Friday, May 12, 2017

Twenty-Seven Years After The End of Cold War, People In The West Are The Biggest Loser

Twenty-Seven Years After The End of Cold War, People In The West Are The Biggest Loser 

Middle Class Has Been Wiped Out, Labor Unions Have Been Crushed, Freedom Has Been Depreciated, Standard of Living Has Been Stagnant, Companies Are Profiting From Dollar A Day Labors In The Poorest Countries, And Americans Are Living On The Dollar Stores

مجیب خان





   اگر روس کی Hacking کے باوجود فرانس کے عوام کا ایک ایسے آزاد امیدوار کو فرانس کا صدر منتخب کرنے کا فیصلہ درست ہے۔ جس کا فرانس کی سیاست میں کبھی کوئی رول نہیں تھا۔ تو پھر امریکہ کے عوام کا ڈونالڈ ٹرمپ کو، جس کا امریکہ کی سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے، صدر منتخب کرنے کا فیصلہ غلط  کیوں ہے؟ لوگ انتخابات میں روس کی Hacking دیکھ کر صدارتی امیدوار منتخب نہیں کرتے ہیں۔ اور فرانس کے صدارتی انتخاب کے نتائج سے یہ ثابت ہو گیا ہے۔ نو منتخب صدر  Emmanuel Macron 39 برس کے ہیں۔ اور فرانس کی تاریخ میں سب سے کم عمر صدر ہیں۔ Macron ایک سابق بنکار ہیں۔ صدر Francois Hallende کے اقتصادی اصلاحات کے مشیر بن گیے تھے۔ اور پھر 2014 سے 2016 تک اقتصادی وزیر تھے۔ نو منتخب صدر کا حکومت میں صرف یہ مختصر تجربہ تھا۔ صدر ٹرمپ کو حکومت اور سیاست کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ بھی با ظاہر ایک آزاد صدارتی امیدوار تھے۔ لیکن ری پبلیکن پارٹی کا پلیٹ فارم صرف صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لئے استعمال کیا تھا۔ ہلری کلنٹن اگر صدر اوبامہ کی کابینہ میں شامل نہیں ہوتیں تو شاید وہ ڈونالڈ ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ Formidable امیدوار ہوتیں۔ ہلری کلنٹن نے صدر بش کی افغان اور عراق جنگوں کی حمایت کی تھی۔ اور پھر اوبامہ انتظامیہ میں سیکریٹری آف اسٹیٹ بننے کے بعد لیبیا اور شام میں جنگ کی حمایت کی تھی۔ ہلری کلنٹن کے اس ریکارڈ کو دیکھ کر امریکی عوام انہیں صدر منتخب کرنے کے بارے میں شیش و پنج میں تھے۔ اور آخر میں انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر منتخب کرنے کا ذہن بنا لیا تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے دونوں پارٹیوں کی پالیسیوں پر شدید تنقید سے خود کو ایک آزاد امیدوار ثابت کیا تھا۔
   امریکہ کی طرح فرانس میں بھی کنز ویٹو ری پبلیکن کی حکومت میں صدر نکولس سر کو زی نے عراق جنگ کی حمایت کی تھی۔ اور پھر صدر اوبامہ  کے ساتھ لیبیا پر حملہ کر کے قدافی کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔ ان فوجی مہم جوئیوں کے نتیجہ میں صدر سر کو زی انتخاب ہار گیے تھے۔ سوشلسٹ پارٹی اقتدار میں آ گئی تھی۔ صدر Francois Hollande کی حکومت نے صدر اوبامہ کے ساتھ شام میں ایک انتہائی خونی خانہ جنگی میں نام نہاد باغیوں کی حمایت کی تھی۔ اس خانہ جنگی میں 4 لاکھ بے گناہ شامی مارے گیے ہیں۔ شام کھنڈرات بن گیا ہے۔ لیکن صدر Hollande کی حکومت باغیوں کی حمایت کرتی رہی۔ شام کی خانہ جنگی کے اثرات پھر فرانس میں دیکھے جا رہے تھے۔ پیرس میں دہشت گردی کے واقعات ہونے لگے تھے۔ دوسری طرف شام لیبیا اور دوسرے جنگ زدہ ملکوں سے لوگوں کی سو نامی یورپ میں پہنچنے لگی۔ لوگوں کی یہ سو نامی یورپ کی حکومتوں کے لئے ایک نیا بحران بن گیا تھا۔ مقامی آبادی اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ امریکہ میں صدارتی انتخاب میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید رد عمل دیکھا گیا تھا۔ لوگ بش اور اوبامہ انتظامیہ میں مسلسل جنگوں سے سخت نالاں تھے۔ اور یہ صدارتی انتخاب  دراصل حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں ایک ریفرینڈم تھا۔ اور فرانس کا صدارتی انتخاب بھی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ریفرینڈم تھا۔ اور برسوں سے جو سیاسی جماعتیں سیاست پر غالب ہیں۔ ان کے خلاف عوام کا رد عمل تھا۔
