Friday, April 10, 2020

America Can Fight War Against Terror In Sixty Countries, But America Can’t Fight War Against A Virus In Fifty States


  America Can Fight War Against Terror In Sixty Countries, But America Can’t Fight War Against A Virus In Fifty States


In January Iranian General Soleimani was the imminent threat, Coronavirus was not the imminent threat. In twenty years, when has National Security had one right decision in the people’s interest?

مجیب خان
Navy Hospital Ship arrived in New York
Russian Plane carrying Medical supply arrived at JFK International Airport in New York

The Javits Center, New York, is now a field hospital established by the Army corps of Engineers
 

 اس وقت Coronavirus کے نتیجے میں جن مشکل حالات کا سامنا ہے۔ اس کا الزام اب کس کو دیا جاۓ؟ الزام دینے کے لیے یہ آسامی خالی ہے۔ اس آسامی پر مختلف نام الزام دینے کے لیے جا رہے ہیں۔ بعض کے خیال میں یہ الزام پریذیڈنٹ ٹرمپ کو دیا جاۓ جنہوں نے Virus کے سلسلے میں بر وقت اقدام کرنے میں غفلت برتی تھی۔ بعض یہ الزام چین کو دے رہے ہیں کہ اس نے Virus کے بارے میں معلومات چھپائی تھیں۔ اور امریکہ کو اس سے گمراہ رکھا تھا۔ جبکہ چین کا کہنا ہے کہ اس نے WHO کو اس Virus کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اور امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور یورپی یونین کو اس Virus کے بارے میں معلومات فراہم کر دی تھیں۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ نے WHO کو بہت زیادہ China centric کہا ہے۔ اورCoronavirus کے بارے میں چین کے ساتھ WHO کو Cover up کا الزام دیا ہے۔ لیکن اس وقت مسئلہ ایران تھا۔ ایران میں Regime change قومی سلامتی امور کی ٹیم کے ذہنوں میں تھا۔ جنوری اور فروری میں ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے لیے کئی موقع پیدا کیے گیے تھے۔ لیکن پریذیڈنٹ ٹرمپ کے ذہن میں شاید Coronavirus تھا۔ اس لیے ایران کے خلاف بھر پور فوجی کاروائی سے گریز کیا تھا۔ قومی سلامتی امور کی ٹیم کو بھی اس خطرناک Virus کا علم تھا۔ لیکن Anti-Iran اور War mongers نے Coronavirus کے انتہائی خطرناک ہونے کی اہمیت کم کر دی تھی۔ اور ایران کے انتہائی خطرناک Behavior کو بڑھا دیا تھا۔ سیکرٹیری آف اسٹیٹ Mike Pompeo، سیکرٹیری ڈیفنس Mark Esper قومی سلامتی امور کے مشیر ایرانی جنرل Qassim Soleimani کو Imminent threat بتا رہے تھے۔ جبکہ Imminent threat Coronavirus تھا۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ نے General Soleimani ‘The imminent threat’ کے خلاف Drone کروائی کرنے کا حکم دیا تھا اور اسے مار دیا تھا۔ اب اگر امریکہ کی اس انتہائی غیر ذمہ دارا نہ کاروائی کے نتیجے میں ایران سے باقاعدہ جنگ شروع ہو جاتی تو جنگ عراق کی طرح آج بھی ہو رہی ہوتی اور امریکہ اور خلیج کا Coronavirus میں کیا حال ہوتا؟ War کے ساتھ  Coronavirus دنیا شاید ناگا ساکی اور ہیرو شما کی تباہیاں بھول جاتی۔ خلیج سے امریکی فوجیوں کو نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ دو تین ملین لوگ یہاں بہت آسانی سے مر چکے تھے۔ اس لیے بھی چین نے ٹرمپ انتظامیہ کو خصوصی طور پر Coronavirus کے خطرناک ہونے سے آگاہ کیا ہو گا۔ اور ایران کو بھی جنگ سے روکا ہو گا۔
  حالانکہ Biological viruses کے خطروں سے تقریباً 20سال سے لوگوں کو خوفزدہ کیا جا رہا تھا۔ بش انتظامیہ نے ان خطروں کا خاتمہ کرنے کے لیے افغانستان اور عراق کے خلاف فوجی کاروائیاں کی تھیں۔ صدر بش نے ان خطروں کا خاتمہ کرنے کے لیے  کہا تھا کہ ' امریکہ دنیا میں بیک وقت 60 ملکوں میں جنگ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر ا وبا مہ نے شام کی حکومت کو بائیو لوجیکل ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف سخت لفظوں میں متنبہ کیا تھا۔  صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے ابتدائی ماہ میں شام کی حکومت کے بائیو لوجیکل ہتھیار استعمال کرنے کے الزام میں د مشق پر 50 کروز میزائل گراۓ تھے۔ 20 سال میں بش، ا و با مہ اور اب ٹرمپ انتظامیہ نے قومی سلامتی کے مفاد میں جنگوں اور ہتھیاروں کی صنعت پر خصوصی توجہ دی تھی۔ کھربوں ڈالر جدید اور بہترین ہتھیار بنانے پر خرچ کیے تھے۔ امریکہ کی قومی سلامتی نے مصنوعی خطرے پیدا کر کے دفاعی بجٹ 400بلین ڈالر پر پہنچا دیا ہے۔ اور ہر سال یہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بش اور ا و با مہ انتظامیہ میں قومی سلامتی پالیسی کا غلبہ تھا۔ انتظامیہ کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ کی Coronavirus سے عوام کی صحت کی سیکورٹی کے لیے کوئی تیاری نہیں تھی۔ خطرناک Virus attack سے عوام کو بچانے میں حکومت بے بس تھی۔ ایسے ہنگامی حالات میں ہسپتالوں کی زبردست قلت تھی۔ اور جو ہسپتال تھے ان میں Medical supply کی قلت تھے۔ ڈاکٹروں کے لیے Surgical gowns نہیں تھے۔ ‏Masks نہیں تھے۔ Gloves نہیں تھے۔ مریضوں کو Virus سے بچانے کے لیے Ventilators نہیں تھے۔ ہسپتالوں میں Test Kits نہیں تھیں۔ Coronavirus میں نصف سے زیادہ اموات حکومت کی اس بد انتظامی کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ 20 سال سے حکومت لوگوں کو Biological warfare سے خوفزدہ کر رہی تھی۔ لیکن  اس صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے حکومت نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ امریکہ 60 ملکوں میں بیک وقت جنگیں کر سکتا ہے۔ لیکن امریکہ اپنی 50 ریاستوں میں صرف ایک Virus  سے نہیں لڑ سکتا ہے۔ یہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس میں بش-چینی اور ا و با مہ- بائڈن انتظامیہ بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے 60 ملکوں میں جنگوں کی تیاری کے لیے امریکی عوام کو Biological viruses کی باتوں سے خوفزدہ بہت کیا تھا۔ لیکن امریکہ کی 50 ریاستوں میں اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ یہ Facts آج 50 ریاستوں میں امریکی عوام کے سامنے ہیں۔ Establishment, Deep state, Administration امریکی عوام کی جانیں بچانے میں بری طرح فیل ہوۓ ہیں۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ کو دنیا سے یہ اپیل کرنا پڑی تھی کہ جس کسی ملک کے پاس Extra Medical supply, Ventilators, masks, Gloves, Surgical gowns ہے وہ امریکہ کو دے دیں۔
  ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی ایک علیحدہ مسئلہ تھا۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ نے Navy Hospital ships نیویارک میں Coronavirus مریضوں کا علاج کرنے بھیجے تھے۔ آرمی انجیرنگ کور سے نیویارک اور دوسرے شہروں میں ہسپتال قائم کرنے کے لیے کہا تھا۔ نیویارک Coronavirus epic center بن گیا تھا۔ کیوبا کے ساتھ امریکہ کے اگر اچھے سفارتی تعلقات ہوتے تو کیوبا اپنے ڈاکٹرز اور نرسیں نیویارک بھیج کر ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی پوری کر سکتا تھا۔ لیکن امریکہ نے روس کی امداد ان برے حالات میں قبول کر لی ہے۔ جسے دو سال سے امریکہ کا دشمن کہا جا رہا تھا۔ روس کا ملٹری کار گو طیارہ 60ٹن Medical supply لے کر نیویارک آیا ہے۔ Medical supply میں پیشتر سے زیادہ اس روسی کمپنی کا سامان ہے جس پر امریکہ کی بندشیں لگی ہوئی ہیں۔ چین کی علی بابا کمپنی کے بانی Jack ma نے 500,00 Masks and 5000 Test kits امریکہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ چین کی حکومت کے بھی کئی طیارے Medical supply لے کر امریکہ آۓ ہیں۔ روس اور چین کی اس بر وقت امداد سے امریکہ کی پیشتر ریاستوں اور شہروں میں Coronavirus سے اموات میں بہت کمی آئی ہے۔ Establishment and Deep state کو Coronavirus کے اس بڑے پیمانے پر Magnitude کا یقین نہیں ہو گا۔ جس کے جھٹکے دنیا کے ہر کونے میں دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں لیڈروں کی باتیں اور بیانات بالکل غلط ثابت ہوۓ ہیں۔ 9/11 کے بعد  امریکی عوام سے یہ کہا گیا تھا کہ بن لادن ہماری اقتصادی خوشحالی کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔ غلط ثابت ہوا ہے۔ صدا م حسین کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ مڈل ایسٹ کے تیل کی پائپ لائنوں کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ غلط ثابت ہوا ہے۔ پھر صدا م حسین کے بارے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مہلک ہتھیاروں کو سیکنڈ میں Assemble کر کے ہمیں تباہ کر سکتے تھے۔ غلط ثابت ہوا ہے۔ صدا م حسین کو پھانسی دینے کے 14 سال بعد آج ایک Virus نے دنیا بھر کو Lockdown کر دیا ہے۔ دنیا کی معیشت Paralyze ہو گئی ہے۔ صرف امریکہ میں 7ملین لوگ بیروزگار ہو گیے ہیں۔ دنیا میں ایک ملین لوگ اس Virus سے مر گیے ہیں۔ امریکہ کا Economic Power Status is at Stake۔ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو دوبارہ اپنا عالمی Economic Power Status بحال کرنے میں تقریباً  5سال لگ جائیں گے۔ لیکن جو ملک اس Virus سے زیادہ متاثر نہیں ہوۓ ہیں۔ لیکن جو اس Virus سے محدود نقصان کے ساتھ جلد نکل آۓ ہیں وہ 5 پانچ سالوں میں امریکہ سے بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔ یہ Exported حالات نہیں ہیں جن پر Made in China لکھا ہے۔ 20 سال کی امریکی پالیسیوں نے عوام کو یہ حالات دئیے ہیں۔ ان حالات کا تعلق امریکہ کی داخلی سیاست سے ہے۔             


