Tuesday, February 9, 2016

When Leaders Become The Servant Of Western Interests, People Suffer The Most

When Leaders Become The Servant Of Western Interests, People Suffer The Most

“Pakistan’s Hand In The Rise of International Jihad”
 (Carlotta Gall - New York Times)   

“U.S. Created The Taliban And Abandoned Pakistan”
(Hillary Clinton - Dawn News)  

مجیب خان
 


       7 فروری 2016 کے نیویارک ٹائمز میں Carlotta Gall کا "عالمی جہاد کے فروغ میں پاکستان کے کردار" کے عنوان سے ایک تجزیہ شائع ہوا ہے۔ Carlotta Gall اسلام آباد اور کابل میں نیویارک ٹائمز کی نا مہ نگار تھیں۔ اور اس خطہ کی سیاست سے وہ با خوبی واقف ہیں۔ جس موضوع پر انہوں نے 7 فروری 2016 کو لکھا ہے۔ اس موضوع پر 10 ستمبر 2001 سے 2013 تک بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ بلکہ اس پر بے شمار کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں۔ عالمی جہاد کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو بار بار Recycle  کرنے کا اب مقصد کیا ہے؟ جبکہ پندرہ سال میں پاکستان کے کردار میں بڑی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اور پاکستان اب عالمی جہادیوں کے خلاف جہاد کر رہا ہے۔ بلکہ یہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی ہیں جو خود مختار ملکوں میں غیر قانونی حملوں سے حکومتیں تبدیل کر کے جہادیوں کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔ اور انہیں اسلامی خلافت قائم کرنے کے مواقع دے رہے ہیں۔ جس عالمی جہاد کو پاکستان اگر فروغ دے رہا تھا۔ تو یہ جہاد پاکستان کے خلاف کون کر رہا تھا۔ اس جہاد میں پاکستان میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ مارے گیے ہیں۔ جن میں ایک بڑی تعداد افواج کے افسران کی ہے۔ اس عالمی جہاد نے بھارت کے مسلمانوں کو جہاد پر نہیں اکسایا تھا۔ نہ ہی مقبوضہ کشمیر کے مسلمان جہاد کرنے سڑکوں پر آۓ تھے۔ پاکستان کے عالمی جہاد کو فروغ دینے کے کہیں بھی زمینی حقائق نہیں تھے۔ اگر عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے یا شام، لیبیا ، یمن اور شمالی افریقہ میں جو انتہا پسندی ہو رہی ہے۔ اسے پاکستان عالمی جہاد کو فروغ دینے میں کردار ثابت کیا جا رہا ہے۔ تو یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے صدام حسین کے پاس مہلک ہتھیاروں کے ذخائر ثابت کیے گیے  تھے۔
       Carlotta Gall خاصے عرصہ پاکستان میں رہی ہیں۔ اور انہوں نے شاید یہ بھی دیکھا ہو گا کہ پاکستان میں لوگوں کی اکثریت کس قدر جہادیوں کے خلاف تھی۔ Carlotta کے پاکستان میں قیام کے دوران کئی انتخابات بھی ہوۓ تھے ۔ جن میں لوگوں نے بھاری اکثریت  سے مذہبی جماعتوں کو مسترد کر دیا تھا۔ مذہبی جماعتیں 5 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکی تھیں۔ پختون خواہ صوبے میں جو افغانستان کی سرحد پر ہے اور اس صوبے میں طالبان کا گہرا اثر و رسوخ بتایا جاتا تھا۔ وہاں بھی صوبے کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کو بری طرح شکست ہوئی تھی۔ جس ملک میں مذہبی جماعتوں کو انتخابات  میں پے در پے شکست ہو رہی تھی۔ وہاں عالمی جہاد فروغ دینے میں پاکستان کس طرح کردار ادا کر سکتا تھا۔
       اس جہاد کی اصل کہانی یہ تھی کہ یہ جہاد سی آئی اے نے سوویت یونین کے خلاف فروغ دیا تھا۔ اور جس طرح آج اسلامی ریاست قائم کرنے کے لئے اسلامی دنیا اور یورپ بھر سے نوجوان داعش کے ساتھ لڑنے شام جا رہے ہیں۔ اسی طرح 80 کے عشرے میں عرب ملکوں سے نوجوان بڑی تعداد میں اسلامی ریاست افغانستان کو کمیونسٹ فوجوں سے آزادی دلانے کے لئے سی آئی اے کے ساتھ مل کر جہاد کرنے پاکستان آۓ تھے۔ اور پاکستان نے ان جہادیوں کو تربیت دینے میں سی آئی اے کی مدد کی تھی۔ انہیں اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ بڑی طاقتوں کے مفاد میں چھوٹے ملک جب Bully  بن جاتے ہیں۔ تو پھر ہمیشہ کے لئے مجرم بن جاتے ہیں۔ جہاد کو فروغ دینے کا الزام اب پاکستان کے ساتھ لگا رہے گا۔
        حالانکہ پاکستان میں جو لوگ اس وقت جہادیوں کے خود کش حملوں کا شکار بنے ہو ۓ ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں پاکستان کی مداخلت کرنے کی پالیسی کی سخت مخالفت کی تھی۔ انہوں نے پاکستان کی سرزمین پر سی آئی اے کے جہادیوں کو تربیت دینے کے کیمپوں کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان میں جنرل ضیا الحق کی آمرانہ رجعت پسند حکومت تھی۔ اور پاکستان جنرل ضیا الحق کی حکومت میں دراصل داعش کی اسلامی ریاست بن گیا تھا۔ عراق اور شام میں داعش کے زیر کنڑول علاقوں میں اس وقت شہریوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے۔ ایسا سلوک جنرل ضیا الحق کی حکومت میں روشن خیال، اعتدال پسند اور لبرل خیال لوگوں کے ساتھ ہو رہا تھا۔
