Tuesday, December 8, 2015

This Is The World We Have To Live In: Just Like The Israelis For The Past Six Decades

Freedom Under Attack

:This Is The World We Have To Live In
Just Like The Israelis For The Past Six Decades

مجیب خان     


      2015 اب اختتام پر پہنچ رہا ہے۔ انسانیت کے لئے یہ پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ تکلیف دہ سال رہا ہے۔ اس سال انسانیت کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ انسانیت کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال ‌زیادہ ہوا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ جس قدر لوگ اس سال دہشت گردی کے نتیجے میں مارے گۓ ہیں تقریباً اتنے ہی لوگ ڈر ون حملوں اور ایف 16 طیاروں کی بمباری  سے ہلاک ہوۓ ہیں۔ پندرہ  سال ہو گۓ ہیں لیکن دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ہے۔ ڈر ون حملے اور بمباری بند نہیں ہو رہے ہیں۔ صرف اس سال تقریباً ایک درجن سے زیادہ ملکوں میں دہشت گردی کے انتہائی خوفناک واقعات ہوۓ ہیں ۔ اس سال سعودی عرب ، ترکی اور بنگلہ دیش دہشت گردی کا شکار بننے والے ملکوں کی فہرست میں نیا اضافہ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مہم کے باوجود اس سال دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ فرانس میں اس سال دہشت گردی کے دو بڑے واقعات ہوۓ ہیں۔ جن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگ مارے گۓ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ دہشت گردی کیسے ہوئی ہے؟ اور اتنے لوگ کیسے مارے گۓ ہیں؟ جبکہ امریکہ میں کرائم کی صورت میں دہشت گردی ہوتی رہتی ہے ۔ اور لوگ مرتے رہتے ہیں۔ حکومت اس داخلی دہشت گردی کو ختم نہیں کر سکی ہے ۔ اور اس کی بحث Gun Control پر آئی گئی ہو جاتی ہے ۔ لیکن عالمی دہشت گردی کے تعلق سے اس سال امریکہ میں صرف ایک بڑا واقعہ اس ماہ ہوا ہے ۔ جس میں 14 لوگ مارے گۓ ہیں۔ جبکہ عراق، لیبیا اور شام دہشت گردوں کی پرورش کرنے کے مستقل اڈے بن گۓ ہیں۔
      امریکہ، برطانیہ اور فرانس Regime Change کے نام پر ملکوں کو عدم  استحکام کرتے جا رہے ہیں ۔ اور پھر اسلامی انتہا پسندوں کو ماڈریٹ ہونے کا فتوی دے کر انہیں پھر عدم استحکام ہونے والے ملکوں میں بسا رہے ہیں اور پھر دنیا سے کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جا رہے گی کہ جب تک دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو گا۔ عراق کو ناکام ریاست بنانے اور عراق میں خود بھی ناکام ہونے کے بعد اب امریکہ اور برطانیہ داعش کا خاتمہ کرنے کے لئے عراق اور شام پر بمباری کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بمباری کب تک کرتے رہیں گے۔ اور یہ کیا ضمانت ہے کہ داعش کا خاتمہ ہونے کے بعد القاعدہ کا عروج پھر نہیں ہو گا۔ عراق اور شام جیسے غازہ اور مغربی کنارہ بن گیے ہیں۔ جہاں اسرائیل کبھی فضا سے اور کبھی زمینی فوج کے ذریعے کاروائیاں کرتا رہتا ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے اس کا کوئی End نہیں ہے۔ چار سال سے شام میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔ انہیں ہتھیار دئیے جا رہے تھے ۔ انہیں فنڈ ز دئیے جا رہے تھے۔ انہیں تربیت دی جا رہی تھی۔ دنیا میں جو دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کی جنگ لڑ رہے تھے ۔ انہوں نے جب یہ کہا کہ سی آئی اے شام میں دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہے ۔ جواب میں ان کے ماڈریٹ ہو نے کا فتوی دیا گیا تھا۔ جو بن لادن کے فتووں کی طرح تھا۔ لیکن یہ ماڈریٹ تھے جو شام میں حکومت کے حامیوں کو قتل کر رہے تھے۔ ان کی املاک تباہ کر رہے تھے۔ ان ماڈریٹ دہشت گردوں اور پیرس اورSan Bernardino  میں جنہوں نے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا ہے ان میں کیا فرق تھا۔ یہ بھی ماڈریٹ تھے اور ماڈریٹ معاشرے میں رہتے تھے۔
      ساری مغربی طاقتیں بمباری کرنے مشرق وسطی میں جمع ہو گی ہیں۔ اور عراق اور شام پر انہوں نے بمباری کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ بارہ سال قبل یہ ایک لاکھ ذ مینی فوج کے ساتھ عراق میں القاعدہ  کے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے آۓ تھے۔ اور اس مرتبہ یہ فضا سے بمباری کر کے داعش کے دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے۔ لیکن اس خطہ میں عدم استحکام جو انتہا پسندوں کو آکسیجن دے رہا ہے۔ اور حالات کو خطرناک بنا رہا ہے۔ اس بارے میں کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہیں اس خطہ کو تنازعوں میں رکھنے میں خصوصی دلچسپی ہے۔  فلسطین اسرائیل تنازعہ کو حل کرنے کے بجاۓ ۔ انہوں نے عراق میں شیعہ سنی میں خانہ جنگی کرا دی  ہے۔ یہ شیعہ سنی خانہ جنگی بھی دراصل اسرائیل کے مفاد میں تھی۔ تاکہ کسی طرح شیعہ حزب اللہ اور سنی حما س میں تعلقات کشیدہ ہو جائیں۔ اور حما س کو تنہا کر دیا جا ۓ۔   Holy Land پر یہ Dirty Politics  ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سارا کاروبار جھوٹ پر ہے۔ اور حقائق صرف فسانہ ہیں۔ لوگ بیوقوف بن رہے ہیں۔ کبھی القاعدہ کو شکست دی جاۓ گی۔ کبھی داعش کو شکست دی جاۓ گی۔ کبھی النصرہ کو شکست دی جاۓ گی۔ ہوتیوں کو بھی شکست دی جاۓ گی۔ لیکن کسی کی شکست نہیں ہو گی۔ القاعدہ کو اپنے مفاد میں استعمال کیا جاۓ گا۔ داعش کو بھی استعمال کیا جاۓ گا۔ اگر ان سب کو ختم کر دیا گیا تو دنیا میں دہشت گردی کی سیاست کیسے ہو گی۔ ہتھیاروں کی سیاست کیسے ہو گی۔ لوگوں کو خوفزدہ کیسے کیا جاۓ گا۔ دنیا میں جنگوں کا مستقبل پھرکیا ہو گا۔
      دہشت گردی کی جنگ اگر اوبامہ انتظامیہ میں ختم نہیں ہو سکی ہے بلکہ دہشت گردی کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئندہ انتظامیہ میں بھی دہشت گردی کی جنگ اتنے ہی زور و شور سے جاری رہے گی۔ اور اب ایک ایسی دنیا بنائی جا رہی ہے ۔ جس میں لوگوں کو Decades اس دہشت گردی کے ماحول میں رہنا ہو گا۔ اور رفتہ رفتہ لوگ دہشت گردی کا سامنا کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔ جس طرح لوگ Gun کلچر میں رہنے کے عادی ہو گۓ ہیں۔ فرانس میں اس سال دہشت گردی کے دو بڑے واقعات ہوۓ ہیں۔ اسرائیلی 70 سال سے ایسے حالات میں رہنے کے عادی ہو گۓ ہیں ۔ جہا ں پیرس جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اور اسرائیلی ان واقعات میں مرتے رہتے ہیں۔ لیکن حکومت 70 سال سے فلسطینی تنازعہ کو حل کرنا نہیں چاہتی ہے اور اسرائیلیوں کو اس تنازعہ کے ساتھ زندہ رہنے کا عادی بنا دیا ہے۔  اسرائیل 70 سال سے حالت جنگ میں ہے۔ 70 سال سے اسرائیل میں دہشت گردی ہو رہی ہے ۔ ان کی سڑکوں پر مشین گنیں چل ر ہی ہیں۔ اسرائیلی مرتے ہیں۔ ایمبولینس آتی ہیں انہیں اٹھا کر لے جاتی ہیں۔ فوجی ٹینک ،بکتر بند گاڑیاں ان کی بستیوں میں گشت  کرتے رہتے ہیں۔ اور اسرائیلیوں میں سیکورٹی کا احساس بحال کرتے  رہتے ہیں۔ اسرائیلی اس نظام میں زندہ ہیں اور اقتصادی طور پر خوشحال ہیں۔ اسرائیل نے اس نظام میں ترقی بھی کی ہے۔
      اور اب اسرائیل کے اس کامیاب تجربے کو دنیا میں رائج کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو دہشت گردی کے ساتھ زندہ رہنے کا عادی بنایا جا رہا ہے۔ 20 سال سے دنیا میں دہشت گردی کو صرف فروغ دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔ اس عرصہ میں ان تنازعوں کو حل نہیں کیا گیا ہے جو دہشت گردی کا اسباب ہیں۔ عراق، لیبیا، شام، یمن ، صومالیہ، مالی دہشت گرد پیدا کرنے اور دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کی فیکٹر یاں بن گۓ ہیں۔ چین ، جاپان ، جنوبی کوریا ،ویت نام ، تائیوان دنیا میں لوگوں کی اقتصادی ضرورتیں پوری کرتے رہیں گے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس دنیا میں دہشت گردی ختم کرنے کی جنگیں لڑتے رہیں گے۔ دنیا کا کاروبار اسی طرح چلتا رہے گا۔  



