Wednesday, July 18, 2018

Vote Against Corruption


Vote Against Corruption 

مجیب خان
 
Nawaz Sharif's Palace in Rai wind Lahore


Nawaz Sharif's Palace 

A large number of People Live below the poverty line in Southern and Western Punjab

Asif Ali Zardari's Palace

Children's school in Zardari's hometown- Sindh

Government school in Badin Sindh
  
   میکسیکو بھی پاکستان کی طرح ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ جس طرح ہر ترقی پذیر ملک جمہوری معاشرہ بننے کی جد و جہد کر رہا ہے۔ اسی طرح میکسیکو بھی ایسی ہی جد و جہد سے گزر رہا ہے۔ تاہم میکسیکو کی 1.4ٹریلین ڈالر کی معیشت ہے۔ شمالی امریکہ میں امریکہ اور کینیڈا کے بعد میکسیکو کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ میکسیکو تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں ساتویں نمبر پر ہے۔ کینیڈا کے بعد امریکہ میں میکسیکو سے تیل آتا ہے۔ میں نے Mexicans سے پوچھا کہ میکسیکو کی 1.4ٹریلین ڈالر کی معیشت ہے۔ لیکن میکسیکو میں اتنی غربت کیوں ہے؟ ان کی زبان پر جو پہلا لفظ آیا وہ کرپشن تھا۔ انہوں نے کہا میکسیکو کے لیڈر اور حکومت کرپٹ ہیں۔ میکسیکو میں اس ماہ نئے انتخابات ہوۓ ہیں۔ میکسیکو کے لوگوں نے جسے صدر منتخب کیا ہے۔ وہ ایک Leftist ہے۔ 20سال قبل وہ میکسیکو کے ایک شہر کا میئر تھا۔ اور اس نے شہر کے لوگوں کے لئے بہت اچھے کام کیے تھے۔ ان کے شہر کو بنایا تھا۔ لوگ بھی اس سے بہت خوش تھے۔ میئر کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ نجی زندگی میں مصروف ہو گیا تھا۔ اب 20 سال بعد اس نے انتخاب میں صدارتی امیدوار بننے کا فیصلہ کیا۔ میکسیکو کے لوگ اسے بھولے نہیں تھے۔ اور انہوں نے اب اسے میکسیکو کا صدر منتخب کیا ہے۔ نو منتخب صدر Andres Manuel Lopez Obrador نے میکسیکو کے عوام سے یہ عہد کیا ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑے گا۔ اور میکسیکو سے غربت کو جڑسے ختم کیا جائے گا۔ میکسیکو کے لوگ نو منتخب صدر سے خوش ہیں۔ اور انہیں اس کی انکساری دیانتداری اور اس کے صاف ستھر ے کردار پر فخر ہے۔
   کرپشن صرف پاکستان میں مسئلہ نہیں ہے۔ یہ دنیا کے بے شمار ملکوں میں ایک Chronic مسئلہ ہے۔ پاکستان میں جمہوریت اور سیاسی ادارے اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ جتنی کرپشن کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں۔ کرپشن کی ان جڑوں پر جمہوری اور سیاسی ادارے تعمیر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پاکستان میں اب تیسرے انتخاب ہونے جا رہے ہیں۔ لیکن لوگ  فیصلہ کرنے میں ابھی تک سیاسی با شعور نہیں ہیں۔ لوگ جنہیں ووٹ دینے جا رہے ہیں۔ ان کے سیاسی ریکارڈ کو دیکھ کر انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کرتے ہیں۔ 1990s سے ان ہی پارٹیوں اور لیڈروں کو ووٹ دے رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب  میں مسلم لیگ ن دس سال سے حکومت کر رہی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی دس سال سے صوبہ سندھ میں حکومت کر رہی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے لوگوں کے سامنے ان حکومتوں کی کارکردگی کا دس سال کا ریکارڈ ہے۔ صوبوں میں Law and Order اور Crimes کی صورت حال بھی ان کے سامنے ہے۔ جمہوریت Political Names Brand’ ‘ سے نہیں ہوتی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں دو پارٹیوں نے ‘Political Names Brand’ نعرے لوگوں کو دے دئیے ہیں۔ اور یہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ان نعروں سے منتخب کر ا لیتے ہیں۔ میاں نواز شریف اب اگر اقتدار میں نہیں  ہیں تو جمہوریت خطرے میں ہے۔ اور لوگ اگر پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے تو الیکشن منصفانہ نہیں تھے۔ ان باتوں سے لیڈروں میں Guilt ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ انتخابات کا مقصد اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے احتساب کے لئے پیش کرنا ہوتا ہے۔ اگر پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو یہ اپنے  اقتدار کا حساب کتاب عوام کے سامنے پیش کرتی ہے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے عوام کے لئے کیا کام کیے ہیں۔ لیکن یہ وہ لیڈر ہیں جو احتساب سے ہمیشہ بھاگتے ہیں۔ یہ اپنے انتخابی حلقوں میں لوگوں کا سامنا بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ لوگ ان سے صرف یہ سوال کر رہے ہیں کہ 5سال سے کہاں تھے۔ 10سال سے تم حکومت میں ہو لیکن ہمارے لیے کیا کیا ہے؟ یہ لوگوں کے اتنے آسان سوالوں کے جواب بھی نہیں سکتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں۔
  اب حیرت کی بات ہے کہ یہ پارٹیاں جو تین مرتبہ اقتدار میں آئی ہیں۔ دس سال سے سندھ اور پنجاب  میں  ان کی حکومتیں تھیں۔ یہ عوام میں اپنی گرتی حمایت دیکھ کر level playing field کی بات کر رہے ہیں۔ میڈیا میں جو سیاسی تجزیہ نگار ہیں یا جو سیاسی پروگرام Anchors ہیں۔ وہ بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں ان لیڈروں کو ذرا Educate کرنا چاہیے تھا کہ جناب آپ حضرات کی پارٹیاں تین مرتبہ اقتدار میں آئی ہیں۔ 2008 کے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی نے 5سال حکومت کی ہے۔ اور اس کے بعد 2013 کے الیکشن کے بعد مسلم لیگ ن نے 5 سال حکومت کی ہے۔ پھر پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی 10سال سے حکومت میں ہیں۔ لیکن عمران خان کبھی اقتدار میں نہیں تھے۔ 20سال سے تحریک انصاف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کرپٹ حکومتوں کے خلاف جد و جہد کر رہے ہیں۔ ان پارٹیوں کے لیڈروں کے  فراڈ، غبن، دھاندلیوں کو بے نقاب کرتے رہے ہیں۔ اور پاکستان کو کرپشن سے پاک معاشرہ بنانے کی 20سال سے عمران خان تحریک چلا رہے تھے۔ لوگوں نے پہلے پیپلز پارٹی کے 5سال اور اب مسلم لیگ ن کے 5سال اقتدار کے دیکھے ہیں۔ اور اب عمران خان کی باتیں ان کی سمجھ میں آ رہی ہیں۔ ان لیڈروں اور پارٹیوں کے پاس عوام کے لئے کام کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ پاکستان کے لوگوں کی اکثریت بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم ہے۔ زر داری نے بلاول بھٹو زر داری کو یہ کہنے کے لئے سیاست کے میدان میں اتار دیا ہے کہ 'ہم جب اقتدار میں آئیں گے تو غربت کا خاتمہ کریں گے۔' اس سے بڑا مذاق غریبوں کے ساتھ اور کیا ہو گا۔ جب دونوں پارٹیوں کے پاس بدعنوانیاں کرنے کے ریکارڈ کے سوا کچھ اور نہیں ہے تو یہ Level playing field’ ‘ کا مطالبہ کرنے لگی ہیں۔ 3 مرتبہ انہوں نے حکومت کی ہے۔ اور چوتھی بار انہیں منتخب کرنے سے پہلے ان کا احتساب واجب ہو گیا ہے۔
   ملائشیا میں دو ماہ قبل انتخابات میں لوگوں نے وزیر اعظم نجیب رزاق کے خلاف ووٹ دئیے تھے۔ اور انہیں اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ نجیب رزاق پر کرپشن کے سنگین الزامات تھے۔ ان کے خلاف ایک عرصہ سے کرپشن کی تحقیقات ہو رہی تھی۔ اس ماہ Anti- corruption حکام نے نجیب رزاق کو گرفتار کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران انہیں کھربوں ڈالر اسٹیٹ انویسمینٹ فنڈ سے خرد برد کرنے میں ملوث پا یا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق نجیب رزاق اور ان کے اتحادیوں نے ایک عرصہ تک کرپشن کو چھپانے کے لئے اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوۓ کیش تقسیم کیا تھا۔ اور میڈیا میں ان کے خلاف کرپشن کی خبروں کو دبایا تھا۔ لیکن ملائشیا کے لوگوں کو انویسمینٹ فنڈ سکینڈل پر غصہ تھا۔ اور انہوں نے گزشتہ مئی میں انتخابات میں وزیر اعظم نجیب کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو ووٹ دئیے تھے۔ یہ اتحاد صرف وزیر اعظم نجیب کے خلاف بنایا گیا تھا۔ ملائشیا کے لوگوں نے متہاہر محمد کو وزیر اعظم منتخب کیا ہے۔ جنہوں نے نجیب رزاق کو انصاف کی عدالت کے سامنے لانے کے لئے انتخابی مہم چلائی تھی۔ 92 سالہ متہاہر محمد پہلے بھی وزیر اعظم رہے چکے تھے۔ سیاست سے رٹائرڈ ہونے کے 15 سال بعد متہاہر محمد دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوۓ ہیں۔ پہلی مرتبہ وزیر اعظم متہاہر محمد نے ملائشیا میں اقتصادی اصلاحات کی تھیں۔ ان کے دور میں ملائشیا نے شاندار اقتصادی ترقی کی تھی۔ اور انہیں Father of Modernization کہا جاتا تھا۔ ملائشیا کے لوگ ایک بار پھر متہاہر محمد کو اقتدار میں لاۓ ہیں۔ متہار محمد کے وزیر اعظم بننے کے بعد حکام نے نجیب رزاق اور ان کی اہلیہ کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ نجیب رزاق پر money Laundering کا الزام بھی تھا۔ انہوں نے اسٹیٹ انویسٹمینٹ فنڈ سے 731 ملین ڈالر اپنے نجی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے تھے۔ اور پھر اس سے اپنے اور اپنی اہلیہ کے لئے انتہائی قیمتی اشیا خریدی تھیں۔ مرحوم سعودی شاہ عبداللہ نے وزیر اعظم نجیب کے بنک اکاؤنٹ میں 600 ملین ڈالر جمع کراۓ تھے۔ جس کے بعد وزیر اعظم نجیب نے ملائشیا کی فوج سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سکینڈل کی ملائشیا کے اٹارنی جنرل نے تحقیقات کی تھی۔ ملائشیا کی پولیس نے بتایا کہ انہوں نے نجیب کی رہائش گاہوں سے کیش، جیولری، قیمتی Purses اور 273ملین ڈالر ضبط کیے ہیں۔ پولیس نے جو قیمتی اشیا ضبط کی ہیں ان میں 567 ہینڈ بیگ، 2200 انگوٹھیاں، اور 14Tiaras تھے۔ سابق وزیر اعظم نجیب نے فرانس سے Submarines خریدنے کی ڈیل میں Kickbacks سے 130ملین ڈالر بناۓ تھے۔ فرانس کے حکام نے بھی اس کی تحقیقات کی تھی۔ متہاہر محمد نے نیویارک ٹائمز سے انٹرویو میں بتایا کہ 2015 میں ایک نجی گفتگو میں نجیب نے ان سے کہا کہ Cash is King’ ‘ ملائشیا میں دولت سیاسیات ایک با اختیار ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ‘Cash is King’ متہاہر محمد نے کہا 'نجیب کا مطلب تھا ‘Corruption is O.K.’
  پاکستان میں بھی سیاستدان ‘Corruption is O.K.’ اپنا ایک سیاسی حق سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے سیاست ‘Cash is King’ ہے۔ یہ الیکشن میں لاکھوں خرچ کرتے ہیں۔ اور پھر نئے الیکشن سے پہلے یہ کروڑوں بنا لیتے ہیں۔ 1990s میں آصف علی زر داری نے بھی فرانس سے Submarines خریدنے کی ڈیل میں Kickbacks سے لاکھوں ڈالر بناۓ تھے۔ آصف زر داری اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر تجارت تھے۔ 1980s میں میاں نواز شریف صوبہ پنجاب میں وزیر خزانہ تھے۔ اور انہوں نے دونوں ہاتھوں سے Kickbacks پنجاب سے سیکھا تھا۔ یہ لوگ اتنے بڑے سیاسی دانش ور نہیں ہیں کہ جتنے Corrupt Professional ہیں۔ اس لئے سیاست میں جو خلا ہے فوج اور عدالت کو اپنے قدم رکھنا پڑتے ہیں۔ ملائشیا میں وزیر اعظم  نجیب رزاق Corruption کرنے کے بعد صرف ایک ہی میعاد پوری کر سکے تھے۔ ملائشیا کے لوگوں نے نئے انتخابات میں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ اور دنیا کو یہ بتایا تھا کہ قوم Corrupt نہیں ہے۔ پاکستان میں لوگ جمہوریت چاہتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کو کرپشن سے صاف کرنے کا ان میں سیاسی شعور نظر نہیں آتا ہے۔ Corrupt لوگوں کو بار بار منتخب کر کے انہیں Corruption کے مواقع دیتے ہیں۔ اس انتخاب میں انہیں یہ سلسلہ بند کرنا ہو گا۔ اور انہیں بھی دنیا کو یہ بتانا ہو گا کہ پاکستانی قوم Corrupt نہیں ہے۔      