        میں اس وقت کراچی یونیورسٹی میں تھا۔ تعلیمی اداروں میں اسلامی جمیعت طلبہ اس وقت بالکل یہ ہی کچھ کر رہی تھی جو وزیر ستان اور سوات میں طالبان کر رہے تھے۔ اسلامی جمیعت طلبہ کو جنرل ضیا الحق کی سرپرستی حاصل تھی۔ ہر طرف اس نے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ تعلیمی اداروں میں مخالفین کو قتل کیا جا رہا تھا۔ شام اور عراق میں آج جو داعش کے ظلم و بربریت کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ہم 80 کے عشرے میں اس کا سامنا کر چکے  ہیں۔ پاکستان میں یہ سب کچھ امریکہ کے واچ میں ہو رہا تھا۔ لیکن اس وقت انہیں فریڈم فائٹر کہا جاتا تھا۔ Selig Harrison جنوبی ایشیا امور میں مہارت رکھتے تھے۔ اور امریکی تھنک تھینکس Carnegie endowment میں اسکالر تھے۔ Selig Harrison بلوچستان پر کتاب لکھ رہے تھے۔ اور اس مقصد میں ان کا اکثر پاکستان آنا رہتا تھا۔ بلوچ رہنماؤں اور بلوچ اسٹوڈینس  آرگنائزیشن کے رہنماؤں سے انٹرویو کرنے پاکستان آتے تھے۔ پروفیسر شمیم اختر صاحب اور ڈاکٹر منظور ادین احمد صاحب سے Selig  کے خاصے اچھے تعلقات تھے۔ ڈاکٹر منظور صاحب کے کمرے میں میری اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ پروفیسر شمیم اختر صاحب نے میرا تعارف اس سے کرایا تھا۔ میں یونیورسٹی میں نئی نسل کے نام سے  اخبار نکالتا تھا۔ شمیم صاحب نے مجھے اس سے انٹرویو کرنے کا کہا۔ میں نے Selig سے انٹرویو کے لئے وقت مانگا اور اس نے اسی روز تین بجے اپنے ہوٹل میں ملاقات کا وقت دے دیا۔ ہوٹل میں اس کے کمرے میں اس سے ملاقات میں سب سے پہلے میں نے یہ سوال کیا کہ تمہاری حکومت جنرل ضیا کی آمرانہ حکومت کی جو ایک سخت گیر مذہبی اور انتہائی رجعت پسند ہے اس کی حمایت کیوں کر رہی ہے۔ پھر تمہاری حکومت افغانستان میں یہ کیا کر رہی ہے۔ کن لوگوں کو جہاد کی تربیت دے رہی ۔ یہ مذہبی انتہا پسند ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ بنے ہوۓ ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں یہ ہمیں مار رہے ہیں۔ انہوں نے ہر طرف خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے۔ انہوں نے ہماری زندگیاں اجیرن کر دی ہیں۔ Selig میری یہ باتیں خاموشی سے سنتا رہا۔ پھر میری طرف مسکراتے ہوۓ کہا "  This is our government interest” یہ سن کر میں نے موضوع بدل دیا اور اس پر کوئی بات نہیں کی۔ کیونکہ جنرل ضیا بھی امریکہ کے Interest  میں کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لیکن پاکستان interest  کی اس سیاست میں F--ked up ہو گیا تھا۔
        سابق سیکریٹری اف اسٹیٹ ہلری کلنٹن نے کانگرس کی کمیٹی کے سامنے اوبامہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر بیان دیتے ہوۓ یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان آج جن مصائب میں ہے۔ اسے پیدا کرنے میں امریکہ کا بھی ایک حصہ ہے۔ ہلری کلنٹن نے اس کی وضاحت میں کہا کہ کس طرح پاکستان میں انتہا پسندی کا تعلق امریکہ کی پشت پنا ہی میں افغانستان میں سو ویت یونین کے خلاف پروکسی جنگ سے تھا۔ ہم پاکستانیوں کی طرف انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ بڑی صاف گوئی سے میں نے بھی یہ کیا تھا۔ اور وجہ یہ تھی کیونکہ ہمیں ان پر یہ شبہ ہو رہا تھا کہ آخر وہ ان لوگوں سے نمٹنے آگے کیوں نہیں آ رہے تھے۔ پاکستان دنیا کے لئے ایک مہلک خطرہ بنا ہوا ہے۔ لیکن اب ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے۔ کسی حد تک ہمیں بھی اس میں معاونت کرنے کی ذمہ داری قبول کرنا چاہیے۔ ہماری پاکستان میں جانے اور نکل آنے کی ایک تاریخ ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جن لوگوں سے آج لڑ رہے ہیں۔ ہم نے بیس سال قبل ان کی مالی معاونت کی تھی۔ اور ہم نے یہ اس لئے کیا تھا کیونکہ ہم سو ویت یونین کے ساتھ محاذ آرا ئی میں بندھے ہوۓ تھے۔ انہوں نے افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور ہم وسط ایشیا پر ان کا کنٹرول دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ اور ہم اس کے خلاف کام کرنے آ گیے  تھے۔ اور یہ صدر ریگن تھے۔ جنہوں نے کانگرس میں ڈیموکریٹ کے ساتھ مل کر کہا کہ یہ کتنا اچھا آئیڈ یا ہے کہ آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج سے ڈیل کی جاۓ اور ان مجاہدین کو بھرتی کیا جاۓ۔ انہیں سعودی عرب اور دوسرے ملکوں سے آنے دیا جاۓ۔ ان کے وہابی برانڈ اسلام کو درآمد ہونے دیا جاۓ۔ اور پھر ہم سو ویت یونین کو شکست دے سکتے ہیں۔ اور پھر کیا ہوا۔ سو ویت دستبردار ہو گیے تھے۔ انہیں کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اور اس کے نتیجے میں سو ویت یونین ختم ہو گیا تھا۔ چنانچہ یہ بہت مضبوط دلیل ہے کہ سو ویت یونین کو شکست دینے میں یہ انویسمینٹ برا نہیں تھا۔ لیکن اس میں ذرا محتاط ہونا  چاہیے۔ ہم نے جو بویا تھا۔ اس کی یہ فصل تھی۔
       چنانچہ ہم پاکستان سے چلے گیے تھے۔ ہم نے کہا Okay fine اب تم Stingers سے ڈیل کرو۔ جو ہم ہر طرف تمہارے ملک میں چھوڑ گیے تھے۔ تم Mines سے ڈیل کرو جو تمہاری سرحد پر ہیں۔ اور یہ کہ ہم تم سے کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہم تم پر بندشیں لگا رہے ہیں۔ تاکہ ہمارا پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی سے تعلق ختم ہو جاۓ۔ اور ہم نے جو وقت گنوار دیا تھا۔ اب اسے پورا کر رہے ہیں۔

