Friday, May 15, 2020

How Will The World Do Business With Prime Minister Benjamin Netanyahu, Who Is Indicted In A Criminal Corruption Case?


How Will The World Do Business With Prime Minister Benjamin Netanyahu, Who Is Indicted In A Criminal Corruption Case? 

Israel has no choice in the absence of peace talks but to annex a large part of the West Bank. Palestinians have no choice but to throw rocks at the Israeli soldiers.

مجیب خان
Secretary of State Mike Pompeo in Israel, with Prime Minister Benjamin Netanyahu

Secretary of State Mike Pompeo and Blue and white party's leader Benny Gantz

Israeli settlements as Bethlehem is seen in the background Israeli occupied West Bank  

Israeli army demolishes Palestinian homes 

Secretary of State Mike Pompeo



  اسرائیلی جمہوریت میں یہ ایک نئی مثال قائم کی جا رہی ہے کہ Criminal corruption میں Indicted وزیر اعظم تین مرتبہ انتخابات میں اکثریت نہیں ملنے کے باوجود ایک مخلوط حکومت کے وزیر اعظم بن گیے ہیں۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ 'ہاں Indicted وزیر اعظم نتھن یا ہو وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ Criminal corruption کے الزامات میں Indictment عدالتی کاروائی کو  وزیر اعظم نتھن یا ہو نے Manipulate کیا تھا۔ ججوں کو گھر بھیج دیا۔ جو ان کے خلاف کیس میں Indictment  کی کاروائی کر رہے تھے۔ Coronavirus نے 2سو سے زیادہ اسرائیلی مر گیے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم نتھن یا ہو کو Coronavirus نے ایک نئی سیاسی زندگی دی ہے۔ وزیر اعظم نتھن یا ہو نے اسرائیل میں مکمل Lockdown کا اعلان کر دیا۔ اور عدالتوں میں بھی تالے پڑ گیے تھے۔ اسرائیل کی تاریخ میں نتھن یا ہو ایک دہائی وزیر اعظم رہے تھے۔ لیکن مارچ میں تیسری مرتبہ بھی انتخاب میں نتھن یا ہو اتنی نشستیں حاصل نہیں کر سکے تھے کہ وہ دوسری پارٹیوں کی مدد کے بغیر اپنی حکومت بنا سکتے تھے۔ ایک دہائی وزیر اعظم نتھن یا ہو نے سخت گیر یہودی مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر حکومت کی تھی۔ لیبر پارٹی اسرائیل کے سیاسی منظر سے غائب ہو گئی ہے۔ لبرل پارٹی کا وجود نہیں ہے۔ اعتدال پسند ہیں لیکن سیاست کے بغیر ہیں۔ سابق اسرائیلی جنرل Benny Gantz کی نئی Blue and white موڈ ریٹ پارٹی ہے۔ 3 انتخابات میں 3 مرتبہ دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ لیکن یہ بھی اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس سیاسی بحران کا حل ایک مخلوط حکومت کا قیام یا چوتھے انتخاب تھا۔ اسرائیل میں پہلی مرتبہ فلسطینیوں نے جو اسرائیل کے شہری ہیں تیسرے انتخاب میں 15 نشستیں حاصل کی ہیں اور تیسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آۓ ہیں۔ Blue and white پارٹی کا فلسطینیوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کا پروگرام تھا۔ لیکن ایک سخت گیر نظریاتی یہودی پرست نتھن یا ہو نے اس کی سخت مخالفت کی تھی کہ فلسطینیوں کے ہاتھوں پر یہودیوں کو ہلاک کرنے کا خون تھا۔ یہ فلسطینی اسرائیل کے شہری تھے۔ اسرائیل میں پیدا ہوۓ تھے۔ جبکہ خود وزیر اعظم نتھن یا ہو کے ہاتھوں پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بچوں، عورتوں اور مردوں کو ہلاک کرنے کا خون تھا۔ اسرائیل کے شہری فلسطینیوں نے نتھن یا ہو کی اس Garbage سیاست سے اپنے آپ کو دور رکھا تھا۔ لیکوڈ اور Blue and white دونوں پارٹیوں کو یقین تھا کہ اگر وہ چوتھے انتخاب کے راستے پر جاتے تو اس کے نتائج بھی تین انتخابات سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ اس لیے دونوں پارٹیوں کے سامنے صرف ایک ہی راستہ تھا۔ اور دونوں نے مخلوط حکومت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اسرائیل کے ایک سابق جنرل نے کہا کہ چوتھے انتخاب قبول ہیں لیکن نتھن یا ہو کا وزیر اعظم بننا قبول نہیں ہے۔
  جن اسرائیلیوں نے  Benny Gantz کی پارٹی کو ووٹ دئیے تھے۔ انہوں نے پارٹی کے نتھن یا ہو کے ساتھ حکومت بنانے کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ اور اس فیصلے کے خلاف اسرائیل میں مظاہرے کیے تھے۔ لیکن Coronavirus کی وجہ سے اسرائیل میں Lockdown ہو گیا۔ اسرائیلی صدر نے دونوں پارٹیوں کو حکومت بنانے کے لیے جو وقت دیا تھا۔ وہ اب قریب آ گیا تھا۔ اسرائیلی صدر چوتھے انتخاب کا اعلان کرنے والے تھے۔ وزیر اعظم نتھن یا ہو اور Benny Gantz میں مخلوط حکومت بنانے کا معاہدہ ہو گیا۔ معاہدے کے تحت پہلے 18 ماہ نتھن یا ہو وزیر اعظم ہوں گے۔ اور پھر Benny Gantz 18ماہ وزیر اعظم ہوں گے۔ آئندہ ہفتہ مخلوط حکومت حلف لے گی۔ نتھن یا ہو ایک بار پھر وزیر اعظم کی کرسی پر ہوں گے۔ Judges عدالت کی کرسیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ وزیر اعظم نتھن یا ہو کے خلاف Criminal corruption کے کیس اور Indictment عدالت کی فائلوں میں رہیں گے۔ اسرائیلی عوام Lockdown ہیں۔ کیونکہ Coronavirus ان کے شہروں میں آ گیا ہے۔ اب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ اسرائیل کی Fake جمہوریت لیڈروں کو Corrupt کر رہی ہے یا اسرائیلی لیڈر جمہوریت کو Corrupt کر رہے ہیں؟
  اسرائیل کی سپریم کورٹ کے ججوں نے اسرائیل میں جمہوریت کو صاف ستھرا بنانے کے حق میں فیصلہ دینے کے بجاۓ Criminal corruption میں Indicted لیڈر کو وزیر اعظم ہونے کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ دنیا اب ایک ایسے لیڈر سے کیسے Deal کرے گی۔ جبکہ امریکہ اور یورپ  Venezuela میں President Maduro حکومت تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ جسے عوام نے ووٹ دئیے ہیں۔ کانگریس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا ریپبلیکن پارٹی کے پریذیڈنٹ کو امریکہ کا پریذیڈنٹ تسلیم نہیں کرے۔ بحر حال امریکہ اور یورپ کو اسرائیل میں Criminal corruption میں Indicted وزیر اعظم قبول ہے۔ سوال یہ ہے کہ Benny Gantz کو پہلے وزیر اعظم کیوں نہیں بنایا گیا ہے؟ اور اس دوران نتھن یا ہو ایک عدالتی عمل کے ذریعہ ان کے اوپر جو الزامات تھے انہیں غلط ثابت کرتے اور پھر مخلوط حکومت میں معاہدے کے مطابق Benny Gantz کے وزیر اعظم کے عہدے پر 18 ماہ مکمل ہونے کے بعد نتھن یا ہو وزیر اعظم  بن جاتے۔ دنیا بھی پھر یہ دیکھتی کے عرب ڈکٹیٹروں کے جزیرہ میں اسرائیل واقعی ایک Genuine Democratic country ہے۔ لیکن سارے عرب ڈکٹیٹر یہ دیکھ کر خوش ہوۓ ہوں گے کہ نتھن یا ہو پھر وزیر اعظم بن گیے ہیں۔ یہ دیکھ کر شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنا مستقبل بھی روشن نظر آ رہا ہو گا۔
 وزیر اعظم کا حلف لینے سے پہلے نتھن یا ہو سے سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo نے یروشلم میں ملاقات کی ہے۔ ایک طرح سے یہ ملاقات نتھن یا ہو کے لیے انہیں وزیر اعظم کے عہدہ پر امریکہ کا Endorsement تھا۔ اس موقع پر سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo نے کہا “You are a great partner, you share information- unlike some countries that obfuscate and hide that information.”
چین نے عراق میں مہلک ہتھیاروں کے بارے میں امریکہ کو ‘very genuine information’ دی تھیں۔ اور امریکہ کو عراق کے خلاف فوجی کاروائی سے روکا تھا۔ اور اس کے خوفناک نتائج سے بھی آ گاہ کیا تھا۔ لیکن امریکہ نے اپنے ‘Great partner Israel’ کی “Information” اور ‘Advise’  پر عمل کیا تھا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ایٹمی معاہدے پر اپنے ‘Great partner Israel’ کے ‘Nix it or Fix it’ حکم میں اٹک گئی ہے۔ دنیا امریکہ کو ‘Information’ دے کر اب اپنا وقت برباد کرنا نہیں چاہتی ہے۔ آخر میں امریکہ نے اپنے ‘Great partner Israel’ کی ‘information’ پر عمل کرنا ہے۔ جس سے اسرائیل کہہ گا امریکہ اس سے بات کرے گا۔ اسرائیل نے امریکہ سے جب کہا کہ PLO سے کوئی امن مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ کیونکہ یہ دہشت گرد تنظیم ہے۔ امریکہ نے PLO کے ساتھ تمام رابطہ ختم کر دئیے واشنگٹن میں ان کا سفارتی آفس بند کر دیا۔ امریکہ سے انہیں نکال دیا۔ اب اسرائیل امریکہ سے کہہ رہا کہ وہ PLO پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ امریکہ نے PLO پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل سے کہا ہے کہ اگر PLO مذاکرات نہیں کر رہی ہے ان کے علاقوں پر قبضہ کر لے۔ امریکہ کی 70سال سے مڈل ایسٹ میں فیل پالیسیوں نے مڈل ایسٹ کی ہر حکومت کو فیل کیا ہے۔ ہر نظام فیل ہے۔ مڈل ایسٹ کی معیشت فیل ہے۔ امن فیل ہے۔ جنگیں فیل ہیں۔ دہشت گردی فیل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ فیل ہے۔ اسرائیل میں جمہوریت فیل ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ Criminal Corruption indicted نتھن یا ہو وزیر اعظم بن گیے ہیں۔ امریکہ میں اسے اسرائیلی جمہوریت کی ایک بڑی کامیابی دیکھا جاتا ہے۔           