   

Thursday, July 12, 2018

Pakistan: Election 2018, Political And Democratic Process Is Working


Pakistan: Election 2018, Political And Democratic Process Is Working

مجیب خان
  
Imran Khan addressing an election rally

Nawaz Sharif  political Shaheed in corruption cases

Asif Ali Zardari had been acquitted in corruption cases and became Ghazi 

    پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ Consecutive الیکشن ہو رہے ہیں۔ آئین کے مطابق حکومت کی میعاد پوری ہونے کے بعد 25 جولائی کو تیسرے انتخابات ہوں گے۔ پاکستان میں جمہوریت اور انتخابات کی بنیاد 1973 کے آئین نے ر کھی تھی۔ 1977 میں اس آئین کے پہلے عام انتخابات ہوۓ تھے۔ جسے ان سیاسی پارٹیوں نے دھاندلیوں کے نام پر سبوتاژ کیا تھا۔ جن کے رہنماؤں نے 1973 کے آئین پر دستخط کیے تھے۔ اور اس آئین کا تحفظ کرنے کا حلف بھی اٹھایا تھا۔ پاکستان میں اس جمہوری تاریخ کا یہ المیہ تھا کہ سیاسی رہنماؤں نے انتخابات کے نتائج قبول کرنے سے انکار کر کے جمہوریت اور آئینی عمل کو تشدد اور سڑکوں پر سیاسی غنڈہ گردی کی سیاست سے Derail  کر دیا تھا۔ ان میں مذہبی قدامت پسند، سیکولر، قوم پرست، ترقی پسند سوشلسٹ جماعتیں برابر کی شامل تھیں۔ ان کا مشترکہ مفاد جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کو کسی طرح Derail کرنا تھا۔ اور ان کا یہ محاذ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھا۔ اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوۓ تھے۔ میں اس وقت یونیورسٹی میں تھا۔ اور میری ان دوستوں سے بڑی بحث ہوتی تھی جو پی این اے  کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر سرگرمی دکھا رہے تھے۔ اور آئین اور جمہوریت کو Derail کرنا چاہتے تھے۔ میری ان سے بحث میں یہ دلیل ہوتی تھی کہ 1973 کے آئین کے تحت یہ پہلے انتخابات ہیں۔ اور اس جمہوری عمل کو ایک شخص سے نفرت میں Derail نہیں کیا جاۓ۔ یونیورسٹی میں یہ بحث فوزیہ گوہر (وہاب) سے بھی ہوتی تھی جو اس وقت پی این اے کی تحریک کی حمایت کرتی تھیں۔ اور یہ کہتی تھیں کہ بھٹو مسولین اور فاشسٹ ہے۔ میں ان سے کہتا تھا کہ بھٹو جو بھی ہے پی این اے میں شامل ان تمام لیڈروں سے بہت بہتر ہے۔ اور اسے سڑکوں پر دہشت گردی کی سیاست سے ہٹانے کے بجاۓ ایک جمہوری طریقہ اختیار کیا جاۓ جو انتخابات کا طریقہ ہے۔ دو تین انتخابات کے بعد سیاسی عمل بہتر ہوتا جاۓ گا۔ لیکن آئین اور انتخابات کے عمل کو نقصان نہیں پہنچایا جاۓ۔ بہرحال میرا موقف اور دلیل اس وقت بالکل درست تھی۔ پاکستان آخر کار آئین اور انتخابات کے ذریعہ حکومت تبدیل کرنے کے Track پر آ گیا ہے۔ تاہم 40 سال کے جو حقائق ہیں وہ یہ ثبوت دیتے ہیں کہ 1973 کے آئین کے تحت جو پہلے انتخابات ہوۓ تھے ان کا سیاسی عمل کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا تھا۔
   جنرل ایوب خان نے 1956 کا آئین ختم کر دیا تھا اور اس کی جگہ اپنا ایک نیا صدارتی نظام کا آئین رائج کر دیا تھا۔ لیکن جنرل ضیا الحق نے 1973 کا آئین معطل کر دیا تھا اسے پھاڑ کر نہیں پھینکا تھا۔ سیاسی عمل کو اس طرح جاری رکھا تھا کہ جلد ہی جماعت اسلامی کو اپنی B team بنا لیا تھا اپنی فوجی حکومت میں کابینہ کے عہدہ جماعت اسلامی کو دے دئیے تھے۔ پی این اے میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جنرل ضیا سے  ہم آہنگی ہو گئی تھی۔ اور ان سب نے 90دن میں انتخابات نہ کرانے پر اتفاق کیا تھا۔ مذہبی جماعتوں نے جمہوریت بحال کرنے کے بجاۓ پاکستان  میں پہلے Islamization کا Processes شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس سے جنرل ضیا الحق نے اتفاق کیا تھا۔ جنرل ضیا مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو اپنی فوجی حکومت کے مقاصد میں استعمال کر رہے تھے۔ اور یہ لیڈر جنرل ضیا کی فوجی حکومت کے مقاصد کی تکمیل کر رہے تھے۔ اور دوسری طرف جنرل ضیا سے ایک عظیم سیاسی ہستی کو سیاسی منظر سے Eliminate کرنے کا کام لے رہے تھے۔ یہ کسی بھی معیار سے سیاسی لیڈر کہنے کے حقدار نہیں تھے۔ انہوں نے 1977 میں انتخابات اور ایک آئینی انتخابی  جمہوری عمل کو Derail کرنے کی جو مہم چلائی تھی۔ آخر میں یہ خود بھی اس میں بہہ گیے تھے۔ جماعت اسلامی اس تحریک میں سب سے آ گے تھی۔ جنرل ضیا نے جس دن جماعت اسلامی کو اپنی حکومت سے نکالا تھا۔ اس دن پاکستان کی سیاست میں جماعت اسلامی کا سورج بھی ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا تھا۔ جمعیت علماۓ اسلام کی مذہبی اور سیاسی ساکھ گر گئی تھی۔ خیبر پختون خواہ میں سیکولر، قوم پرست اور سوشلسٹ سیاسی مفاد پرست بن گیے تھے۔ پی این اے میں ان کے رول کی وجہ سے آج خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کی سیاست میں یہ میلوں نظر نہیں آتے ہیں۔ 1973 کے آئین کے تحت 1977 میں پہلے انتخابات سے جو سیا سی عمل شروع ہوا تھا۔ اس وقت سے پاکستان میں جو سیاسی تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ سب اس سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیا نے 1973 کے آئین میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں۔ اور پھر اس آئین کو بحال کر دیا تھا۔ آئین بحال ہونے کے بعد محمد خان جونیجو وزیر اعظم بن گیے تھے۔ تاہم سیاسی عمل میں تسلسل جاری تھا۔ 1990s میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اقتدار کے  لئے musical chairs game ہوتا رہا۔ سیاستدان اپنا سیاسی کھیل کھیلتے رہے۔ لیکن سیاسی عمل اپنا کام کرتا رہا۔ پھر جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آ گیے تھے۔ انہوں نے بھی 1973 کے آئین کو برقرار رکھا تھا۔ تاہم جنرل مشرف نے بھی اس میں کچھ تبدیلی کی تھی۔ لیکن آئین کے تحت سیاسی عمل جاری تھا۔
   یہ نواز شریف حکومت تھی جس نے آصف علی زر داری کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا تھا۔ اور جیل میں نظر بند کیا تھا۔ جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کے فیصلے پر عملدرامد جاری رکھا تھا۔ اور زر داری کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کو وسعت دی تھی۔ زر داری یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے عوام کے لئے 13 سال جیل کاٹی ہے۔ حالانکہ عوام سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کا تعلق ان کھربوں ڈالروں سے تھا جو انہوں نے کرپشن سے بناۓ تھے۔ اور عوام اس کا حساب مانگ رہے تھے۔ سوئزرلینڈ کی عدالت نے آصف زر داری کو کرپشن کے کیس میں ان کے بے گناہ ہونے کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ سوئس حکومت نے سوئس بنکوں میں آصف علی زرداری کے 60ملین ڈالر کیوں منجمد کیے تھے؟ پھر صدر بش نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ سمجھوتہ کرایا تھا۔ اور اس سمجھوتہ کے تحت ان پارٹیوں کے رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے تمام کیس ختم کر دئیے تھے۔ اور انہیں سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ آصف علی زر داری اور نواز شریف نے اس سمجھوتہ کو تسلیم کیا تھا۔ اور اس پر دستخط کیے تھے۔ آصف علی زر داری نے اپنے 60ملین ڈالر بحال کرا لئے تھے۔ اور نواز شریف نے اپنی Black money کو White کر لیا تھا۔ اب اگر زر داری اور نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کیا تھا۔ تو انہوں نے اس سمجھوتہ پر دستخط کیوں کیے تھے؟ جس میں ان کے خلاف کرپشن کے کیس ختم کرنے کہا گیا تھا؟ یہ دونوں شاید اس غلط فہیمی میں تھے کہ وہ احتساب کے عمل سے بالاتر تھے۔ لیکن سیاسی اور قانونی عمل اس وقت سے ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ بالا آخر کرپشن کے کیس میں میاں نواز شریف Legal Process میں آ گیے ہیں۔ اور آصف علی زر داری کو Legal Process میں لانے کا آغاز ہو گیا ہے۔
   2008 کے انتخاب میں لوگوں کی بے نظیر بھٹو سے عقیدت کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی جیت گئی تھی۔ بے نظیر بھٹو کا قتل لوگوں کے ذہنوں میں تھا۔ اور انہوں نے زر داری کو نہیں بے نظیر بھٹو کو ووٹ دئیے تھے۔ پانچ سال زر داری نے جس طرح حکومت کی تھی وہ پاکستان اور عوام کے لئے تباہی تھی۔ اور پاکستان کے عوام اسے ایک بڑے عرصہ تک فراموش نہیں کریں گے۔ بالخصوص جب بھی انتخابات کا وقت آۓ گا۔ اور پیپلز پارٹی لوگوں سے ووٹ مانگے گی ان کے سامنے زر داری حکومت کے دور میں خوفناک Horror آ جاۓ گا۔ 2013 میں پیپلز پارٹی اس لئے انتخاب بری طرح ہار گئی تھی۔ پنجاب، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کا وجود تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ اور 2018 کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے لئے سندھ میں انتخاب جیتنا مشکل ہو رہا ہے۔ سندھ میں سندھی پیپلز پارٹی کے خلاف ہو رہے ہیں۔ 10 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ میں کوئی اقتصادی ترقیاتی کام نہیں کیے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کو غربت دی ہے اور غربت میں رکھا ہے۔ 10 سال میں ہاریوں کے حالات میں بہتری آئی ہے اور نہ ہی سندھ میں نئی صنعتیں لگائی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے صوبائی حکومت کے تمام محکموں میں نااہل اور اقرا با پروری کی بنیاد پر سندھیوں کو بھر دیا ہے۔ اور نئی بھرتیوں کے لئے صوبائی محکموں میں اب گنجائش نہیں ہے۔ جو نوجوان سندھی کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر آ رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے پاس انہیں نوکریاں دینے کے لئے نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اس صورت حال میں پھنس گئی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے مدمقابل ایک نیا اتحاد بن گیا ہے۔ جس میں پیر پگا ر ا  رسول بخش پلیجو کے صاحبزادہ، ذوالفقار مرزا اور سندھ کی دوسری سیاسی شخصیتیں اور سیاسی جماعتیں بھی اس اتحاد میں شامل ہو گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کئی ہفتہ تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی تھی کہ انتخابی مہم کا آغاز کس شہر سے کیا جاۓ۔ اور جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ لیاری سے انتخابی مہم کا آغاز کیا جاۓ گا۔  زر داری نے  اس مہم کا آغاز خود کرنے کے بجاۓ بلاول زر داری بھٹو کو بھیج دیا تھا۔ بلاول زر داری بھٹو کی یہ پہلی انتخابی مہم تھی۔ لیاری میں ان کا خیر مقدم پھولوں سے نہیں پتھروں اور انڈوں سے کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے بلاول زر داری کے جلوس میں کاروں کے شیشے توڑ دئیے تھے۔ بڑی مشکل سے بلاول زر داری کو اس صورت حال سے نکال کر لے گیے تھے۔ سکھر میں پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے اپنی انتخابی مہم پر تھے۔ سکھر کے لوگوں کا صرف ان سے یہ سوال تھا کہ پانچ سال میں انہوں نے ان کے لئے کیا کیا ہے؟ یہ ہی سوال اور ایک ایسی ہی صورت کا سندھ کے سابق وزیر اعلی مراد علی شاہ کو نوابشاہ  میں سامنا ہو رہا تھا۔ سندھ کے نوجوان ان سے روز گار کی بات  کر رہے تھے۔ ان کے شہر کے بدتر انفرا اسٹریکچر کی بات کر رہے تھے۔ پانی کی قلت پر سوال ہو رہے تھے۔ اور وہ اپنے موبائل سے ان کی گفتگو کو ٹیپ کر رہے تھے۔ اور اس کی فلم بھی بنا رہے تھے۔ جس پر مراد علی شاہ مشتعل ہو گیے تھے۔ انہوں نے سوال کرنے والا کا موبائل چھین لیا تھا۔ شہر شہر دیہات اور گاؤں گاؤں اس بے داری کو پھیلانے کا سیاسی عمل ذوالفقار علی بھٹو نے آغاز کیا تھا۔ جسے 1977 کے انتخابات میں دھاندلیوں کے نام پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے Derail کر دیا تھا۔ لیکن کیونکہ 1973 کا آئین موجود تھا۔ اس آئین نے  سیاسی عمل کو جاری رکھا تھا۔ موجودہ پیپلز پارٹی ،آصف علی زر داری اور بلاول زر داری کا اس میں کوئی Contribution نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی عمل کو صاف ستھرا رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ سندھ کے عوام زر داری کی پیپلز پارٹی کو انتخابات میں شکست دیں۔ سندھ زر داری کی پیپلز پارٹی کی حکومت میں کبھی ترقی نہیں کرے گا۔ اس حکومت کا 10سال کا ریکارڈ سندھیوں کے سامنے ہے۔ سندھی شخصیتوں کو دیکھ کر نہیں، صرف اس ریکارڈ کی بنیاد پر ووٹ دیں۔ یہ ان کے اور ان کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
  دنیا میں جہاں بھی انتخابات ہو رہے ہیں۔ لوگ قدیم روایتی پارٹیوں کی قیادتوں کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں۔ اور نئے چہروں کو منتخب کر رہے ہیں۔ امریکہ میں 2016 کے صدارتی انتخاب میں امریکی عوام نے ری پبلیکن پارٹی اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کو مسترد کر دیا تھا۔ اور ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر منتخب کیا تھا۔ جن کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سیاست میں کبھی سرگرم نہیں تھے۔ بہت بڑے بزنس مین تھے۔ انہوں نے صرف دو نعرے دئیے تھے America First اور Make America Great Again امریکی عوام کو ان نعروں میں اپنا مستقبل روشن اور خوشحال نظر آیا تھا۔ فرانس میں انتخابات میں لوگوں نے روایتی سیاسی پارٹیوں کے بجاۓ ایک 35سالہ Banker کو منتخب کیا تھا۔ جس کا کوئی سیاسی Background نہیں تھا۔ اسی طرح اٹلی کے انتخابات میں بھی لوگوں نے ایک نو عمر Unknown کو منتخب کیا تھا۔ جس کا سیاسی پارٹیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جرمنی میں انجیلا مرکل کی پارٹی انتخاب میں اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی۔ اور انہیں دوسری پارٹیوں کے ساتھ حکومت بنانے میں 6 ماہ لگے تھے۔ دنیا میں ہر طرف لوگ اقتصادی مسائل میں دھنسے ہوۓ ہیں۔ پارٹیوں کی پرانی ذہنیت کی قیادتیں پرانی سیاست سے چپٹی ہوئی ہیں۔ بے روز گار نوجوانوں کی فوج ان کے سامنے کھڑی ہے۔ حکومتیں روز گار کے نئے مواقع  پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاستدان لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کو اس مرتبہ انتخاب میں نواز شریف اور آصف علی زر داری کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے لئے ووٹ دینا ہوں گے۔                     