   سرد جنگ ختم ہوۓ 27 سال ہو گیے ہیں۔ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ملکوں کے لوگوں کو جمہوری آزادی ملی تھی۔ ان کی زندگیوں میں اقتصادی خوشحالی آئی تھی۔ لیکن پھر دوسری طرف سرمایہ دارا نہ مغربی ملکوں میں اس کے برعکس ہوا ہے۔ سرد جنگ ختم ہونے سے مغربی ملکوں میں لوگوں کی اقتصادی خوشحالی میں انحطاط آیا ہے۔ اور سیاسی آزادیاں Depreciate ہوئی ہیں۔ لیبر یونین کو Crush کیا گیا ہے۔ مغربی ملکوں میں سرد جنگ کے دور میں امیر اور غریب کے درمیان کبھی اتنا وسیع فرق نہیں تھا کہ جتنی تیزی سے یہ فرق اب آیا ہے اور یہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ Elite class پھیل گئی ہے اور Middle class کا تقریباً صفایا ہو گیا ہے۔ مغربی ملکوں سے سرمایہ اور کمپنیاں ان ملکوں میں منتقل ہو گئی ہیں جہاں لیبر سستی ہے۔ لیبر قوانین نہیں ہیں۔ سیاسی آزادیاں نہیں ہیں۔ اور جہاں مطلق العنان حکومتیں لوگوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔ سرد جنگ میں سرمایہ دارا نہ مغربی ملکوں کو کمیونسٹ کے مقابلے پر لیبر قوانین بنانے پڑے تھے۔  بلکہ لیبر حقوق کچھ زیادہ دے دئیے تھے۔ لیبر یونین بھی بہت با اثر تھیں۔ اور اب کمپنیاں اور کارپوریشن زیادہ با اثر طاقتور ہو گئی ہیں۔ اور یہ اب لیبر کو ملنے والی مراعات رفتہ رفتہ ختم کرتی جا رہی ہیں۔ جرمنی فرانس اور دوسرے یورپی یونین  ملکوں میں لیبر اصلاحات، لیبر مراعات ختم کرنے یا ان میں کمی کرنے کے خلاف حکومتوں کو ور کرز کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ برطانیہ نے لیبر قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں۔ اور لیبر یونین کے اختیارات کو بہت محدود کر دیا ہے۔ امریکہ میں نائن الیون کے بعد کمپنیوں اور کارپوریشنوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کو بیروزگار کر دیا تھا۔ نئی بھرتیوں کے دروازے ایک عرصہ تک بند ر  کھے تھے۔ اور اس طرح لوگوں کو کم اجرت پر کام کرنے کے لئے مجبور کر دیا تھا۔ جو لوگ 20 اور 25 سال سے کام کرنے کے بعد 35 اور 40 ڈالر فی گھنٹہ کماتے تھے۔ وہ 18 ڈالر فی گھنٹہ پر کا م کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ اس طرح Middle class کو ختم کیا جا رہا تھا۔ 2001 سے 2008 تک بش انتظامیہ نے لوگوں کی توجہ القا عدہ اور بن لادن پر مرکوز کر دی تھی۔ اور عوام سے یہ کہا جا رہا تھا کہ بن لادن ہماری اقتصادی خوشحالی کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اور دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کے در پردہ Elite class کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ دوسری طرف مالیاتی اداروں کمپنیوں اور کارپوریشنوں کو دولت بٹورنے کے موقعہ فراہم کر دئیے تھے۔ 2008 میں امریکہ کو زبردست مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بڑے بڑے بنک گرنے کے قریب کھڑے تھے۔ آ ٹو انڈسٹری انتہائی برے حالات میں تھی۔ اور دیوالیہ ہو چکی تھی۔ لاکھوں لوگوں کے پینشن فنڈ اس مالیاتی بحران میں ڈوب گیے تھے۔ جو امریکی 10 سال میں رٹائر ہرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ وہ 20 سال اور کام کرنے کا سوچنے لگے تھے۔ یہ مالیاتی لوٹ مار صرف امریکہ میں دیکھی جا رہی تھی۔ بلکہ یورپ میں برطانیہ فرانس اٹلی اسپین یونان اور کئی دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یونان میں لوگوں کی زندگی بھر کے تمام اثاثے اس مالیاتی لوٹ مار میں ڈوب گیے تھے۔
   صدر اوبامہ نے بڑے مالیاتی اداروں اور بنکوں کو Bailout عوام کے ٹیکس کے کھربوں سے کر لیا تھا۔ آ ٹو انڈسٹری کو بھی Bailout کر لیا تھا۔ لیکن Middle class کو اپنی تقریروں میں صرف لفظوں کی حد تک زندہ رکھا تھا۔ اوبامہ انتظامیہ میں بھی Elite class کے ترجمان Media نے لوگوں کی توجہ جنگوں پر لگاۓ رکھی تھی۔ القا عدہ کی جگہ ISIS نے لے لی تھی۔ Elite ملکوں نے لیبیا شام اور عراق کو صرف اپنے مفاد میں تباہ اور برباد کیا ہے۔ ان ملکوں میں بھی Middle class بالکل تباہ کر دی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ اب Class war میں Merge ہو رہی ہے۔ اس کی جھلکیاں امریکہ اور فرانس کے انتخابات میں نظر آ رہی ہیں۔ Old political parties اب Obsolete ہوتی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال کا الزام اپنی پالیسیوں کو دینے کے بجاۓ روس کی انتخابات میں Hacking اور Meddling کو دیا جا رہا ہے۔ اور عوام سے یہ کہا جا رہا ہے کہ روس نے ہمارے انتخابات میں مداخلت کر کے امریکہ کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ 2000 کے صدارتی انتخاب میں Florida میں ووٹوں میں غبن کر کے امریکہ کے جمہوری نظام کو زبردست نقصان پہنچایا تھا۔ اور یہ Hacking ری پبلیکن پارٹی نے کی تھی۔ اور ڈیمو کریٹک پارٹی نے خاموشی سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔               

