Wednesday, September 12, 2018

The Solution of Afghan War: Sanction Afghan Warlords, Dismantle Their Militia, And Make Afghan National Security Forces Strong


The Solution of Afghan War: Sanction Afghan Warlords, Dismantle Their Militia, And Make Afghan National Security Forces Strong 

مجیب خان
Secretary of State Mike Pompeo and Prime Minister

Foreign Minister Sushma Swaraj, Defence Minister Nirmala Sitharaman, Secretary of state Mike Pompeo, Defence Secretary Jim Mattis in Dehli, India  

Afghan Warlord's Local Militia  

   با ظاہر یہ نظر آتا ہے کہ سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo پاکستان خالی ہاتھ آۓ تھے اور خالی ہاتھ واپس گیے ہیں۔ لہجہ میں شکوے شکائتیں نہیں تھیں۔ حقانی نیٹ ورک کے سرغنہ کے مرنے کی خبر سیکرٹیری آف اسٹیٹ کی آمد سے پہلے آ گئی تھی۔ دونوں طرف صرف باتیں ہوئی ہیں۔ پاکستان نے افغانوں کی آزادی کی جنگ میں مدد کی ہے۔ اور پاکستان افغانوں کے لئے امن میں بھی مدد کرے گا۔ لیکن پاکستان افغان معاشرہ کو متحد کرنے میں مدد نہیں کر سکتا ہے۔ افغانوں کو اپنے معاشرہ کو متحد کرنے میں اپنی مدد آپ کرنا ہو گی۔ اور یہ افغانستان کا داخلی مسئلہ ہے۔ امریکہ کو پہلی توجہ اس پر دینا چاہیے۔ اور دوسرا مرحلہ امن ہے۔ جب افغانستان کے ہر صوبے، ہر شہر، ہر ڈسٹرکٹ، ہر گلی اور سڑک میں اتحاد ہو گا۔ پھر امن کے راستہ میں تمام مشکلات بھی دور ہو جائیں گی۔ افغانستان میں سب امن چاہتے ہیں۔ لیکن معاشرہ کو متحد کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ افغانستان بری طرح تقسیم ہے۔ اور Divide and Fight کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ بش انتظامیہ نے کابل حکومت کے بجاۓ افغان وار لارڈ ز کو مضبوط کیا تھا۔ اور آج بھی وار لارڈ ز حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں۔ وار لارڈ ز کی ملیشیا قومی افغان فوج سے زیادہ طاقتور ہیں۔ طاقتور وار لارڈ ز کی موجودگی میں افغانستان میں کبھی امن نہیں ہو گا۔
  اب یہ پاکستان کو 300ملین ڈالر نہ دینے کا جو سوال ہے۔ تو کارپوریٹ  امریکہ کے چیف ایگزیکٹو جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے تمام وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی 300ملین ڈالر امداد بند کر دی ہے۔ انہوں نے ایسٹ یروشلیم میں ہسپتالوں کو امریکی امداد بھی بند کر دی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے براۓ مہاجرین کی فنڈنگ بھی بند کر دی ہے۔ یہ ادارہ 5ملین فلسطینی مہاجرین کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ امریکہ میں جو 40ملین شہری غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہیں اور صرف حکومت کی امداد پر زندہ ہیں۔ ان کی امداد میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔ اور ان سے کہا گیا ہے کہ انہیں کچھ گھنٹے کام کرنا ہو گا۔ جبکہ پینٹاگان کے مطابق امریکہ 45بلین ڈالر سالانہ افغانستان میں فوجی آپریشن پر خرچ کر رہا ہے۔ افغان جنگ کو 17 سال ہو گیے ہیں۔ لیکن اس جنگ کے ختم ہونے کی روشنی افغانستان کے دروں، پہاڑوں اور شہروں میں دور دور نظر نہیں آ رہی ہے۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo نے اسلام آباد پرواز کے دوران امریکی صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "جب میں سی آئی اے کا ڈائریکٹر تھا پاکستان کے ساتھ ہم نے مل کر بہت قریبی کام کیے ہیں۔ ہماری ٹیمیں ایک عرصہ سے مل کر کام کر رہی ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ نئی قیادت کے ساتھ ہم Common Ground دریافت کر سکتے ہیں۔ اور ہمارے جو بعض مشترکہ مسائل ہیں ان پر مل کر کام شروع ہو سکتا ہے۔" سیکرٹیری آف اسٹیٹ کی ان مصالحانہ  لفظوں میں گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی قربانیوں کا احساس ہو رہا ہے۔ اور اب امریکہ پاکستان کے ساتھ  تعاون کرنا چاہتا ہے۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ اور سیکرٹیری دفاع کے دہلی دورے میں بھی پاکستان کو زیادہ پیٹا نہیں گیا ہے۔
  امریکہ کے اس وقت ترکی سے تعلقات خراب ہیں۔ ایران سے تعلقات بہت خراب ہیں۔ اور پاکستان سے بھی تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ اور امریکہ بیک وقت ان تین اہم ملکوں کے ساتھ خراب تعلقات Affords نہیں کر سکتا ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے انہیں روزانہ مذاکرات کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ ترکی ایران اور پاکستان سرد جنگ میں امریکہ کے قریبی اتحادی تھے۔ اور یہ تینوں ملک RCD تنظیم کے رکن بھی تھے۔ اور اب ایران پاکستان اور ترکی روس کے  ساتھ قریبی تعلقات فروغ دینے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ پاکستان اور ایران شنگہائی تنظیم میں شامل ہیں۔ جو ایک بڑا اور اہم عالمی گروپ ہے۔ روس اور چین اس تنظیم کے بانی رکن ہیں۔ ترکی بھی مستقبل قریب میں شہنگائی تنظیم کا رکن ہو گا۔
  سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo اور سیکرٹیری ڈیفنس Jim Mattis تین دن کے دورے پر دہلی آۓ تھے۔ دہلی میں بھارت کی وزیر خارجہ Sushma Swaraj وزیر دفاع Nirmala Sitharaman سے دفاعی اور Strategic امور پر مذاکرات ہوۓ تھے۔ بھارت کی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع دونوں خاتون ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اتنے اہم عہدوں پر خواتین کو آگے کر دیا ہے۔ اور خود ہندو انتہا پسندوں کے پیچھے کھڑے ہو گیے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے بھارت کے ساتھ بھی زیادہ گرم جوشی کے تعلقات نہیں ہیں۔ دونوں ملکوں کی حکومتوں میں ٹریڈ اور امیگریشن کے ایشو ز پر شدید اختلاف ہیں۔ بالخصوص بھارت کے ساتھ ٹریڈ کے مسئلہ پر صدر ٹرمپ کی شکایتیں چین سے شکایتوں سے مختلف نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کو بھی یہ دھمکی دی ہے کہ اگر بھارت امریکی اشیا کے لئے اپنی مارکیٹ نہیں کھولے گا تو اس پر بھی پھر Sanction لگائی جائیں گی۔ امریکہ کو بھارت کے ساتھ تجارت میں 800بلین ڈالر خسارہ کا سامنا ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ وزیر اعظم مودی پر یہ مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ امریکی اشیا کے لئے سہولتیں دیں۔ اور امریکہ کے ساتھ تجارت کو منصفانہ بنائیں۔ دہلی میں سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo نے بھارت کے ساتھ امریکہ کے Trade Deficit تعلقات پر اور سیکرٹیری دفاع Jim Mattis نے India-Pacific اور Indian Ocean میں بھارت کے رول پر اور امریکہ کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات فروغ دینے پر بات کی تھی۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی ہے۔ بھارت افغانستان میں بھی اب زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں تقریباً 100بلین ڈالر انویسٹ کیے ہیں لیکن اسے افغانستان سے ابھی تک کچھ نہیں ملا ہے۔ بش اور اوبامہ انتظامیہ نے بھارت کو افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھنا کا راستہ دکھایا تھا۔ لیکن بھارت آدھے راستے سے افغانستان سے مایوس ہو کر واپس آ گیا تھا۔ عقلمندی کا بھی یہ ہی تقاضا تھا۔  بھارت کے بہت سے لوگ بھی افغانستان میں مارے گیے تھے۔ بہرحال مودی حکومت نے امریکہ سے کھربوں ڈالر کا فوجی اسلحہ خریدنے کا سمجھوتہ کیا ہے۔ اور اس طرح امریکہ کو بھارت سے تجارت میں جو خسارے ہو رہا ہے اسے بھارت نے امریکہ سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے سے Balance  کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ India-Pacific اور Indian Ocean میں امریکہ کے ساتھ فوجی اور نیول مشقیں کرنے کے لئے چین کی سرحدوں سے دور بھارت کی سرحدوں کے اندر یہ مشقیں کرنے کا کہا ہے۔ بھارت چین کو مشتعل کرنا نہیں چاہتا ہے۔ اب خبر یہ ہے کہ امریکہ سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے لئے بھارت اپنی فوجوں میں کمی کرنے پر غور کر رہا ہے۔
  افغان وار لارڈ عبدالرشید دوستم ترکی میں جلا وطنی ختم کر کے جب افغانستان آۓ تھے۔ تو ان کا ہزاروں لوگوں نے بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا تھا۔ عبدالرشید دوستم نے 2011-12 میں ہزاروں طالبان کو انتہائی بیہمانہ طور پر ہلاک کروایا تھا۔ جو انسانیت کے خلاف جنگی کرائم تھے۔ بش انتظامیہ نے افغانستان سے طالبان کا مکمل خاتمہ کرنے کے مقصد سے افغان وار لارڈ ز کو استعمال کیا تھا۔ اور سی آئی اے نے اس مشن میں ڈالروں سے بھرے بریف کیس افغان وار لارڈ ز میں تقسیم کیے تھے۔ اور عبدالرشید دوستم بھی ان وار لارڈ میں شامل تھے۔ 17 سال کی افغان جنگ کا جس پر امریکہ نے ٹیریلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ آج المیہ یہ ہے کہ عبدالرشید دوستم کئی سال کی جلاوطنی کے بعد بڑی آزادی سے افغانستان آۓ تھے۔ لیکن امریکہ کے سیکرٹیری دفاع Jim Mattis 17 سال بعد گزشتہ ہفتہ صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لئے جب کابل آۓ تھے تو امریکی سفارت خانہ اور امریکی قیادت میں اتحادی فوجوں کے ہیڈ کوارٹروں پر گن شپ ہیپاچی ہیلی کاپٹر چکر لگاتے رہے۔ اور جتنی دیر سیکرٹیری دفاع کابل میں روکے تھے۔ اتنی دیر تک گن شپ ہیلی کاپٹر ان کی حفاظت میں فضا میں چکر لگاتے رہے۔ ٹیریلین ڈالر اس جنگ پر خرچ کیے گیے تھے۔ لاکھوں ڈالر وار لارڈ ز کو دئیے گیے تھے۔ اس جنگ میں کئی ہزار امریکی جانیں بھی دی گئی ہیں۔ اس جنگ پر دو سابق صدر کے Signatures ہیں۔ اور یہ جنگ دو سابقہ صدر کی Joint Legacy ہے۔ امریکہ کے تیسرے صدر ڈونالڈ ٹرمپ شاید دو سابقہ صدر کی Joint Legacy  میں اپنا نام شامل کرنا نہیں چاہتے ہیں۔
  ٹرمپ انتظامیہ نے زالمے خلیل زاد کو افغانستان کے لیے خصوصی سفیر نامزد کیا ہے۔ خلیل زاد 80 کے عشرہ سے افغانستان کے مسئلہ کا جنگ کی سیاست سے حل کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ سوویت فوجوں کے خلاف افغان جہاد کے دوران خلیل زاد اور ان کے ساتھ کونڈا لیزا رائس صدر ریگن کی قومی سلامتی امور کے اسٹاف میں شامل تھے۔ اور یہ جہاد کو افغانستان سے کمیونسٹ فوجوں کو نکالنے کا حل دیکھتے تھے۔ پھر بش انتظامیہ میں طالبان کے خلاف جنگ میں جو امریکہ کے سابق جہادی اتحادی تھے۔ خلیل زاد نے افغانستان سے طالبان کا خاتمہ کرنے کی جنگ کی حمایت کی تھی۔ اور ان کے ساتھ صدر بش کی قومی سلامتی امور کی مشیر کونڈا لیزا رائس تھیں جنہوں نے افغانستان سے طالبان کا مکمل خاتمہ ہونے تک جنگ جاری رکھنے کی پالیسی اختیار کی تھی۔ اور طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات ممنوع قرار دئیے تھے۔ خلیل زاد افغانستان میں امریکہ کے سفیر بن گیے تھے۔ خلیل زاد جو خود بھی افغان پشتون تھے۔ انہوں نے اپنے آبائی ملک کے ہم وطنوں کو کوئی سیاسی حل نہیں دیا تھا۔ صرف جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دی تھی۔ افغان وار لارڈ ز کا مضبوط بنایا تھا۔ ہر وار لارڈ کی ایک ملیشیا بن گئی تھی۔ وار لارڈ ز نے سوویت دور کی جنگ میں امریکہ کے تربیت یافتہ اپنی ملیشیا میں بھرتی کیے تھے۔ جو بے روز گار طالبان تھے۔ وار لارڈ ز کی ملیشیا کے یہ کبھی دن میں طالبان ہوتے تھے۔ رات میں ملیشیا بن جاتے تھے۔ اور کبھی دن میں وار لارڈ ز کی ملیشیا ہوتے تھے اور رات میں طالبان بن جاتے تھے۔ یہ وار لارڈ ز کے موڈ پر ہوتا تھا کہ وہ انہیں کب اور کیسے استعمال کرتا تھا۔ بش انتظامیہ کی اس پالیسی نے کابل میں کرزئی حکومت کو کمزور رکھا تھا۔ اور وار لارڈ ز اور طالبان دونوں کو مضبوط بنا دیا تھا۔ دوسری طرف پاکستان میں طالبان کی برانچ پاکستانی طالبان کے نام سے کھل گئی تھی۔ افغانستان میں پاکستان کا رول کمزور ہو گیا تھا۔ کرزئی حکومت اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو گیے تھے۔ امریکہ نے افغان جنگ کو فوجوں کی تعداد بڑھانے سے Reset کیا تھا۔ لیکن 17 سال میں کبھی سیاست Reset کرنے کو اہمیت نہیں دی تھی۔ سابق دو انتظامیہ دنیا میں جنگیں پھیلانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ لیکن افغان جنگ ختم کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ کیوں؟
                                                                                          