      

Saturday, December 5, 2015

Arab-Israeli Conflict, The Mother of All Terror: Give Them Justice, They’ll Give You Peace


Challenges For The Islamic World

Arab-Israeli Conflict, The Mother of All Terror:
Give Them Justice, They’ll Give You Peace

مجیب خان


Bhutto said Pakistan was vitally interested in what happened in the Middle East. The deadlock there affected them directly. The present stalemate of no peace-no war must be broken, whether it is done through direct negotiations or indirect negotiations, because it will eat into the very vitals of the Arabs. He assured Mr. Heykal that whatever the Arabs decided and whatever position they took and this principally pertained to Egypt. Pakistan shall be with them. He said that the Middle East situation had a strong bearing on their own situation. If they were not going to resolve their problem in the Middle East, he feared great convulsions in the subcontinent, also India, of poverty and rising expectations. Pakistan could not continue in the present position with a rising defence budget 

 Interview with Mr. Hasnain Heykal, Editor-in-Chief of Al-Ahram on March 2nd, 1973

  
       امریکہ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کو جو مخلصانہ مشورے دیتے ہیں۔ امریکہ میں ان کے مشوروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ واشنگٹن میں دس ہزار لابیاں ہیں۔ اور ان لابیوں کے ذریعے جو مشورے دئیے جاتے ہیں۔ ان کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان لابیوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ اور یہ مشورے پھر امریکہ اور امریکی عوام کا مفاد بن جاتے ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسے ملک بھی ہیں جو لابیوں کے  ذریعے فیصلے کرانے کی سیاست کو غیر اخلاقی سمجھتے ہیں۔ اور امریکہ کو ہمیشہ مخلصانہ مشورے دیتے ہیں۔ لیکن ان کے مشوروں کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک نئی کتاب میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جنوبی افریقہ کی حکومت نے بش انتظامیہ اور وزیر اعظم ٹونی بلیر کو متعدد بار یہ Data فراہم کیا تھا جس میں عراق میں مہلک ہتھیاروں کے ثبوت نہیں تھے۔ جنوبی افریقہ کا ایٹمی ہتھیاروں کا اپنا ایک پروگرام تھا جسے جنوبی افریقہ نے بعد میں ختم کر دیا تھا۔ عراقی حکومت نے اس لئے خصوصی طور پر جنوبی افریقہ کو اپنا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام دیکھا یا تھا۔ جنوبی افریقہ کے صدر Mbeki  نے عراق میں مہلک ہتھیاروں کے بارے میں اپنی حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ کو  دی تھی کہ عراق میں ایٹمی ہتھیار نہیں تھے۔ اس کتاب کے مطابق صدرMbeki اس سلسلے میں متعدد بار ٹونی بلیر سے ملے تھے اور انہیں اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عراق پر حملے سے ایک ماہ قبل فروری 2003 میں انہوں نے ٹونی بلیر سے تین گھنٹے اس پر بات کی تھی ۔ لیکن ان کی ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ سابق صدر نیلسن منڈ یلا نے ذاتی طور پر صدر بش کو فون کیے تھے اور انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ عراق میں ایسے ہتھیاروں کا وجود نہیں تھا۔ لیکن بعد میں بش اور ٹونی بلیر یہ کہنے لگے تھے کہ عراق پر حملہ غلط انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ جو عراق پر حملہ کرنے کی حمایت میں لابیوں پرلاکھوں ڈالر خرچ کر رہے تھے ۔ امریکہ نے ان کی سنی تھی۔
      نائن الیون کے بعد اسلامی ملکوں کے بہت سے رہنماؤں نے صدر جارج بش کو یہ انتہائی مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ آپ فلسطین اسرائیل تنازعہ حل کریں۔ ہم سب کے لئے یہ سردر بنا ہوا ہے۔ ملیشیا کے صدر مطاہر محمد نے صدر بش سے فلسطین اسرائیل تنازعہ حل کرنے پر زور تھا۔ صدر پرویز مشرف نے بھی صدر بش سے یہ کہا تھا۔ بعض دوسرے اسلامی رہنماؤں نے بھی صدر بش پر فلسطین اسرائیل تنازعہ کے حل پر زور دیا تھا۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ اسلامی دہشت گردی کی اصل جڑ ہے۔ اس تنازعہ کو حل کرنے سے اسلامی انتہا پسندی ختم ہونے میں بڑی مدد ملتی۔ لیکن بش انتظامیہ نے آٹھ سال میں اس تنازعہ کو  حل کرنے میں کوئی مثبت کام نہیں کیا تھا ۔


       پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے ستر کے عشر ے میں صدر نکسن اور مشرق وسطی کی امریکی پالیسی کے God Father ہنری کسنگر سے یہ خصوصی درخواست کی تھی کہ آپ فلسطین اسرائیل تنازعہ حل کریں۔ یہ تنازعہ عالمی امن اور استحکام کے لئے ایک مسئلہ بن جاۓ گا۔ عرب اسرائیل تنازعہ کا حل عالمی امن کے مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 70 کے عشرے میں یہ بھی کہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ مشرق وسطی میں ہو گی۔ اور چالیس سال بعد مشرق وسطی میں اب تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور نیٹو مشرق وسطی میں اپنے مورچے بنا رہے ہیں ۔ 40 سال قبل وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ وہ آج لفظ بہ لفظ درست سامنے آ رہے ہیں۔ 
      فلسطین اسرائیل تنازعہ دنیا میں تمام دہشت گردی کی ماں ہے۔ امریکہ نے صرف اپنے مفاد میں اس تنازعہ کو زندہ رکھا ہے۔ اور اس تنازعہ کے بارے میں باتیں زیادہ کی ہیں اور نتائج صفر تھے۔ امریکہ نے عراق میں مہلک ہتھیاروں کا تنازعہ حل کرنے میں جو گرمی دکھائی تھی۔ ویسی سرگرمی فلسطین اسرائیل تنازعہ کے حل میں کبھی نہیں دکھائی تھی۔ حالانکہ فلسطین اسرائیل تنازعہ عالمی امن اور استحکام کے لئے صدام حسین کے مہلک ہتھیاروں سے زیادہ بڑا خطرہ تھا۔ لیکن فلسطین اسرائیل تنازعہ کی موجودگی میں دوسرے تنازعوں کو پہلے حل کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں نئے تنازعہ پیدا کر دئیے  ہیں۔ اور ان کوششوں میں بھی بری طرح ناکامی ہوئی ہے۔ ایک طرف عالمی معیشت کے لئے مشرق وسطی کو انتہائی حساس خطہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس خطہ کو عدم استحکام کرنے کی مہم جوئیاں بھی جاری ہیں۔ یہ مہم جوئیاں اسلامی دنیا کے لئے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
     1974  میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی دنیا کو اس وقت جن مسائل اور چیلنجوں کا سامنا تھا ان کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اور اس کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا کہا تھا۔ یہ 41 سال قبل کے واقعات تھے۔ لیکن وزیر اعظم بھٹو کا 1974 میں اسلامی سربراہ کانفرنس سے وہ خطاب اسلامی دنیا کو آج جن مسائل اور پہلے سے زیادہ خطرناک چیلنجوں کا سامنا ہے۔ جیسے اس سلسلے میں نظر آتا ہے۔ اسلامی دنیا میں صرف یہ تبدیلی آئی ہے کہ یہ 2015 ہے۔ لیکن اسلامی دنیا کے مسائل اور چیلنج اور زیادہ پیچیدہ ہو گیے ہیں۔ 41 سال میں اسلامی دنیا میں ایک نسل نے مسائل اور چیلنج دوسری نسل کے حوالے کر دئیے ہیں۔