Sunday, April 5, 2020

What’s The Reason America Is In Iraq, When America Has Military Bases in Six Gulf Countries?


What’s The Reason America Is In Iraq, When America Has Military Bases In Six Gulf Countries?  


How much “very heavy price” is a very heavy price, when Iran is facing the very heavy price of Coronavirus

مجیب خان
Iran: Coronavirus Death reaches twelve thousand 

What Shah of Iran had said forty-five years ago, today Iranian leaders not saying different






  سوال یہ ہے کہ امریکی فوجیں اب عراق میں کیوں ہیں؟ یہاں امریکی فوجوں کی موجودگی سے امن میں مدد مل رہی ہے۔ اور نہ ہی استحکام آ رہا ہے۔ یہاں ہر ملک پر جنگ کے سیاہ بادل چھاۓ ہوۓ ہیں۔ لوگ یہاں ابھی تک امن کی روشنی سے محروم ہیں۔ انہیں یہاں میلوں امریکہ کے فوجی مشن ختم ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ فوجی مشن بھی Coronavirus کی طرح ہیں۔ ہر ایک کے سامنے مرنے کا خطرہ ہے۔ حالانکہ افغانستان کے مقابلے میں عراق کے حالات بہت بہتر ہیں۔ عراق میں سیاسی حکومت ہے۔ جو Functions کر رہی ہے۔ عراق میں ایک پارلیمنٹ بھی ہے۔ جس میں شیعہ سنی عیسائی اور کرد شامل ہیں۔ جنہیں عراقی عوام نے منتخب کیا ہے۔ عراق میں سیاسی جماعتیں ہیں۔ مذہبی جماعتیں ہیں۔ مذہبی لیڈر بھی ہیں۔ عراق کی اپنی فوج ہے۔ سیکورٹی ادارے ہیں۔ عراقی ملیشیا بھی ہے۔ عراق میں ملیشیا کی بنیاد جنرل David Petraeus نے رکھی تھی۔ جو عراق پر امریکی قبضہ کے وقت امریکی فوج کے کمانڈر تھے۔ امریکہ کے فوجی قبضہ کے خلاف عراقیوں کی مزاحمت میں تیزی آ گئی تھی۔ افغانستان کی طرح عراق بھی ایک قبائلی معاشرہ تھا۔ جنرل David Petraeus نے قبائل سے مل کر ان کے علاقوں میں امن رکھنے کے لیے ملیشیا بناۓ تھے۔ انہیں القا عدہ سے لڑنے کے لیے اسلحہ اور تربیت دی تھی۔ ایسے ملیشیا عراق میں شیعہ اور سنی علاقوں میں بناۓ تھے۔ ان کی القا عدہ کے خلاف لڑائی پھر شیعہ سنی جنگ بن گئی تھی۔ اس پس منظر کے ساتھ ملیشیا اب عراقی فوج کا حصہ ہے۔ یہ ملیشیا عراقی فوج کے ساتھ دہشت گروپوں سے لڑی تھی۔ عراق کو ابھی دہشت گرد گروپوں سے نجات ملی تھی کہ پھر پیچھے سے ISIS کے لشکر آ گیے تھے۔ اور انہوں نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر کے اپنی ایک اسلامی ریاست قائم کر لی تھی۔ لیکن امریکہ نے ابھی تک دنیا کو یہ نہیں بتایا ہے کہ  ISIS کس کے Dollars یا Petro-Dollars سے وجود میں آئی تھی۔ ایران کی سرحد پر عراق میں ISIS سے ایران  کواتنا ہی بڑا خطرہ تھی کہ جیسے 8ہزار میل دور افغانستان میں القا عدہ کی موجودگی امریکہ کے لیے خطرہ تھی۔ اس خطرے کی وجہ سے ایران نے عراقی ملیشیا کی مدد کی تھی اور ایرانی فوج نے عراقی ملیشیا کے ساتھ مل کر ISIS سے عراق کے علاقے آزاد کر آۓ تھے۔ عراق سے ISIS کا مکمل خاتمہ کیا تھا۔ اس لڑائی میں ایرانی اور عراقی ملیشیا کے فوجی بھی مارے گیے تھے۔ لیکن عراق میں ISIS کا خاتمہ ہونے کا کریڈٹ ٹرمپ انتظامیہ نے لے لیا تھا۔ اور عراق میں مداخلت کرنے کا الزام ایران پر لگا دیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایران کو عراقی ملیشیا کی پشت پنا ہی کرنے کا الزام بھی دیا تھا۔ عراقی ملیشیا اور ایران میں قریبی تعاون کو خطہ میں امریکہ اور قریبی اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ حالانکہ عراق سے ISIS کا خاتمہ کرنے کے بعد ایران اور عراقی ملیشیا شام کے علاقوں کو ISIS کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہے تھے۔ اسد حکومت کی مدد کر رہے تھے۔ یہ غلاظت بش اور ا و با مہ انتظامیہ یہاں چھوڑ کر گیے تھے۔ پھر تیسری انتظامیہ آ گئی۔ اس نے جو غلاظت صاف کر رہے تھے ان کے ساتھ شامل ہونے کی بجاۓ انہیں بکھری ہوئی غلاظت میں مداخلت کرنے کا الزام دینا شروع کر دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عراقی ملیشیا اور ایران کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ شام میں ISIS اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی موجودگی کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ جیسے یہ  سعودی عرب اور اسرائیل کے Certified گروپ تھے۔ اور یہ انہیں ختم کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے ایران کو شام میں مداخلت کا الزام  دے کر اسے روکنے کی کوشش کی ہے۔
  عراق میں امریکی فوجیں صرف سعودی عرب اور اسرائیل کی پالیسی کے مطابق ہیں۔ ورنہ عراق میں امریکی فوجوں کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ امریکہ کی فوجیں کویت میں ہیں۔ متحدہ عرب امارت میں امریکی فوجیں ہیں۔ ا و مان میں ہیں۔ مغربی ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا بحری اڈہ قطر میں ہیں۔ جہاں امریکہ کے طیارہ بردار بحری بیڑے کھڑے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی امریکہ کی اتنی بھاری فوجی موجودگی نہیں ہے کہ جتنی خلیج میں ہے۔ امریکہ کی فوجوں نے خلیج کا گھراؤ کر رکھا ہے۔ پھر اس کے باوجود عراق میں امریکہ کی فوجیں کیوں ہیں؟ جبکہ عراقی پارلیمنٹ نے عراق سے امریکی فوجیں واپس جانے کی قرار داد بھی منظور کی ہے۔ لیکن امریکہ کو عراقی عوام کے جذبات کا احترام ہے۔ اور نہ ہی عراقی پارلیمنٹ کی قرارداد کی کوئی اہمیت ہے۔ امریکی فوجیں بھی عراق میں ایک ڈکٹیٹر کی فوجوں کی طرح عراقی عوام پر مسلط ہیں۔ غیر ملکی فوجوں کی یہاں موجودگی سے Destabilize Status quo بن گیا ہے۔
  گزشتہ 20 سال امریکہ نے زیادہ وقت Tribal معا شروں میں گزارے ہیں۔ 19 سال امریکہ نے Afghan Tribal معاشرے میں گزارے ہیں۔ تقریباً 17 سال Tribal Iraq  معاشرے میں، 11سال یمن Tribal Yemen معاشرے میں القا عدہ کے خلاف جنگ میں اور Saudi Tribal Politics میں گزرے ہیں۔ اور اب امریکہ کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں Tribalism  نظر آ رہا ہے۔ مہذب جمہوری قدریں، اخلاقی اصولوں کی باتیں، قانون کی بالا دستی کا کلچر غائب ہو گیا ہے۔ اور Tribal Culture آ گیا ہے۔ Might is Right’ ‘ بہت بڑھ گیا ہے۔ امریکہ  دنیا کا ایک  بڑا Tribe بن گیا ہے۔ صدر بش نے افغانستان میں سب سے پہلے Tribes  بحال کیے تھے۔ جنہیں طالبان نے بالکل ختم کر دیا تھا۔ افغان Tribe نے پھر امریکہ کو ان کے ساتھ Tribe بن کررہنا سکھایا تھا۔ Tribal سیاست سکھائی تھی۔ اور امریکہ کا یہ Tribalism عرب دنیا کی سیاست میں نظر آ رہا ہے۔ ایران سے دشمنی میں امریکہ بھی عرب Tribes کے ساتھ ہے۔ خطہ میں ایران کے دشمن دنیا میں امریکہ کے دشمنوں سے بہت زیادہ ہیں۔ عرب Tribes By hook or by crook ایران میں Regime change چاہتے ہیں۔ اور Tribes سازشیں کرتے ہیں۔ گزشتہ سال اور پھر اس سال جنوری میں کئی مرتبہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے لیے کیس بنانے کی سازش کی گئی تھی۔ پہلے سعودی عرب میں آئل تنصیبات پر راکٹوں سے حملہ میں ایران کو ملوث کرنے کی سازش کی گئی تھی۔ ہوتیوں نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس حملہ کا الزام ایران کو دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پھر عراق میں امریکہ کے فوجی بیس پر حملہ ہوا تھا۔ جس میں امریکہ کے دو کنٹریکٹر مارے گیے تھے۔ اور کچھ فوجی زخمی ہوۓ تھے۔ اسے عراقی ملیشیا جسے ایران کی حمایت تھی۔ اس حملہ کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ امریکہ نے اس حملہ کے جواب میں عراق میں Drone سے حملہ کر کے ایرانی جنرل اور اس کے ساتھ عراقی ملیشیا کے کمانڈر کو مار دیا تھا۔ عراقی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا۔ اور اسے عراقی حکومت کی اجازت کے بغیر عراق کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ جبکہ ملیشیا کو عراقی فوج کا حصہ بتایا تھا۔ عراقی وزیر اعظم نے بتایا کہ ایرانی جنرل ان کی دعوت پر بغداد آۓ تھے اور دوسرے دن صبح ساڑھے آٹھ بجے ان سے ملاقات ہونا تھی۔ عراقی حکومت نے اس واقع کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی بیس پر حملہ ISIS نے کیا تھا۔ ایران شام میں ISIS کے خلاف اسد حکومت کی مدد کر رہا تھا۔ ایران کے خلاف یہ سازش ISIS نے کی تھی۔ لیکن اس کا انتقام امریکہ نے اس ایرانی جنرل اور عراقی ملیشیا کمانڈر کو ہلاک کر دیا تھا۔ جنہوں نے اسد حکومت کی فوج کے ساتھ شام کے علاقوں سے ISIS کا قبضہ ختم کیا تھا۔ ایران کے دشمن یہ سازش پھر کریں گے۔ امریکہ ایران کو الزام  دے گا۔ اور اس پر Drone سے میزائل گراۓ گا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو امریکی فوجوں پر حملہ کی ‘Very heavy price’ کی دھمکی دی ہے۔ حالانکہ ایران پہلے ہی امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرنے کی  ایک ‘Very heavy price’ ادا کر رہا ہے۔ اگر ایران یہ معاہدہ نہیں کرتا تو شاید اسے ‘Very heavy price’ نہیں دینا پڑتی۔ ایران نے علاقائی اور عالمی امن کے لیے یہ ایٹمی معاہدہ کیا تھا۔ لیکن ایک Belligerent administration اور Arab Tribes نے مل کر علاقائی اور عالمی امن پھر خطرے میں ڈال دئیے ہیں۔ Tribes اپنی سلامتی اور بقا صرف Hostility میں دیکھتے ہیں۔
  سعودی عرب اور خلیج کے ملکوں کی Hostile Polices کی وجہ سے ان کے وسائل روزانہ، ہر ہفتہ، ہر ماہ، ہر سال Drain ہوتے جا رہے ہیں۔ دس سال پہلے اقتصادی طور پر یہ کہاں تھے؟ اور پانچ سال پہلے یہ کہاں تھے؟ اور آج یہ ہر طرف سے کتنے vulnerable ہیں۔ ان کی اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی حالات کے کنٹرول میں ہیں۔ اور حالات پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ جس طرح Coronavirus curve کبھی اوپر جاتا ہے اور کبھی نیچے آ جاتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب اور خلیج کی ریاستوں کا اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی Curve بھی اوپر نیچے ہو رہا ہے۔ ایران کے تیل کی درآمد پر امریکہ کی پابندی کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل کی پیداوار بڑھا دی تھی۔ اور اس کمی کو پورا کیا تھا۔ آج صدر ٹرمپ سعودی عرب سے تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں تیل بہت ہو گیا ہے۔ تیل کی قیمتیں بہت زیادہ گر گئی ہیں۔ امریکہ میں تیل کمپنیاں دیوالیہ ہو رہی ہیں۔ تیل کی پیداوار میں اضافہ کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب یمن جنگ کے اخراجات پر خرچ کر رہا تھا۔ تیل کی قیمتوں میں حیرت انگیز کمی کی وجہ سے سعودی عرب کو اپنے تمام ترقیاتی پروجیکٹ پر کام بند کرنا پڑیں ہیں۔ چند ماہ قبل صدر ٹرمپ دنیا کو یہ بتا رہے تھے کہ 'سعودی عرب 400بلین ڈالر امریکہ میں invest کر رہا ہے۔ امریکہ سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہا ہے۔ امریکہ میں Job Create کر رہا ہے۔' لیکن آج Boing کمپنی دیوالیہ ہو رہی ہے۔ ہزاروں Jobs خطرے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ہر صورت میں Boing کو بچائیں گے۔ Coronavirus نے عالمی معیشت کی جڑیں ہلا دی ہیں۔ یہ عالمی مالیاتی نظام کے Survival کی جنگ بن رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ Post Coronavirus میں کون مضبوط معیشت کے ساتھ آگے آۓ گا اور کون کمزور معیشت کے ساتھ پیچھے ہو جاۓ گا۔   