       امریکہ نے اپنے دروازے جب بند کر دئیے تھے۔ تو پھر پاکستان میں سعود یوں اور خلیج کے حکمرانوں کے مفادات کے دروازے کھل گیے تھے۔ اور پاکستان کی قیادت اب ان کے مفادات میں کام کرنے لگی تھی۔ سعودی اور خلیج کی ریاستوں کو یہ خدشہ تھا کہ سو ویت یونین ختم ہونے کے بعد وسط ایشیا کی نو آزاد ریاستوں میں امریکہ کی دلچسپی بڑھ رہی تھی۔ اور انہیں خلیج میں امریکہ کی دلچسپی ختم ہوتی نظر آ رہی تھی۔ وسط ایشیا تیل اور قدرتی گیس کے وسائل سے مالا مال تھا۔ اور امریکہ کو ان وسائل کا استحصال کرنے کے سنہری مواقع دکھائی دے رہے تھے۔ کلنٹن انتظامیہ نے بحرہ کسپین اور وسط ایشیا کو  امریکہ کے مفادات میں شامل کر لیا تھا۔ اس سیاست کے پس منظر میں خلیج کی ریاستوں نے پاکستان کے ذریعے افغانستان میں جہادیوں کو وسط ایشیا میں اپنی وہابی تحریک میں استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور اس طرح وسط ایشیا کو عدم استحکام کیا جا رہا تھا۔ تاکہ امریکہ پھر وسط ایشیا کی طرف رخ نہیں کرے گا اور خلیج میں امریکہ کے مفادات ان کے مفادات سے منسلک رہیں گے۔ اس مقصد میں خلیج کے حکمرانوں نے پاکستان میں کھربوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ پاکستان کی مدد سے افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ سعودی عرب، کویت اور خلیج کے دوسرے ملکوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کرلیا تھا۔ پاکستان اب ایک طرف اسلامی انتہا پسندوں میں پھنس گیا ہے۔ اور دوسری طرف پاکستان بیرونی مفادات کی سیاسی دلدل میں دھنس گیا ہے۔                                               

Saturday, February 6, 2016

The Military Industrial Complex And Their Wealthy Arab Allies Are Corrupting The Young In The Islamic World

           Terrorism Is A Corruption Of Money And Weapons

The Military Industrial Complex And Their Wealthy Arab Allies Are Corrupting The Young In The Islamic World