Tuesday, December 1, 2015

ISLAMIC WORLD: CONFRONTATION, CONFLAGRATION, AND HUMILIATION

War And Weapons For Muslims

ISLAMIC WORLD:   
CONFRONTATION, CONFLAGRATION, AND HUMILIATION

مجیب خان


Abu Ghraib prison during the U.S. occupation of Iraq
Daesh
     اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ خلیج کے حکمرانوں کے صیہونی طاقتو ں سے معاملات طے ہو گیے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں عرب اسپرنگ عرب خزاں ہو گیا ہے۔ مشرق وسطی میں Status quo کو برقرار رکھنے پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ شام کو اس Status quo  سے علیحدہ کر دیا ہے ۔ اور شام کو شیعہ سنی محاذ آ رائی کے لئے میدان جنگ بنایا گیا ہے۔ خلیج کے عرب ملکوں کا دہشت گردی کی جنگ میں یہ رول ہو گا کہ وہ جنگ ختم نہیں کریں گے۔ جنگ جاری رکھنے میں وہ امریکہ سے تعاون کریں گے۔ اور داعش کا قیام اس تعاون کے نتیجے میں آیا ہے۔ ایسے نئے داعش بھی منظر پر آتے رہیں گے۔ اسلامی نظریاتی دہشت گردی کی جنگ اب سرد جنگ کا متبادل بنتی جا رہی ہے۔ 15 سال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی ہے کہ جتنا اسے پھیلانے میں کامیابی ہوئی ہے۔
     عرب اسپرنگ عرب عوام کا سیاسی تبدیلی کے لئے ایک قدرتی رد عمل تھا۔ اس کے پیچھے سی آئی اے تھی اور نہ ہی ایران اور حزب اللہ تھے۔ امریکہ نے بعد میں اسے اغوا کر لیا تھا۔ اور عرب حکمرانوں کو عرب اسپرنگ سے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ مصر میں صدر حسینی مبارک خاصے عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ اور ان کی خرابی صحت کے بارے میں بھی خبریں آ رہی تھیں۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنے صاحبزادے کو اقتدار منتقل کرنا چاہتے تھے۔ مصر میں یہ سیاسی حالات دیکھ کر امریکہ کی وفا داری بھی  بدل گی اور امریکہ نے مصری عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ صدر حسینی مبارک اقتدار سے گر پڑے تھے۔ یہ دیکھ کر عرب حکمرانوں کی محلوں میں نیندیں حرام ہو گی تھیں۔ عرب اسپرنگ بحرین کے دروازے پر دستک دینے لگا تھا۔ خلیج کے دوسرے حکمران بھی عرب اسپرنگ کے جھٹکے محسوس کرنے لگے تھے۔ بحرین کے امیر مکہ جانے کے بجاۓ خصوصی طیارہ لے کر واشنگٹن پہنچ گۓ تھے ۔ اور صدر اوبامہ کے آگے گڑگڑانے لگے تھے۔ یہ دیکھ کر صیہونیت انہیں اور ان کے ساتھی حکمرانوں کو بچانے آ گے آ گیے تھے۔ عرب اسپرنگ سے عرب عوام کو کچھ نہیں ملا تھا ۔ لیکن صیہونیت کو خلیج کے حکمرانوں کی محفل مل گی تھی۔ دونوں میں معاملات طے ہو گیے تھے۔ دونوں میں ایران کو اپنا مشترکہ دشمن بنانے پر اتفاق ہو گیا تھا۔ عرب عوام کو امریکہ نے Dump کر دیا تھا ۔اور مصر میں فوجی ڈکٹیٹر کو امریکہ نے گلے لگا لیا تھا۔ عرب دنیا میں پھر وہ ہی گھسا پیٹا Status quo بحال ہو گیا تھا ۔
     نائن الیون کے بعد ایک مختصر وقفہ آیا تھا جب عرب حکمرانوں کے امریکہ سے تعلقات سرد ہو گیے تھے۔ اس وقت عرب سڑکوں پر عربوں میں امریکہ سے نفرت بہت زیادہ تھی۔ اور یہ حکمران امریکہ سے فاصلے رکھنے لگے تھے۔ امریکہ میں اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ عرب ڈکٹیٹر اپنے عوام کے غصہ کا رخ امریکہ کی طرف کر دیتے ہیں۔ اور خود پیچھے ہو جاتے ہیں۔ عرب اسپرنگ سے عرب عوام کو آزادی نہیں ملی تھی ۔ لیکن عرب ڈکٹیٹروں کو عرب اسپرنگ سے آزادی  مل گی تھی۔ اور امریکہ کے عرب ڈکٹیٹروں کے ساتھ تعلقات سرد جنگ کے دور کی سطح پر آ گیے ہیں۔ اور اب دونوں عرب عوام کو دہشت گردی کی جنگ سے  خوفزدہ کر رہے ہیں۔ اور دنیا کو بھی خوفزدہ کر رہے ہیں۔ اور یہ ایک بڑے ایجنڈے کے مطابق ہو رہا ہے۔
     2009 میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں صدر قدافی  مرحوم سعودی شاہ عبداللہ مرحوم پر برس پڑے تھے۔ اور ان سے کہا تھا کہ "تم انگریز کی پیداوار ہو اور امریکہ کے اتحادی ہو۔ میں عالمی لیڈر ہوں۔ عرب حکمرانوں کا Dean ہوں۔ افریقہ کے بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ مسلمانوں کا امام ہوں۔ اور میرا عالمی رتبہ مجھے نچلے درجہ کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔" یہ سن کر شاہ عبداللہ مرحوم آگ بگلا ہو گیے تھے۔ اور صدر قدافی کانفرنس ہال سے چلے گیے تھے۔ صدر قدافی نے شاید یہ غلط نہیں کہا تھا۔ اسلامی دنیا آج جن حالات میں ہے ۔ اور اسے جن چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اسے دیکھ کر انگلیاں سعودی حکمرانوں کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔ کہ کس کے مفاد میں کام کر رہے ہیں؟ اگر اسلامی دنیا کے مفاد میں یہ کام کر رہے ہو تے تو اسلامی دنیا آج ان حالات میں نہیں ہوتی۔ اور اسے ان چیلنجوں کا اتنا سامنا بھی نہیں ہوتا۔ سعودی عرب نے سرد جنگ میں اسلام کا مغربی مفادات میں استحصال کرنے کی کیسے اجازت دی تھی؟ حالانکہ مشرقی یورپ کے عیسائی ملکوں میں بھی کمیونسٹ فوجیں تھیں ۔ لیکن ان ملکوں میں عیسائوں کو کمیونسٹ فوجوں سے لڑنے کے لئے مذہبی انتہا پسند نہیں بنایا گیا تھا۔ بلکہ پچاس برس تک مشرقی اور مغربی یورپ کے درمیان امن اور استحکام فروغ دیا تھا۔ اور سیکورٹی کا ایک نظام رائج کیا تھا۔ مشرقی اور مغربی یورپ میں عیسائی مذہب کے نام پر ایک گولی بھی نہیں چلی تھی۔ لیکن کمیونسٹ فوجوں کے خلاف تمام گولیاں مغرب کے مفاد میں اسلام کے نام پر مسلمانوں سے چلوائی گی تھیں۔
     اسلام اب دہشت گردوں کا مذہب بن گیا ہے۔ سعودی عرب کے واچ میں اسلام رسوا ہو رہا ہے۔ لیکن سعودی عرب صرف اپنے بقا کے مفاد میں سمجھوتے کر رہا ہے۔ صیہونیت کے مفاد میں اسلامی اتحاد اور یکجہتی کو تہس نہس کر دیا ہے۔ اسلامی دنیا میں نفاق اور تقسیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ شیعہ اور سنی کی 14سوسال پرانی لڑائیوں میں نئی روح ڈالی جا رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں سعودی عرب نے تقریباً 90 بلین ڈال کا اسلحہ خریدا ہے۔ لیکن یمن میں آٹھ ماہ ہو گۓ ہیں ۔ غریب ہوتیوں کو یہ ابھی تک شکست نہیں دے سکے ہیں۔ سعودی عرب نے سوڈان سے کراۓ کے فوجی حاصل کیے تھے ۔ پھر اریٹریا سے کراۓ کے فوجی بھی آۓ ہیں۔ اور اب ہوتیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے بدنام ترین بلیک واٹر کو نیا نام  XE ہے۔ سعود یوں نے Hire کیا ہے۔ یہ وہ ہی بلیک واٹر ہے جس کے ہاتھوں پر عرب عرا قیوں کا خون ہے۔ اور یہ بلیک واٹر تھی جو عراق میں سنیوں کے علاقوں میں دھماکہ کرتی تھی۔ اور پھر شیعاؤں کو اس کا الزام دیا جاتا تھا۔ اور پھر شیعاؤں کے علاقوں میں دھماکہ ہوتے تھے اور سنیوں کو الزام دیا جاتا تھا۔ اس طرح عراق جنگ کے اندر شیعہ سنی کی نئی جنگ شروع کی گی تھی۔ اور یہ بلیک واٹر اب ھوتیوں سے لڑے گی جو شیعہ ہیں۔ اور یہ کولمبیا سے 800 کراۓ کے فوجی لائی ہے۔ یمن کو اب کراۓ کے فوجیوں کے حوالے کر دیا ہے۔ اور سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب شام کے خلاف فوجی کاروائی کرنے پر غور کر رہا  ہے۔ شام بڑی بہادری سے پانچ سال سے لڑ رہا ہے۔ شیعہ شام میں اقلیت میں ہیں۔ لیکن شام کی فوج میں سینوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ اور یہ اپنے عرب قوم پرستی کو زندہ رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اور اللہ اس جنگ میں شام کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔

Saturday, November 28, 2015

“BUNCH OF KILLERS”: From Al Qaeda To Daesh

 Political Blunders And Military Adventurism  

“BUNCH OF KILLERS":
From Al Qaeda To Daesh

مجیب خان
   
"I looked the man in the eye. I found him to be very straight forward and trustworthy and we had a very good dialogue. I was able to get a sense of his soul. He's a man deeply committed to his country and the best interests of his country and I appreciate very much the frank dialogue and that's the beginning of a very constructive relationship." 

-George W. Bush on Russian President Vladimir Putin


          صدر جارج بش نے نائن ایلو ن کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں القا عدہ کو Bunch of Killer  کہا تھا۔ چودہ سال بعد اب صدر اوبامہ نے داعش کو Bunch of killer کہا ہے۔ جو دہشت گردی کے خلاف اسی جنگ کا سلسلہ ہے۔ لیکن داعش اس جنگ میں ایک نیا کردار ہے۔ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ دنیا کے حالات جوں کے توں ہیں۔ اور چودہ سال میں کوئی تعمیراتی سیاسی کام نہیں ہوا ہے۔ صرف انسانی تباہی بہت ہوئی ہے۔ دنیا القا عدہ کے بعد داعش کے Bunch of Killer میں پھنس گی ہے۔ 13 نومبر کے پیرس میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد داعش کو Bunch of Killer  کہا گیا ہے۔ جس میں 129 لوگ ہلاک ہوۓ تھے۔ اس سے پہلے بیرو ت میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا بڑی تعداد میں یہاں بھی لوگ ہلاک ہوۓ تھے ۔داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔ اس کے بعد سینا ئی میں روس کا مسافر طیارہ تباہ ہوا تھا ۔ جس میں دو سو لوگ ہلاک ہوۓ تھے۔ امریکہ نے سب سے پہلے اسے داعش کی دہشت گردی بتایا تھا۔ بعد میں داعش نے یہ اعتراف کیا تھا۔ لیکن اس وقت بھی داعش کے بارے میں Bunch of Killer امریکہ کے ریڈار پر نہیں آیا تھا۔
       لیکن 13 نومبر کو پیرس میں دہشت گردی نے یورپ کو جیسے ہلا دیا تھا۔ جس پر حکومتوں اور عوام کی سطح پر شدید رد عمل ہوا تھا۔ ان کے غم و غصہ کی تمام انگلیاں واشنگٹن کی طرف اٹھ رہی تھیں ۔ مشرق وسطی کے حالات خراب کرنے کا الزام امریکہ کی قیادت کو دیا جا رہا تھا۔ امریکہ کی عالمی قیادت میں دنیا کے اتنے مسائل حل نہیں ہوۓ ہیں کہ جتنے دنیا کے لئے نئے مسائل ہو گیے ہیں۔ شام عراق لیبیا افغانستان جنگ زدہ ملکوں سے لوگوں کا سیلاب یورپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یورپ میں لوگ پہلے ہی چین اور بھارت کی سستی لیبر کی وجہ سے شدید اقتصادی مسائل کا سامنا کر رہے تھے۔ اور اب پناہ گزینوں کی صورت میں سستی لیبر ان کے دروازوں پر کھڑی ہے۔ مشرق وسطی کا سیاسی عدم استحکام یورپ کے لئے اب سو نامی بن رہا ہے۔ یورپ کی طرف اس سو نامی کو بڑھتا دیکھ کر حکومتیں خاصی خوفزدہ ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر فرانس کے صدر Francois Hollande امریکہ آۓ تھے۔ اور اب  یورپ کے ملکوں کو داعش کے خلاف ا رو شام کے سیاسی حل کے لئے ایک نئے اتحاد میں سرگرمی سے شامل ہونے  کے لئے صدر Francois  کوششیں کر رہے ہیں۔
David Cameron, Barack Obama, and Francois Hollande
       پیرس دہشت گردی کے واقعہ کے بعد یورپ کا موڈ دیکھ کر صدر اوبامہ نے داعش کے لئے Bunch of Killers کے لفظ استعمال کیے ہیں۔ داعش کو Bunch of Killers اس وقت کہنا چاہیے تھا کہ جب یہ عراق اور شام میں لوگوں کے گلے کاٹ رہے تھے۔ جس میں امریکی شہری بھی شامل تھے۔ اور امریکہ کو شام کے بارے میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا چاہیے تھی۔ خلیج کے مالدار اتحادیوں کو شام کے سیاسی حل کے لئے آمادہ کرنا چاہیے تھا۔ شام میں نام نہا د باغیوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور فنڈ ز فراہم کرنے پر پابندی لگانا چاہیے تھی۔ لیکن شام کا محاذ بند ہونے کے بجاۓ ۔ یمن میں خلیج کے مالدار حکمرانوں نے نیا محاذ کھول دیا تھا ۔ اس محاذ پر امریکہ نے مالدار حکمرانوں کی حمایت کر نے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور یہ Bunch of Killers یمن کے محاذ پر ہوتیوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ ان میں ایک بڑی تعداد القا عدہ کی تھی جنہیں صدر بش نے Bunch of Killers کہا تھا۔ امریکہ نے اس سال شام میں ایک ہزار سے زیادہ داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ لیکن نتائج Bunch of Killers  ہی کی صورت میں سامنے آۓ ہیں۔
