Monday, August 6, 2018

India’s Distorted Propaganda Against Pakistan's Army

India’s Distorted Propaganda Against Pakistan's Army

General Zia Suspended Constitution But He Honored Shimla Agreement Signed By Prime Minister
 Indra Gandhi And President Zulfiqar Ali Bhutto In 1972

Pakistan’s Civil And Military Leaders Both In Favor Of Good Relations And Peace With India, There Is Not Two Opinion

مجیب خان
Prime Minister Atal Bihari Vajpayee and General Pervez Musharraf

General Pervez Musharraf and Prime Minister Atal Bihari Vajpayee

Prime Minister Manmohon Singh and General Pervez Musharraf

Prime Minister Narendra Modi and Prime Minister Nawaz Sharif
   
   انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد جب یہ واضح ہو گیا کہ نئی حکومت پاکستان تحريک انصاف کی ہو گی۔ اور عمران خان وزیر اعظم ہوں گے۔ انتخاب میں  یہ واضح ہونے کے 48 گھنٹے بعد عمران خان نے قوم سے خطاب کیا۔ اپنے اس خطاب میں عمران خان نے اپنی حکومت کی داخلی بالخصوص خارجہ پالیسی کا ایک خاکہ پیش کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ کشمیر کے تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعہ  حل کریں گے۔ جنگیں تنازعوں کا حل نہیں ہیں۔ جنگیں تنازعوں کے حل کو اور پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ عمران خان نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت مل کر اس خطہ سے غربت کا خاتمہ کرنے کے لئے مشترکہ اقدامات کو فروغ دیں۔ دونوں ملکوں میں آز ادانہ تجارت کو فروغ دیا جاۓ۔ عمران خان نے کہا اگر بھارت ایک قدم بڑھاۓ گا ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں یہ عمران خان کا  بہت معقول موقف ہے۔ عمران خان نے  بڑے خلوص اور کھلے دل سے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا اظہار کیا ہے۔ یہ عمران خان کے اپنے خیالات تھے جو ان کے دل کی گہرائی سے جملے بن کر ان کی زبان سے باہر آ رہے تھے۔ یہ جملے GHQ  نے عمران خان کے دماغ میں Upload نہیں کیے تھے۔ یہ ایک Genuine Leader کی اپنی خارجہ پالیسی کا Outlines ہے۔ جس پر حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد عمل درآمد ہو گا۔ عمران خان نے امریکہ کے ساتھ مساوی اور باہمی احترام کے تعلقات پر زور دیا ہے۔ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اہمیت  برقرار رہے گی۔ چین کے ساتھ CPEC منصوبوں کی تکمیل کی جاۓ گی۔ چین اور پاکستان ہمسایہ ملک ہیں اور یہ  خطہ میں امن اور استحکام کے لئے مشترکہ کوششیں جاری ر کھے گے۔ ایران بھی پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لئے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ  تعلقات پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ عمران خان نے ایران اور سعودی عرب اور خلیج کے ملکوں میں کشیدگی ختم کرانے میں رول ادا کرنے کا کہا ہے۔ عمران خان کی خارجہ پالیسی عرب اسلامی دنیا میں پاکستان کے ایک سرگرم رول کا تعین کرے گی۔ خارجہ پالیسی کے بارے میں عمران خان کے ان خیالات کا سفارتی حلقوں میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے پاکستان میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا یقین دلایا ہے۔ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ پر سفارت کاروں کا ان سے ملاقات کے لیے تانتا لگا ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سفارتی حلقہ عمران خان میں قیادت کی صلاحیتوں سے متاثر ہوۓ ہیں۔ سفارتی حلقوں میں ایسی والہانہ خیرسگالی آصف علی زر داری اور نواز شریف کے ساتھ نہیں دیکھی گئی تھی۔ لیڈر جب داغ دھبوں سے صاف ہوتا ہے۔ اور اس میں عوام کے لیے کام کرنے کا جذبہ جب Real ہوتا ہے۔ تو دنیا بھی اسے محسوس کرتی ہے۔ اور ایسے لیڈر کے ساتھ کام کرنے میں دنیا بھی فخر کرتی ہے۔
   پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن 1990s کے عشرہ میں اقتدار میں آئی تھیں۔ اور انہوں نے جنرل ضیا کی پالیسیوں سے پاکستان کو علیحدہ نہیں کیا تھا۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کا افغانستان سے انخلا شروع ہو رہا تھا۔ سوویت صدر گار با چوف نے ایک خصوصی پیغام وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو بھیجا تھا جو ان کے وزیر خارجہ Eduard Shevardnadze نے اسلام آباد میں وزیر اعظم  بے نظیر کو دیا تھا۔ صدر گار با چوف نے اس پیغام میں کہا تھا کہ سوویت فوجیں افغانستان سے جا رہی ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے سوویت فوجوں کے جانے سے پہلے کابل میں تمام ثقافتوں اور گروپوں پر مشتمل ایک مخلوط حکومت بنا دی جاۓ۔ تاکہ سوویت فوجوں کے جانے کے بعد افغان ریاست کو گرنے سے بچایا جاۓ۔ ورنہ افغانستان ایک خوفناک خانہ جنگی میں پھنس جاۓ گا۔ اور یہ اس سارے خطہ کے امن اور استحکام کے لیے ایک خطرہ بن جاۓ گا۔ اس وقت کابل میں افغان ریاست کے تمام ادارے موجود تھے اور نجیب اللہ صدر تھے۔ لیکن اسلام آباد سے کوئی مثبت جواب نہیں ملنے پر صدر گار با چوف کو غصہ تھا اور انہوں نے کہا انہیں افغانستان میں بھننے دو۔ اور افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلا کا حکم دے دیا۔ حالانکہ افغانستان میں پاکستان کے رول کی وجہ سے سوویت یونین کو شکست ہوئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود صدر گار باچوف کو افغانستان کی صورت حال کا اس خطہ کے امن، استحکام اور پاکستان کی سلامتی پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش تھی۔ لیکن پاکستان میں جو قائدین تھے انہیں افغان ریاست کے گرنے کے نتیجہ میں پاکستان پر اس کے اثرات کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ امریکہ نے پاکستان سے منہ موڑ لیا تھا۔ اور ری پروسسنگ کے مسئلہ پر کانگریس نے اقتصادی بندشیں لگانے کا قانون منظور کر لیا تھا۔ افغانستان  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی سیاسی سوجھ بوجھ کا امتحان تھا۔ اور دونوں پارٹیاں اس امتحان میں Flunk تھیں۔ جس افغان پالیسی کو سیاسی قیادت تبدیل نہیں کر سکی تھی۔ 11سال بعد اس افغان پالیسی کو جنرل پرویز مشرف نے نائن الیون کے نتیجہ میں امریکہ کے دباؤ اور دھمکیوں سے تبدیل کرنا پڑا تھا۔