مجیب خان    


         برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ Philip Hammond نے امان اردن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں۔ روسی اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ فلیپ نے کہا صدر پوتن شام میں خانہ جنگی ختم کرانے کی کوششوں کو اسلامی ریاست کے مخالفین پر بمباری کر کے سبوتاژ کر رہے ہیں۔ اور بشر السدد کو سہارا دے رہے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ فلیپ نے خانہ جنگی ختم کرانے کے ایک سیاسی عمل پر صدر پوتن کو لتاڑتے ہو ۓ کہا کہ جبکہ اسد کے ان مخالفین پر بمباری کی جا رہی ہے جن سے مغرب کو شام میں صدر کے جانے کے بعد شام کی تشکیل نو کی امیدیں ہیں۔ ستمبر میں جب سے روس نے بمباری شروع کی ہے پوتن نے جنگ کا جھکاؤ اسد کی حمایت میں کر دیا ہے۔ 2015 کے ابتدا میں اسے جو بڑے دھچکے پہنچے تھے۔ باغی گروپ جو اسد کے Alawite فرقہ کے بالکل قریب پہنچ  گیے تھے۔ مجھے یہ دکھ ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے تھے۔ روسیوں نے اسے سبوتاژ کیا ہے۔
      اور یہ Typical مغرب ہے۔ جو الزام بازی اور پراپگنڈہ میں خاصی مہارت رکھتا ہے۔ حالانکہ یہ صدر پوتن ہیں جنہوں نے مغرب کے ضمیر کو زندہ کیا ہے۔ جو پانچ سال سے شام تباہ ہونے کا تما شہ دیکھ رہا تھا۔ تین لاکھ بےگناہ شامی اس خانہ جنگی میں ہلاک ہو گیے ہیں۔ لیکن مغرب نے پانچ سال میں کبھی سیاسی عمل کی بات نہیں کی تھی۔ مغرب شام میں دہشت گردوں کی پشت پنا ہی کر رہا تھا۔ انہیں ہتھیار اور تربیت دی جا رہی تھی۔ لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں دہشت گردی کے خلاف مغرب کا جنگ کا ڈرامہ جاری تھا۔ آئرش باغیوں کی ایک ایسی خانہ جنگی کے خلاف برطانیہ کیا کرتا ؟ اور آئرش باغیوں کو جو تربیت اور ہتھیار دیتے ان کے خلاف برطانیہ کیا کرتا ؟ ہزاروں میل دور دوسرے ملکوں میں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ کس ضمیر سے برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ اردن میں بیٹھ کر یہ باتیں کر رہے تھے۔ جبکہ ان کی حکومت یمن میں سعودی جا حا ریت کی پشت پنا ہی کر رہی ہے۔ غریب اور نہتے یمنیوں کو ہلاک کرنے کے لئے سعود یوں کو ہتھیار دے رہی ہے۔ دنیا میں قانون جا حا ریت رائج ہو گیا ہے۔ جن کے پاس ہتھیار ہیں وہ جا حا ریت اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بشر السد بڑا ظالم اور ڈکٹیٹر ہے۔ ہزاروں شامیوں کو اس نے ہلاک کیا ہے۔ لیکن سعودی یمن میں لوگوں کی زندگیوں میں کیا خوشحالی بکھیر رہے ہیں۔ ایک سال میں انہوں نے چار ہزار یمنی ہلاک کیے ہیں۔ جو بالکل بے گناہ تھے۔ ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ سعودی ان پر جسے صدر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یمنیوں کو قبول نہیں ہے۔ دوسرے ملکوں میں اپنی پسند کی حکومتیں مسلط کرنا کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کا کلچر ہے۔ اس لئے وہ سعود یوں کو اپنے کلچر میں خوش آمد ید کر رہے ہیں ۔ اور سعود یوں کے غیر قانونی حملہ کی حمایت کر رہے ہیں۔
       بشر السد حکومت شام کی قانونی حکومت ہے۔ عالمی برادری نے اس حکومت کو تسلیم کیا ہے۔ د مشق میں ان کے سفارتی مشن کام کر رہے ہیں۔ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا اس حکومت کا قانونی اور آئینی فرض ہے۔ سعودی، خلیج کی حکومتیں، ترکی، امریکہ، برطانیہ، فرانس سب شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ لیکن تکلیف اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیج کی حکومتیں قدامت پسند اسلامی حکومتیں ہیں۔ یہ ایران کو ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام دیتے ہیں کہ ایران شیعاؤں کو ان کے خلاف اکسا رہا ہے۔ لیکن یہ خود شام میں مداخلت کر رہے ہیں اور مختلف فرقوں کو آپس میں لڑ وا رہے ہیں۔ عراق پر اینگلو امریکہ کے فوجی قبضہ کے خلاف عراقیوں کی بغاوت جائز اور قانونی تھی۔ لیکن عراقیوں کی بغاوت کو اینگلو امریکہ نے کس طرح بھر پور فوجی طاقت سے کچل نے کی کوشش کی تھی۔ ابو غریب جیل میں ان کے فوجیوں نے عراقیوں کے ساتھ کس طرح کا بر تاؤ کیا تھا۔ رمادی، فلوجہ، موصل اور عراق کے دوسرے شہروں میں ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ ہزاروں عراقی ان کے فوجی آپریشن میں مار دئیے گیے تھے۔ اگر روس باغیوں کی اس طرح پشت پنا ہی کرتا اور تین لاکھ شامی مارے گیے ہوتے تو مغربی طاقتوں کا رد عمل کیا ہوتا۔
       پانچ سال سے یہ مغربی طاقتیں شام میں خانہ جنگی ختم کرانے میں کچھ نہیں کر رہی تھیں۔ عربوں سے صرف ڈالر لے رہی تھیں۔ اور باغیوں اور دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرتی تھیں۔ انہیں تربیت دی جاتی تھی۔ یہ باغی پھر داعش کے ساتھ مل جاتے تھے۔ شام میں خانہ جنگی اسد حکومت کے خلاف ہو رہی ہے۔ اور جنگ داعش کے خلاف ہو رہی ہے۔ بائیس اسلامی انتہا پسند گروپ اسد حکومت کے خلاف خانہ جنگی کر رہے ہیں۔ اور امریکہ کی سرپرستی میں بائیس اسلامی ملکوں کا اتحاد شام میں داعش کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ دنیا نے ماضی کی کئی صدیوں میں انسانیت کے ساتھ ایسا مذاق نہیں دیکھا ہو گا ۔  برطانیہ کے  سیکرٹیری خارجہ کہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں۔ روسی اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ روسی انسانیت کو ایک بڑے نقصان سے بچا رہے ہیں۔ شام میں بے گناہ شہریوں کے مرنے کی تعداد جب پانچ ہزار پر پہنچ گئی تھی۔ مغربی طاقتوں کو باغیوں کی پشت پنا ہی ختم کر کے شام میں ایک سیاسی حل کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ جو انسانیت کو بچانے کا راستہ تھا۔ لیکن شام میں شہریوں کے مرنے کی تعداد 5 ہزار سے 10 ہزار ہو گئی تھی پھر 50 ہزار سے ایک لاکھ ہو گئی پھر دو لاکھ ہو گئی پھر تین لاکھ شامی اس خانہ جنگی میں ہلاک ہو گیے تھے۔ لیکن مغربی طاقتیں انتہا پسندوں کو ہتھیار فراہم کرتی رہیں۔ اور خانہ جنگی جاری رکھنے میں مدد کرتی رہیں۔ شامی مہاجرین کی سو نامی جب یورپ میں داخل ہوئی تھی تب انہیں شام کی خانہ جنگی کے خطرناک اثرات کا احساس ہوا تھا۔ جس کے بعد یورپ کو اس صورت حال سے بچانے کے لئے روس کو شام میں فوجی مداخلت کرنا پڑی ہے۔ تاہم سیکرٹیری خارجہ فلیپ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ "جو کچھ" کیا کر رہے تھے؟
       ایک شخص کو خانہ جنگی کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے یا غیرملکی فوجی مہم جوئیوں کے ذریعے حکمرانوں کو اقتدار سے معزول کرنے سے حالات کبھی بہتر نہیں ہوتے ہیں۔ عراق اور لیبیا میں یہ تجربے کر لئے گیے ہیں۔ ان ملکوں میں لوگوں کو ڈکٹیٹروں سے زیادہ خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شام میں اسد حکومت ختم ہونے کے بعد خانہ جنگی ختم نہیں ہو گی۔ بلکہ خانہ جنگی کی سو نامی لبنان کا رخ کرے گی۔ اور مصر بھی اس کے لپیٹ میں آۓ گا۔ مصر میں اس وقت عارضی استحکام ہے۔ اور شام کے حالات پر اس کا دارو مدار ہے کہ یہ کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ روس کے خدشات اس بحران کے آغاز سے درست تھے۔ انہوں نے شام کے بحران پر ایک درست موقف اختیار کیا تھا۔ روس اور چین نے شام کے مسئلہ پر امریکہ کی دو قراردادوں کو ویٹو کیا تھا۔ اور شام میں اس وقت ایک سیاسی حل پر زور دیا تھا۔ جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ امریکہ برطانیہ اور فرانس نے خلیج کے حکمرانوں کے ساتھ کھربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدے کیے تھے۔ جو ایک طرح سے بشر السد کے سر کی قیمت تھی۔ جس کے بعد Assad has to go ہونے لگا تھا۔ دنیا میں ڈالر اور ہتھیار سب سے بڑا کرپشن ہے۔ جو انسانیت کو تباہ کر رہا ہے۔        

