقت امریکہ  نےے Muslim Brotherhood کو دہشت گرد تنظیم نہیں کہا تھا۔ ان کے امریکہ آنے پر کبھی پابندی بھی نہیں تھی۔۔ افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف  جہاد  میں حصہ لینے عرب دنیا سے Muslim Brotherhood  بڑی تعداد میں آۓ تھے۔ سعودی عرب نے افغان جہاد میں ان کی مالی مدد کی تھی۔ ‏‏‏Muslim Brotherhood نےے افغانستان کو اسلامی ریاست بنانے میں طالبان کی مدد کی تھی۔ سعودی عرب اور GCC ملکوں نے طالبان کی قیادت میں افغانستان میں اسلامی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔ گزشتہ برسوں میں سعودی عرب کے مقابلے میں Muslim Brotherhood کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے اپنی تنظیم میں سیاسی اصلاحات بھی کیی ہیں۔ یہ تقریباً ہر عرب ملک میں ہیں۔ اور عرب دنیا میں جب بھی جمہوریت آۓ گی اور انتخابات ہوں گے یہ بھاریی اکثریت سے کامیاب ہوں گے اور اقتدار میں آ جائیں گے۔ جیسے یہ مصر میں 60 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوۓ تھے۔ محمد مرسی کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ مصر کے تعلقات برقرار ر کھے تھے۔ اسرائیلی صدر شمون پرس نے محمد مرسی کو مصر کا پہلا منتخب جمہوری  صدر بننے پر مبارک باد دی تھی۔ اور انہیں اسرائیل کے دورہ کی دعوت دی تھی۔ ‏Muslim Brotherhood اور اسرائیل کے درمیان رابطوں کا دروازہ کھل رہا تھا۔ مڈلل ایسٹ کی سیاست کا یہ نیا نقشہ سعودی عرب کے مفاد میں نہیں تھا۔ لہذا سعودی عرب نے اسرائیل سے سمجھوتہہ کر لیا مصر میں محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ حالات پھر وہیں آ گیے جہاں پہلے تھے۔ مڈل ایسٹ میں سیاسی عمل ان دو ملکوں کا قیدی بنا ہوا ہے۔ اور امریکہ ان دو ملکوں کے لئے Sharif کا کردار بنا ہوا ہے۔ یہہ ملک اب امریکہ سے مڈل ایسٹ کے ہر ملک سے Muslim Brotherhood کا مکمل خاتمہ کرانا چاہتے ہیں۔ جسس میں حما س اور حزب اللہ بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے لئے مڈل ایسٹ میں 6 Million لوگوں کوو  مارنا ہو گا۔
   امریکہ کو مڈل ایسٹ میں “Made in U.S.A” فیصلے کرنا ہوں گا۔ اور ان ملکوں کی سننے کے بجاۓ اپنے ضمیر سے سوچنا ہو گا۔ مڈل ایسٹ جو پہلے اسرائیل اور اب سعودی سیاسی فیصلوں کا قیدی بنا ہوا ہے۔ اسے انن کی قید سے آزاد کرانا ہو گا۔ Muslim Brotherhood حما س اور حزب اللہ  داعش النصرہ  القا عدہ نہیں ہیں۔۔ Muslim Brotherhood میں بڑی تعداد میں امریکی یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ملکوں کی یونیورسٹیوں سے بھی انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے۔ اور ان سے ڈائیلاگ کرنے کاا اب وقت آ گیا ہے۔ انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنایا جاۓ۔ جس طرح امریکہ نے IRA کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔۔ اور انہیں دہشت گردی ترک کر کے سیاسی عمل میں آنے پر آمادہ  کیا تھا۔ حالانکہ IRA ان گروپوں سے زیادہہ خوفناک گروپ تھا۔ ایسے لوگوں سے اگر ڈائیلاگ کیے جائیں تو وہ جلد اپنی سوچ تبدیل کر لیتے ہیں اور معقولیتت کے راستہ پر آ جاتے ہیں۔ آج شمالی آئرلینڈ  میں امن ہے۔ اور IRA کے پرانے دہشت گرد ملک کی سیاست میںں نئے سیاستدان ہیں۔ مڈل ایسٹ میں انتہا پسندی ختم کرنے کے ساتھ  سیاسی عمل کے دروازے بھی کھولیں جائیں۔۔ سیاسی ڈائیلاگ کا عمل شروع کیا جاۓ۔                                                                                                                                                               