       شام میں روس کی مداخلت کے بعد اوبامہ انتظامیہ اب شام میں ایک سیاسی حل کی طرف آئی ہے۔ اور یورپ کے  بھر پور دباؤ میں امریکی فضائی طیاروں نے داعش کے 130 آئل ٹینکروں کو تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ شام کے جن علاقوں پر داعش نے قبضہ کیا ہے۔ وہاں سے یہ ٹینکرز تیل لے جاتے تھے۔ اور اسے فروخت کر تے تھے اور یہ ان کی آمدنی کا وسیلہ تھا۔  لیکن اس سال 13 نومبر تک اور شام میں روس کے سرگرم ہونے تک داعش کے تیل کا کاروبار بند کرنے کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا گیا تھا۔ صدر اوبامہ نے وائٹ ہاؤس میں صدر Francois کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد میں 65 ممالک شامل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ا سا مہ بن لادن کی رہائش گاہ امریکہ کے ریڈار پر آ گی تھی ۔ لیکن داعش کے آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت 65 ملکوں کے ریڈار پر نہیں آئی تھی۔ ان میں بعض شام کے قریبی ہمسایہ تھے۔ 65 ملکوں کے اتحاد کے واچ میں داعش کی سرگرمیاں یورپ اور وسط ایشیا میں پھیلنے کی خبریں دی جا رہی تھیں۔ صدر پو تن نے اب یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ 40 ممالک داعش کو فنڈ زفراہم کر رہے تھے۔ داعش کو اسلحہ دے رہے تھے۔ صدر پو تن کے اس انکشاف پر امریکہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ضرور امریکہ کے علم میں ہو گا۔ دنیا کے 192 ملکوں میں سے 65 ملک داعش کے خلاف لڑ رہے تھے ۔ 40 ملک داعش کو فنڈ ز دے رہے تھے۔ 87 ملکوں میں سے کچھ داعش کی دہشت گردی سے بچے ہوۓ تھے اور کچھ اس کی دہشت گردی کی زد میں تھے۔
       لیکن یہاں Greed اور مفادات ایک ہو گیے ہیں۔ سعودی عرب اور خلیج کے حکمرانوں نے امریکہ برطانیہ اور فرانس کو رشوتیں دینے کے بجاۓ ان کی اسلحہ ساز کمپنیوں سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے ۔ اور ان معاہدوں کے عوض ان سے شام میں حکومت تبدیل کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ صدر اوبامہ نے 2011 میں سب سے پہلے یہ فرمان جاری کیا تھا کہ بشرالسد کو جانا ہے۔ اسد حکومت کے دن تھوڑے ہیں۔ اس کے بعد فرانس کے صدر اور برطانیہ کے وزیر اعظم نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا تھا۔ امریکہ برطانیہ اور فرانس کی شام پالیسی کے پیچھے اسلحہ ساز کمپنیوں کی لابی تھی۔ لیکن چار سال میں اسد حکومت کے خلاف جنگ کا محاذ بدل گیا ہے۔ عالمی رائے عامہ تبدیل ہو گی ہے۔ عراق اور لیبیا میں صدام حسین اور معمر قدافی کو اقتدار سے ہٹانے کے چار اور سات سال بعد عالمی رائے اب تبدیل ہو گی  ہے۔ اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے فیصلے کو اب غلط فیصلہ کہا  جا رہا ہے۔
      پیرس میں دہشت گردی کا واقعہ ہونے کے بعد یورپ میں رائے عامہ تیزی سے بدل گی ہے۔ بالخصوص فرانس میں حکومت پر اتنا زیادہ دباؤ پڑا ہے کہ فرانس کے صدر کو شام کے تنازعہ پر صدر پوتن  کے موقف سے سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ صدر اوبامہ اب ایک مشکل صورت میں آ گیے ہیں۔ ایک طرف  ان کے روایتی یورپی اتحادی ہیں اور دوسری طرف خلیج کے عرب اتحادی ہیں۔ جنہوں نے کھربوں ڈالر امریکہ کی معیشت میں انویسٹ  کیے ہیں۔" بشراسد کو جانا ہے" یہ تسلیم کرانا بھی ضروری ہے۔  اس مقصد میں اسلحہ ساز کمپنیوں کا دباؤ بھی ان کی حکومتوں پر ہے۔ پھر امیروں کی دنیا میں غریب ملک  کے ہاتھوں شکست بھی امیروں کو قبول نہیں ہے۔ لہذا صدر پوتن پر بھی یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صدر اسد کو ہٹائیں ۔ لیکن فی الحال یہ ممکن نظر نہیں آ رہا  ہے۔ یورپ میں اب پہلے داعش کو ختم کرنے اور شام میں سیاسی استحکام پر زور دیا جا رہا ہے۔ ادھر امریکی کانگرس میں بھی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ کانگرس شام میں اسد حکومت کو تبدیل کرنے کے فیصلے کی حمایت نہیں کرے گی۔ صدر اوبامہ کی شام پالیسی صدر کارٹر کی تہران  میں امریکی یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لئے ملڑی  ہیلی کا پڑ ایران کے قریب ریگستان میں گر جانے کی طرح Debacle  ثابت ہو رہی ہے۔
      فوجی مہم جوئیاں اب بہت ہو گی  ہیں اور یہ صرف Bunch of Killers پیدا کر رہی ہیں۔ عرب اسپرنگ ان کا خاتمہ کرنے کا واحد راستہ تھا۔ اسلامسٹ کو سیاسی عمل میں لا کر کمزور کیا جا سکتا تھا۔ اور انہیں شکست بھی دی جا سکتی تھی۔ مصر میں اخوان المسلمون اقتدار میں آۓ تھے۔ اور انہوں نے دنیا سے اپنے ماڈریٹ ہونے کا یقین دلایا تھا۔ اخوان المسلمون میں ماڈریٹ عناصر اوپر آ رہے تھے ۔ اسلامسٹ نظریاتی انتہا پسندوں سے 65 ملکوں کا اتحاد بنا کر فوجی مہم جوئیاں کرنے کے بجاۓ۔ اخوان المسلمون کے ماڈریٹ خود ان سے نمٹ لیتے۔ ایک سیاسی اور جمہوری عمل میں یہ جلدی کمزور ہو جاتے۔ اور عوام ان کی سیاست مسترد کر دیتے۔ لبرل اور اعتدال پسندوں کو اقتدار میں آنے کا موقعہ ملتا۔ جس طرح ارجنٹائن میں ایک سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے مغرب نواز اب اقتدار میں آ گیے ہیں۔