Sunday, May 7, 2017

Middle East: No New War, No Divide And Rule, No Shiite-Sunni Sectarian Fighting

Middle East: No New War, No Divide And Rule, No Shiite-Sunni Sectarian Fighting

The New Alliance Between Zionism And Wahhabism Is As Dangerous As Iran’s Nuclear Program

مجیب خان
  
Saudi Arabia Deputy Crown Prince Mohammed bin Salman


Israel's Prime Minister Netanyahu 

President Hassan Rouhani and President Putin 
     ڈپٹی ولی عہد  شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی ٹی وی  سے انٹرویو میں کہا ہے "ایران کے ساتھ ڈائیلاگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کیونکہ تہران کے خطہ میں توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ اور ہمارے اور ایران کے درمیان کوئی کامن گراؤنڈ نہیں ہے۔" ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا "ہم نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ ڈائیلاگ کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ ماضی میں ایران میں جب قدرے اعتدال پسند قیادت تھی۔ سعودی عرب نے اس کے ساتھ ڈائیلاگ کیے تھے۔" لیکن ولی عہد سلمان کے کہنے کے مطابق وہ کوششیں پھر ایران میں سخت گیر قیادت آنے کے بعد ناکام ہو گئی تھیں۔ ولی عہد سلمان نے رسول صلعم کا ایک ارشاد بیان کیا کہ "ایک مسلم دو مرتبہ بیوقوف نہیں ہو سکتا ہے" ولی عہد شہزادہ  محمد بن سلمان نے سعودی ٹی وی سے انٹرویو میں ایران کے ساتھ اس معروضی نظریاتی مسئلہ کا حوالہ دیتے ہوۓ کہا جو اسے ایک اچھا ہمسایہ بننے سے روکتا ہے۔
   
“Iran believes that before Imam Mahdi reappears, it must prepare a fertile ground for him and that it must control the Muslim world. The Shiite belief that Imam Mahdi—the 12th and last Shiite Imam who disappeared in the 9th century – will one day appear to bring justice to earth.” “How can I come to an understanding with this?”, said the deputy crown prince. “How can you have a dialogue with them against this background?”, he asked. “Iran’s goal is to gain control of the two Holy Mosques.”
  