Tuesday, February 2, 2016

This Is Washington, Where Jesus Or Moses Would Be Doing What Every President Does

Senator Obama Opposed The Attack On Iraq, But President Obama Supported The Attack On Libya

This Is Washington, Where Jesus Or Moses Would Be Doing What Every President Does

مجیب خان  


      امریکہ میں صدارتی انتخابات اب پرائمریز کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ پرائمریز کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد رپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار سامنے آئیں گے۔ اور اس کے بعد پھر صدارتی انتخابی مہم شروع ہو گی۔ صدارتی انتخابات 4 نومبر کو ہوں گے۔ امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ عوام اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ عوام نے آٹھ سال جارج بش کی انتظامیہ دیکھی ہے۔ اور سات سال سے اوبامہ انتظامیہ کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ دونوں انتظامیہ لوگوں کی زندگیوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں لائی ہیں۔ لوگوں کو اب یہ اعتماد نہیں ہے کہ آئندہ جو بھی صدر منتخب ہو گا۔ وہ سابقہ دو صدروں سے مختلف ہو گا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں ہلری کلنٹن برنی سینڈ ر اور مارٹن او ما لے میں مقابلہ ہے۔ جبکہ ریپبلکن پارٹی کے بارہ صدارتی امیدوار ہیں۔ لیکن اصل مقابلہ ڈ ونالڈ ٹرمپ اور Ted Cruz میں ہے۔ باقی امیدوار دو تین پرائمری کے نتائج دیکھنے کے بعد دستبردار ہوتے جائیں گے۔
      ڈونالڈ ٹرمپ کھرب پتی Real Estate Developer ہیں۔ سیاست میں کبھی سرگرم نہیں تھے۔ نہ ہی کبھی الیکشن لڑا تھا۔ پندرہ سال سے جنگوں میں امریکہ کی تباہی دیکھ رہے تھے۔ اور اب وہ امریکہ کو جنگوں سے نکالنے اور امریکہ کی تعمیر نو کا منصوبہ لےکرانتخابی سیاست میں آۓ ہیں۔ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کھرب پتی اپنے امیدوار کو جتانے کے لئے کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کیونکہ خود کھرب پتی ہیں۔ لہذا وہ اپنی انتخابی مہم پر اپنے کھربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ اور عوام اسے ایک بڑی تبدیلی سمجھ رہے ہیں۔ "امریکہ پہلے" ان کی انتخابی سیاست کا نعرہ ہے۔ مشرق وسطی کو عدم استحکام کرنے کا ذمہ دار ڈونالڈ ٹرمپ بش اور اوبامہ انتظامیہ کو ٹھہراتے ہیں۔ امریکہ کی جو کمپنیاں اور صنعتیں دوسرے ملکوں میں منتقل ہو گئی ہیں۔ انہیں واپس امریکہ لانے اور امریکہ کو دوبارہ "میڈ ان امریکہ" بنانے کا امریکی عوام سے وعدہ کر رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا کیونکہ واشنگٹن کی اسٹبلشمینٹ سے تعلق نہیں ہے۔ اس لئے بھی لوگوں کا جھکاؤ ان کی طرف ہو رہا ہے۔
       براک اوبامہ امریکہ کے پہلے بلیک صدر ہیں۔ اور سات سال قبل وہ بھی اپنی صدارتی انتخابی مہم میں ایسی ہی باتیں اوروعدے  کر رہے تھے۔ براک اوبامہ اس وقت سینٹر تھے۔ ان سے قبل جارج بش نے بھی امریکی عوام کو ایسے ہی سہا نے خواب دکھاۓ تھے۔ لیکن بش انتظامیہ کے آٹھ سال جنگوں میں گزرے تھے۔ سینٹر اوبامہ انتخابی مہم میں بش انتظامیہ کی افغان اور عراق پالیسی پر شدید تنقید کر رہے تھے۔ افغانستان کے بارے ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا موقف بیان نہیں کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے بارے میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ کھل کر بات نہیں کر رہے ہیں۔ صرف مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کی تجویز دی ہے۔ حالانکہ ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے ہر مباحثہ میں زیادہ وقت اسلامی ریاست کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کے بارے میں سوال کیے جاتے تھے۔ لیکن ڈونا لڈ ٹرمپ گول مول جواب دیتے تھے۔ جبکہ دوسرے صدارتی امیدوار اسلامی ریاست کے خلاف فوجی کاروائی کی حمایت میں تھے۔ خدا کا شکر ہے Jeb Bush صدارتی انتخابی مہم سے خارج ہونے والے ہیں۔ اگر وہ فرنٹ لائن امیدوار ہوتے اور خدا نا خواستہ صدر منتخب ہو جاتے۔ تو شاید تیسری عالمی جنگ ان کی انتظامیہ میں یقینی ہو جاتی۔ Jeb Bush یوکرین کے مسئلے پر یورپ میں فوجیں بھیجنے کے حق میں تھے۔ مشرق وسطی میں سیاسی اصلاحات کے بارے میں ہلری کلنٹن سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ عرب دنیا کو جمہوریت اور فریڈم کا نظام دینے کے منصوبہ میں امریکہ کیوں ناکام ہو گیا ہے؟ جبکہ ریپبلیکن پارٹی کے امیدواروں کی اکثریت مشرق وسطی میں صرف فوجی حل کی حمایت میں تھے۔ پندرہ سال سے امریکہ کو فوجی حل کی کوششوں میں بری طرح ناکامی ہو رہی ہے۔ لیکن کسی صدارتی امیدوار نے مشرق وسطی میں سیاسی حل کی طرف آنے کا مشورہ د یا ہے اور نہ ہی سیاسی حل کے سلسلے میں تجویز دی ہے۔ تمام صدارتی امیدوار سواۓ ایک دو کے سب صرف فوجی حل کے عزم کا اظہار کر رہے تھے۔
        صد ر براک اوبامہ نے امریکہ کا پہلا بلیک صدر منتخب ہو کر ایک نئی تاریخ لکھی تھی۔ اور اب پہلی خاتون صدر بننے کی تاریخ ہلری کلنٹن بنانے جا رہی ہیں۔ امریکہ کی خاتون اول سے اب تک ہلری کلنٹن نے اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہے۔ تاہم ان کے کچھ غیر مقبول فیصلے ہیں۔ جنہیں زیادہ فوکس نہیں کیا جا رہا ہے۔ سینٹر ہلری کلنٹن نے صدر بش کے عراق پر حملہ کرنے کے  فیصلے کی حمایت میں سینٹ میں ووٹ دیا تھا۔ سینٹر کلنٹن اس وقت صورت حال کا تجزیہ کرنے میں غلط ثابت ہوئیں تھیں۔ جس کی امریکہ کو ایک بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ پھر صدر اوبامہ انتظامیہ میں سیکرٹیری آف اسٹیٹ ہلری کلنٹن نے لیبیا میں قدافی حکومت کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی حمایت کی تھی۔ ہلری کلنٹن کے یہ فیصلہ علاقائی استحکام اور امن کے لئے تباہ کن ثابت ہوۓ ہیں۔ پھر امریکہ کا عرب دنیا میں جمہوریت اور آزادی پھیلانے کی تحریک بھی بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس تحریک پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ عرب اسپرنگ سے عرب دنیا میں کروڑوں لوگوں کا مستقبل روشن ہو جاتا۔ عرب نوجوانوں کو بھی امیدوں کا ایک نیا سورج طلوع ہوتا نظر آ رہا تھا۔ لیکن پھر امریکہ کے واچ میں مصر میں جمہوریت اور آزادی کی روشنیاں بجھا دی گئی ۔ فوجی آمریت پھر بحال ہو گئی تھی۔ امریکہ فوجی آمریت کے ساتھ  پھر کھڑا تھا۔ عرب اسپرنگ میں امریکہ نے جن کی حمایت کی تھی وہ جیلوں میں تھے ۔ پھانسی کے پھندوں کا انتظار کر رہے تھے۔ اگر امریکہ کا صدر بن کر ہلری کلنٹن اس طرح فیصلے کریں گی تو دنیا کے ہر کونے میں دہشت گرد ہوں گے۔ کوئی خلافت قائم کر رہا ہو گا اور کوئی رومن ایمپائر قائم کر رہا ہو گا۔ عراق پر حملہ کو داعش کے وجود میں آنے کا سبب بتایا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سبب شاید مصر میں جمہوریت اور آزادی پر تالے لگانا ہے۔ مصر میں جمہوریت کو اگر موقع دیا جاتا تو شاید داعش بھی وجود میں نہیں آتی۔ جمہوریت اور آزادی پر تالے ڈال دئیے گیے ہیں اور صرف جنگوں کے گیٹ کھول دئیے ہیں۔ داعش ان جنگوں سے وجود میں آئی ہے۔ اور یہ امریکی پالیسیوں کی مسلسل ناکامیاں ہیں۔ جن کا رد عمل اب صدارتی انتخابات میں امریکی عوام کے عدم دلچسپی میں نظر آ رہا ہے۔
       ہر صدارتی انتخاب میں دونوں پارٹیوں کے امیدوار عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں۔ برسراقتدار انتظامیہ پر تنقیدیں کرتے ہیں۔ اس کی خارجہ پالیسی میں انہیں خا میاں نظر آتی ہیں۔ امیر اور غریب میں بڑھتا ہوا فرق بھی نظر آنے لگتا ہے۔ لیکن پھر دیکھا یہ جا رہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے دور میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو گیے ہیں۔ بیس سال میں تقریباً چالیس ملین امریکی غربت کی لکیر سے نیچے آ گیے ہیں۔ دونوں پارٹیوں نے جنگوں سے تنازعہ اور خطرات دور کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ سینیٹر اوبامہ نے سینٹ میں عراق پر حملہ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ لیکن پریذیڈنٹ اوبامہ نے لیبیا پر حملہ کی حمایت کی تھی۔ سینیٹر اوبامہ نے سینٹ میں عراق پر حملہ کی مخالفت کی تھی وہ درست فیصلہ تھا ۔ صدر اوبامہ نے وائٹ ہاؤس میں لیبیا پر حملہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا۔ وہ بھی درست فیصلہ تھا ۔ دونوں فیصلے درست کیسے ہو سکتے  ہیں؟ جبکہ صدام حسین بھی ڈکٹیٹر تھے اور معمر قدافی بھی ڈکٹیٹر تھے۔ لیکن دونوں ملکوں کے خلاف Preemptive Strike عالمی قانون کی  خلاف ورزی تھی۔ صدر اوبامہ نے 2008 میں صدارتی انتخابات کی مہم میں واشنگٹن کو تبدیل کرنے کا وعدہ امریکی عوام سے کیا تھا۔ لیکن واشنگٹن نے صدر اوبامہ کو تبدیل کر دیا تھا۔ اس لئے خدا نے بھی وائٹ ہاؤس کے لئے فرشتہ امیدوار بھجنے کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
       صدر اوبامہ امریکہ کے پہلے بلیک صدر تھے۔ انہیں اپنی خارجہ پالیسی میں حقوق اور انسانیت کے بارے میں مارٹن لو تھر کنگ کے فلسفہ انسانیت اور حقوق کو خصوصی اہمیت دینا چاہیے تھی۔ اور مشرق وسطی میں بالخصوص فلسطائن میں سیاسی حالات کو پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں امریکہ میں Civil Right تحریک کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے تھا۔ اس خطہ کے لوگوں کو بھی صدر اوبامہ سے یہ ہی توقع تھی کہ د نیا کے محکوم اور حقوق سے محروم لوگوں کے لئے وہ مارٹن لو تھر کنگ ہوں گے۔ صدر اوبامہ کو مارٹن لوتھر کنگ کے سیاسی نظریات کو Internationalize کرنے کا سنہری موقع ملا تھا۔ لیکن صدر اوبامہ واشنگٹن کی Typically Polluted سیاست سے خود کو آزاد نہیں کرسکے تھے۔ امریکہ کا آئندہ صدر جس پارٹی کا بھی ہو گا۔ بش اور اوبامہ کی پالیسیوں کو جاری ر کھے گا۔ ان میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آۓ گی۔                              

Saturday, January 30, 2016

The Rise of Ultra-Right Nationalism, Neo-Nazism In Europe, And Daesh In The Middle East

       

Saddam Hussein, Hitler, 1930, And The Appeasement

The Rise of Ultra-Right Nationalism, Neo-Nazism In Europe, And Daesh In The Middle East

“Don’t Wait For The Mushroom Cloud”