      لیکن اوبامہ انتظامیہ نے امریکہ کی جمہوری حکومتوں کے تختے الٹنے کی ثقافت ذ ندہ رکھتے ہوۓ مصر میں فوجی حکومت قبول کر لی تھی۔ اور جو اسلامسٹ جمہوری اور سیاسی عمل میں آنا چاہتے تھے ۔ ان کے سیاسی عمل میں آنے کے دروازے بند کر دئیے تھے۔ اور انہیں Bunch of Killers کی سیاست میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا۔ عرب قبائلی حکمرانوں کی طرح امریکہ کو بھی لڑائیوں سے عشق ہے۔ اس لئے امریکہ ان کے ساتھ اتحاد میں شامل ہو گیا ہے۔ جنگیں اور طاقت کا بھر پور استعمال  دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں اور Bunch of Killers پیدا کر رہی ہیں۔

Tuesday, November 24, 2015

The Dilemma of Liberty, Freedom And Democracy, Death of American Moral Values, And Mourning In Paris

The Politics of Bombs And Boots
  
   
The Dilemma of Liberty, Freedom And Democracy,
Death of American Moral Values,
And Mourning In Paris

مجیب خان

U.S. Secretary of State walking through Tahrir Square during the Arab Spring
 
U.S. Senators John McCain & Joseph Lieberman in Tahrir Square (Cairo, Egypt) during the Arab Spring 
Egyptians casting their vote during the Arab Spring
 Hillary Clinton meets with Egyptian President Mohamed Morsi
Egyptian President Morsi held in jail in Cairo, Egypt 
Muslim Brotherhood supports held in an Egyptian jail 
Current U.S. Secretary of State, John Kerry, meets with Egyptian President el-Sisi
Saudi soldiers entering Bahrain
ISIS fighters in Iraq and Syria 