Saturday, May 9, 2020

Who Will Liberate America From Imminent Threat and Enormous Evidence?


 Who Will Liberate America From Imminent Threat and Enormous Evidence?

مجیب خان
Secretary of State Mike Pompeo

Eliot Abrams Special Envoy for Venezuela

Secretary Defence Mark Esper

 

  سیکرٹیری اف اسٹیٹ Mike Pompeo نے کہا ہے “Coronavirus Wuhan” سے آیا ہے۔ یعنی Wuhan Coronavirus کا Birthplace ہے۔ اور وہاں سے اس نے Migrate کیا ہے اور پھر امریکہ اور دنیا بھر میں پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں Coronavirus دنیا میں اسی طرح Migrate ہوا ہے کہ جیسے بش اور ا و با مہ انتظامیہ میں عراق اور شام سے لوگوں کے    Migration کا  دنیا کو سامنا ہوا تھا۔ اس وقت دنیا کے پاس Migration کے علاج کے لیے کوئی Vaccine تھا اور نہ ہی Coronavirus کا علاج کرنے کے لیے دنیا کے پاس کوئی Vaccine ہے۔ تاہم دونوں حالات میں علاج کا حل فوری طور پر سرحدیں بند کرنے میں دیکھا گیا تھا۔ دنیا بھر میں Migrants کے کیمپ قائم کر دئیے گیے تھے۔ اور Coronavirus کے مریضوں کے لیے نیویارک میں خصوصی کیمپ بناۓ گیے تھے۔ جو ہسپتال قرار دئیے گیے تھے۔ کیونکہ نیویارک کے ہسپتالوں میں جگہ نہیں تھی۔ Coronavirus سے مرنے والوں کی تعداد عراق اور شام کے مرنے والوں سے Surpass کر گئی ہے۔ اور یہ ایک بڑا فرق ہے۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ کو شاید دونوں صورت حال میں اس فرق کا علم نہیں ہے۔ Mike Pompeo امریکہ کے Top Diplomate کے عہدے پر آنے سے پہلے CIA کے ڈائریکٹر تھے۔ وہاں ایک سال میں انہوں نے جو دیکھا اور سیکھا تھا۔ وہ اب ان کی World Diplomacy ہے۔ جبکہ Spy Agency اور World Diplomacy کا رول بہت مختلف ہوتا ہے۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ نے Coronavirus کے بارے میں کہا ہے کہ 'چین کی حکومت حقائق چھپا رہی ہے۔ چین کی حکومت کو دنیا کے سامنے اس کے تمام حقائق پیش کرنا ہوں گے۔' لیکن سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo کے پاس جو ‘Enormous evidence’  ہیں وہ انہوں نے ابھی تک دنیا کو کیوں نہیں دکھائی ہیں؟ ہم اپنے ہائی اسکول دور سے چین کی Study کر رہے ہیں۔ اور اسے واچ بھی کر رہے ہیں۔ اور امریکہ کو بھی واچ کر رہے ہیں۔ اور اس کے ہر ایکشن کی Study  کر رہے ہیں۔ اول تو چین نے قوموں کے معاملات میں کبھی اس طرح مداخلت نہیں کی ہے کہ جیسے قوموں کے معاملات میں مداخلت کرنا امریکہ کا کلچر ہے۔ اس لیے چین کو حقائق چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب عراق کے بارے میں اگر اصل حقائق چھپانے کے بجاۓ انہیں دنیا کے سامنے  رکھ دیا جاتا تو آج امریکہ کو دنیا میں بہت مختلف دیکھا جاتا۔ امریکہ کی Credibility کبھی سوال نہیں ہوتی۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ کے کبھی ‘imminent Threat’ اور کبھی ‘Enormous Evidence’  کو دنیا زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے  رہی ہے۔ ایرانی جنرل سلیمانی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ imminent Threat تھے اور عراق میں امریکی فوجی بیس پر حملہ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ پھر سعودی عرب میں آئل تنصیبات پر میزائل حملہ کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ایران نے کیا تھا۔ ایران Houthis کو ہتھیار دے رہا تھا۔ ایران مڈل ایسٹ میں دہشت گردوں کی پشت پنا ہی کر رہا تھا۔ ایران کی ان سرگرمیوں کے بارے میں Significant evidence تھے یاEnormous evidence  تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ Mike Pompeo کو جو CIA کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ یہ معلوم نہیں تھا کہ ISIS کو کس ملک نے منظم کیا تھا۔ کون فنڈنگ کر رہا تھا۔ ایک ہزار Toyota Pick- up Trucks کے آرڈر Toyota کمپنی کو کس نے دئیے تھے۔ اور ان کی ادائیگی کیسے کی گئی تھی۔ لیکن ان کے پاس اس کے Enormous evidence تھے اور نہ ہی Significant evidence تھیں۔
 اب اعلی امریکی حکام دنیا سے جو کہتے ہیں۔ اسے صرف سن لیتے ہیں لیکن یقین کرنے میں بہت محتاط ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں جو امریکہ کی نہیں سن رہے ہیں یہ دیکھ کر پریذیڈنٹ ٹرمپ نے انہیں دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ ترکی کو دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم خریدا تو اس پر اقتصادی بندشیں لگائی جائیں گی۔ Venezuela میں Maduro حکومت کی مدد کرنے پر کیوبا پر نئی بندشیں لگا دی ہیں۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ نے بھارت کو دھمکی دی کہ اگر امریکہ کو Hydroxychloroquine برآمد نہیں کی تو اس کے خلاف Tariff لگایا جاۓ گا۔ چین کے ساتھ برطانیہ کے 5G پر معاہدہ ہونے کے خلاف برطانیہ کو بھی دھمکی دی گئی ہے کہ اگر برطانیہ نے اس معاہدہ کو جاری رکھا تو اس کے خلاف کاروائی کی جاۓ گی۔ اور امریکہ اپنے Spy planes برطانیہ سے لے جاۓ گا۔ برطانیہ نے 5G پر چین کے ساتھ معاہدہ اپنی قومی سلامتی کے مفاد میں اہم قرار دیا ہے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ 5G ٹیکنالوجی چین Espionage مقاصد میں استعمال کرے گا۔ برطانیہ نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ برطانیہ نے امریکہ کے یہ خدشات اور تحفظات شاید دور کر دئیے ہیں۔ جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کمپنیوں کو 5G کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور اس کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ چین کی کمپنیاں اگر عالمی مارکیٹ میں آ گے آ رہی ہیں۔ تو امریکہ کو خوف کیوں ہے؟ امریکہ کو Well come کرنا چاہیے اور امریکی کمپنیوں کو ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ Capitalist system کی بنیاد Competition پر ہے۔ امریکہ Businesses پر بندشیں لگا کر اپنے ہی Capitalist system کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
 سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo چین کی کمیونسٹ پارٹی کو ٹارگٹ کرنے لگے ہیں۔ امریکہ کی ناکامیاں دیکھ کر سیکرٹیری آف اسٹیٹ 50s, 60s, 70s کی دنیا میں چلے گیے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ امریکہ کی کامیابیوں کے دور تھے۔ حالانکہ گزشتہ 50سال میں حیرت انگیز تبدیلیاں آئی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کا رول بھی بدل گیا ہے۔ پارٹی کی حمایت کے بغیر چین میں یہ تبدیلیاں ممکن نہیں تھیں۔ چین میں Economic openness آیا ہے۔ Economic Freedom کا فروغ ہوا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ آیا ہے۔ غیر ملکی Giant Corporations کو چین کے Economic Freedom میں کاروبار کرنے کے نئے موقع ملے ہیں۔ چین میں ایک نئی Socialist capitalist Class ابھری ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چین جیسے مریخ پر پہنچ گیا ہے۔ Giant Corporations امریکہ میں Chinization لائی ہیں۔ چین کے Socialist Capitalist  امریکہ میں امریکی Capitalists سے نیویارک، ہالی ووڈ، کیلیفورنیا میں Real Estates خرید رہے ہیں۔ لیکن امریکہ کے Top Diplomate Mike Pompeo ابھی تک 21ویں صدی کو 20ویں صدی کی دنیا دیکھ رہے ہیں۔ چین کے عوام 50s, 60s, 70s کے چین سے نکل کر بہت آ گے آ گیے ہیں کہ چین کے عوام پلٹ کر اگر اس چین کو دیکھنا بھی چاہتے ہیں تو وہ انہیں میلوں نظر نہیں آۓ گا۔ امریکہ میں لوگوں کو ہر نئی جنگ میں ویت نام نظر آتا ہے۔ امریکہ ابھی تک ویت نام جنگ سے نہیں نکل سکا ہے۔
  سیکرٹیری آف دیفنس Mike Esper نے کہا ہے “Taliban not living up to their commitments under an agreement signed this year.”
اب یہ بیان دینے سے پہلے سیکرٹیری آف ڈیفنس کے ذہن میں یہ نہیں آیا تھا کہ امریکہ بھی اپنے Commitments پورے نہیں کرتا ہے۔ ایرانی حکومت بھی بالکل ان ہی لفظوں میں 3سال سے دنیا سے یہ کہہ رہی ہے کہ “America not living up to their commitments under an agreement signed in 1915.”
امریکہ نے ایک ایسی دنیا بنائی ہے جس میں ‘One size fits all’ آسان ہو گیا ہے۔
 پریذیڈنٹ ٹرمپ نے کیا دیکھ کر Eliot Abrams کو Venezuela کے لیے خصوصی Envoy بنایا ہے۔ امریکہ کی 330ملین کی آبادی میں پریذیڈنٹ ٹرمپ کو لا طین ملکوں کے بارے میں کوئی Expert نہیں ملا تھا جو Venezuela میں دو سیاسی گروپوں میں امن لا سکتا تھا۔ ایک Pseudo Eliot Abrams جو Iran-Contra Scandal کا سزا یافتہ تھا۔ جسے پریذیڈنٹ بش نے حلف اٹھانے کے آدھے گھنٹے بعد صدارتی معافی دے دی تھی۔ کیا Eliot Abrams کے اس Credential کو دیکھ کر خصوصی Envoy بنایا گیا ہے۔ Eliot Abrams نے لا طین امریکہ میں 20ویں صدی کی نظریاتی سوچ سے 21ویں صدی کے سیاسی تنازعہ کا حل دیکھا تھا۔ امریکہ کے دو سابق فوجی خفیہ طور پر Venezuela میں President Maduro کو اقتدار سے ہٹانے اور انہیں پکڑ کر فلوریڈا لانے کے لیے بھیجے تھے۔ اور Miami میں President Maduro کو اسی گھر میں نظر بند کرنے کا پلان تھا۔ جہاں 30سال قبل Panama کے President Manuel Noriega کو رکھا تھا۔ امریکہ کے عوام جب پلٹ کر 50سال پہلے کا امریکہ دیکھتے ہیں تو انہیں سب کچھ  نظر آتا ہے۔ آج کے امریکہ اور کل کے امریکہ میں تبدیلی نہیں ہے۔            