   تاہم 1990s کے عشرہ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی پالیسی کو خصوصی ترجیح دی تھی۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے بھارت کو Most Favorite Nation کا درجہ دیا تھا۔ قومی اسمبلی نے اس کی توثیق کی تھی۔ فوج کی طرف سے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے اس فیصلہ کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں ہوئی تھی۔ بھارت کو پاکستان سے آز ادانہ تجارت کا اختیار مل گیا تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف حکومت نے  پاکستان اور بھارت میں سفر کی سہولتیں آسان کرنے کی پالیسی فروغ دی تھی۔ آ مرت سر اور لاہور کے درمیان بس سروس شروع ہوئی تھی۔ فوج نے وزیر اعظم نواز شریف کے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی تھی۔ 1998 میں وزیر اعظم اٹل بہاری با جپائی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی اور جنتا حکومت کے وزیروں کے ساتھ بس سے لاہور آۓ تھے۔ وزیر اعظم با جپائی اپنی کابینہ کے وزیروں کے ساتھ  مینار پاکستان گیے تھے۔ جنتا پارٹی ہندو انتہا پسندوں کی جماعت تھی۔ مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر اس پارٹی کے رہنماؤں نے مملکت پاکستان کے وجود کا اعتراف کیا تھا۔ لیکن فوج نے  بھارت کے ساتھ تعلقات Normalize کرنے کی پالیسی میں مزاحمت نہیں کی تھی۔ حالانکہ یہ Normalize Process reciprocal  پاکستان کے ساتھ خیر سگالی صرف بھارتی لیڈروں کے بیانات کی حد تک تھا۔ جبکہ زمینی حقائق اس کے ثبوت نہیں دیتے تھے۔ پاکستان نے بھارت کو Most Favorite Nation کا مقام دیا تھا۔ بھارت نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا تھا۔ توازن تجارت بھارت کے حق میں تھا۔ بھارت کی پاکستان کے ساتھ تجارت کھربوں میں پہنچ گئی تھی۔ لیکن دوسری طرف بھارت نے یہ کھربوں غربت ختم کرنے کے بجاۓ ہتھیاروں پر خرچ کرنا شروع کر دئیے تھے۔ اور یہ ہتھیار پاکستان کی سرحدوں پر نصب ہو رہے تھے۔ اب کیونکہ پاکستان کے بارے میں امریکہ کا رو یہ بہت Biased ہے۔ بلکہ خود پاکستان کے اندر بھی ایک بھارتی لابی ہے۔ جو الٹا پاکستان اور اس کی فوج کے بارے میں یہ Distorted Propaganda کرتے ہیں کہ یہ بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے خلاف ہے۔ اور ان کے اس الزام کا ٹارگٹ فوج ہوتی ہے۔ بھارت  نیویارک ٹائمز اور دوسرے امریکی اخبارات  کو اپنے اس پراپگنڈہ کے مقصد میں استعمال کرتا ہے۔
   جنرل ضیا الحق نے 1973 کے آئین کو معطل کر دیا تھا۔ اور پھر اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کی تھیں۔ لیکن جنرل ضیا نے Shimla agreement  کو جس پر وزیر اعظم اندرا گاندھی اور صدر ذوالفقار علی بھٹو نے  1972 میں دستخط کیے تھے، اسے برقرار رکھا تھا۔ Shimla agreement دونوں ملکوں میں تعلقات فروغ دینے اور امن رکھنے کا Road map تھا۔ اس معاہدہ میں دونوں ملکوں نے مذاکرات کے ذریعہ تنازعوں کو حل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اور جنرل ضیا نے بھی اس سے اتفاق کیا تھا۔ جنرل ضیا نے اندرا گاندھی کو بڑی بہن کہا تھا۔ جنرل ضیا بھارت اور پاکستان کا کرکٹ میچ دیکھنے دہلی گیے تھے۔ جنرل ضیا وزیر اعظم راجیو گاندھی کے Funeral میں گیے تھے۔ پھر پاکستان کے ایک اور جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور کشمیر سمیت تمام تنازعوں کے حل کے لیے ایک ہزار قدم بڑھاۓ تھے۔ دہلی اور آگرہ کی سڑکوں پر امن کا کشکول لے کر امن کے لیے بھیک مانگتے رہے تھے۔ بھارت میں یہ عام تاثر بھی تھا کہ صرف فوج ہی کے ساتھ تنازعوں کے حل کا سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں عام تاثر یہ تھا کہ ہندو انتہا پسند جماعتوں کے ساتھ جنہوں نے پاکستان کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا تھا، امن اور تنازعوں کے حل کا سمجھوتہ ہو سکتا تھا۔ اور یہ جماعت جنتا پارٹی تھی۔ اس جماعت کے وزیر اعظم اٹل بہاری با جپائی تھے۔ اس جماعت کے رہنماؤں نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی آوازیں سن لی تھیں۔ جس کے بعد انہوں نے پاکستان کے وجود کو مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر تسلیم کیا تھا۔ آگرہ میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم اٹل بہاری با جپائی کے درمیان میں بہت سے امور پر اتفاق ہو گیا تھا۔ جس میں کشمیر کے تنازعہ کا حل بھی تھا۔ لیکن پھر اچانک Last minute پر وزیر اعظم با جپائی اتنے ہی قدم پیچھے چلے گیے تھے جتنے قدم صدر جنرل پرویز مشرف چل کر ان کے پاس آۓ تھے۔ بعد میں یہ بتایا گیا تھا کہ ہندو انتہا پسندوں نے پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ پر دستخط کرنے پر وزیر اعظم با جپائی کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اور وزیر اعظم با جپائی پیچھے ہٹ گیے تھے۔ یہ وہ ہی انتہا پسند ہندو تھے جنہوں نے برصغیر کی تقسیم پر دستخط کرنے پر مہاتما  گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ پھر کانگریس پارٹی کے وزیر اعظم من موہن سنگھ حکومت نے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ سمجھوتہ پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن پاکستان میں صدر پرویز مشرف کے خلاف وکلا کی تحریک شروع ہو گئی تھی۔ دونوں ملکوں میں تنازعوں کے حل میں جو پیش رفت ہو رہی تھی وہ سرد خانہ میں چلی گئی تھی۔
   بھارت کی صفائی میں یہ Nonsense پراپگنڈہ ہے کہ پاکستان کی فوج بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ امریکی میڈیا اور پاکستان میں جو یہ پراپگنڈہ کر رہے ہیں وہ دراصل ہندو انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اور بر صغیر میں ان کی تنازعوں کے Status quo کی سیاست کی حمایت کرتے ہیں۔ جبکہ اصل حقائق کو چھوپا یا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی حکومتوں اور فوجی حکومتوں دونوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور تنازعوں کو بات چیت سے حل کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس کے لیے کوششیں بھی کی ہیں۔  ۔ لیکن پاکستان کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے کہ بھارتی حکومتیں جو ہندو انتہا پسندوں کی قیدی بنی ہوئی ہیں انہیں اس قید سے کیسے رہا کرایا جاۓ۔ اور پھر آگے بڑھا جاۓ۔
   2014میں Kathmandu نیپال میں سارک کانفرنس کے دوران Sideline پر وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان تنہائی میں گھنٹہ طویل ملاقات میں وزیر اعظم مودی نے وزیر اعظم نواز شریف سے کہا اگر میں تنازعوں کے حل میں پاکستان کی شرائط تسلیم کروں گا تو ہندو انتہا پسند مجھے قتل کر دیں گے۔ اور میں گاندھی جی بننا نہیں چاہتا ہوں۔ جس پر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا مجھے خوف یہ ہے کہ اگر میں تنازعوں کو بھارت کی شرائط کے مطابق حل کرنے کو تسلیم کروں گا تو فوج مجھے مار دے گی۔ اب عالمی اور داخلی میڈیا میں نواز شریف کے خوف کا پراپگنڈہ ہو رہا ہے لیکن وزیر اعظم نر یندر مودی کا خوف سنسر کر دیا ہے۔                          