مجیب خان  


            صدام حسین کو اگر اقتدار میں رہنے دیا گیا تو صدام حسین عالمی سلامتی کے لئے خطرہ بنے رہیں گے۔ اس لئے انہیں اقتدار سے ہٹانا ضروری ہو گیا ہے۔ اور یہ عراق پر حملہ کرنے کے لئے بش انتظامیہ کی دلیل ہوتی تھی۔ تاہم اصل حقائق اس دلیل کے برخلاف تھے۔ 2003 میں صدام حسین کو جب اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ دنیا کو اس وقت ان خطروں کا سامنا نہیں تھا جن کا 2016 میں اب دنیا کو ہے۔ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے سے انسانیت کے لئے سنگین خطرے پیدا ہو گۓ ہیں۔ عالمی سلامتی ہر طرف سے خطروں میں گھری ہوئی ہے۔ اور اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صدام حسین عالمی سلامتی کے لئے خطرہ تھے اور نہ ہی انسانیت کو ان سے کوئی خطرہ تھا۔ یہ صرف ان کا پراپگنڈہ تھا۔ جن کا عالمی سلامتی اور انسانیت کے لئے خطرے پیدا کرنے کا ایجنڈا تھا۔ اور انہوں نے اپنے ایجنڈہ پر عملدرامد کے لئے صدام حسین کو ٹارگٹ بنایا تھا۔ اور وہ اپنے اس ایجنڈہ میں کامیاب ہو گۓ ہیں۔ عالمی سلامتی اس وقت انسانی خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس سلسلہ کا آغاز بش انتظامیہ میں ہوا تھا۔ اور اوبامہ انتظامیہ میں اسے فروغ ملا ہے۔ عالمی سلامتی کو آج زیادہ خطروں کا سامنا ہے۔ اور انسانیت کو بچانے میں کچھ نہیں کیا گیا ہے۔
        نائین ایلون کے بعد امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اتحاد بنا تھا۔ امریکہ کے حامی اور مخالف ہر ملک نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں امریکہ سے مکمل تعاون کیا تھا۔ ان ملکوں کی ایجنسیوں نے امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تعاون کیا تھا اور انہیں دہشت گردوں کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ بش انتظامیہ میں جن دہشت گردوں کو پکڑا تھا۔ ان میں کچھ کو پوچھ گچھ کے لئے شام، لیبیا، مصر اور اردن کی حکومتوں کے حوالے کیا تھا۔ یہ ملک دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں اس قدر سنجیدہ اور مخلص تھے۔ لیکن دنیا نے پھر دیکھا کہ جن ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف جس قدر تعاون کیا تھا۔ وہ ملک دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار بنے ہیں۔ معمر قدافی کو دہشت گردوں سے قتل کروایا گیا تھا۔ اور ان کے ملک کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا تھا۔ شام کو دہشت گردوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر بنا دیا ہے۔
       افغانستان میں طالبان عالمی دہشت گردی کا کبھی بھی حصہ نہیں تھے۔ طالبان افغانستان کی خانہ جنگی میں ایک پارٹی تھے۔ ان کا القاعدہ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ یورپ اور شمالی امریکہ سے بڑی تعداد میں داعش کے ساتھ لڑنے کے لئے شام گۓ تھے۔ لیکن افغانستان سے طالبان خود گیے ہیں اور نہ ہی انہوں نے افغانوں کو داعش میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان نے طالبان کے خلاف امریکہ اور نیٹو سے تعاون کیا تھا۔ لیکن اس تعاون کے نتیجہ میں پاکستان کو پاکستانی طالبان ملے تھے۔ جن سے فوج اب لڑ رہی ہے۔ اس وقت جو شواہد ہیں انہیں دیکھ کر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دہشت گردی ختم کرنے کی جنگ ہے۔ 2003 میں شمالی افریقہ میں ایسے انتہا پسند گروپ نہیں تھے۔ جن کا شمالی افریقہ کو اس وقت سامنا ہے۔ حما س اور حزب اللہ ان انتہا پسند گروپوں کے مقابلے میں بہت پرامن انتہا پسند ہیں۔ جن کی عرب ملکوں اور شمالی افریقہ میں کہیں کوئی برانچ  نہیں ہے۔ حما س اور حزب اللہ داعش کے خلاف ہیں اور القاعدہ سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اسرائیل سے اپنے حقوق کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔ اس لئے انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
        بہرحال اب سوال یہ ہے کہ داعش کون وجود میں لایا ہے؟ کیا امریکہ کی انٹیلی جنس ایک بار پھر فیل ہو گئی ہے۔ داعش جہاد یوں کی ایک فوج ہے۔ جس کے پاس ٹینک اور فوجی ٹرکوں کی ایک فلیٹ ہے۔ اور یہ conventional ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔ اسلامی ریاست کے قیام سے پہلے انہیں اسلامی ریاست کی فوج کس نے بنایا ہے؟ داعش کا وجود میں آنا ایک بہت بڑا آپریشن تھا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ امریکہ کی 36 انٹیلی جنس ایجنسیوں کو داعش کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ خطہ میں امریکہ کے اتحاد یوں کی انٹیلی جنس بھی اس سے بالکل بے خبر تھی۔ اردن کی انٹیلی جنس، اسرائیلی انٹیلی جنس، ترکی کی انٹیلی جنس، عرب ملکوں میں فرانس کے سفارت خا نے میں انٹیلی جنس چیف ،برطانیہ کے سفارت خا نے میں انٹیلی جنس چیف کسی کو بھی داعش کے وجود میں آنے کی خبر نہیں تھی۔ 15 سال سے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن انہیں دہشت گرد گروپ وجود میں آنے کے بعد اس کا پتہ چلتا ہے۔ نائین ایلون کے بارے میں بش انتظامیہ نے انٹیلی جنس فیل ہونے کا اعتراف کر لیا تھا۔ عراق پر حملہ کرنے کے بعد یہ کہا گیا تھا کہ عراق میں مہلک ہتھیاروں کے بارے میں انٹیلی جنس نے غلط رپورٹیں دی تھیں۔ یہ انٹیلی جنس بار بار فیل ہو جاتی ہے اور  دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔
        لیکن داعش کے بارے میں انٹیلی جنس کیسے فیل ہوئی ہے۔ اوبامہ انتظامیہ کو اس کی وضاحت کرنا ہو گی۔ اور یہ بھی بتانا ہو گا کہ کن ملکوں نے داعش کے قیام میں معاونت کی تھی؟ داعش کے پاس فنڈ کہاں سے آۓ تھے؟ داعش کو فوجی تربیت کس نے دی تھی؟ اور کس ملک میں دی گئی تھی؟ مغربی میڈیا میں داعش کو اتنی زیادہ شہرت کیسے دی ہے؟ کہ یورپ میں یہ نوجوان مسلمانوں میں مقبول ہو گئی تھی۔ اور بڑی تعداد میں لڑکے اور لڑکیاں داعش میں شامل ہو رہے تھے۔ اور شام میں داعش کے ساتھ جہاد کرنے جا رہے تھے۔ مختلف اسلامی ملکوں میں داعش کی برانچیں کھلنے کی خبریں بھی شہ سرخیاں بن رہی تھیں۔ لیکن حقیقت میں یہ صرف پراپگنڈہ  تھا۔ افغانستان اور پاکستان میں زبردستی داعش کا وجود ثابت کیا جا رہا ہے۔ بلکہ وسط ایشیا اور چین کی سرحدوں کے قریب داعش کا وجود بتایا جا رہا ہے۔ اور اب یورپ میں داعش کے سیل قائم ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ لیکن یورپ میں داعش کا قیام اسلامی دنیا میں داعش کے قیام سے زیادہ خطرناک ہو گا۔ اسلامی ریاست " فاشسٹ " نظریات میں یقین رکھتی ہے۔ اور یورپ میں فاشسٹ نظریات ابھر رہے ہیں۔
        یورپ میں ultra-right، نیشلسٹ اور neo-Nazi مقبول ہو رہے ہیں۔ جس طرح مسلمان نوجوان داعش سے متاثر ہوۓ ہیں۔ اسی طرح یورپ میں نوجوان ultra-right، نیشلسٹ اورneo-Nazi سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تقریباً ستر سال بعد جرمنی میں Adolf Hitler کی تحریروں پر سے پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ Hitler کی Mein Kampf {میری جدوجہد} شائع کی گئی ہے۔ اس کی چار ہزار کاپیاں شائع ہوئی تھیں اور یہ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گئی تھیں۔ دنیا کے موجودہ حالات میں ایک مردہ ہٹلر زندہ ہٹلر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا۔ ابھی صرف چودہ سال قبل صدام حسین کو دنیا کے لئے ہٹلر ثابت کیا جا رہا تھا۔ اب خطرہ یہ ہے کہ یورپ میں اگر داعش کا ultra-right، نیشلسٹ اور neo-Nazi کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہو گیا  تو پھر خطروں سے بھری دنیا کا نقشہ کیا ہو گا ؟