     
          

Wednesday, September 5, 2018

America Has Ended Saddam Hussein’s 40 Year Rule, America Has Ended Mummer Kaddafi’s 40 Year Rule Now America Has To End Israel’s 70 Years Of Brutal Military Occupation, Ruthless Aggression, And Suppression


America Has Ended Saddam Hussein’s 40 Year Rule, America Has Ended Mummer Kaddafi’s 40 Year Rule
Now America Has To End Israel’s 70 Years Of Brutal Military Occupation, Ruthless Aggression, And Suppression 

NO EXCUSES. NO CONDITIONS. PERIOD.

مجیب خان
Palestinian refugees line up for food at a camp in Amman, Jordan in 1955



Residents waiting for food aid distribution by the U.N. refugee agency at the Palestinian refugee camp in Syria

Palestinian population living in what became Israel to leave their home 1948 

The largest  Palestinian refugee camp in Syria
Israeli forces in front of the Dome of the Rock in the Haram al-Sharif compound in the old city of Jerusalem

   نازی فوجیں اگر پولینڈ پر قبضہ کر لیتی اور ان کے پو لینڈ پر فوجی قبضہ کے بعد پالیسیاں بالکل ایسی ہوتی جو Zionist اسرائیلیوں کی فلسطین پر فوجی قبضہ کی 70 سال سے پالیسیاں ہیں۔ تو اس صورت میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی انسانی، اخلاقی اور قانون کی با لا دستی کی قدروں کے تقاضے کیا ہوتے؟ اور وہ اس سلسلے میں کیا فوری اقدام یا فیصلہ کرتے۔ کیا یہ 70 سال تک نازی فوجوں کو پولینڈ پر قبضہ جاری رکھنے کا موقعہ اسی طرح دیتے جیسے انہوں نے 70 سال سے Zionist اسرائیل کو فلسطین پر فوجی قبضہ رکھنے کا سنہری موقعہ دیا ہے۔ فلسطینیوں سے اسرائیل کی سلامتی کے خطرے کی آ ڑ میں اسرائیل بھی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کلب میں شامل ہو گیا ہے۔ دنیا میں ہتھیار فروخت کرنے والے ملکوں میں اسرائیل چھٹے نمبر پر ہے۔ اسرائیل اب بھارت کو کھربوں ڈالر کے جدید ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ اسرائیل جو 70 سال سے عربوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ وہ اب بھارت کو ہتھیار فروخت کرنے میں امریکہ کے مقابلہ پر ہے۔ بلکہ اس نے برطانیہ اور فرانس کو بھی پیچھے کر دیا ہے۔ عالمی برادری کے لئے قابل توجہ بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کی فوجی بند کرنے کے بجاۓ فلسطینی مہاجرین کی امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ کی نظر میں اسرائیلی مظلوم ہیں اور فلسطینی ظالم ہیں۔ جو مہاجرین بن گیے ہیں۔ انہیں اسرائیلی فوج نے بے گھر کیا ہے۔ اور ان کے گھروں اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے۔ Zionist اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بھی میکسیکو کے علاقوں پر اسی طرح قبضہ کیا تھا۔ اور پھر میکسیکو کے یہ علاقہ امریکہ کے نقشہ میں شامل ہو گیے تھے۔ تاہم امریکہ نے ان علاقوں میں آباد  Mexicans کو بے گھر نہیں کیا تھا انہیں Slave Labor بنا لیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے فلسطینی مہاجرین کی امداد بند کرنے کے فیصلہ پر تبصرہ میں اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارے براۓ مہاجرین کو یہ الزام دیا ہے کہ یہ ادارہ مسلسل مہاجرین کی آبادی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اور اسرائیل فلسطین تنازعہ کو دوام بخش رہا ہے۔ کیونکہ یہ ان نسلوں کو مہاجرین کا درجہ دے رہا ہے جو 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کی جنگ میں بے گھر ہو ۓ تھے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف ور کس ایجنسی ا ر دن، لبینان، شام اور مغربی کنارے اور غازہ  میں تقریباً 5 ملین فلسطین مہاجرین کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ 70 سال میں اسرائیلی حکومتوں نے کب سچ بولا ہے؟ کب انسانی حقوق اور قانون پر عملدرامد کیا ہے؟ 70سال سے ہر اسرائیلی حکومت کی فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے، ان کے گھروں پر بلڈ و زر چلانے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے اور وہاں نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی پالیسی جاری ہے۔ صد ام حسین اور کرنل معمر قد ا فی  فلسطین مہاجرین کی مدد میں اربوں ڈالر خرچ کرتے تھے۔ جسے اسرائیل صد ام حسین اور معمر قد ا فی کا فلسطینی دہشت گردوں کی مدد کرنے کا الزام دیتا تھا۔ اور امریکہ اور یورپ  اسرائیل کے ان الزام کی تائید کرتے تھے۔ حالانکہ یہ فلسطینی اسرائیلی فوجی بربریت کے Victims تھے۔ با ظاہر اسرائیلی حکومتوں کی یہ پالیسی  ہے کہ آہستہ آہستہ  تمام فلسطینیوں کو ار دن اور دوسرے عرب ملکوں کی طرف دھکیل دیا جاۓ۔ اور پھر اسرائیل کے قیام کا 100 سالہ جشن اسرائیل King David کی Kingdom میں منایا جاۓ گا۔ یہ اسرائیلی مشن ہے۔ اس مشن میں 70 سال گزر گیے ہیں۔ اور 30 سال بھی اسی طرح گزر جائیں گے۔ نتھن یا ہو حکومت King David کی پالیسیاں اختیار کرتی جا رہی ہے۔