Friday, July 6, 2018

Pakistan’s Fastest Growing City: Karachi



Pakistan’s Fastest Growing City: Karachi

Consumerism Is On The Rise, People Are Least Interested In Political Activism

مجیب خان


Karachi: Traffic Jam
Traffic Jam








Lucky one Mall
   گزشتہ 20 دن سے میں پاکستان میں تھا۔ اور دو روز قبل واپس آیا ہوں۔ میں تقریباً 18 سال بعد پاکستان گیا تھا۔ بنگلہ دیش بننے کی المناک تاریخ کے بعد یہ 18،20 سال پاکستان کی تاریخ میں ایک مرتبہ پھر انتہائی کٹھن اور اس کی بقا اور سلامتی کے لئے مشکل چیلنج کے سال تھے۔ لیکن مجھے یہ پختہ یقین تھا کہ پاکستان جب بھی اس Make or Break حالات سے نکلے گا۔ پاکستان ایک بڑی قوت بن کر ابھرے گا۔ پاکستان کے حالیہ دورے میں مجھے اپنے اس پختہ یقین کی علامتیں نظر آئی ہیں۔ کراچی گزشتہ 20 سال سے محاذ ویت نام جنگ بنا ہوا تھا۔ کراچی اب اس محاذ ویت نام جنگ سے نکل آیا ہے۔ اور اب اقتصادی تعمیر نو کے راستہ پر ہے۔ اس وقت کراچی کی دوسرے شہروں کے مقابلے میں پاکستان کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ ڈھائی کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں اقتصادی سرگرمیاں شباب پر ہیں۔ کراچی میں Consumerism عروج پر ہے۔ Political activism تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ میدانوں اور پارکوں میں Ragtag سیاسی چہروں کو دیکھنے اور سننے میں لوگوں کو اب اتنی دلچسپی نہیں ہے کہ جتنی خوبصورت اور جدید Shopping Malls میں Designing کپڑے دیکھنے اور انہیں خریدنے میں ان کی دلچسپی ہے۔ عورتوں کے ملبوسات کے Boutiques اسٹو وروں میں عورتوں کا خاصا رش ہوتا ہے۔ عورتوں کے بعض ڈریس کی قیمت ڈھائی ہزار سے تین ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اور عورتوں کے پاس یہ قوت خرید ہے۔ Shopping Malls میں امریکہ کے نامور برانڈ Nike, Levi’s, Denim, Dockers, Calvin Clien اور دوسرے نامور برانڈ اسٹو وروں میں بھی رش رہتا ہے۔ Nike نے 50% off سیل لگائی تھی۔ اور اسٹور نوجوان لڑکوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ خریداری عید کے بعد ہو رہی تھی۔ عورتوں کی خریداری سمجھ میں آ رہی تھی کہ عید کے بعد شادیوں کی خریداری شروع ہو جاتی ہے۔ شہر کراچی کی آبادی کو دیکھ کر Shopping Malls میں Food Court میں لوگوں کے لئے سات سو سے ایک ہزار نشستوں کا انتظام تھا۔ Lunch hours میں بھیٹنے کی جگہ نہیں ملتی ہے۔ ویسے بھی Food Court میں 3سو 4سو لوگ بھیٹے کھاتے نظر آتے ہیں۔ McDonald’s, Burger King, KFC, Pizza Hut, Subway, Dunkin Donuts اور بے شمار دوسرے غیرملکی اور مقامی Fast Foods ریستوران پر لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ تاہم McDonald’s پر ہر وقت سب سے زیادہ رش تھا۔ اس کے بعد KFC پر بھی خاصا رش تھا۔ میں نے ایک دوست کے ساتھ McDonald’s میں ناشتا کیا تھا۔ جو 705 روپے کا تھا۔ جس میں Small coffee سینڈوچ اور hash browns تھا۔ ایک دوسرے موقعہ پر ایک فیملی کے ساتھ دو بچوں کے لئے Happy meal سوڈے کے تین گلاس اور Large hash browns کے ساڑھے گیارہ سو روپے دئیے تھے۔ اب اس سے اندازہ لگائیں کہ جو فیملی اپنے تین چار بچوں کے ساتھ McDonald’s میں جاتے ہیں وہ کتنا خرچ کرتے ہوں گے۔
  
McDonald's in Dolmen mall

   کراچی میں بھی Walmart’s, Costco, Meijer کی طرح بڑے بڑے اسٹور بن گیے ہیں۔ جو کئی منزلہ ہیں۔ اور یہاں One stop shopping ہوتی ہے۔ لوگوں کو کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر چیز انہیں مل جاتی ہے۔ ان اسٹو وروں میں بھی ہر وقت رش رہتا ہے۔ لوگ   اشیا سے بھرے Shopping carts  کے ساتھ اسٹور سے باہر آتے ہیں۔ جس میں دس ہزار سے پندرہ ہزار کی اشیا ہوتی ہیں۔ یہ بڑھتا ہوا Consumerism کراچی کی معیشت کے تیز رفتار فروغ ہونے کی علامت ہے۔ Shopping malls اور بڑے بڑے اسٹو وروں کے وجود میں آنے سے لوگوں کے لئے روز گار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو ۓ ہیں۔ Shopping malls کے Maintenance کے لئے ہزاروں لوگوں کو نوکریاں دی گئی ہیں۔ Malls کی سیکیورٹی کے لئے نئی آسامیاں پیدا ہوئی ہیں۔ پھر Malls میں اسٹو وروں میں سینکڑوں لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہیں۔ لڑکے اور لڑکیاں ان اسٹو وروں میں کام کر رہے ہیں اور اپنے خاندان کی کفالت کرنے میں Contribute کر رہے ہیں۔ ان کے اقتصادی حالات  بہتر ہو رہے ہیں۔ کراچی کی معیشت میں مڈل کلاس کا رول بڑھتا جا رہا ہے۔ مڈل کلاس کی وسعت سے معیشت فروغ کرے گی۔ ایکسپریس نیوز کی خبر کے مطابق اس سال کراچی میں عید پر 60 بلین روپے کی خریداری ہوئی تھی۔ جبکہ گزشتہ سال عید کی خریداری 40 بلین روپے کی ہوئی تھی۔ کراچی میں اس سال 3فیصد آن لائن عید پر خریداری ہوئی تھی۔ یہ معیشت کے مثبت راستہ پر آ گے بڑھنے کے ثبوت ہیں۔ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے۔ پرائیویٹ سکیٹر کا کراچی کی معیشت میں ایک اہم رول ہے۔ Shopping Malls کی تعمیر اور Malls میں اسٹور سب پرائیویٹ سکیٹر میں ہیں۔ جنہوں نے لوگوں کو ملازمتیں دی ہیں اور Customers کو انتہائی خوشگوار اور ایک صاف ستھرا ماحول شاپنگ کرنے کے لئے فراہم کیا ہے۔ انہیں پار کنگ کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ اور ان کی سیکورٹی کے اقدام کیے ہیں۔ لوگ خوش خوش Shopping Malls میں جاتے ہیں۔ اور چہروں پر مسکراہٹوں کے ساتھ Malls سے باہر آتے ہیں۔ حکومت کا کراچی کی معیشت کو فروغ دینے میں کوئی رول نہیں ہے۔ حکومت کا رول صرف کرپشن کی معیشت میں ہے۔ اور لوگوں کو اقتصادی مواقعوں سے محروم رکھنا ہے۔ سڑکیں ٹوٹی پڑی ہیں۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں۔ وزیروں کے عالیشان گھر ہیں۔ لیکن عوام روزانہ ان وزیروں کے چہرے اپنے علاقوں میں ٹوٹی سڑکوں اور کوڑے کی غلاظت میں دیکھتے ہیں۔ اور یہ اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ کہتے ہیں۔
 