    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے مستقبل کے شاہ ہوں گے۔ لیکن ایک جدید دنیا میں ان کے خیالات نویں صدی کے ہیں۔ ولی عہد سلمان نے سعودی عرب کو صنعت اور ٹیکنالوجی میں جدید بنانے کا 2030 منصوبہ دیا ہے۔ اس منصوبہ کی کامیابی کے لئے ان کے خیالات میں جدید فراغ دلی کا ہونا ضروری ہے۔ اس دنیا میں اتنی زیادہ نا انصافیاں ہو رہی ہیں لیکن کسی ایرانی رہنما نے یہ نہیں کہا ہے کہ امام مہدی 12 ویں شیعہ امام جو 9 ویں صدی میں غائب ہو گیے تھے۔ اکیسویں صدی میں کسی وقت نمودار ہوں گے۔ اور عراقیوں شامیوں ہوتیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ انصاف کریں گے۔ سعودی عرب اور خلیج کی ریاستوں میں شیعاؤں کی ایک بڑی آبادی ہے۔ اور امام مہدی ان کے بھی امام ہیں۔ یہ فضول کی بحث ہے۔ اس کا اکیسویں صدی کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلامی دنیا اس وقت تباہیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ ولی عہد شہزادہ سلمان کو اس افسوسناک صورت حال پر کچھ کہنا چاہیے تھا کہ اسلامی دنیا کو کس طرح ان تباہیوں سے نکالا جاۓ۔ لیکن شہزادہ سلمان اسلامی دنیا کو تباہیوں میں رکھنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایران ہزاروں سال سے یہاں ہے۔ اور ہزاروں سال یہاں ہی رہے گا۔ ولی عہد شہزادہ سلمان نے رسول صلعم کے ایک معروف ارشاد کا ذکر کیا ہے کہ "ایک مسلم دو مرتبہ بیوقوف نہیں ہو سکتا ہے۔" لیکن مسلمانوں کو تباہی کے حالات میں دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان بار بار بیوقوف بن  رہے ہیں۔ اسلامی دنیا نے سعودی قیادت پر اعتماد کیا تھا۔ حرمین شریفین اسلام کے دو مقدس مقامات کے محافظ ہیں۔ اس حوالے سے اسلامی ملکوں کی سلامتی بھی ان کی ایک اسلامی ذمہ داری تھی۔ عراق اسلام کا ایک اہم تاریخی  ملک تھا۔ یہاں اسلام کے اہم مقدس مقامات ہیں۔ لیکن مسلمان پھر بیوقوف بن گیے تھے۔ اور ان کے سامنے عراق کو تباہ کیا جا رہا تھا۔ اوراس مرتبہ شام کو تباہ کرنے کا کام ان سے لیا جا رہا تھا۔ سعودی عرب اور خلیج کی حکومتیں اس مشن میں امریکہ کی اتحادی تھیں۔  شام کی بھی ایک قدیم اسلامی تاریخ تھی۔ سعودی قیادت کو اسے روکنا چاہیے تھا۔ حرمین شریفین کی حثیت سے بھی یہ سعودی عرب کا ایک اسلامی فریضہ تھا۔ لیکن مسلمان پھر بیوقوف بن گیے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ عرب لیگ نے جس کا سعودی عرب بھی رکن ہے۔ اس نے لیبیا میں قدافی کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے امریکہ برطانیہ اور فرانس کو فوجی کاروائی کرنے کی اجازت دی تھی۔ صرف اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں مسلمان ایک سے زیادہ مرتبہ بیوقوف بن چکے ہیں۔ اسلامی ملکوں کی تباہیوں میں خلیج کے حکمرانوں کا بڑا Dubious رول ہے۔ انہیں الزامات دینے سے پہلے اپنے کردار کی طرف دیکھنا چاہیے۔
   ایران کے بارے میں اسرائیلی حکومت کی سوچ جو ایک جمہوری حکومت ہے سعودی سوچ سے جو ایک بادشاہت ہے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اور ایران اسرائیلی حکومت کا ٹارگٹ بھی ہے۔

In a meeting in Moscow with President Putin, Netanyahu said
 “Persia had made an attempt to destroy the Jewish people that did not succeed some 2500 years ago”, an event commemorated through the Jewish holiday of Purim. “Today there is an attempt by Persia’s heir, Iran, to destroy the State of the Jews.” Netanyahu said. Putin noted that those events had taken place “in the fifth century BC, we now live in a different World, let us talk about the actual up-to-date problems in the region.”