  یہودی مذہبی قدامت پسندی نتھن یا ہو حکومت کے دس سالوں میں انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ نتھن یا ہو حکومت نے “Israel as the Nation-State of the Jewish People”  ہونے کا قانون پارلیمنٹ سے منظور کرایا ہے۔ اور یہودی ریاست کی زبان Hebrew ہو گی۔ یہودی ریاست کے نظام میں Torah سے رہنمائی لی جاۓ گی۔ اسرائیل میں آباد دوسرے مذاہب کے لوگ دوسرے درجہ کے شہری تسلیم کیے جائیں گے۔ جن کو کوئی حقوق نہیں دئیے گیے ہیں۔ اسرائیل کے اس نئے قانون میں نتھن یا ہو حکومت افغانستان میں طالبان کی حکومت سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتی ہے۔ طالبان بھی افغانستان میں صرف قرآن کا نظام رائج کرنا چاہتے تھے۔ اور وہ بھی افغانستان میں کسی دوسرے مذہبی عقیدے کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ طالبان نے Giant Buddha of Bamiyan تباہ کر دیا تھا۔ جسے تیسری اور چھٹی صدی کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ انہوں نے افغانستان سے Buddhist مذہب کی تاریخ مٹا دی تھی۔ اسرائیل میں بھی طالبان کی طرح جنونی یہودی مذہبی انتہا پسند ہیں جو مسلمانوں کی تاریخی مقدس مسجد اقصا کو تباہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔
  نتھن یا ہو حکومت میں اسرائیل کو صرف یہودیوں کی ریاست کا قانون منظور ہونے اور اس قانون سے دوسرے مذہبی فرقوں کو خارج کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس میں ری پبلیکن اور ڈیمو کریٹس کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ اس قانون سے اسرائیل کا مغربی لبرل ڈیمو کریسی کا سیاسی ڈھانچہ بالکل بدل گیا ہے۔ تاہم امریکہ میں پروگریسو، لبرل اور روشن خیال یہودیوں نے نتھن یا ہو حکومت کے اس فیصلہ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کو صرف یہودیوں کی ریاست بنانے کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے اسرائیل میں لبرل جمہوریت کا خاتمہ کہا ہے۔ وزیر اعظم نتھن یا ہو de-facto King David ہیں۔
  مڈل ایسٹ کے انتشار اور عدم استحکام سے اسرائیلی حکومت میں فرعونیت آتی جا رہی ہے۔ حکومت کا رویہ زیادہ جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ طاقت کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ Kingdom of King David بھی انتہائی Ruthless تھی۔ King David اپنے مقابلے پر کسی کو طاقتور ہوتا برداشت نہیں کرتا تھا۔ اور اس پر حملہ کر کے ختم کر دیا جاتا تھا۔ اس کا دور بھی جنگ و جدل کی ایک طویل تاریخ تھا۔ اسرائیلی حکومت عالمی قوانین سے بالاتر ہوتی جا رہی ہے۔ Extrajudicial Killing اسرائیلی حکومت کی پالیسی بن گئی ہے۔ Sovereign ملکوں پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری ایک معمول بن گیا ہے۔ فلسطینیوں کے مسائل کا جواب اسرائیل کے پاس صرف Killing Machine میں ہے۔ کیا دوسرے ملک بھی ان اسرائیلی پالیسیوں کو اختیار کر سکتے ہیں۔ اور Sovereign ملکوں میں اپنے مخالفین کو قتل کر سکتے ہیں؟ جس طرح اسرائیل شام کی داخلی خانہ جنگی میں مختلف Excuses کی بنیاد پر مداخلت کر رہا ہے۔ اور شام کی فوجوں پر بمباری کر کے انہیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور اس طرح القا عدہ اور داعش کی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے۔ اگر حما س کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی میں شام اور لبنا ن بھی اسی طرح مداخلت کریں گے تو اسرائیل کی حمایت میں امریکہ برطانیہ اور فرانس حرکت میں آ جائیں گے۔ یہ ان کی نا انصافیاں ہیں جو ان کے خلاف نفرتیں پیدا کر رہی ہیں۔
  امریکہ کو فخر ہے کہ اس نے عراق میں صد ام حسین کا 40 سال کا دور ختم کیا ہے۔ امریکہ نے عراق میں اس تبدیلی کے لئے تقریباً ایک ٹیریلین ڈالر خرچ کیے تھے۔ 5ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوۓ تھے۔ اور 30ہزار فوجی زخمی ہوۓ تھے۔ پھر لیبیا میں بھی کرنل معمر قد ا فی کا بھی 40سال کا دور ختم کیا تھا۔ اور اب امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو اسرائیل کا 70سال کا فوجی قبضہ، Ruthless Suppression اور Brutal Aggression بھی ختم کرنا ہو گا۔ اسرائیل کو عالمی قوانین کا پابند بنانا ہو گا۔ اس کی پالیسیوں کو Civilize بنانا ہو گا۔ تاکہ پھر اقوام متحدہ میں عالمی برادری بھی اسرائیل کے خلاف قراردادیں منظور کرنے سے گریز کرے گی۔ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر دنیا کو پرامن اور مہذب بنانے کے اقدام کرے گی۔
  فلسطینی مہاجرین اسرائیل کی ذمہ داری ہے۔ 70سال سے دنیا فلسطینی مہاجرین کی پرورش کر رہی ہے۔ لیکن اسرائیل نے اس مسئلہ کو حل کرنا کبھی اپنی ذمہ داری نہیں سمجھا تھا۔ پھر مقبوضہ فلسطینی علاقہ بھی ہیں۔ جن پر 70سال سے اسرائیل کا فوجی قبضہ ہے۔ اور عالمی قانون کے مطابق فوجی قبضہ میں آبادی کی دیکھ بھال اور ان کی بنیادی انسانی ضرورتیں پوری کرنا قابض ملک کی ذمہ داری ہے۔ اسرائیل اس وقت دنیا میں ہتھیار فروخت کرنے والے ملکوں میں سر فہرست ہے۔ پھر اسرائیل کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں بھی تجارت فروغ کر رہی ہے۔ اب اسرائیل یا تو فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ حل کرے یا پھر اقوام متحدہ کے مہاجرین فنڈ میں اسرائیل Contribute کرے۔ اور یا پھر جو ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ وہ ان ملکوں کی اشیا پر 5فیصد فلسطین مہاجرین ٹیکس عائد کریں۔ اور یہ رقم اقوام متحدہ کو دیں۔ دنیا کو بالخصوص اسلامی دنیا کو اس مسئلہ کے حل کے لئے امریکہ برطانیہ اور فرانس کے خلاف اب ہر طرح کا دباؤ استعمال کرنا ہو گا۔ ورنہ مڈل ایسٹ میں کوئی باقی نہیں بچے گا۔ اور اسرائیل King David کی Kingdome بن جاۓ گا۔            
              