Syrian refugees and refugees from other nations under extreme conflict 

      اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے ۔ جس میں تمام ملکوں سے داعش کے خلاف ضروری اقدام کرنے کا کہا گیا ہے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کے چارٹر میں Chapter 7 کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ جس میں طاقت کے استعمال کا اختیار دیا گیا ہے۔ لیکن سلامتی کونسل کی ایسی قراردادیں پہلے سے موجود ہیں جن میں القا عدہ اور دوسرے دہشت گروپوں کے خلاف لڑائی میں یہ اختیار دیا گیا ہے۔ اور ان قرار دادوں کا یہاں اطلاق ہوتا ہے۔ سلامتی کونسل میں یہ قرارداد فرانس نے پیش کی تھی ۔13 نومبر کو پیرس میں دہشت گردوں کے حملے میں 129 فرانسیسی مارے گۓ تھے۔
      سلامتی کونسل میں دہشت گردوں سے لڑنے کے سلسلے میں یہ نہ تو پہلی قرارداد ہے اور نہ ہی یہ آخری قرارداد ہو گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو جتنا زیادہ شور مچا رہے ہیں۔ وہ ہی دہشت گردی کو فروغ بھی دے رہے ہیں۔ ان کا دہشت گردی جاری رکھنے میں مفاد ہے۔ جبکہ باقی دنیا کا دہشت گردی ختم کرنے میں مفاد ہے۔ جن ملکوں کا دہشت گردی جاری رکھنے میں مفاد ہے وہ طاقتور اور دولت مند ملک ہیں۔ اور ان ملکوں نے عراق اور لیبیا کا ریاستی ڈھانچہ تباہ کر کے اس کی جگہ دہشت گردوں کے مدرسے بنا دئیے ہیں۔ اور یہاں سے دہشت گردوں کو پھر شام میں حکومت تبدیل کرنے کی خانہ جنگی میں حصہ لینے بھیجا جاتا ہے۔ جبکہ بعض دہشت گرد یمن میں سعودی عرب کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ اور ان کا تعلق القا عدہ سے ہے۔
     اب چھوٹے اور غریب ملک دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ اور وہ اس جنگ میں اپنا رول دیانت داری سے ادا کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی پشت کے پیچھے طاقتور اور مالدار ملک نئے دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں۔ پندرہ سال ہو گیے ہیں۔ یہ جنگ ختم نہیں ہو رہی ہے ۔ بلکہ دہشت گردی پھیلتی جا رہی ہے۔ بش انتظامیہ میں آٹھ سال تک صرف دہشت گردی ، القا عدہ ، ا سا مہ بن لادن اور بن لادن کے و ڈیو بریکنگ نیوز ہوتے رہے۔ طالبا ن  بھی اس جنگ کا حصہ قرار دئیے گۓ تھے۔ لیکن دہشت گردی ختم ہوئی تھی اور نہ ہی دہشت گردی میں کمی ہوئی تھی۔ اب اوبامہ انتظامیہ میں بھی سات سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا شور بہت ہے۔ اس جنگ میں صرف یہ بڑی کامیابی ہوئی تھی کہ ا سا مہ بن لا دن کو قتل کر دیا تھا۔ لیکن دہشت گردی زندہ تھی۔ اور نئے دہشت گردوں نے بن لادن کی جگہ لے لی ہے۔ داعش جس میں ا ب سر فہرس ہے۔ جسے القا عدہ  سے زیادہ خطرناک  بتایا جا رہا ہے۔ ان کے علاوہ ایک درجن دوسرے دہشت گروپ بھی ہیں جو عراق سے شمالی افریقہ تک Dandelion کی طرح پھیلے ہو ۓ ہیں۔ یہ گروپ کس کی مدد سے وجود میں آۓ ہیں؟ ان گروپوں کے پیچھے کونسے پوشیدہ ہاتھ ہیں؟ اور ان گروپوں کی دہشت گردی سے یورپ اور امریکہ میں لوگوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ اس دہشت گردی کی آ ڑ میں ان کی جمہوری آزادیاں چھنیے کی کوشش کی جا رہی  ہے۔ نائن الیون کے بعد سے یہ کوششیں کی جاری ہیں ۔ حالانکہ امریکہ اسی القاعدہ کے ساتھ شام میں داعش کے خلاف لڑ رہا ہے۔ دنیا کے اسٹیج پر دہشت گردی کے ڈرامہ کے بارے یہاں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ کیا امیر اور غریب میں بڑھتے ہوۓ فرق سے غریبوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اسلامی دہشت گردی کو استعمال کیا جا رہا ہے؟ اور اسلامی دہشت گردی کو کارپوریشنوں اور کمپنیوں کے مفاد دنیا میں چین کا نظام رائج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ آخر اس لڑائی کو اتنا طول دینے کا مقصد کیا ہے ؟
      دنیا میں اکثریت ان ملکوں کی ہے جو طاقتور نہیں ہیں اور غریب  ملک ہیں۔ دہشت گردی ان کے لئے نئی نہیں ہے۔ سرد جنگ میں عیسائی اور مسلمان ملکوں میں دائیں اور بائیں بازو اور فوجی آمروں کی دہشت گردی کو فروغ دیا گیا تھا۔  بلاشبہ ان کی دہشت گردی بھی انسانیت کے لئے داعش اور القاعدہ کی دہشت گردی سے کم خطرناک نہیں تھی۔ چلی اور انڈونشیا کے لوگ اس کی گواہی دیں گے۔ عرب حکمران اس جنگ میں اپنی بقا دیکھ رہے ہیں۔ اور طاقتور اور مالدار ملک اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔
      سامراجی اور نوآبادیاتی طاقتوں نے دنیا کے ایک ایسے انتہائی حساس خطہ کو عدم استحکام کیا ہے کہ جہاں عیسائی مسلمان اور یہودی تین بڑے مذہبی عقیدے کے لوگ آباد ہیں۔ اور عیسائی اور مسلمانوں کے اندر مختلف فرقہ بھی یہاں ہیں۔ شیطانوں نے یہاں عیسا ئیوں کو نظر انداز کر دیا تھا اور شیعاؤں کو سنیوں سے لڑا دیا۔ شیطانوں کی اس سیاست میں صدام حسین اور کرنل قدافی اب فرشتہ نظر آتے ہیں۔ جنہوں نے عیسا ئیوں سنیوں اور شیعاؤں  کو آپس میں لڑاؤ اور حکو مت کرو کی سیاست نہیں کی تھی۔ انہوں نے بلا کسی امتیاز سب کو حکومت میں شامل کیا تھا۔ ان شیطانوں نے دوسرے اسلامی ملکوں کے لئے بھی مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ جو مذہب کو سیاست سے علیحدہ  کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن یہ عراق میں مذہبی فرقہ پرستی کی آگ لگا کر چلے گۓ تھے۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر نے یہ اعتراف کیا ہے کہ داعش کے قیام کا براہ راست عراق پر حملے سے تعلق ہے۔ جنہوں نے عراق میں لبرل اور سیکولر نظام تباہ کر کے مذہبی فرقہ پرستی کا نظام دیا تھا۔ شیعاؤں کو انہوں عراق دے دیا تھا اور سنی داعش اب اپنی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہابی سنی اب شام مانگ رہے ہیں۔ جہاں سنی اکثریت میں ہیں۔
     یہ سیاسی تنازعہ ہے۔ جسے بموں سے حل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ یہ حالات بموں ، مشین گنوں، ٹینکوں اور فوجی جوتوں نے پیدا کیے ہیں۔ سیاسی تنازعہ بموں اور فوجی جوتوں کی موجودگی میں کبھی حل نہیں ہوتے ہیں۔ انہیں سیاسی طریقوں سے حل کیا جاۓ۔ اس کے لئے ایک سیاسی ماحول بنایا جاۓ۔ اور سیاسی استحکام اس کا پہلا قدم ہے۔ عراق شام اور لیبیا میں استحکام  سے حالات کو بہتر بنانے  میں مدد ملے گی۔ پھر تمام فرقوں میں ایک قوم ہونے کا احساس بحال کیا جاۓ ۔ بیرونی مداخلت بند کی جاۓ۔ جس طرح اسرائیل کے خلاف گروپوں کو اسلحہ فراہم کر نے پر پابندی ہے۔ اسی طرح عراق شام اور لیبیا میں گروپوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر پابندی لگائی جاۓ۔ بش انتظامیہ نے عراق کو اپنی پسند کا نظام دیا تھا ۔ جس کے یہ نتائج ہیں۔ لہذا اب شام لیبیا اور عراق کے لوگوں کو اپنے نظام کا خود فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جاۓ۔ بیرونی ملکوں کو اسے ویٹو کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

     پانچ سال قبل عرب اسپرنگ میں عرب عوام کا جوش و جذبہ دیکھ کر امریکہ نے عرب حکمرانوں سے رشتہ توڑ کر عرب عوام سے نیا رشتہ بنا لیا تھا۔ عرب اسپرنگ میں عوام لبرٹی ، فریڈم اور ڈیموکریسی کے لئے قربانیاں دے رہے تھے۔ یہ دیکھ کر امریکہ نے بھی اپنے ایک قدیم اور وفا دار اتحادی صدر حسینی مبارک کی قربانی دے دی تھی۔ عرب اسپرنگ کامیابی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اور یہ عرب دنیا کا نقشہ بدل رہا تھا۔ عرب حکمران اور اسرائیل اس وقت عرب اسپرنگ کو اپنے لئے ایران سے زیادہ بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ عرب حکمرانوں نے یہ دیکھ کر اسرائیل کے ذریعے امریکہ کا Behavior تبدیل کرنے کے لئے واشنگٹن میں ایک طاقتور لابی Hire کر لی ۔ تقریباً ساٹھ ملین ڈالر خرچ کیے ۔ امریکہ کا Behavior ٹھیک ہو گیا ۔ عرب عوام کوDump کر دیا اور مکہ جا کر عرب اسپرنگ سے امریکہ نے توبہ کر لی۔ اور مطلق العنان عرب حکمرانوں سے رشتہ پھر جوڑ لیا۔ لبرٹی ، فریڈم اور ڈیموکریسی کے پیاسے عرب عوام امریکہ کے اس Behavior سے سخت مایوس ہوۓ تھے۔ اور یہ مایوس عرب اب داعش کے ساتھ ہیں۔ اور مہذب دنیا کے بموں کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکہ کے اس Behavior کی وجہ سے شام Cross Fire میں آگیا ہے۔ اور یہ المیہ ہے جو دہشت گردی بن گیا ہے۔