Tuesday, July 31, 2018

Elections 2018: The Landslide Defeat of Islamic Parties In Pakistan


Elections 2018: The Landslide Defeat of Islamic Parties In Pakistan

People Rejected The Role of Religion In Politics

مجیب خان
Muttahida Majlis Amal- an alliance of religious parties, rejecting election result

The leader of MMA Maulana Fazlur Rehman addressing a press conference in Islamabad

Pakistan National Alliance-an alliance of 9 parties who opposed Bhutto's government, PNA accused PPP rigged the Election in her favor. 1977{Father of Maulana Fazlur Rehman, Maulana Mufti Mehmood was the leader of PNA}-a   

   یہ ہے جمہوری عمل جو پاکستان میں 2018 کے انتخابات میں دیکھا جا رہا ہے۔ بڑے بڑے سیاسی خاندان جمہوری عمل کی موجوں میں بہہ گیے۔ اور کوئی انہیں ان موجوں سے بچا نہیں سکا تھا۔ ملتان میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی اور ان کے صاحبزادے بری طرح الیکشن ہا ر گیے۔ بڑی بڑی مذہبی شخصیتیں اور ان کی اسلامی جماعتوں کا بالکل صفایا ہو گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ بلکہ جماعت اسلامی کی ساری اعلی قیادت کا الیکشن میں صفایا ہو گیا ہے۔ جمعیت علماۓ اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جنہیں ایک نامور پشتون فلم اسٹار مسرت شاہین نے کئی مرتبہ مولانا کے مقابلے پر امیدوار بن کر انہیں انتخاب میں ہرانے کی کوشش کی تھی۔ عمران خان نے بھی گزشتہ انتخاب میں ان کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا۔ لیکن مولانا شکست سے بال بال بچ گیے تھے۔ اس مرتبہ ایسا نظر آتا ہے کہ اللہ نے مسرت شاہین کا مشن پورا کر دیا ہے۔ اور عمران خان کی مولانا کو شکست دینے کی حسرت بھی پوری ہو گئی ہے۔ اور مولانا فضل الرحمن تقریباً 4دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ الیکشن ہارے ہیں۔ اور یہ جمہوریت کے صحت مند اور انتخاب کے صاف ستھرا ہونے کی علامت ہیں۔ 4دہائیوں سے مسلسل انتخاب جیتنے سے بھی لوگوں میں انتخاب میں دھاندلیاں ہونے کے شک و شبہات پیدا ہونے لگتے تھے۔ مولانا کی سیاسی دنیا میں تمام چراغ بجھ گیے ہیں۔ مولانا کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اب یہ چراغ روشن ہوں گے بھی یا نہیں۔ اور  سیاست کے بغیر اب وہ زندہ کیسے رہیں گے۔ ہمارے خیال میں پاکستان میں اسلامی جماعتوں کی انتخابات میں شکست کا سعودی عرب میں عورتوں کو ڈرائیونگ لائیسنس ملنے سے بھی ہے۔ جسے پاکستان میں عورتوں نے اسلامی جماعتوں کے خلاف ووٹ دینے کا لائیسنس سمجھا تھا۔ سعودی عرب میں اصلاحات پاکستان کی سیاست میں اسلامی جماعتوں کا سیاسی رول ختم ہونے کی اصلاحات ہوں گی۔ دوسری طرف سیکولر اور نام نہاد قوم پرست لیڈر اور ان کی سیاسی جماعتیں بھی الیکشن بری طرح ہار گئی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندر یار ولی بھی الیکشن ہار گیے ہیں۔ صوبائی اور قومی سیاست میں ان کا سیاسی  وجود تقریباً  ختم ہو گیا ہے۔ بلوچستان میں پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے چیرمین محمود خان اچکزئی بھی الیکشن ہار گیے ہیں۔ کئی دہائیوں کی ان کی سیاست اب تاریخ بن گئی ہے۔ یہ وہ لیڈر ہیں جنہیں اب مل کر اپنی Political Obituary لکھنا چاہیے۔ جمہوریت کی یہ خوبی ہے کہ اس کا جمہوری عمل سیاست اور حکومت کے نظام کی صفائی کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کے تیسرے انتخاب میں اس جمہوری عمل کے نتائج یہ ثبوت دے رہے ہیں۔ کیونکہ سیاست پر برسوں سے کرپشن کی چربی چڑھی ہوئی ہے۔ اس لئے انتخاب میں جنہیں شکست ہوئی ہے انہیں اس میں دھاندلی کا رول نظر آ رہا ہے۔ لیکن ان کا سیاست میں کرپشن کا رول عوام دیکھ رہے تھے۔ لوگوں کو عمران خان کے جیتنے کی جتنی خوشی ہے اتنی ہی خوشی لوگوں کو مولانا فضل الرحمن، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، جنرل سیکرٹیری لیاقت بلوچ، اسفندر یار ولی اور محمود خان اچکزئی کے الیکشن ہارنے پر خوشی ہوئی ہے۔ ان کے منتخب ہونے سے جمہوریت کے لئے خطرے زیادہ ہوتے تھے۔ عوام کی صحت ان کے منتخب ہونے سے خراب رہتی تھی۔ یہ منتخب ہونے کے بعد عوام کو غریب رکھنے کی سیاست کرتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن 30 سال سے منتخب ہو رہے تھے۔ لیکن 30سال میں انہوں نے اپنے حلقے کے کتنے لوگوں کو غربت سے نکالنے کے کام کیے تھے؟ مولانا انتخاب جیتنے کے بعد سیاسی عیاشیاں کرتے تھے۔ ان کا 30 سال کا ریکارڈ کوئی مثبت کام کرنے کے ثبوت فراہم نہیں کرتا ہے۔