Monday, May 4, 2020

When People Elected Leaders, Eighty Percent Work for The Military Industrial Complex, People Suffer Many Viruses


 When People Elected Leaders, Eighty Percent Work for The Military Industrial Complex, People Suffer Many Viruses

How will the world define that after Saddam Hussain the world is better off and safe?

مجیب خان
Secretary of State Colin Powell holds up a vial that he said could contain anthrax as he presents evidence of Iraq's alleged weapons programs to the U.N. Security Council in 2003

White House, Coronavirus task force briefing
 

The Iraq war, over 4,400 U.S. Soldiers Dead


  مارچ 2003- عراق میں مہلک ہتھیاروں کا خاتمہ کرنے کی جنگ کے 17 سال ہو گیے ہیں۔ یہ مہلک ہتھیار Chemical and Biological [virus] تھے۔ جو عالمی امن اور انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بتاۓ گیے تھے۔ لیکن عراق جنگ کے 17سال امریکہ میں سب بھول گیےہیں۔ اور ایک نیا Biological Coronavirus کا خوف دنیا پر طاری ہے۔ جو عراق میں مہلک ہتھیاروں سے زیادہ بڑا انسانیت کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ 183 ملکوں میں یہ Virus انسانیت کو اس تیزی سے ہلاک کر رہا ہے کہ ان کی گنتی کرنا مشکل ہو رہی ہے۔ تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر انسانی اور معاشی عالمی  تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی  گئی تھی۔ صرف 17 سال پہلے عراق میں صد ام حسین کے پاس خطرناک Chemical and Biological [virus] کا خوف دنیا میں تھا۔ اس وقت جو بچے پیدا ہوۓ تھے۔ آج 17 سال کے ہیں اور ان میں سے کسی کے Grandpa کسی کے Father کسی کے Uncle اس Coronavirus میں مر گیے ہیں۔ امریکہ کے لیڈروں نے اپنے Children اور Grandchildren کو یہ دنیا دی ہے۔ 183 ملکوں میں لوگوں کی زندگیاں بری طرح Suffer ہو رہی ہیں۔ ہزاروں لوگ روزانہ مر رہے ہیں۔ مہلک ہتھیاروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن Coronavirus ان کے عوام تک پہنچ گیا ہے۔
  اس Planet کو Biological and Chemical viruses سے محفوظ رکھنے پر امریکہ نے کھربوں ڈالر جنگوں پر خرچ کیے تھے۔ امریکہ کے اس مشن میں ہزاروں لوگ مارے گیے تھے۔ جن میں ایک بڑی تعداد امریکی فوجیوں کی بھی تھی۔ طالبان کے افغانستان پر اس لیے حملہ کیا تھا کہ وہاں Caves میں القا عدہ کی Chemical and Biological ہتھیار بنانے کی لیبارٹریاں تھیں۔ عراق میں صد ام حسین کی Biological and Chemical Mobile Laboratories تھیں۔ اس لیے صد ام حسین انتہائی خطرناک انسان تھے۔ اور وہ یہ مہلک ہتھیار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کر سکتے تھے۔ اس لیے صد ام حسین کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہو گیا تھا۔ But how will world define that after Saddam Hussain the world is batter off and safe ?   نیویارک میں صرف 24 گھنٹے میں 2 ہزار لوگ Coronavirus سے مر گیے تھے۔ 17 سال قبل بش انتظامیہ نے دنیا کو بتایا تھا کہ صد ام حسین کے مہلک ہتھیار سیکنڈ میں ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کو ہلاک کر سکتے تھے۔ امریکہ نے ایک ٹیریلین ڈالر افغانستان اور عراق سے انتہائی مہلک Biological and Chemical ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ کرنے پر خرچ کیے تھے۔ 7ہزار امریکی فوجی اس آپریشن میں ہلاک ہوۓ تھے۔ 30ہزار فوجی زخمی ہوۓ تھے۔ جن کی عمریں 20اور 30 میں تھیں۔ امریکہ کے ساتھ اس فوجی آپریشن میں برطانیہ، آسٹریلیا اور بعض دوسرے ملکوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ لیکن مہلک ہتھیاروں کی Laboratories افغانستان کے Caves میں تھیں اور نہ ہی عراق میں Mobile Laboratories تھیں۔ امریکہ کی ان جنگوں نے دنیا میں نئے خطرے پیدا کر دئیے ہیں۔ نئے مہلک ‎Virus آ گیے ہیں۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ نے کہا ایک لاکھ امریکی اس Virus سے مر جائیں گے۔