Tuesday, June 6, 2017

Global Alliances Can Not Win The War And Can Not Keep The Peace

Global Alliances Can Not Win The War And Can Not Keep The Peace

Politics, Peace, Prosperity Are Regional Issues, And Regional Alliances Can Play A Better Role

مجیب خان

"ASEAN Leaders join their hands as"economic community 

The Shanghai Cooperation Organization head of states and heads of observer states and governments  
African Union Summit
Summit meeting between European Union and Latin American countries in Madrid, Spain 
    امریکہ- اٹلانٹک الائنس  میں اختلافات کا پنڈو رہ با کس اب کھل رہا ہے۔ اور یہ تعلقات با ظاہر Divorce کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس الائنس میں امریکہ کے بعد جرمنی ایک بڑا ملک ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے میونخ میں یورپی رہنماؤں سے خطاب میں کہا ہے کہ روایتی الائنس اب اتنے قابل بھرو سہ  نہیں ہیں کہ جیسے یہ ایک زمانہ میں تھے۔ اور یورپ کو اب اپنے مفادات پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اور ہمیں اپنی قسمت کے فیصلے خود ہمیں کرنا ہوں گے۔" چانسلر مرکل نے کہا "وہ وقت اب گزر گیا کہ جب ہم دوسروں پر مکمل بھرو سہ کرتے تھے۔ بریسلز میں نیٹو سربراہ کانفرنس کے دوران بحث و تکرار اور پھر اٹلی میں G-7 کانفرنس میں شرکت کے بعد چانسلر مرکل نے کہا کہ گزشتہ چند روز میں مجھے جو تجربہ ہوا ہے۔ اس کے بعد مجھے یہ کہنا پڑا ہے۔" اس تکرار کی ابتدا صدر ٹرمپ نے کی تھی کہ جب اٹلی میں G-7 کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا "ہمیں جرمنی کے ساتھ وسیع تجارتی خسارہ ہو رہا ہے۔ جبکہ وہ نیٹو اور ملٹری پر بھی بہت کم ادا کرتا ہے۔" صدر ٹرمپ نے کہا "امریکہ کے ساتھ یہ بہت برا ہے۔ اور یہ تبدیل ہو گا۔" صدر ٹرمپ یورپ کے دورے میں ہر جگہ جرمنی کے خلاف یہ باتیں کرتے  رہے۔ یورپی یونین کے حکام سے صدر ٹرمپ نے کہا جرمنی تجارت کے معاملے میں بہت برا ہے۔" صدر ٹرمپ کے یورپی اتحادیوں کے بارے میں معاندانہ روئیے سے امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک نئی بحث و تکرار شروع ہو گئی ہے۔
    ویسے تو چانسلر مرکل سے قبل چانسلر Gerhard Schroder کے دور میں امریکہ کے ساتھ جرمنی کے تعلقات میں زیادہ سرگرمی نہیں تھی۔ چانسلر Schroder کے صدر پو تن کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ صدر پو تن نے سرد جنگ دور کا جرمنی کو 80بلین ڈالر قرضہ ادا کر دیا تھا۔ جرمنی اور روس کے قریبی تعلقات کی وجہ سے روس نے یورپ میں آئل اور گیس کی پائپ لائنوں کا جال بچھا دیا تھا۔ جرمنی روس کا ایک بڑا ٹریڈ نگ پارٹنر تھا۔ پھر چانسلر مرکل کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی کے روس کے ساتھ تعلقات قریبی ہونے کے بجاۓ نارمل ہو گیے تھے۔ چانسلر مرکل امریکہ سے قریب ہو گئی تھیں۔ نظریاتی طور پر قدامت پسند تھیں۔ مشرقی جرمنی میں پیدا ہوئی تھیں۔ اور مشرقی جرمنی سوویت بلاک میں تھا۔ انجیلا مرکل کمیونزم کے سخت خلاف تھیں۔ اس لیے بھی روس سے ان کی مخاصمت پرانی تھی۔ اور روس کے بارے میں امریکہ کے موقف سے کبھی اختلاف نہیں کیا تھا۔ ایڈورڈ سنوڈن نے جو خفیہ دستاویز جاری کی تھیں اس میں جرمن حکومت کی جاسوسی کرنے اور چانسلر مرکل کے فون ٹیپ کرنے کے بارے میں اہم انکشاف ہوۓ تھے۔ لیکن چانسلر مرکل نے اس پر کوئی شدید احتجاج نہیں کیا تھا۔ اوبامہ انتظامیہ سے اس کی صرف وضاحت طلب کی تھی۔ صدر اوبامہ کی اس یقین دہانی کو چانسلر مرکل نے قبول کر لیا تھا کہ آئندہ چانسلر کے فون ٹیپ نہیں کیے جائیں گے۔ اور جرمن حکومت کی خفیہ جاسوسی نہیں کی جاۓ گی۔ امریکہ کے اس کردار میں چانسلر مرکل کو ضرور مشرقی جرمنی کی جھلک نظر آئی ہو گی۔ جب کمیونسٹ حکومت میں یہ کام ہوتے تھے۔ بہرحال جرمنی اور امریکہ کے تعلقات معمول کے رہے۔