وزیر اعظم نتھن یا ہو نے سخت لہجہ میں کہا "انتہا پسند شیعہ اسلام کا خطرہ ہمیں اتنا ہی خوفزدہ کرتا ہے کہ جتنا  یہ خطہ اور دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم کسی بھی قسم کے انتہا پسند اسلام کی فتح کو روکنے کے مقاصد میں پارٹنر ہیں۔" اسرائیلی وزیر اعظم نے ان خدشوں کا اظہار کیا کہ شام میں خانہ جنگی کے نتیجہ میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔" با ظاہر یہ نظر آ رہا کہ عرب دنیا میں جنگوں کی تباہیاں دیکھ کر سعودی اور اسرائیلی رہنما ذہنی توازن کھو رہے ہیں۔ انہیں جنگوں کے نتائج کے ان خدشوں کا اظہار جنگوں کی حمایت کرنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا۔ ان خدشات کا اظہار وہ اب جنگوں کی تباہیوں کے اثرات دیکھنے کے بعد کر رہے ہیں۔ یہ سعودی عرب اور خلیج کی حکومتیں تھیں جو شام میں اوبامہ انتظامیہ کے ساتھ ایک خوفناک خانہ جنگی کو فروغ دے رہے تھے۔ کیا اسرائیلی حکومت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک طویل خانہ جنگی کی صورت میں شام میں ایران اور حزب اللہ کا اثر و رسوخ بڑھے گا؟ ایک طرف ایک درجن ملک شام میں نام نہاد باغیوں اور اسلامی دہشت گردوں کو ہتھیار، تربیت اور فنڈ دے رہے تھے۔ اور یہ انسانیت کو تباہ کر رہے تھے۔ لیکن جو ملک اسے عالمی قانون کی خلاف ورزی سمجھتے تھے۔ اور خانہ جنگی کو انسانیت کے خلاف کرائم  سمجھتے تھے۔ اور یہ ملک صرف انسانیت کو بچانے کے لئے شام کی مدد کرنے آۓ تھے۔ اگر امریکہ سعودی عرب اور اسرائیل انسانیت کو اپنا مفاد سمجھتے تو یہ خانہ جنگی کبھی 7 سال تک جاری نہیں رہتی۔ اوبامہ انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلامیہ جاری کرتی تھی۔ لیکن دوسری طرف شام میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ جبکہ ایران کا اس میں کوئی حصہ نہیں تھا۔
    سعودی عرب اور اسرائیل مڈل ایسٹ میں اب شیعاؤں کا غلبہ ہونے کی باتیں کر رہے ہیں۔ لیکن عراق میں صد ام حسین کی ایک سنی حکومت کا خاتمہ کرنے کی مہم میں یہ ممالک پیش پیش تھے۔ سعودی عرب اور خلیج کی حکومتوں نے امریکہ کے عراق میں حکومت تبدیل کرنے کے منصوبہ کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کی تھی۔ اسرائیل کا یہ دعوی بھی غلط ہے کہ ایران یہودیوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ایران میں 2500 سال بعد آج بھی یہودی ہیں۔ اور ان کی عبادت گاہیں بھی محفوظ ہیں۔ مڈل ایسٹ میں جب تک بادشاہوں کا نظام رہے گا۔ یہاں اسی طرح سازشیں ہوتی رہیں گی۔ اور یہ 18 ویں اور 19 ویں صدی کا یورپ بنا رہے گا۔ اسرائیل کی جمہوریت نام نہاد ہے۔ اور یہ اس خطہ میں امن کو فروغ دینے میں فیل ہو گئی ہے۔ اسرائیل اس خطہ میں Imperial Power کی Subsidiary Imperial Power ہے۔ اور سعودی عرب کو اس خطہ کی Colonial Power بننے کی شہ دی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے ڈپٹی وزیر براۓ ریجنل کو آپریشن Ayoob Kara نے ایک نئے مڈل ایسٹ Coalition کی تشکیل میں اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ جس میں اسرائیل اور خطہ کی سنی حکومتوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا جاۓ گا۔ اسرائیلی ڈپٹی وزیر براۓ ریجنل کو آپریشن Ayoob Kara نے ایک امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا

“We have the chance now to make a coalition with Saudi Arabia, North African states, and Turkey, we need the U.S. with us, but—they first want the Palestinians to become partners with Israel. We could be waiting another 50 years. Why do we have to wait?” “I think we now have the chance to open a new relation with what is referred to as the Saudi [Sunni] coalition.”

اور یہ اسرائیلی سعودی coalition مڈل ایسٹ میں نئی جنگیں شروع کرنے کا آغاز ہے۔ اسرائیلی سعودی coalition مڈل ایسٹ میں “Divide and Rule” کی سیاست سے اپنا غلبہ قائم کرے گا۔ اور خطہ میں شیعہ سنی فرقہ پرستی کی لڑائی ایک “Permanent Institution” بن جاۓ گی۔         

     


                                                                                                                                                              

Tuesday, May 2, 2017

Mr. Trump, Tear Down This Military Wall Between The Two Koreas, Let The Cousins of The South Talk To The Cousins of The North

Mr. Trump, Tear Down This Military Wall Between The Two Koreas, Let The Cousins of The South Talk To The Cousins of The North  