  عراق کو Biological and Chemical ہتھیار امریکہ برطانیہ اور بعض دوسرے مغربی ملکوں نے فروخت کیے تھے۔ ان میں Anthrax, Vx Nerve Gas, West Nile fever germs, اس کے علاوہ بعض Bacteria, brucella melitensis بھی فروخت کیے تھے۔ جو اہم Organs تباہ کر دیتے تھے۔ برطانیہ نے عراق کو drug pralidoxime فروخت کی تھی جسے nerve gas بنانے میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔ عراق کو یہ فروخت کرنے کی تفصیل سینٹ کی رپورٹوں میں دی گئی ہے۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ کہتے ہیں کہ مڈل ایسٹ میں امریکہ نے 7 ٹیریلین ڈالر خرچ کیے تھے۔ لیکن امریکی انتظامیہ نے اپنی کمپنیوں کو عراق اور دوسرے عرب ملکوں کو ٹیریلین ڈالر کے Biological and Chemical ہتھیار کی فروخت سے منافع بنانے کے موقع دئیے تھے۔ امریکہ اور مغربی ملکوں نے یہ مہلک Biological and Chemical ہتھیار عراق اور دوسرے عرب ملکوں کو فروخت کرنے پر اپنی کمپنیوں کے خلاف کبھی کوئی کاروائی نہیں کی تھی۔ لیکن ان عرب حکومتوں کے خلاف کاروائی کی تھی جنہوں نے یہ مہلک ہتھیار امریکی اور مغربی کمپنیوں سے خریدے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ امریکہ نے مہلک ہتھیاروں کا خاتمہ کرنے  کی جنگ پر ایک ٹیریلین ڈالر خرچ کیے تھے۔ لیکن آج بھی بہت سے ملکوں میں جن میں امریکہ بھی شامل ہے  مہلک Biological and Chemical ہتھیاروں کی Laboratories ہیں اور وہاں خطرناک Virus اور Germs کے تجربے کیے جا رہے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں امریکہ نے امن کے لیے کیا کیا ہے؟ امن کی ہر کوشش کو صرف ناکام کیا ہے۔ حالانکہ مڈل ایسٹ کے تمام ممالک خطہ میں نہ صرف مہلک ہتھیاروں بلکہ ہر قسم کے ہتھیاروں پر مکمل پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔ امریکہ نے اس تجویز کو اپنے مفاد میں نہیں دیکھا تھا۔ امریکہ کے بعد مڈل ایسٹ میں اسرائیل کا بھی ایک بڑا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ہے۔ اسے بھی زندہ رکھنا تھا۔ امن کے لیے ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے کی اس پالیسی نے مڈل ایسٹ میں 300 ملین لوگوں کی زندگیاں انتہائی Miserable بنا دی ہیں۔
 عراق اور افغان جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی Arlington National Cemetery سے جب یہ دیکھتے ہوں گے کہ امریکہ کی 50 ریاستوں میں روزانہ 24 گھنٹے میں 8سو اور 9 سو امریکیوں کی  Coronavirus کے نتیجے میں اموات ہو رہی ہیں۔ تو کیا کہتے ہوں گے۔ انہوں نے مہلک ہتھیاروں سے امریکی عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جانیں دی تھیں۔  صرف امریکہ میں 7 ہفتوں میں 65ہزار لوگ Coronavirus سے ہلاک ہوۓ ہیں۔ اور 12 لاکھ Coronavirus میں مبتلا ہیں۔ اس Coronavirus نے ریاست نیویارک کو Bankruptcy کے قریب پہنچا دیا ہے۔ دو ماہ ہو رہے ہیں۔ ہر ریاست میں کاروبار بند پڑے ہیں۔ ریاستوں کے ریونیو نہیں ہیں۔ بہت جلد ریاستوں میں شہری حکومتیں بھی Bankrupt ہونے والی ہیں۔ 30ہزار لوگ امریکہ میں بیروزگار ہو گیے ہیں۔ تعلیم میں امریکہ دو ماہ پیچھے ہو گیا ہے۔ کیونکہ Coronavirus کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ امریکہ کی عالمی قیادت میں دنیا کے 183 ملکوں کو بھی امریکہ جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان جس کے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 60 ہزار لوگ مارے گیے تھے۔ اور بھاری اقتصادی نقصانات کا سامنا ہوا تھا۔ ابھی ان حالات سے نکل نہیں سکا تھا کہ اب یہ بھی امریکہ کی طرح Coronavirus سے نقصانات کے حالات میں آ گیا ہے۔ معاشی سرگرمیاں بند ہیں۔ روز کے کمانے اور بچوں کو پالنے والے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہی حال پیشتر 183 ملکوں کا ہے۔ جو دہشت گردی کی جنگ کے میدان بننے ہوۓ تھے۔ اور غربت میں غرق تھے۔ اور اب Coronavirus انہیں دفن کر رہا ہے۔ 20سال کی انتہائی Miserable دنیا سے 180 ملکوں کو نکلنا ہو گا۔ اور اپنے ملکوں کو جنگوں سے بچانے اور ہر طرح کے Viruses سے محفوظ رکھنے کے خود اقدام کرنا ہوں گے۔