          

Tuesday, January 26, 2016

This Is Not Working

This Is Not Working


Pakistan Is Serious In Helping Afghanistan, Afghanistan Is Cooperating With India, India Is Using Afghanistan Against Pakistan, And America Is Backing India

مجیب خان


 Former Afghan President, Hamid Karzai, Meets With George W. Bush and Pakistan's General Musharraf
Pakistani Prime Minister, Nawaz Sharif
Indian Prime Minister, Narendra Modi
Current Afghan President, Ashraf Ghani
          فوجی قیادت جتنے فخر سے دہشت گردی کے خلاف اپنے مشن ضرب عضب  کامیاب ہو نے کا بتا  رہی ہے۔ اور سال کے آخر تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو نے کا قوم کو پیغام دے رہی ہے۔ لیکن پھر دیکھا یہ جا رہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں میں دہشت گردی کے آگے پیچھے کئی خوفناک واقعات ہوۓ ہیں جن میں سینکڑوں لوگ مارے گیے ہیں۔ اور ایسا نظر آ رہا ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات سے پاکستان کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جب دہشت گردوں سے کہا جاۓ گا پاکستان میں دہشت گردی اس وقت ختم ہو گی۔ بھارت میں پٹھان کوٹ کے فوری بعد چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردی کے حملہ میں 20 سے زیادہ لوگ مارے گیے ہیں۔ تعلیمی اداروں پر دہشت گردوں کا یہ حملہ پہلا نہیں ہے۔ اور شاید آخری بھی نہیں ہے۔
      اہل وطنوں۔ پاکستان کے دشمن ہر طرف ہیں۔ یہ نفسا نفسی کی دنیا ہے۔ اسلامی برادری یا اسلامی رشتہ آج کی دنیا میں کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے خطہ اسلامی عرب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جہاں مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسلامی یکجہتی میں اسلام کو فیل کر دیا ہے۔ پاکستان نے اپنے مسلمان افغان بھائیوں کے لئے زبردست  قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان 35 سال سے افغانوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاۓ ہوۓ ہے کہ یہ ہمارے اسلامی برادر ہیں۔ لیکن یہ اسلامی برادر بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے کمر میں چھرے گھونپ رہے ہیں۔ لعنت ہے ایسے اسلامی برادروں پر۔
      افغانستان میں طاقتور ملکوں کا فوجی اتحاد نیٹو طالبان کی دہشت گردی ختم کرنے میں نا کام ہو گیا ہے۔ بش اور اوبامہ دو امریکی انتظامیہ افغانستان میں ناکام ہو گئی ہیں۔ کرزئی حکومت دس سال اقتدار میں رہی ہے۔ لیکن وہ بھی ناکام ہو گئی تھی۔ اب اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی حکومت کو دو سال ہو گیے ہیں۔ لیکن یہ حکومت بھی زیادہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ افغانستان کی اس صورت حال میں پاکستان کا ایک اہم رول تسلیم کیا گیا ہے۔ اور افغانستان میں سیاسی استحکام کے لئے اب پاکستان پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ پہلے افغانستان پر حملہ کرنے کے لئے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ بنایا تھا۔ اور اب افغانستان کو استحکام دینے کے لئے پاکستان کو فرنٹ لائن پر کھڑا کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان سے بھارت میں دہشت گردوں کے خلاف چوکیداری کرنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔
       جب میں روزنامہ جنگ میں لکھتا تھا۔ اس وقت 2004 میں میں نے یہ لکھا تھا کہ بش انتظامیہ پاکستان کو ایک خطرناک وار گیم میں پھنسا رہی ہے۔ اور ایک بار پاکستان اگر اس وار گیم میں پھنس گیا تو اس سے نکلنا پاکستان کے لئے بہت مشکل ہو گا۔ اور یہ وار گیم امریکہ کی دہشت گرد کے خلاف جنگ کو پاکستان کی جنگ بنانا تھا۔ امریکہ اور بھارت کے strategic تعلقات کا آغاز ہو رہا تھا۔ بش انتظامیہ نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ستر ہزار فوج بھارت کے ساتھ سرحدوں سے ہٹا کر افغانستان کے ساتھ شمالی سرحد پر لگانے کے لئے کہا تھا۔ تاکہ طالبان اور القاعدہ کا سرحدی علاقوں میں مقابلہ کیا جاۓ۔ یہ دیکھ کر اس وقت شبہ ہونے لگا تھا کہ اب بھارت اور امریکہ افغانستان سے دہشت گردوں کو پاکستان کی طرف دھکیلیں گے۔ اور پھر پاکستان میں دھماکہ ہوں گے۔ دہشت گردی بڑھے گی۔ اور یہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ بن جاۓ گی۔ پاکستان میں پہلے ہی 2 ملین افغان مہاجرین بیٹھے تھے۔ یہ افغانستان جائیں گے۔ افغانستان میں جب دہشت گردی کے واقعات ہوں گے۔ پاکستان کو یہ الزام دیا جاۓ گا کہ یہ طالبان پاکستان سے آ رہے  ہیں۔ جنہیں پاکستان نے پناہ دی ہے۔ پاکستان انہیں روکے۔ اور یہ سلسلہ بیس پچیس سال اسی طرح جاری رہے گا۔ پاکستان اس میں پھنسا رہے گا۔ میرا مشورہ یہ تھا کہ حکومت ایک دن تمام بسیں بند کر دے۔ اور افغان مہاجرین کو ان بسوں میں بھرکر افغان سرحد پر چھوڑ دیا جاۓ۔ اور پھر سرحدیں فوری طور پر بند کر دی جائیں۔ صدر پرویز مشرف کی حکومت شاید یہ فیصلہ کرنے جا رہی تھی۔ لیکن صدر حامد کرزئی نے صدر بش سے پاکستان کو اس فیصلہ سے روکنے کی درخواست کی تھی۔ صدر بش نے پاکستان اور افغانستان کے رہنماؤں کو وائٹ ہاؤس میں ان سے ملنے کی دعوت دی تھی۔ اس ملاقات میں صدر کرزئی نے صدر بش سے کہا کہ افغانستان کے حالات ابھی ایسے نہیں کہ ان کی حکومت دو ملین افغانوں کو رہائش اور روز گار فراہم  کر سکتی ہے ۔ پاکستان انہیں ابھی اپنے یہاں ر کھے۔ صدر بش نے صدر کرزئی کی بات سے اتفاق کیا تھا۔ اور صدر مشرف کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا کہ ان افغان مہاجرین کو کچھ عرصہ اور پاکستان میں رہنے دیں۔ صدر مشرف خاموش ہو گیے ۔ صدر کرزئی کابل پہنچ کر پاکستان کو یہ الزام دینے لگے تھے کہ افغانستان میں دہشت گرد پاکستان سے آ رہے ہیں۔ طالبان نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ صدر بش صدر کرزئی کے الزامات کی تائید کرتے تھے ۔ اور پاکستان سے ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے  do more ہونے لگتا تھا۔ صدر اوبامہ کی بھی سات سال سے یہ ہی پالیسی ہے۔ اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہ پالیسی پاکستان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ یہ پالیسی افغانستان میں امن نہیں آنے دی گی۔ یہ پالیسی صرف بھارت کے عزائم پورے کر رہی ہے۔