People Are The Best Ambassadors of Peace

مجیب خان
South Korean Park Yang-gon and his North Korean brother Park Yang

Korea to hold reunions of war- divided families 

South Korean families greeted by relatives from North Korea

North Korean woman kisses her South Korean father
    شمالی کوریا کی ایٹمی سرگرمیوں کے خلاف اس وقت جتنا دباؤ شمالی کوریا اور چین پر ہے۔ تقریباً اتنا ہی دباؤ امریکہ پر بھی ہے کہ ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جاۓ کہ جس سے خطہ کے حالات قابو سے باہر ہو جائیں اور پھر انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہو جاۓ۔ چین کے وزیر خارجہ Wang yi نے کہا ہے کہ "انہیں یقین ہے کہ امریکہ آ بناۓ کوریا میں صورت حال کے سفارتی حل کو ترجیح دے گا۔ وزیر خارجہ Wang نے رپورٹروں کو بتایا کہ تاہم امریکی حکام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فوجی اسٹرائک ابھی تک ایک Option ہے۔ لیکن انہیں یقین ہے کہ واشنگٹن کشیدگی کو کئی طرفہ مذاکرات  کے ذریعے اسے خطرناک صورت اختیار کرنے سے روکنے کو ترجیح دے گا" وزیر خارجہ Wang نے کہا "ہم دیکھ رہے ہیں کہ صورت حال خاصی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت معاملات جتنے کشیدہ ہیں ہمیں اتنا ہی پر امن رہتے ہوۓ ڈائیلاگ کے لئے موقعوں اور ممکنات کو ڈھونڈنا ہو گا"۔ بلاشبہ چین کی تمام تر کوششیں خطہ کے حالات قابو میں رکھنے کے لئے بہت سنجیدہ ہوں گی۔ اور چین شمالی کوریا کے مسئلہ کو صرف ڈائیلاگ سے حل کرنے کی حمایت کرے گا۔ چین کے موقف سے جاپان اور جنوبی کوریا بھی اتفاق کریں گے۔ جنوبی کوریا اور جاپان اپنے ہمساۓ میں شمالی کوریا کو شام بنانا نہیں چاہیں گے۔
   شمالی کوریا کے نیو کلیر ہتھیاروں  کے مسئلہ کا فوجی حل  کسی کو قبول نہیں ہو گا۔ جبکہ عراق کی مثال بھی سب کے سامنے ہے۔ ایسٹ ایشیا کا کوئی ایک ملک بھی شمالی کوریا پر فوجی حملہ کی حمایت نہیں کرے گا۔ ایسٹ ایشیا کے لوگوں نے بڑی محنت کے بعد اقتصادی ترقی میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ اور وہ یہ دیکھنا نہیں چاہیں گے کہ ایسٹ ایشیا بھی مڈل ایسٹ بن جاۓ۔ امریکہ کا یہ اصرار غلط ہے کہ چین کا شمالی کوریا پر خاصا اثر و رسوخ ہے۔ اور وہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالے اور اس کے خلاف اپنے اقتصادی ہتھیار استعمال کرے۔ اور شمالی کوریا پر اتنا دباؤ ڈالے کہ یہ ایٹمی ہتھیار بنانا ترک کر دے۔ لیکن شمالی کوریا کا مسئلہ ون وے اسٹریٹ نہیں ہے۔ اس خطہ میں یہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں ہیں جو شمالی کوریا کو اپنی سلامتی میں ایٹمی ہتھیاروں پر انحصار کے لئے مجبور کر رہی ہیں۔ جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ امریکہ کا فوجی اتحاد فروغ دیا جا رہا ہے۔ شمالی کوریا کے قریب امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف اس خطہ میں جاپان کو نیول پاور بنانے میں امریکہ معاونت کر رہا ہے۔ اور جاپان کے ساتھ بھی امریکہ کی مشترکہ مشقیں جاری ہیں۔ امریکہ کی یہ جنگجو نہ سرگرمیاں چین کے مفادات اور شمالی کوریا کی سلامتی کے لئے خطرہ بن رہی ہیں۔ جنوبی کوریا میں چین کی مخالفت کے باوجود امریکہ نے میزائل ڈیفنس شیلڈ نصب کی ہے۔ امریکہ کے یہ Actions ہیں۔ جن کا Reaction شمالی کوریا کی قیادت کے فیصلوں میں نظر آ رہا ہے۔ جنگ کے حالات بنانے کے لئے امریکہ کی پالیسیاں ماحول کو Instigate کرتی ہیں۔ اس صورت حال میں شمالی کوریا کی جگہ اگر امریکہ ہوتا تو وہ بھی اپنی سلامتی میں ایسے ہی اقدام کرتا جو شمالی کوریا کی قیادت کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔
   2016 کے صدارتی انتخابات ڈونالڈ ٹرمپ اور ہلری کلنٹن کے درمیان دراصل جنگوں کے خلاف ایک ریفرینڈم تھا۔ ہلری کلنٹن نے عراق جنگ، لیبیا جنگ اور شام میں جنگ کی حمایت کی تھی۔ جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے صدر بش کی عراق جنگ اور صدر اوبامہ  کی لیبیا جنگ اور شام میں جنگ کی پالیسی پر شدید تنقید کی تھی۔ اور اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ مڈل ایسٹ میں جنگیں ختم کریں گے۔ اور مڈل ایسٹ کو استحکام دینے کے اقدام کریں گے۔ لیکن صدر ٹرمپ کے پہلے 100 دنوں میں دنیا میں امن اور استحکام کے سلسلے میں کوئی فیصلے نہیں ہوۓ ہیں۔ بش اور اوبامہ دور کی جنگیں بدستور جاری ہیں۔ انہیں ختم کرنے کے بارے میں اقدامات 100 دنوں میں سامنے نہیں آۓ ہیں۔ بلکہ صدر ٹرمپ کے حکم پر شام میں اسد حکومت کے خلاف 59 Tomahawk میزائل گراۓ گیے تھے۔ ایک میزائل 1.5 ملین ڈالر کا تھا۔ تقریباً 89 ملین ڈالر کے میزائل چند سیکنڈ میں گرا دئیے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی حلف وفا داری کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کا مڈل ایسٹ میں جنگوں پر امریکہ نے 6 ٹیریلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اور وہ 6 ٹیریلین ڈالر سے تین مرتبہ امریکہ کی تعمیر نو کر سکتے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ  افغانستان پرNon Atom Bomb  جو تمام بموں کی ماں تھا گرایا تھا۔ اور یہ 16 ملین ڈالر کا بم تھا۔ 16 ملین ڈالر کے اس بم سے داعش کے صرف 94 دہشت گردوں کے مرنے کی خبر سنائی تھی۔ عراق میں موصل  کو داعش کے قبضہ سے آزاد کرانے کی جنگ میں امریکہ کی بمباری سے تقریباً تین سو عراقی شہری ہلاک ہوۓ تھے۔ جن میں ایک بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔ اگست 2014 سے مارچ 2017 کے دوران عراق اور شام میں داعش کے خلاف  امریکہ کی قیادت میں اتحاد کے آپریشن میں 3000 سویلین مارے گیے ہیں۔
   امریکی میڈیا میں شمالی کوریا کے مسئلہ پر صرف انتظامیہ اور پینٹاگان کا موقف پیش کیا جا رہا ہے۔ ایسٹ ایشیا کے ملکوں میں راۓ عامہ شمالی کوریا کے مسئلہ کو کس طرح دیکھ رہی ہے۔ اس خطہ میں حکومتیں شمالی کوریا کے مسئلہ کا کیا حل دیکھ رہی ہیں۔ شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی پالیسی سے انہیں اختلاف ہے یا اتفاق امریکی میڈیا میں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ خطہ کی حکومتیں اور لوگ امریکہ کے ایکشن سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ جنوبی کوریا میں صدارتی انتخاب ہو رہے ہیں۔ اور امریکہ کو جنوبی کوریا میں نئی حکومت آنے کا انتظار کرنے کے بجاۓ اپنے فیصلے جنوبی کوریا پر مسلط کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ جنوبی کوریا کے لوگ ان کی سرزمین پر میزائل ڈیفنس شیلڈ نصب کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ ان پر جنگ مسلط کرنے پر بضد ہے۔ اسی طرح جاپان کے لوگ ان کے ملک میں امریکہ کے فوجی اڈوں کے خلاف ہیں۔ اور یہ فوجی اڈے ختم کرنے کے لئے جاپانی مظاہرے اور احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن امریکہ نے ہمیشہ جنگوں اور فوجی اڈوں کو عوام کے جمہوری حقوق پر فوقیت دی ہے۔ اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ شمالی کوریا کا مسئلہ جنگ سے حل کرتی ہے یا اس مسئلہ کا حل دریافت کرنے میں چین کی تجویزوں پر عمل کرے گی۔ چین کے وزیر خارجہ Wang Yi نے گزشتہ ہفتہ شمالی کوریا کے مسئلہ پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد تنازعہ کے تمام فریقین کو محتاط ہونے کا کہا ہے کہ "طاقت کا استعمال اختلافات کو دور نہیں کرتا ہے اور یہ صرف بڑی تباہیوں کی طرف لے جاۓ گا۔"                                                                                  