Thursday, August 30, 2018

Senator John McCain Was An Icon In Congressional Politics, But He Left Behind A Very Messy World For Children And Grand Children‎


Senator John McCain Was An Icon In Congressional Politics, But He Left Behind A Very Messy World For Children And Grand Children‎

مجیب خان
senator John McCain visits rebels in Syria

Senator John McCain with anti-Assad terrorists in Syria

Rebel fighters fire weapons in Benghazi, Libya

Libyan followers of Ansar al-Shariah Brigades


Senator John McCain



   سینیٹر جان مکین کی Military Service اور Patriotism قابل تحسین ہیں۔ سینیٹر مکین Congressional Politics کے Icon تھے۔ ان کی اس شخصیت سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن سینیٹر مکین کی شخصیت کا ایک دوسرا رخ بھی۔ جس میں ان کی شخصیت بہت مختلف نظر آتی ہے۔ اور یہ ایک سینیٹر کی حیثیت سے ان کی شخصیت ہے۔ وہ 6 مرتبہ سینیٹر منتخب ہوۓ تھے۔ اور ہر مرتبہ ان کی سوچ اور کردار ایک ہی طرح کا ہوتا تھا۔ سینیٹر جان مکین امریکہ کی سیکورٹی، ڈیفنس اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بہت زیادہ Hawkish تھے۔ اور ان کی یہ سوچ  کبھی تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ دنیا کے ہر تنازعہ کو وہ اپنے Hawkish نظریہ سے دیکھتے تھے۔ دوسرے ملکوں کے اندرونی تنازعوں میں مداخلت اور طاقت کے استعمال پر زور دیتے تھے۔ اور جو Hawkish ہوتے ہیں۔ وہ تنازعوں کو پرامن طریقوں سے حل کرنے میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔ اور ہر تنازعہ کا حل طاقت کے استعمال میں دیکھتے ہیں۔ دنیا میں امن فروغ دینے میں سینیٹر مکین کا اتنا زیادہ رول نہیں تھا کہ جتنا بڑا رول دنیا میں امریکہ کی جنگیں Shape دینے میں تھا۔ سینیٹر مکین نے امریکی انتظامیہ کو پرامن سفارتی طریقوں سے تنازعوں کے حل کے لئے تجویزیں نہیں دی تھیں۔ 2008 کے صدارتی انتخاب کی مہم میں سینیٹر مکین ایران کے ایٹمی پروگرام کے مسئلہ کا حل بم  بم  بم کرنے لگے تھے۔ سینیٹر مکین عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا کے خلاف تھے۔ سینیٹر مکین افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے خلاف تھے۔ ان کے خیال میں افغانستان میں امریکہ کی غیر معینہ مدت تک فوجی موجودگی افغان جنگ کی کامیابی تھی۔ سینیٹر مکین سینٹ کی آ ر مڈ سر و سس کمیٹی کے چیرمین تھے۔ لیکن افغانستان میں جلد امن اور عراق میں فوری استحکام کے لیے سینیٹر مکین نے کوئی پلان یا تجویزیں نہیں دی تھیں۔ امریکی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی تجویزیں دراصل جنگ ایک طویل عرصہ جاری رکھنا تھا۔ افغان جنگ کو 17 سال ہو گیے ہیں۔ اور سینیٹر مکین افغان جنگ امریکی عوام کے لیے چھوڑ گیے ہیں۔ 50 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں ہیں۔ ان کے واپس آنے کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔ اور نظر یہ آ رہا ہے کہ یہ 2020 کے صدارتی انتخاب میں بھی اپنے ووٹ کابل ہی سے ڈالیں گے۔ عراق جنگ ابھی تک Debacle Mode میں ہے۔ عراق میں استحکام کا فاصلہ اتنا ہی دور ہے کہ جتنا زمین سے امریکہ کے خلائی اسٹیشن کا فاصلہ ہے۔ عراق جنگ کو بھی اب 15 سال ہو گیے ہیں۔ لیکن امریکی فوجیں یہاں بھی ابھی تک ہیں۔ جو امریکی فوجی عراق میں 18 یا22 سال کی عمروں میں یہاں آۓ تھے۔ وہ اب 33 اور 37 برس کے ہو گیے ہیں۔ سینیٹر مکین نے افغان اور عراق جنگوں کے آغاز میں بڑی سرگرمی دکھائی تھی۔ لیکن ان جنگوں کو ختم کرانے میں سینیٹر مکین کو جیسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ افغانستان اور عراق میں جنگیں دنیا کے امن پسند لوگوں کے لئے سر درد بنی ہوئی تھیں۔ کہ لیبیا کے داخلی معاملات میں سینیٹر مکین کی مداخلت نے خانہ جنگی بنا دیا تھا۔ سینیٹر مکین نے اوبامہ انتظامیہ سے قد ا فی حکومت کے مخالفین کو ہتھیار فراہم کرنے کی  اپیلیں کی تھیں۔ ان کے ساتھ دو اور سینیٹر لنڈ زی گر ہیم اور جو ز ف لیبر مین بھی شامل تھے۔ جنگوں کے شو‍‍ق نے انہیں Blind کر دیا تھا کہ یہ کسی کی سننے کو تیار نہیں تھے۔ حالانکہ صدر قد ا فی ان کے وزیر اور ان کے انٹیلی جنس کے حکام امریکہ کو بتا رہے تھے کہ یہ القا عدہ اور اسلامی انتہا پسند ہیں جو ان کی حکومت ختم کر کے لیبیا کو اسلامی ریاست بننا چاہتے تھے۔ لیکن قد ا فی کے بیانات اور ان کی انٹیلی جنس کے حکام کی رپورٹوں کو صدر اوبامہ نے اہمیت دی تھی اور نہ ہی امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلی حکام نے کوئی توجہ دی تھی۔ اوبامہ انتظامیہ صرف سینیٹر مکین کی اپیلوں کو اہمیت دے رہی تھی۔ اسلامی انتہا پسندوں کو ہتھیاروں سے مسلح کر کے صدر اوبامہ اور سینیٹر مکین نے لیبیا کا استحکام اور امن تہس نہس کر دیا تھا۔ لیبیا کے عدم استحکام ہونے سے سارے افریقہ کا امن خطرے میں آ گیا تھا۔ یہ صورت حال پیدا کر کے پھر یورپ کو Immigrants سو نامی کی صورت میں دی گئی تھی۔ یہ مسئلہ یورپ کی سیکیورٹی کے لئے سر درد بن گیا تھا۔ یورپ کے لوگوں میں امریکہ کے خلاف غصہ تھا کہ امریکہ مڈل ایسٹ میں یہ کس کا کھیل کھیل رہا تھا؟
   سینیٹر مکین نے عراق سے سبق تھا۔ نہ لیبیا سے سیکھا تھا۔ بلکہ مسلسل عدم استحکام پھیلانے کی جنگیں فروغ  دیتے رہے تھے۔ یہ عدم استحکام اور جنگیں انتہا پسندی اور دہشت گردی پھیلا رہی تھیں۔ بن غازی میں ان ہی لوگوں نے جن کے ساتھ چند ماہ پہلے سینیٹر مکین سینیٹر لنڈ ز ی گر ہیم کھڑے تھے، امریکی سفیر اور چار دوسرے امریکیوں کو بن غازی میں امریکی کو نسلیٹ پر حملہ میں مار دیا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے شام میں تخریب کاروں، دہشت گردوں، اسلامی انتہا پسندوں کی جو افغانستان میں طالبان سے زیادہ خطرناک تھے ان کی حمایت کی تھی انہیں ہتھیار دئیے تھے۔ انہیں تربیت بھی دی جا رہی تھی۔ شام میں خانہ جنگی کو 7 سال ہو گیے ہیں۔ عراق جنگ کو 15 سال ہو گیے ہیں۔ لیبیا میں 7 سال سے مختلف گروپوں میں لڑائی جاری ہے۔  افغان جنگ کو 17 سال ہو گیے ہیں۔ سینیٹر مکین اتنے Influential سینیٹر تھے کہ ان کے کہنے پر انتظامیہ حالات کو جنگ کی طرف لے جاتی تھی۔ لیکن سینیٹر مکین جنگیں ختم کر کے حالات کو امن کی طرف لانے میں اتنے Influential سینیٹر نہیں تھے۔ ان کی زندگی میں جو جنگیں شروع ہوئی تھیں۔ انہوں نے ان جنگوں کو اپنی زندگی میں ختم کرنے کی کبھی بات نہیں کی تھی۔ سینیٹر مکین نے فلسطین اسرائیل تنازعہ کے حل کی کبھی بات نہیں کی تھی۔ فلسطینیوں کی آزادی کی اس طرح حمایت نہیں کی تھی کہ جس طرح سینیٹر مکین نے لیبیا اور شام کے لوگوں کی آزادی کی مسلح جد و جہد کی حمایت کی تھی۔ امریکہ نے حما س کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ لیکن ان کے Cousins کی لیبیا اور شام میں دہشت گردی کی حمایت کی تھی۔ اسرائیل اور سعودی عرب انہیں Support کرتے تھے۔ تاریخ نے انسانیت کے ساتھ ایسا مذاق نہیں دیکھا ہو گا۔
   یہ جان مکین کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں ویت نام جنگ کے بعد 60 سال دنیا دیکھنے کا موقعہ ملا تھا۔ ان کے ویت نام جنگ کے زخم بھی بھر گیے تھے۔ لیکن عراق جنگ میں 18 سال کی عمر کے جو فوجی مر گیے تھے۔ انہیں 60سال کے بعد کی دنیا میں عراق دیکھنا نصیب نہیں ہو سکا۔ اور جو امریکی فوجی 20 یا 25 برس کے تھے۔ اور عراق یا افغانستان میں جنگ میں ساری زندگی کے لئے آ پاہج ہو گیے ہیں۔ آئندہ 60 سال تک وہ اپنے زخموں کو دیکھتے رہیں گے۔ اور ان زخموں کے ساتھ اپنے آپ کو زندہ رکھیں گے۔  امن جیسے جان مکین کا DNA نہیں تھا۔ ان کی ساری زندگی جنگوں میں گزری تھی۔ سرد جنگ، گرم جنگ، ویت نام جنگ، عراق جنگ، افغان جنگ، شام میں جنگ، یمن جنگ، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، ISIS کے خلاف جنگ اور یہ جنگیں اب امریکہ کے اسکولوں میں پہنچ گئی ہیں۔ جہاں سینکڑوں بچے اسکولوں میں شوٹنگ سے مر گیے ہیں۔ سینیٹر مکین عراق، لیبیا اور شام میں لوگوں کو آزادی دلانے کی خونی جنگوں میں مدد کر رہے تھے۔ لیکن امریکہ میں اسکولوں میں بچوں کی آزادی ختم ہو گئی ہے۔ سینیٹر مکین نے ان بچوں کی اسکولوں میں آزادی کے لئے کچھ نہیں کیا تھا۔
                   