Wednesday, April 1, 2020

The World is Locked Down, Everywhere People are Dying from the Coronavirus, In Iran Three Thousand People Have Been Dying from the Virus, America and UAE’s Military Drill Right on Iran’s Door, When Iranian Were Busy to The Burial of Their Love One



 The World is Locked Down, Everywhere People are Dying from the Coronavirus, In Iran, Three Thousand People Have Been Dying from the Virus, America and UAE’s Military Drill Right on Iran’s door, When Iranian Were Busy to The Burial of Their Loved One  



Americans don’t like Russian Meddling in their elections, but America is asking Venezuelan People to accept the Meddling in their election and recognize Juan Guaido as the legitimate President

مجیب خان
The US, UAE military drill amid  Coronavirus and Iran tension, Mar23, 2020


31years ago, President of Panama Manuel Noriega accused of Money laundering and Drug trafficking. During the trial, it was revealed, Noriega had been a paid CIA asset. After 31 years Venezuela President Nicolas Maduro, indicted in the US of Money laundering and Drug trafficking, America is not changed and will not change 

  

  دنیا بھر میں Coronavirus نے لوگوں کو گھروں میں نظر بند کر دیا ہے۔ اس Virus کے پھیلنے میں ابھی تک کوئی نمایاں کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔ امریکہ میں صرف ایک روز میں 486 لوگ مر گیے ہیں۔ اور مرنے والوں کی تعداد اب 3000 پر پہنچ گئی ہے۔ جبکہ Virus سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار ہو گئی ہے۔ اٹلی میں 9ہزار لوگ اس Virus سے مر گیے ہیں۔ جو یورپ کے ملکوں میں ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ خلیج کے ملکوں میں ایران سب سے پہلے اس Virus سے متاثر ہوا تھا۔ ایران میں مرنے والوں کی تعداد 3ہزار کے قریب ہے۔ جبکہ ایرانی حکومت کے مطابق 50ہزار ایرانی اس Virus سے بیمار ہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں لوگ اس Virus سے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں لوگ اپنی صحت اور اپنی معاشی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ لیکن امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی فوجی مشقیں ایران کے دروازے پر ہو رہی تھیں۔ دنیا بھر میں تمام کاروبار بند ہیں۔ اقتصادی سرگرمیاں معطل ہیں۔ لیکن خلیج میں فوجی مشقیں اور فوجی سرگرمیاں جیسے Essential Service ہیں۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ روزانہ امریکی عوام کو اس Virus کے بارے میں بریف کرتے ہیں۔ انہیں بتاتے ہیں کہ اس Invisible enemy کے خلاف جنگ میں بہت جلد بڑی کامیابی ہو گی۔ لیکن اس جنگ کے بیک گراؤنڈ میں ابھی تک ایران سے جنگ ہے۔ انتظار شاید یہ ہے کہ Coronavirus ایرانی حکومت کے زوال کا سبب ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کے خیال میں ایرانی حکومت اس وقت ہر طرف سے برے حالات میں ہے۔ اور ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر نئی بندشیں لگا دی ہیں۔ Coronavirus کی وجہ سے ایرانی حکومت کو جن مسائل کا سامنا ہو رہا ہے۔ اس کے پیش نظر دنیا صرف انسانی ہمدردی میں ٹرمپ انتظامیہ سے ایران پر سے بندشیں ہٹانے کے مطالبے کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹیری جنرل متعدد بار یہ اپیلیں کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے WHO کی طرف سے بھی یہ اپیلیں کی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے Human Right Commission نے بھی ٹرمپ انتظامیہ سے ایران پر سے فوری طور پر بندشیں ہٹانے کی اپیل کی ہے۔ لیکن دنیا کی ان اپیلوں کا ابھی تک کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں Rightwing Meanness آ گئی ہے۔ کم از کم اس مشکل اور المناک موقعہ پر امریکہ کے Great ہونے کا ثبوت دینا چاہیے تھا۔
  امریکی عوام اب کہاں سے ایک ایسا فرشتہ لائیں جو ان سے اپنے انتخابی وعدے لفظ بہ لفظ پورے کرے اور ‏Make America Great  کو واقعی Great بناۓ۔ امریکی عوام نے پریذیڈنٹ ٹرمپ کو صرف ان وعدوں پر منتخب کیا تھا کہ وہ دوسرے  ملکوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ Regime change جنگیں ختم کریں گے۔ Military adventurism  امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ امریکہ دنیا کا Policeman نہیں ہے۔ علاقائی ملک اپنے خطہ کے مسائل اور تنازعہ خود حل کریں۔ اپنے خطہ میں استحکام اور امن کے لیے کام کریں۔ لیکن پریذیڈنٹ ٹرمپ نے اسرائیل کے Benjamin Netanyahu سے جو وعدے کیے تھے۔ وہ پورے کیے ہیں۔ امریکہ کے Establishment کا دوسرے ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت کرنے کا Culture برقرار ہے۔ امریکہ کا Policeman رول جاری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ خلیج میں سعودی عرب اور اسرائیل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ خلیج میں استحکام اور امن بھی امریکہ کا کام ہے۔ خلیج کے ملکوں کی آزادی کے 60 اور 70 برس کے ہو گیے ہیں۔ لیکن امریکہ انہیں ابھی تک انگلی پکڑ کر کھڑا ہونا سیکھا رہا ہے۔
  پریذیڈنٹ ٹرمپ نے Venezuela میں مداخلت کیوں کی ہے؟ امریکی عوام نے پریذیڈنٹ ٹرمپ کو اس لیے ووٹ نہیں دئیے تھے کہ وہ صدر منتخب ہونے کے بعد Venezuela میں ایک نیا صدر نامزد کریں گے۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ کو جس طرح عوام کی بھاری حمایت حاصل ہے۔ اور پریذیڈنٹ ٹرمپ کے مخالفین کو بھی عوام کی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن نے مڈ ٹرم کے انتخابات میں کانگرس میں اکثریت حاصل کی ہے۔ اسپیکر اب اپوزیشن کا ہے۔ 2016 کے صدارتی انتخابات میں پریذیڈنٹ ٹرمپ کے مخالفین نے روس کو امریکہ کے انتخابات میں Meddling کا الزام دیا تھا۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ پریذیڈنٹ ٹرمپ اس Meddling کے نتیجے میں منتخب ہوۓ تھے۔ Venezuela میں بھی کچھ یہ ہی سیاست ہو رہی ہے۔ پریذیڈنٹ Nicolas Maduro کو عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ جو غریب ہیں۔ اور جن کے لیے Maduro حکومت لڑ رہی ہے۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر Juan Guaido کے پیچھے دولت مند طبقہ ہے۔ جو Venezuela سے عوام کی دولت لوٹ کر امریکہ آ گیے ہیں۔ اور بعض نے ہمسایہ ملکوں میں پناہ لے لی ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کی Meddling ہونے پر امریکہ میں سیاسی زلزلہ آ گیا تھا۔ بڑے سیاسی لوگ روس کے ایجنٹ قرار دئیے گیے تھے۔ لیکن پریذیڈنٹ ٹرمپ نے کس Moral authority کے تحت Venezuela کی انتخابی سیاست میں MADDLING کی ہے۔ اور اپوزیشن لیڈر کو Venezuela کا پریذیڈنٹ قرار دیا ہے۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ کے اس فیصلہ کا نتیجہ افغانستان کی سیاست میں دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں انتخابات کے نتائج ایک ثقافتی طبقہ تسلیم نہیں کر رہا ہے اور دو مختلف ثقافتی طبقہ کے صدر بن گیے ہیں۔ اور Venezuela کی طرح دونوں منتخب صدر ہونے کے دعوی کر رہے ہیں۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ کے فیصلے نے Venezuela میں سیاسی مسئلہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اور افغانستان میں بھی ایک نیا سیاسی تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔
  Maduro حکومت کے خلاف ہر ہتھکنڈہ استعمال کر لیا ہے۔ Venezuela کو اقتصادی بندشوں کی زنجیروں میں جھکڑ دیا ہے۔ عوام کے لیے اقتصادی مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ کہ پھر عوام Maduro حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ جائیں گے۔ عوام میں یہ پراپگنڈہ کیا گیا کہ وہ جن اقتصادی مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی ذمہ دار Maduro حکومت ہے۔ جو  کر پٹ حکومت ہے۔ Venezuela کی فوج سے Maduro کو اقتدار سے ہٹانے کی اپیلیں بھی کی گئی تھیں۔ جس کی لا طین امریکہ کے لوگ کبھی حمایت نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہاں لوگ سرد جنگ میں انتہائی Brutal اور Ruthless فوجی جنرلوں کے اقتدار کو نہیں بھولیں ہیں۔ جنہیں امریکہ نے ان پر مسلط کیا تھا۔ ماضی کے فوجی ڈکٹیٹروں کے مقابلے میں لوگ Maduro کو بہت Soft Leader سمجھتے ہیں۔ جس کا غریب طبقہ سے تعلق ہے۔ جو غربت کو جانتا ہے۔ اور لوگوں کو غربت سے نجات دلانے میں بھی سنجیدہ ہے۔ اور لوگوں کی اکثریت اس کے ساتھ ہے۔
  اور اب Maduro کو اقتدار سے ہٹانے اور اپنا آدمی Venezuela میں Install کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ 31 سال پیچھے چلی گئی ہے۔ اور 1989 میں President George H. Bush نے Panama میں President Manuel Noriega کے خلاف جو کیس بنایا تھا جس میں Money Laundering, Drug Trafficking الزامات سر فہرست تھے۔ اس کیس سے Noriega کا نام ہٹا کر اب Maduro کا نام ڈال دیا ہے۔ اور President Maduro کو بھی ان ہی الزامات میں امریکہ میں Indicted کیا ہے۔ اور انہیں حراست میں لینے والے کو 15ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ جو Venezuela کی فوج میں کسی کو Bribe کرنا ہے۔ کر پٹ لیڈر کو کرپشن کے ذریعہ ہٹا کر فرشتہ اقتدار میں لایا جاۓ گا۔ امریکہ میں 15ملین لوگ چند ماہ میں بیروزگار ہونے والے ہیں۔ لیکن Maduro کو پکڑنے والے کے لیے 15ملین ڈالر امریکہ کے پاس ہیں۔ امریکی عوام اپنی حکومت کے اس فیصلے سے ضرور مایوس ہوۓ ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں بھی یہ Filthy Politics تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ امریکی عوام جب اپنے ملک میں غیر ملکی Meddling پسند نہیں کرتے ہیں۔ تو وہ اپنی حکومت کی دوسرے ملکوں میں Meddling کیسے پسند کریں گے؟ لا طین امریکہ میں صرف دائیں بازو کے تنگ نظر قدامت پسند امریکہ کے غریبوں کی حامی ترقی پسند حکومتوں کے خلاف Meddling کی حمایت کریں گے۔ جو سرد جنگ میں فوجی ڈکٹیٹروں کے ساتھ تھے۔ اور جو دولت لوٹ کرFlorida آ گیے ہیں۔ اور غربت پیچھے چھوڑ آۓ ہیں۔ لا طین امریکہ کے عوام Venezuela اپوزیشن لیڈر Juan Guaido کو CIA Assest  سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اس کے ذریعے Venezuela کے Oil, Gold اور دوسرے قدرتی وسائل پر اپنا تسلط چاہتا ہے۔ اور امریکہ کی یہ پالیسی Venezuela کو بھی ایک دوسرا عراق بنا دے گی۔