Thursday, April 27, 2017

First Historical Verdict Against A Prime Minister In Office: Guilty Until Proven Innocent

First Historical Verdict Against A Prime Minister In Office:         
Guilty Until Proven Innocent

Two Judges Have Said The Prime Minister Is Dishonest, Incompetent, And Should Be Dismissed

مجیب خان  
  
Prime Minister Nawaz Sharif


"?Is it true that behind every great fortune there is a crime"

 Imran Khan Chairman  Pakistan Tehreek-i-Insaf
     وزیر اعظم میاں نواز شریف خاندان کے پانامہ کیس کرپشن پر سپریم کورٹ کی 5 رکنی بینچ نے ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا ہے۔ اس بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھو سہ اور جسٹس گلزار نے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے۔ اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کا کہا ہے۔ جبکہ تین ججوں نے اپنے فیصلے میں وزیر اعظم کے لئے لفظ نااہل استعمال نہیں کیا ہے۔ لیکن ان ججوں نے جو دس سوالات اٹھاۓ ہیں۔ وہ دراصل جسٹس سعید کھو سہ اور جسٹس گلزار کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان ججوں نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیانات میں بہت سنجیدہ تضاد ات بتاۓ ہیں۔ ان ججوں نے یہ سوال کیے ہیں کہ سرمایہ کیسے جدہ، لندن اور قطر پہنچا؟ کم عمر بیٹوں نے نوے کی دہائی میں فلیٹس کیسے خریدے؟ حسن نواز نے کیسے ان کمپنیوں کو حاصل کیا؟ ان کمپنیوں کو چلانے کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا؟ حسن نواز نے میاں نواز شریف کو کہاں سے لاکھوں روپے تحفہ میں دئیے؟ وغیرہ وغیرہ ۔ میاں نواز شریف خاندان کےخلاف کرپشن کیس میں صفائی میں اتنے ٹھوس ثبوت نہیں ہیں کہ جتنے شبہات پر مبنی تضاد ات ہیں۔ یہ تضاد ات دیکھ کر خود ان کے خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے چہرے دیکھ رہے ہوں گے۔ تین ججوں نے اس لئے نواز شریف کو بری نہیں کیا ہے۔ اور نواز شریف کو ان سوالوں کے جواب دینے کا ایک موقعہ اور دیا ہے۔ اور سول اور ملڑی انٹیلی جنس کی ایک مشترکہ ٹیم سے ان سوالوں کے بارے مزید تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔ اور 60 دن میں اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم  دیا ہے۔ ساڑھے پانچ سو صفحات کی رپورٹ پر پانچوں ججوں نے دستخط کیے ہیں۔ یہ فیصلہ تاہم مشترکہ نہیں ہے۔ دو ججوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو پانامہ کیس کرپشن میں Guilty قرار دیا ہے۔ لیکن تین ججوں کے فیصلے کو Guilty Until Proven Innocent   دیکھا جاۓ گا۔
    اس کیس میں ججوں پر بھاری ذمہ داری تھی۔ اور انہوں نے بڑے محتاط ہو کر یہ فیصلہ دیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی کے کارکن اور وزرا یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف پر کرپشن کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ اور یہ فیصلہ ان کے حق میں ہے۔ جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جسٹس کھو سہ اور جسٹس گلزار کا جو فیصلہ تھا اگر یہ بینچ کا مشترکہ فیصلہ ہوتا تو پاکستان میں پھر کیا ہوتا؟ وزیر اعظم کے خلاف دو ججوں کے فیصلہ پر حکومت کے وزرا کا رد عمل قوم نے دیکھا ہے کہ کس طرح سپریم کورٹ کے باہر یہ چیخ پکار رہے تھے۔ Low لہجہ پر اتر آۓ تھے۔ سول سوسائٹی کو بھول گیے تھے۔ اگر یہ پانچ ججوں کا متفقہ فیصلہ ہوتا تو سارے ملک کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ پاکستان سیاسی انتشار میں آ جاتا۔ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال پہلے ہی بہت نازک ہے۔ پانچ ججوں نے انتہائی غور خوص کے بعد اور ملک کے سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوۓ یہ اختلافی فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلہ میں ججوں نے سیاسی اور جمہوری عمل کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ اور ملک میں امن رکھنے میں فوج کی مدد کی ہے۔ بلاشبہ فوج بھی سپریم کورٹ سے یہ توقع کر رہی ہو گی کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ملک کا استحکام اور امن درہم برہم نہیں ہونا چاہیے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "پہلے فوج ملک کی سلامتی اور استحکام میں آ گے رہتی تھی۔ اور سپریم کورٹ اس کے پیچھے ہوتی تھی۔ اور اب سپریم کورٹ کو ملک کی سلامتی اور استحکام میں آ گے آنا ہو گا اور فوج اس کے پیچھے رہے گی۔" لہذا سپریم کورٹ نے ملک میں سیاسی تقسیم کو مد نظر رکھا ہے۔ حالات کا جائزہ لیا ہے اور اس کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔
    سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد میاں نواز شریف کی سیاست کا یہ آخری باب نظر آ رہا ہے۔ میاں نواز شریف JIT کے سامنے پیش ہونے کے بجاۓ جس میں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے لوگ بھی ہوں گے شاید مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی جگہ جو بھی آۓ گا وہ جلد یا آئندہ سال وقت پر انتخاب کر آۓ گا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک نئی مثال ہو گی۔ میاں نواز شریف کو 1993 میں صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن کے الزام میں وزیر اعظم کے عہدہ سے برطرف کیا تھا۔ ان 24 سالوں میں نواز شریف بدلے نہیں تھے۔ اور 24 سال بعد اب انہیں کرپشن کے کیس میں سپریم کورٹ کا سا منا کرنا پڑا ہے۔ اس مرتبہ میاں نواز شریف اپنے سیاسی زوال کے خود ذمہ دار ہیں۔ اور وہ اپنے سیاسی زوال کا کسی کو الزام نہیں دے سکتے ہیں۔
    وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے بعد آصف علی زر داری یہ مت سمجھیں کہ انہوں نے پیغمبروں کی طرح حکومت کی تھی۔ آصف علی زر داری پاکستان میں کرپشن کے چمپین ہیں۔ زر داری کو 60 ملین ڈالر کا ابھی حساب دینا ہے کہ یہ کہاں سے آۓ تھے؟ اور کہاں گیے ہیں؟ عوام زر داری اور ان کی پیپلز پارٹی کو اس وقت تک ووٹ نہیں دیں کہ جب تک زر داری 60 ملین ڈالر کا حساب نہیں دیتے ہیں۔ آصف علی زر داری کا دور اقتدار پاکستان کے عوام کے لئے Hell تھا۔ ان کے دور میں پاکستان کے حساس اداروں پر حملہ پاکستان پر حملہ تھے۔ ان حملوں میں فوج کے اعلی افسر مارے گیے تھے۔ ہزاروں بے گناہ شہری دہشت گردوں کے حملوں میں مارے گیے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا دور شاید کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات ہونے پر کسی وزیر نے اپنی ناکامی بتا کر وزارت سے استعفا نہیں دیا تھا۔ وزیر داخلہ وزارت کی کرسی سے چپکے رہے۔ افغانستان میں دو وزیروں نے اس ہفتہ اس لئے استعفا دے دیا کہ طالبان نے فوجی چھاؤنی پر حملہ کر کے  170 افغان فوجی ہلاک کر دئیے تھے۔ لیکن پاکستان میں ایسی مثال قائم نہیں کی گئی ہے۔
    فوج میں کرپشن کے خلاف کاروائی کرنے کی مثال قائم کی گئی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے فوج میں بعض سینیئر افسروں کے خلاف کرپشن کے الزام میں کورٹ مارشل کیا تھا۔ اور انہیں سزائیں دی تھیں۔ صدر جنرل مشرف سابق ایڈ مرل کو جس نے لاکھوں ڈالر خرد برد کیے تھے اور اس نے امریکہ میں پناہ لے لی تھی۔ اسے امریکہ سے پکڑ کر پاکستان لاۓ تھے۔ اور اسے سزا دی تھی۔ اس کے اثاثے ضبط کر لئے تھے۔ اور اس سے خرد برد کے لاکھوں ڈالروں کا حساب لیا تھا۔ جنرل راحیل شریف نے بھی فوج کے بعض افسروں کو کرپشن کرنے پر برطرف کر دیا تھا۔ اور کچھ کو ان کے عہدوں سے Demoteکر دیا تھا۔ لیکن سیاستدانوں نے اپنے کلب میں ابھی تک ایسی مثال قائم نہیں کی ہے۔ عمران خان پہلے سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے سیاسی پارٹیوں میں کرپشن کے خلاف احتساب کی ابتدا کی ہے۔ اور اپنے آپ کو بھی احتساب کے لئے پیش کیا ہے۔ کرپشن ایک ایسی دیمک ہے جو اداروں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس کا علاج ضروری ہے۔       
  