Saturday, August 25, 2018

President Trump’s New Sanctions On China And Russia, Selling Liquor And Tobacco To Under Age Little Rocket Man Of North Korea


      
  President Trump’s New Sanctions On China And Russia, Selling Liquor And Tobacco To Under Age Little Rocket Man Of North Korea

مجیب خان

President Donald Trump and North Korea's Leader Kim Jong Un

Kim Jong-un Visits Kumsong Tractor Factory

Kim Jong-un visits Pyongyang Kim Jong Suk silk mill 

Preparation for a Trade war with America
  
   امریکہ 60 ملکوں سے تنہا جنگ نہیں جیت سکا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ اب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ 60ملکوں سے ٹریڈ وار یا Economic war ضرور جیت سکتا ہے۔ اور اس عزم کے ساتھ صدر ٹرمپ نے دنیا میں Trade war شروع کر دی ہے۔ 17 سال سے جنگوں میں امریکہ نے اپنے تمام ہتھیار استعمال کر  لئے ہیں۔ 3ٹریلین ڈالر بھی خرچ کیے ہیں۔ لیکن کسی ایک جنگ میں بھی پائدار کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ کو Economic war جیتنے کی روشنی  نظر آ رہی ہے۔ چین دنیا کی ابھرتی Economic Power ہے۔ اس لئے صدر ٹرمپ نے اپنی Economic war کا حملہ چین پر کیا ہے۔ اور اس میں جو ہتھیار استعمال کیا ہے وہ Tariff ہے۔ اور دوسرا ہتھیار Economic sanction ہیں۔ یہ Sanctions سیاسی نوعیت کی ہیں۔ جبکہ ان میں کچھ Sanctions شمالی کوریا پر عائد Sanctions کی خلاف ورزیاں کرنے اور شمالی کوریا کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کی وجہ سے چین پر Sanctions  لگائی گئی ہیں۔ روس پر Economic sanctions سرد جنگ کے دور سے لگی ہوئی ہیں۔ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ کی سوچ میں کیونکہ کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ امریکہ نے اپنی سوچ میں سرد جنگ کا Status quo برقرار رکھا تھا۔ اس لئے روس پر سے یہ Sanctions بھی نہیں ہٹائی گئی تھیں۔ بلکہ Artificial Reasons کی بنیاد پر روس پر نئی Sanctions لگا دی جاتی تھیں۔ روس پر یو کر ین کے مسئلہ پر نئی Economic sanctions  لگائی گئی ہیں۔ پھر مڈل ایسٹ میں امریکہ کی جنگوں میں روس کے ٹانگ اڑانے پر Sanctions لگی ہیں۔ اور اب 2016  کے  انتخاب میں روس کی مداخلت ہونے پر کانگریس نے روس پر Sanctions  کے قانون منظور کیے ہیں۔ جن پر ٹرمپ انتظامیہ سے عملدرامد کر وایا جا رہا ہے۔ ایران پر امریکہ کی Sanctions اسلامی انقلاب کے بعد امریکی سفارت کاروں کو یرغمالی بنانے پر لگائی گئی تھیں۔ جو امریکی سفارت کار اس وقت 40برس کے تھے وہ اب 80برس کے ہو گیے ہیں لیکن ایران پر وہ Sanctions ابھی تک لگی ہوئی ہیں۔ ایران کے ساتھ پھر ظلم یہ ہے کہ پرانی Sanctions  جو بالکل Obsolete ہو چکی ہیں اور انہیں لگانے کا کوئی مقصد بھی نہیں ہے۔ لیکن انہیں صرف ایرانی عوام پر مسلط رکھنا مقصد ہے۔ پھر ایران کے ایٹمی پروگرام کے مسئلہ پر نئی Sanctions لگائی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ اسرائیل اور سعودی عرب کے ان مسلسل مطالبوں پر کہ ایران مڈل ایسٹ چھوڑ کر کہیں اور چلا جاۓ، امریکہ نے اس پر مجبور کرنے کے لئے ایران کو Sanctions  میں دبا دیا ہے۔ 40 سال میں امریکہ کی سلامتی کے لئے ایران سے خطرہ ہونے کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ ایرانی دنیا میں دہشت گردی بھی نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ دہشت گردی کے خلاف انہوں نے امریکہ سے تعاون بھی کیا تھا۔ اسرائیل کا یہ واویلا ہے کہ شام میں ایران کی موجودگی سے اس کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ جبکہ ایران کے ہمسایہ میں خلیج میں امریکہ کے بحری بیڑے اور فوجی اڈے ہیں جو ایران کی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ ہیں۔ ایران کے سلسلے میں امریکہ کا بہت Hostile behavior ہے۔ جبکہ شام میں اسرائیل کی سرحد کے قریب ایران کے ملیشیا داعش سے لڑ رہے ہیں۔ اور شام کی خانہ جنگی میں د مشق حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ جیسے اوبامہ انتظامیہ د مشق حکومت کے خلاف دہشت گردوں کی مدد کر رہی تھی۔ اسرائیلی حکومت جو محکوم فلسطینیوں کی آزادی اور حقوق کی تحریک بھر پور فوجی مشین سے کچل رہی ہے۔ لیکن اپنے ہمسایہ میں د مشق حکومت کے خلاف دہشت گردوں کی تحریک کی حمایت کر رہی تھی۔ اسرائیل نے امریکہ کو شام میں تباہی  پھیلانے سے روکا کیوں نہیں تھا۔ بلاشبہ اس کے Consequences بھی تھے۔ جن کا اسرائیل کو اب سامنا کرنا چاہیے۔ انہیں ایران تباہ کرنے کے مقصد میں استعمال نہیں کیا جاۓ۔ مڈل ایسٹ میں دنیا کے لئے پیشتر بیماریاں 70سال کی اسرائیلی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔
  ٹرمپ انتظامیہ کی Economic war میں ترکی ایک نیا ایڈیشن ہے۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے۔ ایک نیٹو رکن کے خلاف دوسرے نیٹو رکن کی Economic war فوجی الائنس کا End Game ہے۔ ویسے تو ترکی کو عدم استحکام کرنے اور اس کے مفادات کے خلاف کام کرنے کی ابتدا اوبامہ انتظامیہ میں ہو گئی تھی۔ ترکی کے باغی کرد و ں کو داعش سے لڑنے کی آ ڑ میں تربیت دی جا رہی تھی۔ اور انہیں ہتھیار بھی فراہم کیے جا رہے تھے۔ باغی کرد و ں نے ترکی کے اندر حملہ شروع کر دئیے تھے۔ استنبول میں بموں کے دھماکے ہونے لگے تھے۔ سینکڑوں بے گناہ ترک شہری ان دھماکوں میں مارے گیے تھے۔ باغی کرد و ں کی دہشت گردی ترکی کو عدم استحکام کر رہی تھی۔ جس پر صدر اردو گان نے یہ بیان دیا تھا کہ امریکہ نے ان کی پشت میں چھرا گھونپا تھا۔ ترکی کے اندرونی اور اس کے ارد گرد کے حالات ترکی کی معیشت کو Drain کر رہے تھے۔ اور اب ٹرمپ انتظامیہ کی ترکی پر Economic Sanctions کے نتیجہ میں ترکی کی کرنسی تقریباً 45  فیصد گر گئی ہے۔ ترکی پر یہ اقتصادی بندشیں صدر ٹرمپ نے ایک امریکی پادری Andrew Brunson کو ار دو گان حکومت نے رہا کرنے سے انکار کرنے پر لگائی ہیں۔ امریکی پادری کو دہشت گردی کے الزام میں ترکی کی عدالت نے سزا سنائی ہے۔ صدر ارد گان کا کہنا ہے کہ امریکی پادری ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث تھا۔ اس کی رہائی کے سلسلے میں کئی اپیلیں مستر د ہو چکی ہیں۔ امریکی پادری اب گھر میں نظر بند ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی پادری جب تک رہا نہیں کیا جاۓ گا ترکی پر سے اقتصادی بندشیں نہیں ہٹائی جائیں گی۔ بلکہ ترکی پر نئی بندشیں بھی لگ سکتی ہیں۔ ایک شخص کی رہائی کے لئے جسے ترکی کی عدالت نے سزا سنائی ہے۔ اسے رہا کرانے کے لئے 80ملین ترک عوام کو اقتصادی بندشوں کا یرغمالی بنانے کے بجاۓ صدر ٹرمپ کو کوئی تیسرا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ایسے طریقے اکثر انتہا پسند تنظیمیں استعمال کرتی ہیں۔ طالبان افغانستان میں مغربی شہری اور صحافی یرغمالی بنا لیتے تھے اور پھر انہیں رہا کرنے کے لئے اپنے مطالبے تسلیم کرواتے تھے۔
    صدر ٹرمپ نے اس ماہ چین اور روس پر شمالی کوریا کو Liquor اور Tobacco فروخت کرنے پر نئی اقتصادی بندشیں لگا کر یہ سزا دی ہے کہ انہوں نے ایک کم عمر Little Rocket man کو Liquor اور Tobacco کیوں فروخت کیا تھا۔ جو امریکی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ Minor کو Liquor اور Tobacco فروخت کرنا ممنوع ہے۔ صدر ٹرمپ اسلامی ملکوں میں اگر یہ فیصلہ کرتے تو ان ملکوں کے سارے مذہبی رہنما انہیں اپنا پیر بنا لیتے۔ بہرحال اس سال جون میں Trump-Kim ملاقات کے بعد آ بناۓ کوریا کے Status quo میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تاہم شمالی کوریا کے رہنما Kim Jong un نے خود یکطرفہ فیصلے کیے ہیں اور اپنی جنگجو نہ سوچ تبدیل کر لی ہے۔ ایٹمی ہتھیار بنانے اور میزائلوں کے تجربے کرنا بند کر دئیے ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کی شمالی کوریا کے خلاف سخت اقتصادی بندشیں لگانے کی سوچ میں نرمی نہیں آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما Kim Jong un کے اس مطالبہ کا کہ آ بناۓ کوریا میں 60سال سے جاری جنگ کو اب ختم کرنے کا اعلان کیا جاۓ، اس کا بھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما نے جب یہ دیکھا کہ اس کے ہمسایہ میں چین کے ساتھ امریکہ نے ایک نئی جنگ “Trade War” کے نام سے شروع کر دی ہے۔ تو شمالی کوریا کے رہنما نے اس جنگ میں چین کی حمایت کے لئے اپنی ایک نئی Economic Strategy  بنائی ہے۔ اور ایٹمی ہتھیاروں پر توجہ دینے کے بجاۓ اقتصادی – صنعتی ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ شمالی کوریا کو امریکہ کے ساتھ Trade War کے لئے تیار کیا جاۓ۔ امریکہ لفظ War سے بڑی محبت کرتا ہے اور شمالی کوریا کے عوام لفظ War کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ شمالی کوریا نے 60سال امریکہ کی اقتصادی بندشوں میں اپنی قوم کو زندہ رکھا ہے۔ اقتصادی بندشوں کے باوجود اپنے دفاع کو مضبوط بنایا ہے۔ اور ایٹمی ہتھیار بناۓ ہیں۔ اور اب ان اقتصادی بندشوں میں شمالی کوریا اقتصادی اور صنعتی طاقت بھی بن سکتا ہے۔ قوم میں چیلنج قبول کرنے کا Potential ہے۔