Food Court in the Mall

  کراچی میں ہوٹل انڈسٹری کا بھی بڑی تیزی سے فروغ ہوا ہے۔ لوگوں میں باہر کھانا کھانے کا ایک کلچر بن گیا ہے۔ کراچی شہر کے جس علاقہ میں بھی جائیں رات گیے تک ہوٹل کھلے ہوتے ہیں۔ اور لوگوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ ہوٹل انڈسٹری کا بھی کراچی کی معیشت کو فروغ دینے میں ایک بڑا Contribution ہے۔ اس انڈسٹری نے بھی سینکڑوں نئے Jobs create کیے ہیں۔ کوئی سندھ حکومت سے پوچھے کہ اس نے 10سال میں کتنے Job create کیے ہیں؟ عوام کی فلاح و بہبود میں کیا کام کیے ہیں۔ جس پر لوگ حکومت پر فخر کر سکتے ہیں؟ دنیا کے جن ملکوں میں وزیروں کی یہ کارکردگی ہوتی ہے وہ سیاست میں پھر کبھی نظر نہیں آتے ہیں۔ حکومت کراچی میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل نہیں کر سکی ہے۔ لوگوں نے تھک ہار کر خود اس مسئلہ کا حل نکال لیا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر کاریں، موٹر سائیکلیں اور رکشے  اب زیادہ نظر آتے ہیں۔ جتنے عرصہ میں کراچی میں رہا صرف ایک اور دو بسیں دیکھی تھیں۔ اکثر کراچی حیدر آباد  اور ٹھٹھہ جانے والی بسیں نظر آتی تھیں۔ جو حکومت شہروں میں ٹریفک کا نظام درست اور بہتر نہیں کر سکتی ہے۔ اسے حکومت کرنے کا اہل کیسے سمجھا جاۓ گا؟ حالانکہ اس پر بھاری رقم خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ صرف اپنی ذہانت اور قابلیت خرچ کرنے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے اہل کاروں کی ذہانت اور قابلیت Traffic Jam رکھنے اور کرپشن کے راستوں کو کھلا رکھنے پر خرچ ہوتی ہے۔






   کراچی میں صوبائی حکومت نے جگہ  جگہ High rise ایپارٹمنٹ تعمیر کرنے کے پرمٹ آنکھیں بند کر کے جاری کر دئیے ہیں۔ یہ High rise شہر میں ایسے مقامات پر تعمیر کیے جا رہے تھے۔ جہاں انہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ لوگوں نے یہ ایپارٹمنٹ خرید لئے تھے۔ ان کی تعمیر شروع ہو گئی تھی۔ دس بارہ منزلیں بھی تعمیر ہو گئی تھیں۔ پھر شہریوں کے behalf پر سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوۓ Contractors کو عدالت میں طلب کیا اور ان سے سوال کیا کہ ان High rise apartments میں رہنے والوں کے لئے Parking کا کیا انتظام ہے؟ انہیں ایپارٹمنٹ کے پہلے دو Floor کو Parking بنانے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ Apartments میں پانی اور بجلی کی فراہمی تک ان کی تعمیر روکنے کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ سوال پہلی اور دوسری جماعت کے بچوں کو پڑھاۓ جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سندھ حکومت میں جو ہیں انہیں پہلی اور دوسری جماعت کی تعلیم بھی نہیں ہے۔ اور پھر حکومت اور پیشہ ور سیاستدان ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہتے ہیں کہ ادارے  اپنی حدود میں کام کریں۔ حکومت اگر High rise apartments تعمیر کرنے کے پرمٹ جاری کرنے سے پہلے خود یہ سوال کر لیتی  تو سپریم کورٹ کو عوام کے behalf پر یہ مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب جن لوگوں نے پہلی اور دوسری منزل میں ایپارٹمنٹ لئے ہیں۔ ان کا پیسہ صرف حکومت کے نا اہل ہونے کی وجہ سے پھنس گیا ہے۔ اور اب وہ پریشان ہو رہے ہیں۔ صدر ریگن نے یہ جنرل ضیا الحق کے دور میں امریکہ میں کہا تھا کہ “Government is the problem, not the solution” اس وقت سے پاکستان میں حکومتوں نے عوام کے لئے اتنے مسائل حل نہیں کیے ہیں کہ جتنے مسائل پیدا کیے ہیں۔