  یہ لوگ جو انتخاب ہار گیے ہیں۔ یہ سیاسی فسادی ہیں۔ جنہوں نے ہارنے کے بعد ہمیشہ فساد پھیلانے کی سیاست کی ہے۔ لوگوں کو تشدد پر اکسایا ہے۔ مولانا فضل الرحمن جو متحدہ مجلس عمل کے رہنما ہیں، ان کے مرحوم والد مولانا مفتی محمود 1977 میں ایک ایسے ہی اتحاد PNA کے رہنما تھے۔ انہوں نے اس وقت الیکشن میں دھاندلیوں کا الزام لگایا تھا۔ جو وہ اپنی زندگی میں کبھی ثابت نہیں کر سکے تھے۔ لیکن سارا جمہوری نظام تباہ کر کے چلے گیے تھے۔ مولانا فضل الرحمن بھی انتخاب ہارنے کے بعد کہتے ہیں کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ اور ہم نے جمہوریت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہم جمہوریت کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام ان کے ساتھ تھے تو وہ الیکشن کیوں ہار گیے تھے؟ اور جمہوریت کے لئے ان کی کیا قربانیاں ہیں؟ انہوں نے لوگوں کی قربانیوں کو جمہوریت میں کیش کیا ہے۔ مولانا کو جمہوریت یرغمال ہونے کی پریشانی ہے۔ لیکن اسلامی انتہا پسندوں نے اسلام کو یرغمالی بنا لیا ہے مولانا کو اس پر کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اللہ کے اسلام کو دہشت گردوں اور تخریب کاروں سے جو اللہ کی بے گناہ انسانیت کا قتل کر رہے تھے۔ لیکن مولانا اور دوسرے اسلامی رہنماؤں نے مصلحت پسندی کا ثبوت دیا تھا۔ آخر اللہ کے اسلام کو بچانے ان کے خلاف سر سے کفن باندھ کر کیوں نہیں نکلے تھے؟ انتخاب میں اسلامی جماعتوں اور ان کے قائدین کی شکست میں شاید اللہ کی مرضی کا بھی دخل ہے۔
  یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے انتخاب ہیں جس میں لوگوں کا سیاسی شعور بلندی پر ہے۔ اور انہوں نے ووٹ دینے میں اپنا سیاسی شعور استعمال کیا ہے۔ لیاری کے لوگوں نے اسے اہمیت نہیں دی تھی کہ بلاول زر داری بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ تھا۔ یا بے نظیر بھٹو شہید کا بیٹا تھا۔ انہوں نے یہ دیکھا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے لیاری کے لئے کیا کیا تھا۔ اس لئے لیاری کے لوگوں نے بلاول زر داری کو ووٹ نہیں دیا تھا۔ یہ پاکستان میں بہت بڑی نئی تبدیلی ہے۔ لوگوں کی سوچ میں یہ تبدیلی پاکستان کا سیاسی کلچر تبدیل کرے گا۔ اندرون سندھ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ سندھ کے لوگوں میں جب سیاسی تعلیم آۓ گی جیسے یہ لیاری کے لوگوں میں آئی ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کو الیکشن میں ہرایا ہے۔ اور لیاری کے لوگوں کے لئے یہ ایک بڑا سیاسی اعزاز ہے۔ آصف علی زر داری اپنی Charismatic Political Personality کی وجہ سے منتخب نہیں ہوۓ ہیں۔ لوگوں  نے انہیں اس لئے ووٹ دئیے تھے کہ وہ بے نظیر بھٹو کے شوہر تھے۔ اور Widower ہیں۔ اس الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی کی Performance زیادہ اچھی نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر سے تیسرے نمبر آ گئی ہے۔ کراچی میں سندھ حکومت کا  Secretariat ہے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف نے کراچی میں 14 نشستوں پر انتخاب جیتا ہے۔ اور آئندہ انتخاب میں یہ سندھ میں 50 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔
  عمران خان نے راتوں رات اقتدار میں آنے کا نہیں سوچا تھا۔ اور نہ ہی وزارتوں کے ایوانوں میں بیٹھ کر سیاست میں اپنا مقام بنایا ہے۔ عمران خان کی 22سال کی Grass Roots جد و جہد ہے جو اب انہیں اقتدار میں لائی ہے۔ یہ حکومت Gross Rootsکے لئے اچھے نتائج بھی Produce کرے گی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اقتدار کے ایوانوں کو Gross Roots سمجھتی ہے۔ اس لئے باپ اور بیٹا دونوں قومی اسمبلی میں بیٹھ گیے ہیں۔ جو اقتدار کے ایوانوں سے قریب ہے۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ اگر وہ قومی اسمبلی میں Gross Roots کام کریں گے تو ان میں سے ایک باپ یا بیٹا اقتدار میں ہو گا۔ یا دونوں بھی اقتدار میں ہو سکتے ہیں۔ بلاول زر داری کو سندھ حکومت میں ہونا چاہیے تھا۔ تاکہ وہ سندھ میں پارٹی کو Gross Roots سے منظم کرنے کا کام کرتے۔ سندھ میں جو لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے گیے ہیں۔ انہیں پیپلز پارٹی میں واپس لانے کی کوشش کرتے۔ لوگوں کی جن شکایتوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی  کو انتخابات میں شکست پہ شکست ہو رہی ہے۔ ان کا ازالہ کیا جاتا۔ لیکن یہ کام باپ اور بیٹے کے قومی اسمبلی میں بیٹھنے سے نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی سیاست تبدیل کرنے کا Credit بہرحال  عمران خان کی جد و جہد کو دیا جاۓ گا۔        