       افغان تنازعہ کا سیاسی نقشہ کچھ اس طرح بن گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ لیکن کابل حکومت پاکستان کو عدم استحکام کرنے میں بھارت سے تعاون کر رہی ہے۔ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ بھارت کی پشت پنا ہی کر رہا ہے۔ باتیں سب بہت کر رہے ہیں۔ کانفرنسیں بھی بہت ہو رہی ہیں۔ لیکن نتائج صرف گھٹیا الزام تراشیاں ہیں۔ افغان حکومت یہ چاہتی ہے کہ پاکستان انہیں چاندی کی طشتری میں امن اور استحکام دے۔ بھارت یہ چاہتا ہے کہ پاکستان ان کے ملک میں سونے کی طشتری میں دہشت گردی ختم کر کے انہیں پیش کرے۔ پاکستان نے واقعی افغانستان میں ملوث ہو کر صرف اپنا وقت برباد کیا ہے۔ 50 ہزار پاکستانی صرف افغانستان میں ملوث ہونے کے نتیجہ میں دہشت گردی کا شکار بنے ہیں۔ پاکستان نے کشمیریوں کی آزادی کے لئے اتنی قربانیاں نہیں دی تھیں۔ کہ جتنی افغانوں کے لئے انہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ لیکن افغان پاکستان کے خلاف بھارت سے مل گیے ہیں۔ بھارت اپنے سیاسی مقاصد میں افغانستان کو پاکستان کے خلاف Bully بنا رہا ہے۔ تاکہ افغانستان کے عدم استحکام کا پاکستان پر اتنا زیادہ دباؤ بڑھایا جاۓ کہ پاکستان تنگ آ کر بھارت کے آگے جھک جا ۓ۔ اور پھر کشمیر پر بھارت کی شرائط پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاۓ۔ صرف اس صورت میں افغانستان پاکستان میں استحکام آۓ گا۔ مشرق وسطی میں عربوں کے عدم استحکام کو اسرائیل بھی اپنے سیاسی مقاصد میں استحصال کر رہا ہے۔ اور عرب یکے بعد دیگرے اسرائیل کے پیچھے کھڑے ہونے کے لئے تیار نظر آ رہے ہیں۔ ترکی کے صدر اردگان بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں اس خطہ کا استحکام دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کی وزیر خارجہ اسی ماہ اسرائیل کا دورہ کر کے گئی ہیں۔
       حالانکہ بھارت میں حالیہ دہشت گردی کے اصل اسباب سے امریکہ با خوبی واقف ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ہر سال دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹ جاری کرتا ہے۔ پھر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں کا بھی امریکہ کو علم ہے۔ نہتے کشمیریوں کے خلاف بھارتی فوج کے ظلم تشدد اور بربریت کے واقعات کی تفصیل ان رپورٹوں میں بتائی گئی ہے۔ اور یہ آج نہیں ہو رہا ہے۔ کئی برس سے کشمیریوں کے ساتھ  یہ سلوک ہو رہا ہے۔ ہزاروں کشمیری بھارتی فوج کے تشدد اور بربریت کے نتیجے میں مارے گیے ہیں۔ بے شمار کشمیری خاندانوں کے محبوب ابھی تک لا پتہ ہیں۔ بھارت کے خلاف جب کشمیری کوئی جوابی انتہا پسندانہ رد عمل کرتے ہیں۔ تو یہ الزام پھر پاکستان کو دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک ہیں۔ اگر پاکستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک بھارت کے خلاف استعمال ہو رہے ہوتے تو پھر پاکستان میں نہیں بھارت میں پچاس ہزار لوگوں کو مرنا چاہیے تھا۔ دنیا میں سچ کا معیار بہت گر گیا ہے۔ دنیا کا سارا ںظام جھوٹ اورBully  کرنے پر چل رہا ہے۔ حالانکہ پاکستان گزشتہ ایک سال سے ضرب عضب مشن کے تحت انتہا پسندوں کے نیٹ ورک تباہ کرنے کی جنگ کر رہا ہے۔ اس جنگ میں نہ تو افغانستان کا تعاون ہے اور نہ ہی بھارت کا تعاون ہے۔ پاکستان کو صرف ان کی الزام تراشیوں کا تعاون مل رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود صدر اوبامہ نے اس ہفتے پریس ٹرسٹ آف انڈیا اور بی بی سی سے انٹرویو میں پاکستان پر زور دیا ہے کہ پاکستان اپنی سر زمین پر انتہا پسندوں کے نیٹ ورک ختم کرنے میں اپنے سنجیدہ ہو نے کا ثبوت دے۔
       پاکستان کو اب افغانستان کے سلسلے میں اپنی پندرہ سال کی پالیسی کا جائزہ لینا چاہیے کہ یہ پالیسی پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے یا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کو اب افغانستان میں اپنے رول سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے۔ اور بھارت کے ساتھ مذاکرات غیر معینہ مدت کے لئے معطل کرنا چاہیے۔ پاکستان میں بھارتی سفارتی عملہ میں کمی کی جاۓ۔ آمد و رفت کی سہولیتیں ختم کی جائیں۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں سیل کر دی جائیں۔ دہشت گردی کے نیٹ ورک ختم کرنے کے یہ سنجیدہ اقدام ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کا پاکستان کو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ تعلقات پاکستان کی سلامتی کے مفاد میں ثابت ہو رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لئے Liability بن گیے ہیں۔ یہ ملک پاکستان پر صرف Trash پھینکتے  رہتے ہیں۔ اور کرتے کچھ نہیں ہیں۔
      افغانستان کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ بھارت پاکستان کی سلامتی کے لئے مسلسل خطرے پیدا کر رہا ہے۔ اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو ان سے دور رہنے کی پالیسی اختیار کرنا چاہیے۔ 60 اور70 کے عشرے میں پاکستان کے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ تعلقات تھے۔ لیکن پاکستان میں امن تھا۔ استحکام بھی تھا۔ اور پاکستان نے بھارت اور افغانستان سے زیادہ اقتصادی ترقی کی تھی۔ پاکستان کو اپنے گھر کے حالات بہتر بنانے کے لئے اس راستے پر واپس آنا ہو گا۔ پاکستان کو نہ تو افغانستان کی ضرورت ہے۔ اور نہ ہی بھارت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس وقت صرف پاکستان کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ فیصلے ایک مضبوط اور سیاسی سنگدل قیادت ہی کر سکتی ہے۔