             

Monday, April 24, 2017

America’s New Korean War With The Grandson of Kim Il-Sung

America’s New Korean War With The Grandson of Kim Il-Sung

“.All options are on the table” 

But Palestinians Have Only One Option, Dialogue With Israel Forever

مجیب خان
The American aircraft carrier Carl Vinson during an exercise in South China sea

U.S aircraft carrier USS Nimitz East Asia

East Asia military build up

"Kim Jong-un "we are ready for war 

North Korea

     مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں افغانستان کے حالات دیکھنے کے بعد یہ کیسے یقین کیا جاۓ کہ شمالی کوریا دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے؟ بلکہ یہ کیوں نہیں کہا جاۓ کہ مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے حالات میں شمالی کوریا کو بھی گھسیٹا جا سکتا ہے۔ عراق، لیبیا اور افغانستان میں طالبان کو جن لفظوں میں کہ “All options are on the Table” دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اب ان ہی لفظوں میں یہ دھمکیاں شمالی کوریا کی قیادت کو دی جا رہی ہیں۔ بلکہ صدر ٹرمپ نے بڑے زور دار لہجہ میں کہا ہے کہ "شمالی کوریا کا مسئلہ حل کیا جاۓ ورنہ امریکہ اسے حل کرے گا۔" ایسے ہی لفظ 15 پندرہ سال قبل صدر جارج بش نے بھی عراق میں مہلک ہتھیاروں کا مسئلہ کرنے کے بارے میں استعمال کیے تھے۔ لیکن ایسی دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ مسئلے اور زیادہ پیچیدہ ہو گیے ہیں۔ تاہم شمالی کوریا عراق نہیں ہے۔ اور ایسٹ ایشیا مڈل ایسٹ نہیں ہے۔ ایسٹ ایشیا کے ان ملکوں نے امریکہ سے بڑی جنگیں لڑی ہیں۔ ان ملکوں کے لاکھوں شہری ان جنگوں میں مارے گیے تھے۔ انہوں نے یہاں بڑی تباہی دیکھی تھی۔ ان کے ذہنوں میں ان جنگوں کے زخم ابھی تک تازہ ہیں۔ یہاں شاید امریکہ سے اتنی نفرت نہیں ہو گی کہ جتنی جنگوں سے یہاں لوگ نفرت کرتے ہوں گے۔ ایسٹ ایشیا میں جب جنگوں کے لئے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ شمالی کوریا کے سیکورٹی انتظامات کو تباہ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایسٹ ایشیا میں امریکہ کی فوجی سرگرمیوں میں گرمی آ رہی ہے۔  بحر ساؤ تھ چائنا میں فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کے بحری بیڑے ایسٹ ایشیا کے گرد حلقہ بنا رہے ہیں۔ اور جاپان کو اب فوجی طاقت بننے کی شہ دی جا رہی ہے۔ مشرقی ایشیا میں نئے فوجی اتحاد بن رہے ہیں۔ مشرقی ایشیائی ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ  رہی ہے۔ اور مشرق وسطی کے بعد اب مشرقی ایشیا کا نمبر آ گیا ہے۔ شمالی کوریا کی قیادت یہ حالات دیکھ کر اپنے ملک کی سلامتی میں اقدام کرے گی۔
    مشرق وسطی میں تباہیاں لانے کے لئے عراق کو Epic center بنایا گیا تھا۔ اور مشرقی ایشیا میں شمالی کوریا کو اس مقصد میں ٹارگٹ کیا جاۓ گا۔ امریکہ کی 30 ہزار فوجیں جنوبی کوریا میں شمالی کوریا کی سرحدوں کے قریب بیٹھی ہوئی ہیں۔ جن کے پاس انتہائی خطرناک ہتھیار ہیں۔ یہاں امریکی فوجوں کی موجودگی کو شمالی کوریا اپنی سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ جبکہ واشنگٹن سے شمالی کوریا کو دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ اسے ہراس کیا جا رہا ہے۔ 20 سال سے شمالی کوریا پر اقتصادی بندشیں لگی ہوئی ہیں۔ شمالی کوریا کے جو خدشات ہیں انہیں دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ چھوٹے اور کمزور ملکوں کی سلامتی اور اقتدار اعلی کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ امریکہ کو جب یہ علم ہو گیا تھا کہ عراق میں اب مہلک ہتھیار نہیں ہیں۔ امریکی فوجیں اسی روز عراق میں گھستی چلی گئی تھیں۔ لیبیا میں صدر قدافی نے پرامن طور سے اپنے مہلک ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور اپنے مہلک ہتھیار بش انتظامیہ کے حوالے کر دئیے تھے۔ لیکن پھر دوسری انتظامیہ جب اقتدار میں آئی اس نے لیبیا پر بمباری کر کے صدر قدافی کا اقتدار ختم کر دیا ۔ اور صدر قدافی کو القا عدہ کے حوالے کر دیا تھا۔ اور انہوں نے صدر قدافی کو قتل کر دیا تھا۔
    اوبامہ انتظامیہ نے روس، چین، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین کے ساتھ شامل ہو کر ایران کا نیوکلیر پروگرام ختم کرنے کا سمجھوتہ کیا تھا۔ اس سمجھوتہ کے تحت ایران نے اپنا نیوکلیر پروگرام منجمد کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس سمجھوتہ کی توثیق کی تھی۔ اور ایران  اس سمجھوتہ پر عملدرامد کر رہا ہے۔ لیکن امریکہ نے اس سمجھوتہ کے مطابق ابھی تک ایران پر سے پابندیاں ختم نہیں کی ہیں۔ اور نئی ٹرمپ انتظامیہ اس سمجھوتہ کو ختم کرنے کا تہیہ کیے ہوۓ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ اس سمجھوتہ کو انتہائی خراب سمجھوتہ قرار دیتی ہے۔ لیکن اس سمجھوتہ میں خرابیاں کیا ہیں۔ اس کی کبھی نشاندہی نہیں کی ہے۔ حالانکہ روس اور چین کے علاوہ امریکہ کے یورپی اتحادیوں جرمنی برطانیہ فرانس نے اسے ایک اچھا سمجھوتہ کہا ہے۔ جس نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر بریک لگا دئیے ہیں۔ لیکن دوسری طرف بش انتظامیہ کو عراق پر حملہ کرنے کے بعد جب وہاں مہلک ہتھیار نہیں ملے تھے۔ تو بش انتظامیہ نے یہ کہا تھا کہ برطانیہ فرانس جرمنی روس اور دوسرے ملکوں کی انٹیلی جنس کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ عراق میں مہلک ہتھیار تھے۔ امریکہ کی یہ پالیسیاں اور فیصلے دراصل دنیا کے مسئلوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اور دوسری حکومتوں کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
    Kim Jong Un اب 30 برس کا ہے۔ کوریا کی جنگ ختم ہونے کے تقریباً  34 سال بعد پیدا ہوا تھا۔ Kim کے Grand Father اور Great Grand Father نے 50 کی دہائی میں کوریا میں امریکہ سے جنگ لڑی تھی۔ اور ٹرمپ انتظامیہ اب ان کے Grand Child سے جنگ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ Kim Jong Un نے 50 کی دہائی میں کوریا جنگ کی فلم دیکھی تھی۔ اور اسے بتایا گیا تھا کہ کوریا جنگ میں 5 ملین لوگ کس طرح مارے گیے تھے۔ جن میں کوریا کے فوجیوں اور شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی۔ دوسری جنگ عظیم سے زیادہ لوگ کوریا کی جنگ میں مارے گیے تھے۔ Kim کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آج امریکہ کے پاس زیادہ مہلک ہتھیار ہیں۔ اور وہ شمالی کوریا کو قبرستان میں بدل سکتا ہے۔ پھر Kim کے سامنے عراق اور لیبیا کی مثال بھی ہے کہ کس طرح امریکہ نے ان ملکوں کو اپنی بھر پور فوجی طاقت سے تباہ کیا ہے۔ اور صد ام حسین اور کرنل قدافی کا کیا حشر ہوا تھا۔ یہ حقائق ہیں جو شمالی کوریا کی قیادت کو صرف  نیوکلیر ہتھیاروں میں محفوظ پناہ دیکھا رہے ہیں۔ شمالی کوریا کی قیادت کو اب شاید کسی پر بھرو سہ  نہیں ہے۔ صرف نیوکلیر ہتھیاروں پر بھرو سہ  ہے۔
    ٹرمپ انتظامیہ کو ہراس اور دھمکیاں دینے کے بجاۓ شمالی کوریا کی قیادت میں Trust بحال کرنے لئے اقدام کرنا ہوں گے۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا کے ساتھ  دفاعی معاہدہ ختم کرنے کی پیشکش اور جنوبی کوریا سے امریکی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کرنا ہو گا۔ جنوبی کوریا کو براہ راست شمالی کوریا سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔ جنوبی کوریا امریکی فوجیں اپنی سرزمین پر رکھنے کے لئے امریکہ کو 800 ملین ڈالر دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جنوبی کوریا اور خطہ کی سلامتی کو خطروں کا سامنا ہے۔ اگر جنوبی کوریا یہ 800 ملین ڈالر شمالی کوریا کی ترقی میں انویسٹ کرے تو اس کے زیادہ مثبت نتائج امن کے مفاد میں ہوں گے۔