Friday, July 27, 2018

News Of The Century: In The Seventy Year History, For The First Time America Didn’t Meddle In Pakistan’s Elections--- Good News


 News Of The Century: In The Seventy Year History, For The First Time America Didn’t Meddle In Pakistan’s Elections--- Good News   

THANK YOU, MR. PUTIN

مجیب خان
Imran Khan after victory in election

Supporters of Imran Khan

PTI Supporters

PTI Supporters


   عوام کا فیصلہ آ گیا ہے۔ عوام نے قیادت تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ پانچ سال پہلے عوام نے تیسری اننگ کے بعد پیپلز پارٹی کو گھر بھیج دیا تھا۔ اور اس مرتبہ عوام نے مسلم لیگ ن کو تیسری اننگ میں سیاست سے آ ؤ ٹ کر دیا ہے۔ ان کے ضمیر نے مسلم لیگ ن کو چوتھی اننگ کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اور یہ عوام میں سیاسی شعور آنے کی علامت ہے۔ عوام نااہل، کر پٹ اور نام نہاد سیاستدانوں سے پاکستان کا پیچھا چھوڑ انا چاہتے ہیں۔ اور اسے انتخابی عمل کہتے ہیں۔ اب Political Losers کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوری عمل کا احترام کریں۔ اور جمہوریت کو اپنی جڑیں پھیلانے کا موقعہ دیں۔ جمہوریت سے اگر انہیں واقعی عقیدت ہے تو عوام کے فیصلے کو کھلے دل سے قبول کریں۔ جمہوری عمل کو Derail کرنے کی کوشش مت کریں۔ پاکستان کو 1977 میں مت لے جائیں۔ انتخابات میں شکست کے دوسرے دن جب نیا سورج طلوع ہو تو اس سورج کی روشنی میں اپنی شکست کی وجوہات دیکھیں۔ ان وجوہات کا ازالہ کریں اور پھر 2023 میں چوتھے الیکشن کے لئے ابھی سے تیاری کریں۔
   پاکستان کے لوگوں کے لئے News of the Century یہ ہے کہ 70سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ نے پاکستان کے الیکشن میں Meddling نہیں کی ہے۔ اور یہ الیکشن کی بڑی Headline ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور پینٹاگان کی طرف سے پاکستان میں الیکشن پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا تھا۔ اور نہ ہی فوج کی نگرانی میں الیکشن ہونے پر کسی طرف سے کوئی رد عمل ہوا تھا۔ امریکی میڈ یا نے بھی پاکستان میں الیکشن کی سیاست میں سنسنی خیز ی پھیلانے سے گریز کیا تھا۔ تاہم اخبارات میں رائٹر اور AP کی پاکستان میں انتخابی مہم پر کچھ رپورٹیں شائع ہوئی تھیں۔ جن میں بھارتی angle  نظر آتا تھا۔ پاکستان کی فوج کو یہ کہہ کر ٹارگٹ کیا گیا تھا کہ فوج انتخابات میں اپنی پسند کے امیدوار کو آگے لا رہی ہے۔ اور عمران خان فوج کے امیدوار ہیں۔ کبھی یہ لکھا گیا کہ فوج یہ دیکھنا نہیں چاہتی ہے کہ قومی  اسمبلی میں کسی ایک پارٹی کو اکثریت حاصل ہو جاۓ اور پھر ایک مضبوط حکومت بن جاۓ۔ پھر یہ کہا گیا کہ اگر قومی اسمبلی میں کسی پارٹی کی اکثریت نہیں ہو گی تو اس صورت میں ایک کمزور مخلوط حکومت بننے گی اور فوج کے لئے ایک ایسی حکومت کو اپنے انفلوئنس میں رکھنا آسان ہو گا۔ لیکن ان رپورٹوں میں کبھی یہ سوال نہیں کیے تھے کہ آخر سیاسی لیڈروں میں فوج کو اپنے انفلوئنس میں رکھنے کی صلاحیت اور قابلیت کیوں نہیں تھی۔ جنرل وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے۔ انہوں نے کبھی وزیر اعظم بھٹو کی خارجہ پالیسی میں مداخلت کی تھی اور نہ ہی ان کی ڈیفنس پالیسی سے اختلاف کیا تھا۔ فوج کو بھٹو کی ذہانت اور قابلیت پر مکمل اعتماد تھا۔ جنرل سکون سے سوتے تھے کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں تھا۔
   یہ اخباری رپورٹیں one sided تھیں ان میں نواز شریف کی حکومت میں کرپشن اور ان کے خلاف کرپشن کیس میں عدالتوں کے فیصلوں کا ذکر نہیں تھا۔ عوام میں زر داری کی پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی مسلم لیگ کی کارکردگی اور Credibility کے بارے میں کیا راۓ عامہ تھی۔ اس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ دونوں پارٹیوں نے کس حد تک عوام کو در پیش مسائل سے نکالا تھا۔ بے روز گاری، امن و امان اور کرائم ز کی صورت حال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ ان رپورٹوں کو حکومت کے پانچ سال دور کو فوکس کیا جاتا۔ لیکن یہ خصوصیت سے نوٹ کیا جاتا ہے کہ ایسی رپورٹیں کسی ایجنڈہ  کے مطابق ہوتی ہیں۔ ایسی حکومتیں جن میں بد انتظامی زیادہ ہوتی ہے۔ کرپشن ہوتا ہے۔ جو ملک میں Chaos  رکھنے کی سیاست کرتی ہیں۔ ان کو زیادہ فوکس نہیں کیا جاتا ہے۔ بلکہ ان کے مقابلہ پر جو سیاسی جماعتیں Good Governance کی بات کرتی ہیں انہیں ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ اس لئے امریکی میڈیا میں رپورٹیں نواز شریف حکومت کے بارے میں ذرا Favorable  تھیں۔