   نیٹو اور G-7 ملکوں کے درمیان یہ اختلاف نئے نہیں ہیں۔ اور اب یہ ابل کر باہر آ گیے ہیں۔ 1999 میں یوگوسلاویہ کے خلاف نیٹو کی کاروائی کے دوران بعض رکن ملک یوگوسلاویہ پر بمباری کے ٹارگٹ پر اختلاف کرتے تھے۔ امریکہ اور برطانیہ جن ٹارگٹ کا انتخاب کرتے تھے۔ فرانس اکثر اس کی مخالفت کرتا تھا۔ نیٹو کے چارٹر کے مطابق ہر رکن ملک کو نیٹو کے ٹارگٹ کی توثیق کرنا ہوتی تھی۔ یوگوسلاویہ کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران رکن ملکوں میں اختلاف کی صورت میں امریکی جنرل کے حکم پر بمباری کی جاتی تھی۔ پھر افغانستان میں جنگ طویل ہو جانے کی وجہ سے نیٹو ملکوں میں یہ اختلافات اور زیادہ  گہرے ہو گیے تھے۔ بعض موقعوں پر امریکی اور نیٹو کے یورپی کمانڈروں میں فوجی آپریشن پر ہم آہنگی نہ ہونے کی اطلاعات بھی تھیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے بعض فوجی ایک دوسرے کی Cross firing کے نتیجے میں مارے گیے تھے۔ اکثر اسے Friendly fire بھی کہا جاتا تھا۔ اور پھر ان واقعات کی تحقیقات ہوتی تھی۔ امریکہ کی عالمی لیڈر شپ میں افغانستان نیٹو کا پہلا بڑا فوجی آپریشن تھا۔ جو ایک فیل ریاست کے خلاف تھا۔ اور دنیا کا انتہائی غریب ترین ملک تھا۔ ایک ایسے ملک میں نیٹو کا فوجی مشن بری طرح ناکام ہوا ہے۔ اس ناکامی سے نیٹو کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ اور نیٹو ملکوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ نیٹو کے بعض رکن ملکوں میں فوجی الائنس میں عدم دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ شاید اس لئے صدر ٹرمپ نے بھی نیٹو کو Obsolete کہا تھا۔ لیکن پینٹ گان بیوروکریسی کے اصرار پر صدر ٹرمپ نے نیٹو کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم شرط یہ ہے کہ نیٹو رکن ممالک اپنا Share ادا کریں۔ اور بڑے دو ٹوک لفظوں میں صدر ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اب اپنے حصہ کے Share سے زیادہ نیٹو پر خرچ نہیں کرے گا۔
    عراق کے خلاف Preemptive فوجی کاروائی امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ مشن تھا۔ اور اس فوجی مشن کے تحت صد ام حسین کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ عراق پر حملہ تک دونوں ملکوں میں بہت قریبی رابطے اور ہم آہنگی تھی۔ عراق میں WMD کے بارے میں وزیر اعظم ٹونی بلیر صدر بش کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں دلائل دیتے تھے۔ اور اسی طرح صدر بش ٹونی بلیر کے جھوٹ کو سچ ثابت کیا کرتے تھے بلکہ ان کی کابینہ کے لوگ بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔ صد ام حسین کی حکومت ختم ہونے کے بعد امریکی فوجوں نے بغداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور برطانوی فوجوں کو بغداد سے دور رکھا تھا۔ صدر بش نے عراق میں Paul Bremer کو ایڈمنسٹریٹر نامزد کیا تھا۔ اور ایڈمنسٹریٹر نے اپنی جو کابینہ بنائی تھی اس کے لئے وزیروں کو امریکہ سے Import کیا تھا۔ برطانیہ کو اس میں کوئی نمائندگی نہیں دی تھی۔ وزیر اعظم ٹونی بلیر نے صدر بش سے بغداد میں عبوری حکومت میں برطانیہ کو شامل کرنے کے لئے کہا تھا۔ لیکن صدر بش نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ عراق جنگ میں برطانیہ کے تقریباً دو ہزار فوجی مارے گیے تھے۔ جبکہ زخمی ہونے والے برطانوی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کمیرن کے دور میں دونوں ملکوں کی قربت میں شگاف آ گیے تھے۔ افغانستان سے برطانیہ نے جیسے خود کو بالکل علیحدہ کر لیا ہے۔ افغانستان کی صورت حال پر کچھ عرصہ سے برطانیہ کا کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔
    امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی ختم کرنے کی جنگ دہشت گردی فروغ دینے کی جنگ ثابت ہو رہی ہے۔ جو اس جنگ میں امریکہ کے Allies کے گلے میں اٹک گئی ہے۔ دہشت گردی جنوبی ایشیا سے مڈل ایسٹ اور پھر نار تھ افریقہ سے گزر کر یورپ کے وسط میں پہنچ گئی ہے۔ یورپ کے لوگ جو اسامہ بن لادن کی زندگی میں کابل بغداد بیروت  مو گا دیشو اور بعض دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کے خوفناک منظر اپنے ٹی وی کی اسکرین پر دیکھا کرتے تھے ۔ اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد دہشت گردی کے یہ مناظر اب وہ اپنے شہروں میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب کیسے ہوا ہے؟ جب دنیا کو اتنا زیادہ خطرناک بنا دیا گیا ہے۔ تو اس میں کسی پر بھرو سہ کرنا دراصل خود کشی کرنا ہے۔ الائنس تباہی اور بربادی کی سیاست بن گیے ہیں۔ جو بھی الائنس میں شامل ہوا ہے وہ تباہ ہوا ہے۔ ترکی داعش کے خلاف جنگ میں الائنس میں شامل ہوا تھا۔ امریکہ نے ترکی کے کردوں کو داعش کے خلاف لڑنے کے لئے تربیت دی تھی اور انہیں اسلحہ بھی دیا تھا۔ لیکن یہ کرد ترکی کی فوج پر حملہ کرنے لگے تھے۔ اور ترکی میں بموں کے دھماکہ کرنے لگے تھے۔ جس پر صدر اردگان نے کہا کہ امریکہ نے ترکی کی کمر میں چھرا گھونپا ہے۔ داعش عراق اور موصل میں مضبوط ہو رہی تھی۔ لیکن کرد جنہیں امریکہ نے تربیت دی تھی وہ ترکی کو کمزور کر رہے تھے۔ ان کی دہشت گردی کے نتیجے میں سینکڑوں ترکی کے بے گناہ لوگ مارے گیے تھے۔
   کرنل معمر قدافی نے بھی بھرو سہ کر لیا تھا اور اپنے تمام WMD امریکہ کے حوالے کر دئیے تھے۔ کرنل قدافی کو بش انتظامیہ نے یہ یقین دلایا تھا کہ ان کے اقتدار میں رہنے سے اب امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن پھر اوبامہ انتظامیہ میں یہ Trust بے معنی ہو گیا تھا۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ کرنل قدافی کو اقتدار سے ہٹا کر ISIS کے حوالے کر دیا تھا۔ جنہوں نے طرا بلس کی سڑک پر قدافی کو ذبحہ کر کے لیبیا میں اسلامی ریاست قائم کر لی تھی۔ اور اب امریکہ اور اس کے Allies اسلامی ریاست کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ Allies شام کو بھی ایک دوسرا لیبیا بنا رہے تھے۔ لیکن اللہ نے روسیوں کو بھیج کر شام اسلامی ریاست بننے سے بچا لیا ہے۔
   جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اب یہ اعتراف کیا ہے کہ ہمیں امریکہ پر بھرو سہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یورپ کے مفادات پر خود توجہ دینا چاہیے۔ Global Alliance دنیا کو امن اور استحکام دینے میں ناکام ہو گیے ہیں۔ اور یہ Human Destruction اور Nation States تباہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان حالات میں امن استحکام اور مفادات علاقائی قیادتوں کی ذمہ داری بن  گیے ہیں۔ اور اس کے لئے Regional Alliance کا فروغ ضروری ہو گیا ہے۔ صرف Regional Alliance اپنے Region کو امن اور استحکام دے سکتے ہیں۔ لڑائی جھگڑوں کی سیاست سے اپنے  Region کو دور رکھ سکتے ہیں۔