   پاکستان میں 1977 کے انتخابات میں امریکہ کی Meddling  نے جمہوری عمل کو Derail کیا تھا۔ جمہوریت تباہ ہو گئی تھی۔ آئین پامال ہو گیا تھا۔ پاکستان کی آزادی کے صرف 30سال میں تیسری مرتبہ فوج اقتدار میں آئی تھی۔ اور امریکہ میں یہ لکھا جاتا ہے کہ پاکستان کی آزادی کے نصف سے زیادہ دور فوجی حکومتوں کا تھا۔ حالانکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد فوج کا اقتدار پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس لئے آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کی گئی تھی۔ اور آئین کی خلاف ورزی کی سزا موت تجویز کی گئی تھی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے صرف 7سال بعد انتخابات میں دھاندلیوں کے نام پر ملک کو جنگ کا محاذ بنا دیا تھا۔ جن پارٹیوں کا محاذ انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کرتا تھا وہ سب Losers تھے۔ سیاست میں شکست ان کا مقدر تھا۔ جو نام نہاد قوم پرست، ترقی پسند، کرپٹ اور موقعہ پرست مذہبی عناصر تھے۔ جو بھاری اکثریت سے الیکشن کبھی جیت نہیں سکتے تھے۔ مذہبی جماعتیں ساڑھے تین نشستوں سے زیادہ حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔ Chaos پھیلانا ان کا Political DNA تھا۔ امریکہ نے ان کے لئے پاکستان میں Meddling  کی تھی۔ پاکستان میں Chaos پھیلایا تھا۔ ایک منتخب آئینی اور جمہوری حکومت کے خلاف ان کی تحریک میں ہزاروں اور لاکھوں ڈالر انویسٹ کیے تھے۔ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے پہیہ جام ہڑتالیں کرائی تھیں۔ یہ صرف اس لئے کرایا جا رہا تھا کہ امریکہ کو ری پروسسنگ پلانٹ کے مسئلہ پر وزیر اعظم ذوالفقار علی  بھٹو کی حکومت سے شدید اختلاف ہو گیے تھے۔ تیسری دنیا میں جب بھی امریکہ کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف ہو جاتا تھا۔ وہاں سی آئی اے کے ذریعہ Meddling کی جاتی تھی۔ اور حکومت کا خاتمہ کر دیا جاتا تھا۔ اس کے نتائج کی امریکہ نے کبھی پرواہ نہیں کی تھی۔ 1977 کے انتخابات سے چند ماہ قبل ہنری کسنگر ری پروسسنگ پلانٹ کے مسئلہ پر بات کرنے پاکستان آۓ تھے۔ لاہور میں وزیر اعظم بھٹو سے اس مسئلہ پر بات چیت میں کوئی کامیابی نہیں ہونے پر Kissinger threatened Bhutto “that if you (Bhutto) do not cancel, modify or postpone the Reprocessing Plant Agreement (with France), we will make a horrible example of you.”      
The meeting was ended by Bhutto as he replied: “For my country’s sake, for the sake of the people of Pakistan, I did not succumb to the blackmailing and threats.”
Bhutto and his cabinet walked away and left Kissinger and his delegation alone in the room.
    4 جولائی 1977 کو اسلام آباد میں امریکہ کے سفارت خانہ میں امریکہ کی یوم آزادی کا جشن منایا جا رہا تھا۔ وزیر اعظم بھٹو، اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیا الحق نے اس تقریب میں شرکت کی تھی۔ امریکی سفیر Art Hummel نے چند روز قبل اپنا سفارتی عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی اسلام آباد آمد سے قبل Peter Constable ڈپٹی چیف آف مشن پاکستان کی اندرونی صورت حال سے واشنگٹن کو آگاہ رکھتے تھے۔ وزیر اعظم بھٹو نے کوٹ لکھ پت جیل سے اپنے ایک مضمون میں 4 جولائی کو امریکی سفارت خانہ میں امریکی سفیر Art Hummel سے اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا تھا کہ امریکی سفیر نے ان سے کہا کہ “Mr. Prime Minister Party is over” اور پارٹی واقعی 4 اور 5 جولائی کی درمیانی رات ایک اور دو بجے کے درمیان over ہو گئی تھی۔ جنرل ضیا الحق امریکی سفارت خانہ میں جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد اپنے ساتھی جنرلوں کے ساتھ شاید سیدھے پرائم منسٹر ہاؤ ‎س گیے تھے۔ وزیر اعظم بھٹو  اور ان کی کابینہ کے وزرا کو حراست میں لے لیا تھا۔ جمہوریت کی عمارت dismantled کر دی تھی۔ یہ Meddling تھی جو بعد میں پاکستان اور خطہ میں تمام مسائل کی ماں ثابت ہوئی تھی۔ 17 سال سے امریکہ  افغانستان میں ہے جو اس Meddling کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ 1977 کے انتخابات میں Losers  کی دھاندلیوں کے الزام کی حمایت کر کے امریکہ آج افغانستان پاکستان اور اس خطہ میں Loser نظر آ رہا ہے۔
   اگر 1977 میں پاکستان میں Meddling نہیں کی جاتی اور جمہوری عمل کو جاری رکھنے میں پاکستان کی مدد اور تعاون کیا جاتا تو آج پاکستان اور یہ خطہ ضرور بہت مختلف ہوتا۔ ری پروسسنگ پلانٹ کے مسئلہ پر وزیر اعظم بھٹو سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جاتا۔ پاکستان شاید ایٹمی ہتھیار بھی نہیں بنا تا اگر امریکہ کشمیر کا تنازعہ حل کرانے میں اپنی سرگرمی دکھاتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع پر تین جنگیں ہو چکی تھیں۔ اس تنازعہ کی وجہ سے پاکستان کو اپنی سلامتی کے مفاد میں ایٹمی ہتھیاروں پر انحصار کرنا پڑا تھا۔ 1971 میں بھارت نے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور پھر جارحیت کر کے پاکستان کے ٹکڑے کر دئیے تھے۔ کسی نے بھارت کو اس جارحیت سے نہیں روکا تھا۔ ہنری کسنگر پاکستان کی اس پوزیشن کو سمجھنے کے بجاۓ لاہور میں وزیر اعظم بھٹو کو دھونس اور دھمکیاں دینے لگے تھے۔ وزیر اعظم بھٹو کی پالیسی دور اندیشی کی تھی۔ کشمیر کا تنازعہ اگر حل نہیں ہو گا تو بھارت پاکستان کے خلاف جارحیت بھی نہیں کرے گا۔ 1977 میں صرف ایک غلط فیصلہ کے نتیجہ میں امریکہ کو اس خطہ میں کتنی ناکامیوں کا سامنا ہوا ہے۔              

Monday, July 23, 2018

Democracy And Rule Of Law Are National Security Issues


Democracy And Rule Of Law Are National Security Issues

These Are New Borders of National Security, The Army Has To Protect And Defend It

مجیب خان

Prime Minister Nawaz Sharif meets with Army General Raheel Sharif

President Asif Ali Zardari and Army Chief General Ashfaq Pervez Kayani

Imran Khan 

Pakistan Tehreek- e - Insaf's Election Rally in Mian Walli

    'جمہوریت اور قانون کی حکمرانی' اب قومی سلامتی کے ایشو ز ہیں۔ پاکستان میں سب اس پر اتفاق کرتے ہیں۔ اور فوج نے بھی یہ قبول کرتے ہوۓ اپنے ایک نئے رول کا تعین کیا ہے۔ فوج اب ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا اسی طرح تحفظ کرے گی جیسے یہ ملک کی سرحدوں کا دفاع کرتی ہے۔ لیکن جو پرانی دنیا میں ہیں اور ان کے Mind set ہیں وہ فوج کے اس نئے رول کو سیاست میں فوج کی مداخلت دیکھیں گے۔ فوج پرانے رول میں اب واپس جانا نہیں چاہتی ہے۔ اور سیاستدان اپنے پرانے رول سے نکل کر ایک نیا رول اختیار کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف دنیا میں یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ فوج انتخابات میں مداخلت کر رہی ہے۔ اور ایک ایسی حکومت اقتدار میں لانا چاہتی ہے جو کمزور ہو اور فوج کے اشاروں پر چلے۔ یہ ایک Nonsense تاثر ہے۔ کمزور حکومت وہ ہوتی ہے جس پر کرپشن کے داغ ہوتے ہیں۔ اور اس میں Guilty ہونے کا خوف ہوتا ہے۔ اور اس خوف سے وہ کمزور حکومت ہوتی ہے۔ لیکن جس حکومت پر کرپشن کے داغ دھبے نہیں ہوتے ہیں۔ وہ کسی خوف کے بغیر مضبوط حکومت ہوتی ہے۔ چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد نے 4سال تک صدر زر داری کو کرپشن کے کیس میں خوفزدہ کر کے رکھا تھا۔ اور بش انتظامیہ نے ایک خوفزدہ اور کمزور زر داری حکومت کو manipulate کیا تھا۔ لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس  سے اتفاق کیا تھا کہ ملک میں جمہوری عمل کو جاری رکھا جاۓ اور قانون کی حکمرانی قائم کی جاۓ۔ 2008 میں زر داری کے صدر بننے پر اسلام آباد میں نیویارک ٹائمز کی نمائندہ سے گفتگو میں جنرل کیانی نے کہا کہ "ہم زر داری کو پسند نہیں کرتے ہیں اور نواز شریف پر ہمیں بھر و سہ نہیں ہے۔" لیکن فوج میں زر داری اور نواز شریف کے بارے میں اس تاثر کے باوجود دونوں کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا گیا تھا۔ اور دونوں نے اپنے اقتدار کی میعاد پوری کی تھی۔ نواز شریف کو کسی نے کرپشن کے کیس میں setup نہیں کیا ہے۔ نواز شریف نے خود اپنے آپ کو ان cases میں setup کیا ہے۔ نواز شریف کی وزیر اعظم کے عہدے سے بر طرفی کے بعد ان کی پارٹی نے اقتدار کی میعاد پوری کی ہے۔ جمہوری عمل جاری رکھا گیا تھا۔ اور اس میں کسی طرف سے کوئی دخل اندازی نہیں کی گئی تھی۔ اور یہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کی ایک بڑی کامیابی تھی۔
   2008 میں پاکستان کے ارد گرد کے حالات انتہائی خطرناک تھے۔ پاکستان کی بقا ان حالات کی زد میں تھی۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ ہو رہی تھی۔ قبائلی علاقہ اسلامی دہشت گردوں کے گٹھ بنے ہوۓ تھے۔ یہاں سے یہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کرتے تھے۔ پاکستان کے اندر اسلامی دہشت گرد تنظیمیں مختلف عقیدوں اور فرقوں پر حملہ کر رہی تھیں۔ فوج ایک طرف بھارت کے ساتھ سرحدوں پر اور دوسری طرف افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں پر مصروف تھی۔ ان حالات میں پاکستان میں انتخابات ہوۓ تھے۔ جنرل پرویز مشرف کا دس سال کا دور اقتدار ختم ہوا تھا۔ اور حکومت کا نظام سیاسی جماعتوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ جمہوریت جب بھی بحال ہوئی ہے یہ سیاسی المیہ رہا ہے کہ جنرل ضیا الحق حکومت کے دس سال بعد سیاستدان سیدھے نہیں ہوۓ تھے۔ اور  جنرل پرویز مشرف حکومت کے دس سال بعد بھی سیاستدان سیدھے نہیں ہوۓ تھے۔ تاریخ میں جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے بعد صدر آصف علی زر داری کی جمہوری حکومت کو بد ترین دور دیکھا جاۓ گا۔ الزامات کی سیاست کرنا سب سے آسان ہے۔ لیکن اپنے آپ کو الزام دینا سب سے مشکل ہے۔ حکومت میں اور اپوزیشن میں ان کے Behaviors سے جمہوریت کو ہمیشہ نقصان پہنچا ہے۔ اور یہ Facts ہیں۔
   حکومت میں آنے کے بعد صدر زر داری اور وزیر اعظم گیلانی کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ پاکستان کو افغان جنگ کے اثرات سے بچانے اور پاکستان کے اندر اسلامی انتہا پسندی کے خلاف ایک سیاسی حکمت عملی تیار کی جاتی۔ اس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو شامل کیا جاتا۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ سیاسی کوششیں کی جاتی۔ دہشت گردی کو جنگ کی صورت بننے سے روکا جاتا۔ اسے جنگ قرار دے کر فوج کو سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقعہ نہیں دیا جاتا۔ بے نظیر بھٹو شاید ایک ایسی ہی حکمت عملی کو اہمیت دیتیں۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل بش انتظامیہ کا setup تھا۔ جس میں پاکستان کو fit کیا جا رہا تھا۔ اور صدر زر داری اس میں fit ہونے کے لئے تیار تھے۔ بش انتظامیہ کے مشورے پر صدر زر داری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا ٹھیکہ فوج کو دے دیا تھا۔ ان سے یہ کہا گیا تھا کہ آپ حکومت کرو گے اور فوج دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑے گی۔ جیسے 1960s میں فوج بلوچوں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف رہتی تھی اور پنجاب پاکستان پر حکومت کرتا تھا۔ 21ویں صدی کی دوسری دہائی کے آغاز پر امریکہ کی یہ تجویز پیپلز پارٹی کی حکومت بلکہ مسلم لیگ ن اور دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی بہت پسند آئی تھی۔ پاکستان میں جمہوریت کا یہ بھی المیہ ہے کہ سیاستدانوں نے کبھی دور اندیش ہونے کا ثبوت نہیں دیا ہے۔ انہوں نے اس پر غور تک نہیں کیا تھا کہ ان کے لئے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا End game کیا ہو گا۔ یہ جنگ کتنی طویل ہو گی؟ اور وہ اس جنگ میں کہاں تک گھسیٹے جائیں گے؟ اس جنگ کے اثرات پاکستان پر کیا ہوں گے؟ آصف علی زر داری کی ذہنی نشو و نما بمبینو سینما کی دھکم پیل دنیا میں ہوئی تھی۔ لہذا یہ سوال ان کی سوچ سے باہر تھے۔ صدر زر داری نے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لئے کہا کہ " میں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو یہ مکمل اختیار دے دیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف جہاں چاہیں اور جب چاہیں کاروائی کریں۔" اپنے اس فیصلے سے ایک طرح سے انہوں نے اپنی آدھی حکومت جنرل کیانی کو دے دی تھی۔ اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا ٹھیکہ اپنے Bull Shit وزیر داخلہ رحمان ملک کو دے دیا تھا۔ فوج کو مصروف رکھنے اور قوم کو دہشت گردوں کے عذاب میں رکھنے کے لئے زر داری، گیلانی، رحمان ملک نے پاکستان کی تمام سرحدیں کھول دی تھیں۔ واہاگہ کے راستے بھارت سے لاہور بس سروس میں اضافہ کر دیا تھا۔ سندھ میں اٹاری کے راستہ بھارت سے ٹرینوں کی آمد رفت بحال کر دی تھی۔ ملک میں اندھیرا کر دیا تھا۔ پاکستانی ویزے کے بغیر غیر ملکی ایجنسیوں کے لوگوں کی اسلام آباد ایرپورٹ پر بمبینو سینما والی دھکم پیل ہونے لگی تھی۔ صدر زر داری کے حکم پر Bull Shit وزیر داخلہ رحمان ملک نے انہیں بلیک میں ویزے دئیے تھے۔ پاکستان ہر طرف سے حملوں کی زد میں تھا۔ اور عوام نے جنہیں منتخب کیا تھا۔ یہ ان کے احمقانہ فیصلے تھے۔ امریکہ میں نائن الیون کے بعد تمام ائر پورٹ فوری طور پر بند کر دئیے گیے تھے۔ سرحدوں کی سخت نگرانی کا حکم  دیا گیا تھا۔ انڈونیشیا بالی میں خوفناک دہشت گردی کے واقعہ کے بعد جب حکومت کو یہ پتہ چلا کہ دہشت گرد انڈونیشیا کے شہری تھے۔ جنہوں نے پاکستان میں مدرسوں میں تعلیم حاصل کی تھی اور یہ وہاں انتہا پسند ہو گیے تھے۔ انڈونیشیا کی حکومت نے پاکستان کے مدرسوں سے اپنے تمام طالب علموں کو واپس بلا لیا اور پاکستان سے انڈونیشیا آنے والوں کو ویزے دینے میں سختی کر دی تھی۔ جو ویزے کے لئے درخواست دیتے تھے ان کی پہلے جانچ پڑتال ہوتی تھی۔ اس میں 4 سے 6 ہفتہ لگ جاتے تھے۔ پہلے یہ ویزے تین چار دن میں دے دئیے جاتے تھے۔ ہر حکومت اپنے ملک کے امن اور شہریوں کی سلامتی اور حفاظت کے لئے اقدامات کرتی ہے۔ اور حکومت  ایسے حالات کو بڑی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاستدانوں نے ایسے حالات کو سنجیدگی سے لینے کی ذمہ داری فوج کو دے دی تھی۔ اور خود Sidelines پر کھڑے ہو گیے تھے۔ دنیا ہنستی ہے کہ پاکستان ایک بڑا اسلامی ملک ہے اور اس ملک میں مسلمانوں نے مسلمان کے خلاف سب سے زیادہ دہشت گردی کی ہے۔ یہ سیاسی لیڈروں کا المیہ ہے کہ وہ حالات کو سنبھالنے اور انہیں قابو میں رکھنے کی صلاحیتیں نہیں رکھتے ہیں۔ ہمیشہ فوج کی طرف مدد کے لئے دیکھتے ہیں۔ اور پھر فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے کا الزام بھی دیتے ہیں۔ یہ مشکل ترین سیاستدان ہیں جن کی وجہ سے ایک تہائ مشکلات کا پاکستان کو سامنا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی تین مرتبہ اقتدار میں آئی ہیں۔ لیکن انہوں نے ابھی تک Good Governance کی مثال قائم نہیں کی ہے۔ تینوں مرتبہ انہیں ‘F’ ملا ہے اور حکومت کرنے میں فیل ہوۓ ہیں۔

Definition of good governance, ‘Good Governance is the process whereby public institutions conduct public affairs, manage public resources and guarantee the realization of human rights in a manner essentially free of abuse and corruption, and with due regard for the rule of Law.’